گوگل کی گگلیاں جاری ؛ بےغیرتی کے نئے ریکارڈ قائم
پچھلے دنوں گوگل نے اپنا گوگل کا جی پلس کا نیا سوشل نیٹ ورک قائم کرتے ہی سینکڑوں پاکستانیوں کے ایڈ سینس کے اکاؤنٹ بند کر دئے تھے۔اب جب کہ گوگل کا جی پلس اپنی ناکامی کے پہلے مراحل میں ہے اس نے پاکستانیوں کے جی میل کے ایڈریس بغیر کسی وجہ کے اپنی خود ساختہ پالیسی کے نام پر بند کرنا شروع کر دئے ہیں۔
بابا عیدو کہتا ہے کہ گوگل اب پاکستانیوں کی مفت بری ختم کرنا چاہتا ہے ۔اب بھلا بندہ بابے عیدو کو کیا سمجھائے کہ ہم پاکستانی اور مفت بری یہ دونوں ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہیں۔اور گوگل کا باپ بھی اس مفت بری کو ختم نہیں کر سکتا۔
جاتے جاتے یار لوگوں کے لئے ایک مفت مشورہ ۔۔۔۔
اپنے جی میل کے اکاؤنٹ سے اپنی پاکستانی لوکیشن ختم کر کے امریکہ یا انگلینڈ کی ڈال لیں اور اگر ہو سکے تو اپنے کسی جاننے والے سے نیا ایڈریس وہیں سے بنوا کر بعد ازاں پاکستان سے بے دھڑک استمال کریں ۔۔۔۔یاد رہے مشورہ مفت ہے ۔۔۔۔
مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے
جہاں دیکھو میلاد ، جہاں دیکھو مجلس ، جہاں دیکھو کوئی نہ کوئی محفل ۔۔۔
اگر آپ کو اپنے مذہب سے اتنی ہی عقیدت ہے اور آپ اس کو مانتے بھی ہیں تو ایک جگہ مقرر کرلیں ۔ پھر جو جی چاہے کریں ۔۔لوگوں کو تو قربانی کا بکرا نہ بنائیں اور نہ ہی کوئی ایسا سیکورٹی رسک پیدا کریں جس سے عام معصوم انسانوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو۔
کیا آپ لوگوں کے اس طرح سر عام اجتماعات کرنے سے لوگ آپ کے مذہب کی طرف راغب ہو جائیں گے ؟
میرے خیال میں اگر ہم لوگوں نے تفرقہ بازی ، ایک دوسرے سے نفرت ، شدت پسندی اور دہشت گردی جیسے عنفریت کا خاتمہ کرنا ہے تو جلد یا بدیر ہمیں ایسے اقدام کرنا ہوں گے کہ جس سے خصوصا پاکستان میں رہنے والے انسان سکھ اور آزادی کا سانس لے سکیں ۔
اہل تشیع ہوں ، بریلوی ہوں ، دیوبندی ہوں یا کہ اہلحدیث ۔۔سب کو اپنے مذہبی اجتماعات اپنی قائم کردہ یا گورنمنٹ کی مخصوص کردہ جگہوں پر کرنے چاہئے۔سڑکوں ، گلیوں یا بازاروں میں ہر قسم کے اجتماعات پر مکمل پابندی لگا دینی چاہئے ۔
ہم تمام لوگوں کو سر عام مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے تاکہ پاکستان کا عام مسلمان سکھ کا سانس لے سکے۔اگر پاکستان میں مذہبی اجتماعات مخصوص کردہ جگہوں پر ہونے لگے تو آپ دیکھئے گا کہ اور کچھ ہو نہ ہو پاکستان میں تفرقہ بازی ضرور ختم ہو جائے گی
کالے نیلے پیلے اور زرد عاشق
ہمارا زمانہ تھا کہ لڑکیوں کے اسکول اور کالجوں کے باہر جن عاشقوں (عرف عام میں جنہیں آپ بھونڈ بھی کہہ سکتے ہیں) کا جھمگٹا ہوتا تھا وہ خوب بن سنور کر آتے تھے اور اس کے برعکس لڑکیاں بڑی سادہ سی،سلجھی ہوئیں بالکل گاؤ ماتا جیسی ہوتی تھیں۔
اگر کسی لڑکی سے ان میں سے کسی کا آنکھ مٹکا ہوتا تھا تو وہ بڑے سلیقے اور رازداری سے اس کی طرف اپنا محبت بھرا خط تھمادیتا تھا۔جس پر عموما کچھ اس قسم کے الفاظ درج ہوتے تھے کہ شام کو چھت پر یا کھڑکی پر ضرور آنا یا کہ میں تمہیں فون کروں گا۔اتنی سی بات کے لئے اس عاشق یا بھونڈ کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا اور فون کرنے کے لئے تو ہزاروں پاپڑ بیلنے پڑتے تھے کیونکہ فوں کبھی لڑکی کا ابا اٹھا لیتا تھا اور کبھی امی ۔۔۔ اور لڑکیاں بھی ایسی شرم حیا والی ہوتی تھیں فون کی گھنٹی سنتے ہی ان کی جان چلی جاتی تھی کہ کہیں ابا یا امی کو پتہ نہ چل جائے۔۔۔
کئی چالاک عاشق یا بھونڈوں کو اپنی بہن یا بھابی کی منتیں کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا کہ باجی یا بھابھی جی صرف ایک بار اسے فون کر کے فون پر بلا دیں میں آپ کا احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گا۔
غرض یہ کہ اس وقت کہ عاشق تہذیب یافتہ بھی تھے اور منہہ متھے بھی لگتے تھے اور لڑکیاں بھولی بھالی ،حقیقی خوبصورت اور گاؤ ماتا جسی ہوتی تھیں
آج بہت سالوں بعد مجھے لاہور میں وحدت کالونی کے خواتین کالج جانے کا اتفاق ہوا ۔میری بچی کا آج بی کام کا آخری پیپر تھا اور وہ پیپر صرف ڈیڑھ گھنٹے پر محیط تھا ۔۔سوچا واپس گھر کیا جانا ہے دیڑھ گھنٹہ ہی تو ہے یہاں ہی انتظار کر لیتے ہیں۔۔۔ہو سکتا ہے ذہن میں پرانے جراثیم بھی ہوں جس کی وجہ سے مجھے وہاں ٹھرنے کی تحریک ملی ہو۔
دیکھتا ہوں آج بھی لڑکیوں کے کالج کے باہر ویسے ہی عاشقوں (بھونڈوں) کا جھمگٹا لگا ہوا ہے ۔کئی نیلے کالے سے لڑکے ، اپنے پیلے اور زرد چہرے لئے ہوئے کان سے موبائیل فون لگائے گیٹ سے کبھی ادھر جا رہے ہیں اور کبھی اُدھر ۔۔۔۔اور لڑکیاں جنہوں نے ابھی زمانہ دیکھنا ہے میک اپ کی تہہ میں اپنے چہرے کو سجائے ہوئے بڑے آرام سے گیٹ کے باہر آ کر اپنے اپنے عاشقوں کے ساتھ کھڑی ہو کر بڑے مزے سے خوش گپیوں میں مصروف ہو جاتی ہیں ۔۔انہیں نہ اپنے باپ کی فکر اور عزت کا احساس ہے اور نہ ہی اپنے بھائی کی ۔۔جونہی ان میں سے کسی لڑکی کا باپ یا بھائی انہیں لینے آتا وہ بڑے مزے سے باتیں کرتے کرتے ان کے ساتھ روانہ ہو جاتیں۔
میں اب تک حیران ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیا واقع میں ہمارا پاکستان ترقی کر گیا ہے ؟ کیا ترقی ایسی ہوتی ہے اور کیا اب ہمیں ہیرا منڈیوں پر پابندی نہیں لگادینی چاہئے کیونکہ ویسے بھی اب ان کا کوئی فائدہ نہیں رہ گیا
ہمیں اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہو گی ، ہمیں قوم پرست بننا ہوگا
خالی خولی مغرب والے ہی قوم پرست نہیں ہیں بلکہ میں نے مشرق ، مغرب ، شمال جنوب سب ہی کو قوم پرست دیکھا اور سنا ہے۔ہم پاکستان والے پتہ نہیں کون سے خطے میں رہتے ہیں جو قوم پرست نہیں ہیں۔۔اگر ہم مشرق میں ہی رہتے ہیں تو ہمیں بھی قوم پرست ہونا چاہئے ۔ہمارے ساتھ ہمسائے یعنی کہ ہندوستان والے چاہے کتنے ہی لعنتی کردار کیوں نہ ہوں ۔۔مگر یہ ماننا پڑے گا کہ ہیں وہ قوم پرست۔۔وہاں کا ہندو طبقہ تو خیر انتہا پسند ہے ہی مگر آپ وہاں کے کسی بھی مسلمان سے ہندوستان کے خلاف بات کر کے دیکھ لیں وہ آپ کے منہ پر ایسا لفظوں کا تھپڑ مارے گا کہ آپ ساری مسلمانی
بھول جائیں گے۔۔
ایک ہم ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سے زیادہ سچا مسلمان پوری دنیا میں نہیں ہے اور جب بات پاکستانیت اور قوم پرستی کی آتی ہے تو ہماری خود ساختہ مسلمانی پتہ نہیں کہاں سو جاتی ہے۔۔جسے دیکھو پاکستان کی برائی ، جسے دیکھو فوج کی برائی ۔۔۔ایک عام آدمی سے لے کر بڑے بڑے لیڈر بھی اپنی ہی فوج کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم کس کا ایجینڈا لے کر چل رہے ہیں۔اگر ہم پاکستان کا ایجینڈا لے کر اس ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں پر بھی نظر ثانی کرنی ہو گی۔ہمیں مذہب پسند کی طرح قوم پرست بھی بننا پڑے گا۔
ہر قوم ، ہر ملک میں خرابیاں ہوتی ہیں اور کچھ لوگ بھی خراب ہوتے ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ پوار ملک یا پورے لوگ یا ادارے ہی خراب ہیں۔۔۔ان کو صحیح بھی کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔مگر کوں صحیح کرے گا۔۔وہی جو قوم پرست ہونگے ۔اگر ہم اپنے ہی گھر والوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں تو باہر والے کبھی بھی ہمارا ساتھ اس طرح نہیں دے سکتے جس طرح گھر والے دیتے ہیں
پوری دنیا میں دیکھ لیجئے کوئی بھی اپنے اہم اداروں کو برا بھلا نہیں کہتا ، بلکہ ان میں اگر کسی جگہ کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو انہیں برا بھلا کہنے کی بجائے انہیں ٹھیک کیا جاتا ہے تاکہ ان کے وہ ادارے اور زیادہ مظبوط ہو جائیں۔۔۔ایک ہم پاکستانی واحد قوم ہیں جو اپنے ہی اہم اداروں جن کی وجہ سے ہم دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں ، ان کو ہی برا بھلا کہہ رہے ہیں ۔ہمیں اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہو گی ، ہمیں قوم پرست بننا ہوگا۔۔۔۔
میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے
تاج، تیرے لئے اک مظہرِ اُلفت ہی سہی
تُجھ کو اس وادئ رنگیں سے عقیدت ہی سہی
میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی؟
ثبت جس راہ پہ ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟
مری محبوب پسِ پردہِ تشہیر وفا
سطوت کے نشانوں کے مقابر سے بہلنے والی
مُردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لئے تشہیر کا ساماں نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
یہ عمارات و مقابر، یہ فصیلیں، یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینہ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں
میری محبوب! انہیں بھی تو محبت ہوگی
جن کی صنائی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ چلائی نہ کسی نے قندیل
یہ چمن زار، یہ جمنا کا کنارہ یہ محل
یہ منقش درودیوار، یہ محراب، یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے
ساحر لدھیانوی
غلیظ عادتیں
لوگوں میں جہاں اچھی بری عادتیں دیکھنے کو ملتیں ہیں وہاں کچھ لوگوں میں ایسی غلیظ عادتیں بھی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر کراہت محسوس ہوتی ہے ۔یہ لوگ جن میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں بہت سی ایسی غلیظ عادتوں کا شکار ہوتے ہیں جو کہ انتہائی کراہت آمیز ہیں ۔ان میں سے کچھ لوگ یہ حرکات عموما ‘‘ کسی بی قسم کی ٹینشن ‘‘ کے دوران کرتے ہیں ۔مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ زیادہ تر لوگوں میں یہ عادتیں بچپن سے ہی ہوتی ہیں ۔
ان عادتوں میں ہر وقت ناخن چباتے رہنا ، ہر وقت ناک میں انگلی ڈالے رکھنا ، ہر وقت تھوکتے رہنا یا کہ منہہ میں انگوٹھا یا انگلی کا چوستے رہنا شامل ہیں۔
منہہ میں انگوٹھے کے چوسنے کی عادت عموما بچپن میں ٩٩ پرسنٹ بچوں میں ہوتی ہے جو کہ وقت سے ساتھ ساتھ دو یا تین سال کی عمر میں ختم ہو جاتی ہے کسی کسی مرد یا عورت میں یہ عادت جوانی تک بھی قائم رہتی ہے مگر اس کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے
ناخن چبانے کی عادت عورت اور مرد میں کسی بھی عمر میں شروع ہو سکتی ہے
ہر وقت اور ہر جگہ تھوکنے کی عادت زیادہ تر بچپن سے ہی شروع ہوتی ہے مگر دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ جوانی میں بھی یہ عادت مرد و عورت میں بکثرت پائی گئی ہیں
ہر وقت ناک میں انگلی ڈالے رکھنا اور ناک نکالتے رہنا ۔۔۔ یہ عادت انتہائی کراہت آمیز ہے اور یہ عادت بچپن اور جوانی میں بہت سے مرد و عورتوں میں بکثرت پائی جاتی ہے۔
تھوڑے دن ہوئے مجھے ایک لیبارٹری جانے کا اتفاق ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں کا ایک ایکسرے ٹیکنشین دنیا مافہیا سے بے خبر ناک میں انگلی ڈالے بڑے مزے سے ناک نکال نکال کر کبھی کہیں اچھال رہا تھا اور کبھی کہیں ۔اور دیدہ دلیری اس کی دیکھئے کہ کبھی کبھار وہ ناک کو اپنی ہی قمیض پر بھی مل دیتا تھا۔ابھی میں اس کی حرکتیں دیکھ ہی رہا تھا کہ وہاں ایک نوجوان مریضہ ڈینٹل ایکسرے ( دانت کا ایکسرے ) کروانے کے لئے آئی ۔ایکسرے ٹیکنیشن بڑے مزے سے اُٹھا اور بغیر ہاتھ دھوئے اس کا دانت کا ایکسرے کر ڈالا ۔یہاں میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ دانت کا ایکسرے کرنے کے لئے متاثرہ دانت کے ساتھ انگلیوں سے ایکسرے فلم کو ایڈجسٹ کیا جاتا ہے ۔۔سوچتا ہوں کہ اگر اس مریضہ کو اس ایکسرے ٹیکنیشن کی اس غلیظ حرکت کا پتہ ہوتا تو گالیاں تو ایک طرف رہ گئیں کم از کم اس کو الٹیاں ضرور شروع ہو جاتیں
ذہنی کرپشن کو کوئی کیا کہے
میو ہسپتال لاہور شہر میں واقع ایک بڑا ہسپتال ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ اس ہسپتال کا شمار ایشیا کے بڑے اور مشہور ہسپتالوں میں بھی کیا جاسکتا ہے۔اور ہمارے پاکستان کا یہ بھی اصول ہے کہ جو چیز ، جگہ جتنی بڑی ہوگی اس میں کرپشن کے مواقع بھی اتنے ہی ہوں گے ۔خالی خولی کرپشن ہو تو چلو گزارہ بھی کیا جاسکتا ہے مگر ذہنی کرپشن کو کوئی کیا کہے۔
ڈاکٹری پیشہ ایک مقدس پیشہ ہے اس مقدس پیشے کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے ڈاکٹروں کو آپ کیا کہیں گے ؟
یہ غالبا 1988 کا دور تھا ، مہینے کا کچھ یاد نہیں ، میں حسب معمول اپنی رات کی ڈیوٹی پر میو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں موجود تھا۔ہمارے ساتھ ہمارا ایم او ( میڈیکل آفیسر) ڈاکٹر حفیظ الرحمن جو شکل سے انتہائی شریف آدمی دکھائی دیتا تھا موجود تھا۔ہماری ڈیوٹی رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک 12 گھنٹے پر محیط ہوتی تھی ۔اور رات 1 بجے کے بعد ایمرجنسی میں عموما رش کم ہو جایا کرتا تھا۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی روزانہ یہ روٹین ہوتی تھی کہ جب ایمرجنسی میں رش کم ہو جایا کرتا تھا تو کسی نہ کسی نوجوان خوبصورت لڑکی کو جو بیچاری اپنی بیماری کے باعث وہاں اپنے ماں باپ یا بھائی کے ساتھ آتی تھی ، اپنے قریب والے بیڈ پر لٹا کر اس کا علاج خود کیا کرتا تھا۔یہاں میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ ہماری سب کی ڈیوٹی ایمرجنسی وارڈ کے باہر ( سی او ڈی ) میں ہوتی تھی جہاں پولیس کیس ، یعنی حادثات ، قتل وغیرہ کے کیس آیا کرتے تھے جبکہ ہمارے ہاں جو میڈیکل آفیسر یعنی ( ایم او) ہوتا تھا وہ تمام مریضوں کو ایک نظر دیکھ کر اسے سرجیکل یا میڈیل میں ریفر کر دیا کرتا تھا۔
تو بات ہو رہی تھی کہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی عموما روزانہ کی یہ عادت تھی کہ جب ایمرجنسی میں رش کم ہو جایا کرتا تھا تو کسی نہ کسی نوجوان خوبصورت لڑکی کو جو بیچاری اپنی بیماری کے باعث وہاں اپنے ماں باپ یا بھائی کے ساتھ آتی تھی ، اپنے قریب والے بیڈ پر لٹا کر اس کا علاج خود کیا کرتا تھا۔۔اور اسی علاج کے بہانے وہ لڑکی کے سینے پر اسٹتھیو اسکوپ ( عام آدمی اسے ٹوٹیاں سمجھ لیں جس سے سینے اور دل کا چیک اپ کیا جاتا ہے) لگا کر دیر تک اسے ہاتھوں سے ٹٹول کر مزے لیا کرتا تھا۔اس کی اس قبیح حرکت سے بہت سی لڑکیاں رونے لگتی تھیں ۔بیچارے ماں باپ یہی سمجھتے تھے کہ ان کی لڑکی تکلیف کی وجہ سے رو رہی ہے ۔ان کو کیا پتہ ہوتا تھا کہ یہ ڈاکٹر جو ان کی بچی کا علاج کر رہا ہے یہ ڈاکٹر کے روپ میں درندہ ہے۔ہم نے بارہا ڈاکٹر حفیظ الرحمن کو اس کی حرکتوں سے منع بھی کیا تھا اور بارہا شرم بھی دلائی تھی مگر اس کے کان پر جوں نہ رینگتی تھی ۔
آج ہم سب نے ٹھان لیا تھا کہ آج اگر اس نے ایسی کوئی حرکت کی تو اس کا کوئی نہ کوئی سدباب کیا جائے گا۔اتفاق دیکھئے کہ ایک خوبصورت لڑکی پیٹ درد کی وجہ سے رات تقریبا ڈیڑھ بجے اپنی والدہ اور نوجوان بھائی کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوئی میں اس وقت پرچی والے کے پاس ہی بیٹھا چائے پی رہا تھا میں نے پرچی والے کو اشارہ کیا کہ اس کی پرچی بنائو اور اسے ڈاکٹر حفیظ الرحمن کے پاس بھیج دو ۔ دوسری جانب میں نے اوپر لیباٹری ٹیکنیشن کو فون کر دیا کہ نیچے آ جائو اور باہری گیٹ کے پاس کھڑے ہو جائو۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے حسب معمول اس لڑکی کو اپنے ساتھ والے بیڈ پر لٹا کر قبیح حرکتیں شروع کر دیں ۔وہ لڑکی بھی کئی انتہائی شریف تھی اس نے اونچا اونچا رونا شروع کر دیا ۔ میں نے فورا لیبارٹری ٹیکنیشن کو اشارہ کیا ، اس نے اس کے نوجوان بھائی کو اشارے سے بلا کر اسے ڈاکٹر کے بارے میں بتایا اور غائب ہو گیا۔لڑکی کے بھائی کا یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر اس کی بہن کے ساتھ ایسی حرکتیں کر رہا ہے اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ، مریضوں کا اسٹول اٹھا کر ڈاکٹر کو دے مارا اور لگا گالیاں نکالنے ۔۔۔لڑکے نے فوری طور پر اپنی بہن اور ماں کو وہاں سے لیا اور وہاں سے غائب ہو گیا۔۔ہم نے سوچا کہ یارا یہ تو کچھ نہ ہوا مگر تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتے ہیں کہ ساتھ ہی گوالمنڈی سے وہ بہت سے لڑکے لے کر دوبارہ آ دھمکا اور لگا ڈاکٹر کو مارنے۔۔جب وہ ڈاکٹر حفیظ کو کافی مار چکا تو اب ہمیں ڈاکٹر کو بچانے کی فکر ہوئی ۔۔بحرحال قصہ مختصر ڈاکٹر کو کسی نہ کسی طرح بچا کر وہاں سے بھگا دیا گیا اور صبح لڑکے کی درخواست پر سیکرٹری ہیلتھ نے اسے معطل کر دیا۔۔۔بعد میں سنا تھا کہ وہ بحال ہو گیا تھا۔۔مگر اس دن کے بعد سے آج تک میری اس سے ملاقات نہیں ہوئی
ہیں رہبروں کی عقل پر پتھر پڑے ہوئے
نکلے صدف کی آنکھ سے موتی مرے ہوئے
پھوٹے ہیں چاندنی سے شگوفے جلے ہوئے
ہے اہتمام گریہ و ماتم چمن چمن
رکھے ہیں مقتلوں میں جنازے سجے ہوئے
ہر ایک سنگ میل ہے اب تگِ رہگذر
ہیں رہبروں کی عقل پر پتھر پڑے ہوئے
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے
اب میکدے میں بھی نہیں کچھ اہتمام کیف
ویران ہیں شعور تو دل ہیں بجھے ہوئے
ساغر یہ واردات سخن بھی عجیب ہے
نغمہ طراز شوق ہوں لب ہیں سلے ہوئے
ساغر صدیقی
پاکستان کا ہر دوسرا بندہ ڈاکٹر اور مولوی ہے
جو جس چیز کا ماہر ہوتا ہے اس کی رائے کو معتبر بھی مانا جاتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ایک انسان جس علم میں ماہر ہے اس کا وہ فائدہ اٹھا کر دوسروں کو گمراہی میں دھکیل دے۔جیسا کہ میں نے شروع میں بات کی کہ ‘‘ جو جس چیز کا ماہر ہوتا ہے اس کی رائے کو معتبر بھی مانا جاتا ہے ‘‘ یعنی اگر کوئی ڈاکٹر کسی خاص مرض کا ماہر ہے تو اس کی تشخیص اور دوا کو بہتر جانا جائے گا اور لوگ دوسرے عام ڈاکٹروں کی نسبت اس پر زیادہ بھروسہ کریں گے اور اس کے کہے پر عمل بھی کریں گے۔
ایسے ہی دینی ڈاکٹر کا بھی سمجھ لیں ، جس کو دین کا صحیح علم ہو گا وہ صحیح بات کرے گا یہ الگ بات ہے کہ وہ اس علم کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دنیاوی منفعت کے لئے لوگوں کو گمراہ کرتا پھرے ۔یہاں مجھے ایک بات یاد آگئی پتہ نہیں کس نے کہی ہوگی ، حالانکہ اسے کبھی کوئی انگریز سے منسوب کرتا ہے اور کوئی کسی سے۔۔۔بحرحال کہتے کچھ یوں ہیں کہ پاکستانیوں میں ہر دوسرا بندہ ڈاکٹر اور مولوی ہے ۔۔۔اور دیکھا جائے تو یہ حقیقت سے قریب ترین بات ہے میں نے بذات خود اسے کئی بار آزمایا ہے۔آپ کسی سے بھی پوچھ لیں کسی بیماری کا یا کسی دینی مسلے کا تو وہ آپ کو جھٹ سے جواب بھی دے گا اور اس کے بارے میں دلائل بھی دے مارے گا۔۔اور انہیں ڈاکٹروں اور مولویوں کی وجہ سے آج بہت سے لوگ قبروں کے اندر ہیں اور جو باہر ہیں وہ قبروں اور قبر والوں کو سجدے کر رہے ہیں
میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں
بارہ اگست دو ہزار چھ کو کو ایک تحریر بنام واصف علی واصف کے تحریر کی تھی جس کے چند الفاظ چھوڑ کر وہ تمام تحریر حقیقت پر مبنی تھی وہ چند الفاظ میں نیچے کوٹ کر رہا ہوں
سڑک سے تھوڑا اندر کھائی کے بالکل اوپری کنارے پر کچھ لوگ کھڑے ایک مردے کو دفنا رہے تھے
پوچھنے پر پتہ چلا کہ نشئی آدمی تھا اور پتہ نہیں کیا لکھتا رہتا تھا اور آخر کار آج چل بسا ، اسی کو دفنا رہے ہیں
حالانکہ میں نے واصف علی واصف کو نہ ہی دفناتے ہوئے دیکھا اور نہ ہی کسی نے مجھے اس کے بارے میں نشئی کے الفاظ کہے۔اللہ مجھے معاف کرے
انسان کوئی بھی ہو اچھا یا برا ، اس کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہنا چاہئے ۔ کیونکہ میری زندگی کا تجربہ ہے کہ جیسا تم بوؤ گے ویسا ہی کاٹو گے۔میں نے بہت سے ایسے انسان دیکھے ہیں جنہوں نے جو کہا ویسا ان کے آگے بھی آیا اور میں اس کی مثال آپ بھی ہوں ۔۔میرے ساتھ بارہا ایسا ہوا کہ جیسا میں نے کیا ویسا آگے بھی آیا۔
دو ہفتے پیشتر میری ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی ( اللہ سبہانہ و تعالی اسے جنت میں جگہ عطا فرمائے آمین) بڑی عظیم ماں تھی میری ، بالکل ایسے ہی جیسے عظیم مائیں ہوتیں ہیں جن کی مثالیں دی جا سکیں۔رات ساڑھے گیارہ بجے ان کی وفات ہوئی ، ایک بجے کے قریب بڑے بھائی نے مجھے کہا کہ میانی صاحب ( میانی صاحب لاہور میں واقع ایک بڑا قبرستان ہے) جا کر قبر کا انتظام کر کے آؤ ۔میں اور میرا ایک دوست اسی وقت جناز گاہ جا پہنچے ۔ وفات کا اندراج کروانے کے بعد ہم گورکن کے ہمراہ قبرستان کے اندر قبر کی جگہ دیکھنے چلے گئے ۔( رات میں قبرستان میانی صاحب میں ایک عجیب ہی سماع ہوتا ہے جس کی تفصیل انشااللہ پھر پیش کروں گا) بحرحال کافی تلاش کے بعد بھی مجھے کوئی جگہ پسند نہیں آ رہی تھی ۔ میں مصر تھا کہ مجھے زیادہ اندر قبر نہیں بنوانی بلکہ سڑک کے نزدیک ہو تو بہتر ہو گا۔ آخر کار گورکن نے مجھے کہا کہ میں آپ کو مزنگ والی سائڈ پر جگہ دکھاتا ہوں ۔ہم اس کے ساتھ مزنگ کے ساتھ چوبرجی کی طرف جانے والی سڑک پر اندر قبرستان کے اند داخل ہوگئے اس نے وہاں اپنے ایک دوست گوکن کو اٹھایا اور مجھے قبر کی جگہ دکھانے کو کہا۔اس نے مجھے واصف علی واصف کی طرف سے جانے والی گلی کے اندر شروع میں قبر کی جگہ دکھائی جو مجھے پسند آگئی اور آج میری عظیم والدہ واصف علی واصف کے ساتھ گلی تھوڑا آگے جاکر مدفن ہے اور میں واصف علی واصف کی قبر کے سامنے سے ہوتا ہوا اپنی والدہ محترمہ کی قبر پر حاضری دینے جاتا ہوں ۔۔۔سوچتا ہوں اللہ جانے اس میں بھی کیا حکمت ہے مگر میں اب واصف علی واصف کے آگے سے گزرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہوں ۔۔۔اللہ مجھے معاف کرے ۔۔۔پتہ نہیں کیسا انسان تھا ، میں نہیں جانتا ۔اللہ اس کے ، میری والدہ کے اور تمام مسلمانوں کے گناہ معاف کرے آمین
بابے مکی کا شکریہ
تقریبا دو سوا دو سال بعد میں اپنے بلاگ پر دوبارہ حاضری دے رہا ہوں ۔سب سے پہلے تو میں نے بلاگ کو نئے کپڑے پہنائے ( یعنی کہ نیا رنگ و روپ دیا) اس کے بعد میں سب سے پہلے بابے مکی کا شکریہ ادا کرنے چلا آیا ہوں ۔شاید کہ میں اب بھی اپنے بلاگ کو اپ ڈیٹ کرنے بارے نہ سوچتا مگر اتفاق سے پچھلے دنوں مکی بابا اور محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب کے درمیان کچھ تلخ و شیریں باتیں پڑھنے کو ملیں ۔ سوچا بابا مکی کے بلاگ پر جا کر دیکھوں تو سہی ماجرا کیا ہے۔جب میں بابے مکی کے بلاگ پر گیا تو اور بھی بہت سی تحریروں پر نگاہ پڑی جس پر میں نے تبصرہ دینا چاہا ۔مگر تبصرے کے لئے بابے مکی کے بلاگ پر رجسٹرڈ ہونا ضروری تھا۔(یعنی میری نگاہ میں یہ خاصی کڑی پابندی تھی) قصہ مختصر کہ دو تین دن پیشتر محترم شاکر عزیز کے بلاگ کا دورہ کیا جہاں بابے مکی پر انہوں نے تحریر لکھی تھی تو تبصرے کے خانے میں ہم نے بھی تبصرہ دے ڈالا کہ ( مکی صاحب نے ہم جیسوں کے خوف سے تبصرے بند کئے ہوئے ہیں) ہم نے اپنے تئیں بالکل سچ بات کی مگر مکی صاحب نے جوابا ہمیں جھوٹا قرار دے دیا۔ہونا تو ہی چاہئے کہ اگر آپ آزادی سے لکھ رہے ہیں اور اگر آپ کو خوف بھی نہیں ہے تو تبصرے بھی کھلے رکھیں ۔اگر آپ رجسٹرڈ کی پابندی لگائیں گے تو دوسرا کیا جانے گا۔
بات لمبی ہو گئی ، چلیں جانے دیں ۔ہم نے سوچا ہے کہ اب بابے مکی کے بارے ہم کچھ نہ کہیں گے ۔وہ جانے اور اللہ سبحانہ و تعالی جانے۔بس ہم ان کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں اور ہم سب کو نیک ہدائت دے ۔آمین
دوسرا ہم اس لئے بھی چپ ہو گئے ہیں کہ مکی صاحب نے ہمیں جھوٹا قرار دے دیا ہے اور اتفاق سے ہی ہم نے محترم خاور کھوکھر کی ایک تحریر بے وطن پڑھ لی ۔۔جس میں انہوں نے تمام پاکستانیوں کو ہی جھوٹا قرار دیا ہے۔۔۔اب ہمارا منہہ چھپانا مشکل ہو گیا تھا کیونکہ ہم بھی پاکستانی ہیں اس لئے ہم نے سوچا ہے کہ اب بلاگ تو ضرور اپ ڈیٹ کیا کریں گے مگر دوسرے مختلف موضوعات پر کیونکہ ۔۔۔اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
باہر رہنے والوں کے لئے تحفہ خاص



یہ تین عدد خصوصی کتابیں میرے کہنے پر اردو ہوم کی سائٹ پر ڈالی گئی ہیں۔اصل میں ، میں جب بھی اپنے اآج کل کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو دیکھتا ہوں تو ترس سا آ جاتا ہے خصوصا باہر رہنے والے اپنے پاکستانیون پر ،سوچا ترس کھانے سے بہتر ہے کہ ان کا علاج کیا جائے ،علاج بھی ایسا جو کہ یہ خود کر سکین۔
اوپر دئے گئے تینوں لنکس آپ سب کے لئے ہیں اگر آپ میں سے کوئی بچہ ہے یعنی ١٨ سال سے کم عمر کا ہے تو وہ ان کتابوں کو نہ پڑھے۔ویسے تو آجکل کے بچے ،،، توبہ ۔۔ توبہ۔۔۔۔
تبھی تو یہ حالت ہوئی ہے ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی۔
الیکشن ٢٠٠٨ کا ایک تجزیہ
میرا یہ مضمون آپ اردو نیوز پر بھی پڑھ سکتے ہیں
جب الیکشن ٢٠٠٨ کی بازگشت شروع ہوئی تھی تو ساتھ ہی میاں نواز شریف کی آمد کا بگل بھی بجنا شروع ہو گیا تھا۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ ماننا تھا کہ بے نظیر تو پاکستان میں امریکہ کہ آشیرباد سے آسکتی ہیں مگر نواز شریف کا آنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔قصہ مختصر کہ دنیا نے دیکھا کہ بے نظیر بھی پاکستان آئیں اور حکومت پاکستان کو نواز شریف کی آمد کا غم بھی سہنا پڑا۔میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے قاف لیگ کو جتنا بڑا دھچکا لگا شاید وہ بے نظیر کی آمد کا عشرِ عشیر بھی نہیں تھا۔
اب جبکہ پاکستان کے اقتدار کی جنگ میں محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی جان کی بازی ہار چکی ہیں تو میدان میاں نواز شریف کے لئے بالکل خالی ہوچکا ہے۔قاف لیگ کو عوام میں پہلے بھی اتنی پزیرائی حاصل نہیں تھی جو کہ ان دونوں بڑی پارٹیوں ( پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ نون ) کے مقابلے میں کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھا پاتی مگر اب بے نظیر کی المناک موت کے بعد تو قاف لیگ صرف نام کی جماعتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
اگر ہم صرف پنجاب کے حوالے سے ہی الیکشن ٢٠٠٨ کی صورتحال کا جائزہ لیں تو ١٨ فروری کو ہونے والے انتخابات میں پنجاب میں کل اہل ووٹروں کی تعداد ٤ کروڑ ٤٦ ہزار ہے ، ضلع لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں سیاسی صورتحال بظاہر نون لیگ کے حق میں دکھائی دیتی ہے، گجرات، رحیم یار خان اور بعض دیگر اضلاع قاف لیگ کے مضبوط قلعے ہیں۔
پنجاب میں عام انتخابات ٢٠٠٨ء میں اس مرتبہ صورتحال نہایت دلچسپ رہیگی، ضلع لاہور میں سیاسی صورتحال واضح طور پر (ن) لیگ کے حق میں نظر آرہی ہے، اسی طرح راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی بظاہر (ن) لیگ مضبوط دکھائی دیتی ہے، تاہم گجرات، رحیم یار خان اور بعض دیگر اضلاع میں (ق) لیگ کی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پہلے نمبر پر صوبہ پنجاب میں جہاں مجموعی طور پر 4 کروڑ 46 ہزار 914 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سب سے کم 4 لاکھ 37 ہزار 4 سو 34 مرد اور خواتین ووٹر اپنا ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ضلع اٹک میں 461032 مرد اور 3 لاکھ 94 ہزار 9 سو 9 خواتین اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ ضلع بہاولپنگر میں 747178 مرد حضرات 617973 خواتین، ضلع خوشاب میں 299426 مرد، 257371 خواتین، ضلع گجرات جو کہ (ق) لیگ کے سرکردہ رہنماؤں کا گڑھ کہلاتا ہے چھ لاکھ 85 ہزار 9 سو 65 مرد، 603228 خواتین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گی۔ ضلع بھکر میں 31278 مرد حضرات، 253267 خواتین ووٹرز ہین۔ یہاں شاہانی گروپ کے امیدوار عروج پر ہیں۔ ضلع ڈیرہ غازی خان میں (ن) لیگ کے امیدواروں کا گراف دن بدن بڑھ رہا ہے۔ یہاں پر مرد ووٹروں کی تعداد 626101 اور 480849 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع فیصل آباد میں پی پی پی اور (ن) لیگ کے امیدواروں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہو گی۔یہاں مرد ووٹروں کی تعداد 1636649 اور 1311049 خواتین ووٹرز میں یہ پنجاب میں دوسرے نمبر پر ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بھی دوسرے نمبر پر اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ہیں جبکہ ملک بھر میں ضلع لاہور پہلے نمبر پر ہے جس میں مرد ووٹروں کی تعداد 20 لاکھ 42 ہزار 4 سو 82، خواتین 1631638 رائے دہی کیلئے اپنا حق استعمال کریں گی۔ ضلع لاہور سیاست کے اعتبار سے مسلم لیگ (ن) کا قلعہ ہے اور یہاں بھی (ق) لیگ کی دال گلتی نظر نہیں آرہی۔ اسی طرح دیگر اضلاع جن میں خانیوال مرد 572197 اور خواتین 457522 ضع قصور میں 722771 مرد اور 551886 خواتین، ضلع گوجرانوالہ جہاں ہمیشہ برادری ازم کو فوقیت حاصل رہی ہے میں مرد ووٹرز کی تعداد 133072 اور خواتین 1101947 ہیں۔ ضلع حافظ آباد میں 228873 مرد اور 173909 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع جھنگ جو کہ ایک کالعدم مذہبی تنظیم کا گڑھ سمجھا جاتا ہے میں مرد ووٹرز کی تعداد 103345 اور خواتین کی 858753 ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع کی تعداد درج ذیل ہے۔ ضلع جہلم مرد حضرات 191771، خواتین 357277، ضلع لیہ مرد 320559 خواتین 238002، ضلع لودھراں ، مرد 307536، خواتین اور خواتین 225177، ضلع منڈی بہاؤ الدین میں 370528 مرد اور 278521 خواتین، ضلع میانوالی 348786 مرد اور خواتین 289180، ضلع ملتان 1206049 مرد اور خواتین 1002299، ضلع مظفر گڑھ میں مرد اہل ووٹروں کی تعداد 778637، خواتین 559666، ضلع ننکانہ میں مرد 364884 اور 286070 خواتین، ضلع نارووال میں 3565641 مرد اور 286072 خواتین، ضلع اوکاڑہ میں 804629 مرد اور 693515 خواتین، ضلع پاکپتن میں 3581442 مرد اور 297288 خواتین اہل ووٹر ہیں۔ ضلع رحیم یار خان میں مرد ووٹرز 1188090 اور خواتین 967464، ضلع راجن پور میں مرد 347217 اور خواتین 230476 اہل ووٹرز ہیں۔ ضلع راولپنڈی جہاں پر اس دفعہ فرزند راولپنڈی شیخ رشید کو دونوں حلقوں میں جاوید ہاشمی اور محمد حنیف عباسی جیسے مضبوط امیدواروں کا سامنا ہے۔ یہاں پر اہل مرد ووٹرز کی تعداد 1271509 اور 1137849 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع ساہیوال بودلہ اور کاٹھیاں خاندانوں کا روائتی اکھاڑہ رہا ہے یہاں پر اہل رائے دہند گان مردوں کی تعداد 526909 اور خواتین 426251 ہیں۔ ضلع سرگودھا میں 1055628 اور خواتین 884451، ضلع شیخو پورہ میں 522932 مرد، 385144 خواتین ووٹرز ہیں۔ سیالکوٹ 814130 مرد اور 669993 لیڈیز ووٹرز ہیں۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرد ووٹر حضرات 48714 اور خواتین 404518 اہل ہیں جبکہ ضلع وہاڑی میں مرد اہل رائے دھند گان کی تعداد 714447 اور خواتین کی 610418 موجود ہیں۔ پورے صوبہ پنجاب میں حلقہ این اے 53 راولپنڈی جہاں دونوں سابق وزراء پنجہ آزما ہیں ان میں (ن) لیگ کے چوہدری نثار علی خان اور (ق) لیگ کے غلام سرور خان آمنے سامنے ہیں جبکہ این اے 55,56 سے شیخ رشید احمد اور (ن) لیگ کے جاوید ہاشمی اور حنیف عباسی، این اے 72 میانوالی سے ڈاکٹر شیر افگن، این اے 69 سے خوشاب 14 سے سمیرا ملک سابق وزیر امور خواتین و امور نوجوانان، این اے 1269 نارووال سے محمد نصیر خان، سابق وزیر صحت اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ 2002ء میں ہونے والے الیکشن میں ٹرن اوور 35-6 فیصد تھا اور موجودہ ملکی صورتحال میں ٹرن اوور 25 یا 30 فیصد سے زائد نہیں ہو گا۔قیاس یہی ہے کہ صوبہ پنجاب میں (ن) لیگ اپنے قائد نواز شریف کی واپسی کی بدولت کلین سویپ کر جائیگی۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ آئیندہ پاکستان کے اقتدار کی مسند پر کون بیٹھے گا؟
اردو بلاگرز کے لئے ایک تجویز
ابھی کل ہی میری نگاہ زکریا صاحب کی ایک تحریر پر پڑی جس میں اردو بلاگر کو فعال کرنے کے بارے اور ان کے لئے مفید معلومات بھی موجود تھیں ان کے بلاگ پر جا کر میں اپنا تبصرہ دینے کے بارے سوچ ہی رہا تھا۔مگر میں نے اس سے بہتر یہ خیال کیا کہ اسی سلسلہ میں ایک مکمل تحریر اپنے بلاگ پر ہی کیوں نہ پوسٹ کر دی جائے تاکہ سب اس سے استفادہ کر سکیں۔
اب جب کہ میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو جناب بدتمیز صاحب کی ایک تحریر بعنوان “ جواب آں غزل “ پر بھی نگاہ پڑی جس میں اردو کے حوالے سے گلے شکوے بھی کئے گئے ہیں۔بدتمیز کی بات اپنی جگہ درست مگر زکریا کی گائیڈ لائن کو بھی درگزر نہیں کیا جاسکتا۔
اور اسی سلسلہ میں ایک تجویز میں بھی دینا چاہوں گا۔( اس تجویز کے بارے میں ، میں نے پردیسی بھائی سے اس تجویز بارے تفصیلی بات کی ہے اور انہیں کی اجازت ملتے ہی میں آپ سب کی خدمت میں اس تجویز کے خدوخال رکھنے لگا ہوں۔
ہم یہ چاہتے ہیں کہ اگر آپ سب اردو بلاگرز ، جو بھی تحریریں اپنے بلاگ پر لکھیں اگر وہ آپ اردو نیوز “ نیوز اردو ڈاٹ نیٹ “ کو بھی ساتھ ہی ارسال کر دیا کریں تو آپ سب کی وہ تحریریں “ اردو نیوز “ میں بھی ساتھ ہی شائع ہو جایا کریں گی۔جو کہ آپ کے بلاگ لنک سے شائع ہوں گی اس سے ایک تو جہاں آپ سب کے یوزر کی تعداد اور بلاگ کی ٹریفک میں اضافہ ہو گا وہاں زیادہ سے زیادہ لوگ بھی آپ کی تحریروں سے مستفید ہو سکیں گے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں اور اس میں ہمارا کیا مفاد پوشیدہ ہے؟
پہلی بات تو یہ کہ ہم نیوز کی دنیا میں اپنے تمام اردو بلاگرز کو متعارف کروانا چاہتے، ہم ان کی آواز کو ان لوگوں کی رسائی تک بھی لے آنا چاہتے ہیں جو لگے بندھے لکھاریوں کی تحریروں تک ہی محدود ہیں اور وہ ان کے لکھے ہوئے کو ہی حدیث سمجھ کر من و عن قبول کر رہے ہیں۔
دوسرا ہم اس سے عام انٹرنیٹ کے لوگوں کو بلاگ کی افادیت ، “ یعنی اظہار خیال کی آزادی “ جو کہ ایک بلاگر کی خصوصیت ہوتی ہے اس سے روشناس کروانے کے بھی متمنی ہیں جو کہ فی زمانہ ہمارے پاکستان میں ناپید ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ لوگ لگے بندھے لکھاریوں کی تحریروں کے ہی عادی ہے۔اس لئے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد تحریروں کو بھی ایسے ہی ذوق و شوق سے پڑھیں اور انہیں ایسے لوگوں گا بھی علم ہو جو اپنے دل میں جدا سا درد بھی رکھتے ہیں اور ہر موضوع پر کھل کر بولتے ہیں۔
اب دوسری بات کہ اس میں ہمارا ذاتی مفاد کیا ہو گا؟
اس سے ہمارا ذاتی مفاد یہ ہو گا کہ اس سے ہماری نیوز سائٹ کے یوزر کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا اور دوسرا ہمیں اچھی تحریریں مل سکیں گیں۔
آخر میں ، میں اردو نیوز کے یوزر کی تعداد کے بارے میں ضرور بتانا چاہوں گا۔کل آخری تاریخ ، یعنی نومبر کی تیس تاریخ تک یمارے پورے ماہ میں یوزر کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی جو کہ ہماری توقع سے بڑھ کر ہے۔اور ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد ہٹس ہوئے تھے۔جوں جوں سیاست کے داؤ پیچ آگے بڑھیں گے ہمیں امید ہے یوزر کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔
اگر تمام اردو بلاگرز ہماری اس تجویز کو صحیح اور بہتر جانیں تو اردو نیوز “ نیوز اردو ڈاٹ نیٹ “ کا پلیٹ فارم ان کے لئے حاضر ہے۔
ژانک زیلین ، چین کی ایک خوبصورت حسینہ
خبر ہے کہ چین کی ٢٣ سالہ ژانک زیلین نے حسینہ عالم کا مقابلہ جیت لیا اور مس رنگولا دوسرے اور مس میکسیکو تیسرے نمبر پر رہیں، دنیا بھر کی ١٠٦ حسیناؤں نے مقابلے میں حصہ لیا، اور تقریباً ٢ ارب سے زائد لوگوں نے ٹی وی پر مقابلہ دیکھا۔
ژانک زیلین نے ایک مختصر انٹرویو میں کہا ہے کہ میری جیت میں ١.٣ ارب لوگوں کی محبت کا ہاتھ ہے،اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقابلہ جیتنا ان کا حق تھا اور میں اپنی توانائی اور حسن بے سہارا اور ضرورتمند افراد کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہوں۔
اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ آجکل ہمارے پاکستان کے عوام سے زیادہ بے سہارا اور ضرورتمند لوگ بھلا کہاں ہوں گے اس لئے یار لوگوں سے درخواست ہے کہ “ ژانک زیلین “ سے خصوصی درخواست کریں کہ وہ پاکستان میں آکراپنا حسن اور توانایاں خرچ کریں۔