Google
Home | sheikho blog | Urdu News

باہر رہنے والوں کے لئے تحفہ خاص

November 9th, 2008



یہ تین عدد خصوصی کتابیں میرے کہنے پر اردو ہوم کی سائٹ پر ڈالی گئی ہیں۔اصل میں ، میں جب بھی اپنے اآج کل کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو دیکھتا ہوں تو ترس سا آ جاتا ہے خصوصا باہر رہنے والے اپنے پاکستانیون پر ،سوچا ترس کھانے سے بہتر ہے کہ ان کا علاج کیا جائے ،علاج بھی ایسا جو کہ یہ خود کر سکین۔
اوپر دئے گئے تینوں لنکس آپ سب کے لئے ہیں اگر آپ میں سے کوئی بچہ ہے یعنی ١٨ سال سے کم عمر کا ہے تو وہ ان کتابوں کو نہ پڑھے۔ویسے تو آجکل کے بچے ،،، توبہ ۔۔ توبہ۔۔۔۔
تبھی تو یہ حالت ہوئی ہے ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی۔

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

الیکشن ٢٠٠٨ کا ایک تجزیہ

January 14th, 2008

میرا یہ مضمون آپ اردو نیوز پر بھی پڑھ سکتے ہیں

جب الیکشن ٢٠٠٨ کی بازگشت شروع ہوئی تھی تو ساتھ ہی میاں نواز شریف کی آمد کا بگل بھی بجنا شروع ہو گیا تھا۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ ماننا تھا کہ بے نظیر تو پاکستان میں امریکہ کہ آشیرباد سے آسکتی ہیں مگر نواز شریف کا آنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔قصہ مختصر کہ دنیا نے دیکھا کہ بے نظیر بھی پاکستان آئیں اور حکومت پاکستان کو نواز شریف کی آمد کا غم بھی سہنا پڑا۔میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے قاف لیگ کو جتنا بڑا دھچکا لگا شاید وہ بے نظیر کی آمد کا عشرِ عشیر بھی نہیں تھا۔

اب جبکہ پاکستان کے اقتدار کی جنگ میں محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی جان کی بازی ہار چکی ہیں تو میدان میاں نواز شریف کے لئے بالکل خالی ہوچکا ہے۔قاف لیگ کو عوام میں پہلے بھی اتنی پزیرائی حاصل نہیں تھی جو کہ ان دونوں بڑی پارٹیوں ( پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ نون ) کے مقابلے میں کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھا پاتی مگر اب بے نظیر کی المناک موت کے بعد تو قاف لیگ صرف نام کی جماعتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اگر ہم صرف پنجاب کے حوالے سے ہی الیکشن ٢٠٠٨ کی صورتحال کا جائزہ لیں تو ١٨ فروری کو ہونے والے انتخابات میں پنجاب میں کل اہل ووٹروں کی تعداد ٤ کروڑ ٤٦ ہزار ہے ، ضلع لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں سیاسی صورتحال بظاہر نون لیگ کے حق میں دکھائی دیتی ہے، گجرات، رحیم یار خان اور بعض دیگر اضلاع قاف لیگ کے مضبوط قلعے ہیں۔

پنجاب میں عام انتخابات ٢٠٠٨ء میں اس مرتبہ صورتحال نہایت دلچسپ رہیگی، ضلع لاہور میں سیاسی صورتحال واضح طور پر (ن) لیگ کے حق میں نظر آرہی ہے، اسی طرح راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی بظاہر (ن) لیگ مضبوط دکھائی دیتی ہے، تاہم گجرات، رحیم یار خان اور بعض دیگر اضلاع میں (ق) لیگ کی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پہلے نمبر پر صوبہ پنجاب میں جہاں مجموعی طور پر 4 کروڑ 46 ہزار 914 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سب سے کم 4 لاکھ 37 ہزار 4 سو 34 مرد اور خواتین ووٹر اپنا ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ضلع اٹک میں 461032 مرد اور 3 لاکھ 94 ہزار 9 سو 9 خواتین اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ ضلع بہاولپنگر میں 747178 مرد حضرات 617973 خواتین، ضلع خوشاب میں 299426 مرد، 257371 خواتین، ضلع گجرات جو کہ (ق) لیگ کے سرکردہ رہنماؤں کا گڑھ کہلاتا ہے چھ لاکھ 85 ہزار 9 سو 65 مرد، 603228 خواتین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گی۔ ضلع بھکر میں 31278 مرد حضرات، 253267 خواتین ووٹرز ہین۔ یہاں شاہانی گروپ کے امیدوار عروج پر ہیں۔ ضلع ڈیرہ غازی خان میں (ن) لیگ کے امیدواروں کا گراف دن بدن بڑھ رہا ہے۔ یہاں پر مرد ووٹروں کی تعداد 626101 اور 480849 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع فیصل آباد میں پی پی پی اور (ن) لیگ کے امیدواروں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہو گی۔یہاں مرد ووٹروں کی تعداد 1636649 اور 1311049 خواتین ووٹرز میں یہ پنجاب میں دوسرے نمبر پر ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بھی دوسرے نمبر پر اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ہیں جبکہ ملک بھر میں ضلع لاہور پہلے نمبر پر ہے جس میں مرد ووٹروں کی تعداد 20 لاکھ 42 ہزار 4 سو 82، خواتین 1631638 رائے دہی کیلئے اپنا حق استعمال کریں گی۔ ضلع لاہور سیاست کے اعتبار سے مسلم لیگ (ن) کا قلعہ ہے اور یہاں بھی (ق) لیگ کی دال گلتی نظر نہیں آرہی۔ اسی طرح دیگر اضلاع جن میں خانیوال مرد 572197 اور خواتین 457522 ضع قصور میں 722771 مرد اور 551886 خواتین، ضلع گوجرانوالہ جہاں ہمیشہ برادری ازم کو فوقیت حاصل رہی ہے میں مرد ووٹرز کی تعداد 133072 اور خواتین 1101947 ہیں۔ ضلع حافظ آباد میں 228873 مرد اور 173909 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع جھنگ جو کہ ایک کالعدم مذہبی تنظیم کا گڑھ سمجھا جاتا ہے میں مرد ووٹرز کی تعداد 103345 اور خواتین کی 858753 ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع کی تعداد درج ذیل ہے۔ ضلع جہلم مرد حضرات 191771، خواتین 357277، ضلع لیہ مرد 320559 خواتین 238002، ضلع لودھراں ، مرد 307536، خواتین اور خواتین 225177، ضلع منڈی بہاؤ الدین میں 370528 مرد اور 278521 خواتین، ضلع میانوالی 348786 مرد اور خواتین 289180، ضلع ملتان 1206049 مرد اور خواتین 1002299، ضلع مظفر گڑھ میں مرد اہل ووٹروں کی تعداد 778637، خواتین 559666، ضلع ننکانہ میں مرد 364884 اور 286070 خواتین، ضلع نارووال میں 3565641 مرد اور 286072 خواتین، ضلع اوکاڑہ میں 804629 مرد اور 693515 خواتین، ضلع پاکپتن میں 3581442 مرد اور 297288 خواتین اہل ووٹر ہیں۔ ضلع رحیم یار خان میں مرد ووٹرز 1188090 اور خواتین 967464، ضلع راجن پور میں مرد 347217 اور خواتین 230476 اہل ووٹرز ہیں۔ ضلع راولپنڈی جہاں پر اس دفعہ فرزند راولپنڈی شیخ رشید کو دونوں حلقوں میں جاوید ہاشمی اور محمد حنیف عباسی جیسے مضبوط امیدواروں کا سامنا ہے۔ یہاں پر اہل مرد ووٹرز کی تعداد 1271509 اور 1137849 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع ساہیوال بودلہ اور کاٹھیاں خاندانوں کا روائتی اکھاڑہ رہا ہے یہاں پر اہل رائے دہند گان مردوں کی تعداد 526909 اور خواتین 426251 ہیں۔ ضلع سرگودھا میں 1055628 اور خواتین 884451، ضلع شیخو پورہ میں 522932 مرد، 385144 خواتین ووٹرز ہیں۔ سیالکوٹ 814130 مرد اور 669993 لیڈیز ووٹرز ہیں۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرد ووٹر حضرات 48714 اور خواتین 404518 اہل ہیں جبکہ ضلع وہاڑی میں مرد اہل رائے دھند گان کی تعداد 714447 اور خواتین کی 610418 موجود ہیں۔ پورے صوبہ پنجاب میں حلقہ این اے 53 راولپنڈی جہاں دونوں سابق وزراء پنجہ آزما ہیں ان میں (ن) لیگ کے چوہدری نثار علی خان اور (ق) لیگ کے غلام سرور خان آمنے سامنے ہیں جبکہ این اے 55,56 سے شیخ رشید احمد اور (ن) لیگ کے جاوید ہاشمی اور حنیف عباسی، این اے 72 میانوالی سے ڈاکٹر شیر افگن، این اے 69 سے خوشاب 14 سے سمیرا ملک سابق وزیر امور خواتین و امور نوجوانان، این اے 1269 نارووال سے محمد نصیر خان، سابق وزیر صحت اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ 2002ء میں ہونے والے الیکشن میں ٹرن اوور 35-6 فیصد تھا اور موجودہ ملکی صورتحال میں ٹرن اوور 25 یا 30 فیصد سے زائد نہیں ہو گا۔قیاس یہی ہے کہ صوبہ پنجاب میں (ن) لیگ اپنے قائد نواز شریف کی واپسی کی بدولت کلین سویپ کر جائیگی۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ آئیندہ پاکستان کے اقتدار کی مسند پر کون بیٹھے گا؟

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

اردو بلاگرز کے لئے ایک تجویز

December 1st, 2007

ابھی کل ہی میری نگاہ زکریا صاحب کی ایک تحریر پر پڑی جس میں اردو بلاگر کو فعال کرنے کے بارے اور ان کے لئے مفید معلومات بھی موجود تھیں ان کے بلاگ پر جا کر میں اپنا تبصرہ دینے کے بارے سوچ ہی رہا تھا۔مگر میں نے اس سے بہتر یہ خیال کیا کہ اسی سلسلہ میں ایک مکمل تحریر اپنے بلاگ پر ہی کیوں نہ پوسٹ کر دی جائے تاکہ سب اس سے استفادہ کر سکیں۔
اب جب کہ میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو جناب بدتمیز صاحب کی ایک تحریر بعنوان “ جواب آں غزل “ پر بھی نگاہ پڑی جس میں اردو کے حوالے سے گلے شکوے بھی کئے گئے ہیں۔بدتمیز کی بات اپنی جگہ درست مگر زکریا کی گائیڈ لائن کو بھی درگزر نہیں کیا جاسکتا۔
اور اسی سلسلہ میں ایک تجویز میں بھی دینا چاہوں گا۔( اس تجویز کے بارے میں ، میں نے پردیسی بھائی سے اس تجویز بارے تفصیلی بات کی ہے اور انہیں کی اجازت ملتے ہی میں آپ سب کی خدمت میں اس تجویز کے خدوخال رکھنے لگا ہوں۔
ہم یہ چاہتے ہیں کہ اگر آپ سب اردو بلاگرز ، جو بھی تحریریں اپنے بلاگ پر لکھیں اگر وہ آپ اردو نیوز “ نیوز اردو ڈاٹ نیٹ “ کو بھی ساتھ ہی ارسال کر دیا کریں تو آپ سب کی وہ تحریریں “ اردو نیوز “ میں بھی ساتھ ہی شائع ہو جایا کریں گی۔جو کہ آپ کے بلاگ لنک سے شائع ہوں گی اس سے ایک تو جہاں آپ سب کے یوزر کی تعداد اور بلاگ کی ٹریفک میں اضافہ ہو گا وہاں زیادہ سے زیادہ لوگ بھی آپ کی تحریروں سے مستفید ہو سکیں گے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں اور اس میں ہمارا کیا مفاد پوشیدہ ہے؟
پہلی بات تو یہ کہ ہم نیوز کی دنیا میں اپنے تمام اردو بلاگرز کو متعارف کروانا چاہتے، ہم ان کی آواز کو ان لوگوں کی رسائی تک بھی لے آنا چاہتے ہیں جو لگے بندھے لکھاریوں کی تحریروں تک ہی محدود ہیں اور وہ ان کے لکھے ہوئے کو ہی حدیث سمجھ کر من و عن قبول کر رہے ہیں۔

دوسرا ہم اس سے عام انٹرنیٹ کے لوگوں کو بلاگ کی افادیت ، “ یعنی اظہار خیال کی آزادی “ جو کہ ایک بلاگر کی خصوصیت ہوتی ہے اس سے روشناس کروانے کے بھی متمنی ہیں جو کہ فی زمانہ ہمارے پاکستان میں ناپید ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ لوگ لگے بندھے لکھاریوں کی تحریروں کے ہی عادی ہے۔اس لئے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد تحریروں کو بھی ایسے ہی ذوق و شوق سے پڑھیں اور انہیں ایسے لوگوں گا بھی علم ہو جو اپنے دل میں جدا سا درد بھی رکھتے ہیں اور ہر موضوع پر کھل کر بولتے ہیں۔

اب دوسری بات کہ اس میں ہمارا ذاتی مفاد کیا ہو گا؟
اس سے ہمارا ذاتی مفاد یہ ہو گا کہ اس سے ہماری نیوز سائٹ کے یوزر کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا اور دوسرا ہمیں اچھی تحریریں مل سکیں گیں۔

آخر میں ، میں اردو نیوز کے یوزر کی تعداد کے بارے میں ضرور بتانا چاہوں گا۔کل آخری تاریخ ، یعنی نومبر کی تیس تاریخ تک یمارے پورے ماہ میں یوزر کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی جو کہ ہماری توقع سے بڑھ کر ہے۔اور ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد ہٹس ہوئے تھے۔جوں جوں سیاست کے داؤ پیچ آگے بڑھیں گے ہمیں امید ہے یوزر کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔

اگر تمام اردو بلاگرز ہماری اس تجویز کو صحیح اور بہتر جانیں تو اردو نیوز “ نیوز اردو ڈاٹ نیٹ “ کا پلیٹ فارم ان کے لئے حاضر ہے۔

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

ژانک زیلین ، چین کی ایک خوبصورت حسینہ

December 1st, 2007

خبر ہے کہ چین کی ٢٣ سالہ ژانک زیلین نے حسینہ عالم کا مقابلہ جیت لیا اور مس رنگولا دوسرے اور مس میکسیکو تیسرے نمبر پر رہیں، دنیا بھر کی ١٠٦ حسیناؤں نے مقابلے میں حصہ لیا، اور تقریباً ٢ ارب سے زائد لوگوں نے ٹی وی پر مقابلہ دیکھا۔

ژانک زیلین نے ایک مختصر انٹرویو میں کہا ہے کہ میری جیت میں ١.٣ ارب لوگوں کی محبت کا ہاتھ ہے،اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقابلہ جیتنا ان کا حق تھا اور میں اپنی توانائی اور حسن بے سہارا اور ضرورتمند افراد کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہوں۔
اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ آجکل ہمارے پاکستان کے عوام سے زیادہ بے سہارا اور ضرورتمند لوگ بھلا کہاں ہوں گے اس لئے یار لوگوں سے درخواست ہے کہ “ ژانک زیلین “ سے خصوصی درخواست کریں کہ وہ پاکستان میں آکراپنا حسن اور توانایاں خرچ کریں۔

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

عید مبارک

October 11th, 2007

میری طرف سے باہر رہنے والے ان تمام مسلمانوں کو دلی عید مبارک جن کی عید کل ہو رہی ہے اور پاکستان اور دوسرے تمام ایسے مقامات پر رہنے والوں کو پیشگی عید مبارک جن کی عید ہفتہ یا اتوار کو متوقع ہے اور خصوصاً ایسے تمام مسلمانوں کو بھی دلی عید مبارک جو ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے دو عیدیں مناتے ہیں۔

Eid mubark. From Sheikho

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

لِلی ڈیزی اور نگینہ

September 22nd, 2007

اپنے چوہدری کے عشق کی داستانوں سے پہلے اگر میں نے آپ کو لِلی ، ڈیزی اور نگینہ کے حسن کے بارے میں کچھ نہ بتایا تو میرے خیال میں یہ ان کے حسن کے ساتھ زیادتی ہوگی کیونکہ اس زمانے میں اگر آپ لاہور کے پوش علاقوں میں چلے جاتے ( یاد رہے کہ اس وقت لاہور کے پوش علاقے صرف ماڈل ٹاؤن اور گلبرگ ہی تھے) تو وہاں کے رہنے والے کاؤ بوائے قسم کے لڑکے ہمارے چھوٹے سے علاقے کو لِلی ڈیزی کے گھر کی وجہ سے جانا کرتے تھے۔دروغ برگردن راوی ویسے تو ہمارا علاقہ ایسی حسین پریوں سے بھرا پڑا تھا جن کے چرچے ہر سو تھے مگر چونکہ اس وقت بات اپنے چوہدری کی مناسبت سے ہورہی ہے اس لئے فی الوقت ان کا ذکر کرنا ضروری نہیں جانتا۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ جوں جوں ذہن کا زنگ اترتا چلا جائے گا عشق کے چرچے بھی عام ہوں گے اس لئے خاطر جمع رکھئے۔

لِلی گھر میں سب سے بڑی تھی ،خوبصورت گاؤ ماتا جیسی بڑی بڑی آنکھیں ،ملائی جیسی سفید رنگت ، ستواں سا ناک اور خوبصورت ہونٹوں پر ہر سمے مسکراہٹ لئے ہوئے جہاں سے ایک دفعہ گذر جاتی تھی لوگ دل تھام لیا کرتے تھے۔اپنے چویدری سے دو چار برس ہی بڑی ہوگی جبھی تو چوہدری کو باجی جیسی دکھائی دیتی تھی۔اپنے چوہدری کی اعلیٰ ظرفیوں میں یہ بات بھی شامل تھی کہ جہاں چوہدری کی بات نہ بن پاتی وہاں وہ لڑکی کو بہن بنا لیا کرتا تھا۔

ڈیزی ، لِلی سے چھوٹی تھی مگر حسن میں لِلی سے بھی ایک ہاتھ آگے ، لگتا یوں تھا جیسے کوئی رانی جیسی ہو ،عجیب سا حسن جو سب کو اپنی جانب کھنچے جا رہا ہو،جو کوئی ایک دفعہ دیکھ لیتا بس اسی کا ہو رہتا۔سوچتا ہوں شاید ہمارے لڑکپن سے جوانی میں داخل ہونے کا دور تھا شاید اس لئے اس وقت ہمیں وہ اتنی خوبصورت دکھائی دیتی تھی کیونکہ سیانے کہتے ہیں کہ یہ ایسا دور ہوتا ہے جب آپ کو گدھی بھی خوبصورت دکھائی دیتی ہے۔مگر ایسا نہیں تھا ، سچ پوچھیں تو آج بھی ان کا چہرہ اگر آنکھوں کے سامنے آ جائے تو خال خال ہی ایسا حسن دیکھنے کو ملتا ہے۔

نگینہ، دونوں سے چھوٹی تھی ، بالکل اپنے نام جیسی ، شاید ماں باپ نے اس کا نام بھی اس کے حسن کی مناسبت سے ہی رکھا ہوگا۔دونوں بہنوں سے تھوڑا زیادہ حسین ، ناک میں سیاہ دھاگہ پہنے کوئی اپسرا دکھائی دیتی تھی۔

اپنے چوہدری کا دل ان تینوں میں سے صرف ڈیزی پر ہی آیا ، لِلی بڑی تھی اور نگینہ چھوٹی ، یہ چوہدری کا ہمارے سامنے دوسرا یکطرفہ عشق تھا، یکطرفہ اس لئے کہ قسم لے لیں جو ڈیزی نے ایک دفعہ بھی اپنے چوہدری کو نظر بھر بھی دیکھا ہو ،اپنا چوہدری “ انڈر ففتھ انڈر فور ، تھڑے توڑ “ کے مصادق اور کہاں گاڑیوں کی لائینیں جو ڈیزی کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بیتاب ۔مگر اپنا چوہدری بھی بڑی ڈھیٹ شے تھا، بڑی پتنگیں پھیکیں اس کی چھت پہ مگر مجال ہے جو اس نے چوہدری کو جھلک بھی دکھائی ہو۔
دن بییتتے گئے ، چوہدری کا عشق جنون میں تبدیل ہوتا گیا ، گھنٹوں گیٹ کے باہر کھڑا رہتا کہ کب کالج سے آئے گی اور کب شکل دیکھوں گا اور جب دیکھ لیتا تو سارا دن لوگوں سے ہنس ہنس کے ملتا، مجھے یاد ہے کہ جس دن کالج کی چھٹی ہوتی یا وہ کالج نہ جاتی تو ایسے کاٹنے کو دوڑتا کہ بس نہ پوچھیں۔
ایک دن چوہدری سگریٹ پھونکتے ہوئے کہنے لگا کہ یار شیخو، میں کیسا لگتا ہوں ، میں ہنسنے لگا اور کہا ، کیوں چوہدری آج تجھے یہ خیال کیسے آگیا ، کہنے لگا یار یہ ڈیزی گھاس نہیں ڈالتی ، کس چیز کی کمی ہے مجھ میں، میں نے کہا چوہدری بات کمی کی نہیں ہوتی ، دل کی ہوتی ہے اگر تیرا دل کسی چوڑی پر آسکتا ہے تو اس کا دل بھی کسی پر آسکتا ہے ، پیار میں کسی پر کوئی زور تھوڑا ہی ہوتا ہے ۔یہ دل کے معاملے ہیں چوہدری ، تو کیا جانے تو تو بھوک مٹانے کے چکر میں ہے۔لگا قسمیں کھانے کہ میں سچا پیار کرتا ہوں ، میں نے کہا چھوڑ یار میں جانتا ہوں یہ سچا پیار اپنے بس کی باتیں نہیں ہیں ، دفع کر تو ڈیزی کو ، کہیں اور دیکھ ، چوہدری لمبی ہوں کر کے پھر سگریٹ پھونکنے لگا۔
اچھا چوہدری ایک بات تو بتا یہ جو تمہارے پیچھے رہتے ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے تیرا ، کون یہ دھوبی ، ارے نہیں یار ، کالی سی تو ہے۔ ابے چوہدی کالی ہے تو کیا ہوا نین نقش تو اچھے ہیں نا۔میرا خیال ہے بات بن جائے گی ۔ ارے نہیں یار شیخو مجھے تو بس ڈیزی پسند ہے۔

ابھی تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ ۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

چوہدری کی بیٹھک

September 19th, 2007

اپنے چوہدریوں کا بھی کیا کہنا، عجیب مخلوق ہوتے ہیں یہ بھی، ان پہ لکھنے بیٹھو تو سیاہی بھی نیلی سے کالی دکھائی دے۔اپنا ناطہ بھی چوہدریوں سے خاصا رہا ہے ، صفِ نازک ہو یا کلغی والا دونوں کی فطرت ایک جیسی ہی دکھائی دے گی۔ایک زمانے میں اپنا بھی اک یار چوہدری بن بیٹھا۔ہم نے شروع میں بڑا سمجھایا کہ یارا آرائیں فیملی سے ہو تو ملک کہلوایا کرو مگر وہ بھی ایسا کایاں انسان تھا کہ مانو تو الؤ ہی بڑا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ملکوں کی کسی خاص بات سے خائف ہی ہو تبھی تو چوہدری کہنے سے اپنا سینہ ایک آدھ انچ پھُلا لیا کرتا تھا۔
اندھے کو کیا سوجھیں ، دو آنکھیں کے مصادق اپنے چوہدری صاحب کی فیملی میں سے ایک بدیس جا بسا اور بدیسی ملک بھی اگر امریکہ جیسا ہو تو آنکھیں کھل ہی جاتی ہیں۔قسمت اچھی تھی کہ اپنے چوہدری صاحب کی فیملی بھی اسی کے طفیل بدیسی ہوگئی۔
محبت کے معاملے میں بھی کچھ لوگ چوہدریوں کی مثال دیتے نظر آتے ہیں اور کچھ تو مجنوں کو بھی چوہدری گروانتے ہیں اب اس میں کتنی صداقت ہے یہ تو لیلیٰ ہی بہتر جانتی ہوگی۔ویسے اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں تو اپنے چوہدری کی مثال کو مدِ نطر جانتے یہی کہوں گا کہ مجنوں واقع میں چوہدری ہی ہوگا۔
ویسے آپس کی بات ہے کہ مجنوں کو اپنے چوہدری سے تشبیہ دینا مجھے تو چوہدری کی توہین دکھائی دیتی ہے کیونکہ مجنوں تو صرف لیلیٰ کی خاطر اپنی جان گنوا بیٹھا اور اپنا چوہدری ، بس مت پوچھیں کتنی لیلائیں تھیں۔اب آپ کہیں یہ نہ سوچیں کہ ان میں کتنے لیلے تھے ( لیلے پیجابی میں دنبے کے بچوں کو کہا جاتا ہے ) وضاحت اس لئے ضروری جانی کہ کہیں لوگ اپنے چوہدری کو بھی جانور ہی نہ گرواننے لگیں۔
جی تو بات اپنے چوہدری کی لیلاؤں کی ہورہی تھی ۔بچپن میں تو چوہدری کو ہر لڑکی ہی لیلیٰ دکھائی دیتی تھی۔مجھے یاد ہے کہ چوہدری نے پہلا عشق اپنی جمعدارنی ( چوڑی ) سے کیا تھا۔یہ یکطرفہ عشق تھا کیونکہ اپنے چوہدری کو اس چوڑی نے گھاس تک نہیں ڈالی مگر چوہدری بھی کہاں ٹلنے والا تھا روزانہ ہی اس کے آنے پر آہیں بھرتا جب تک وہ گھر کی صفائی کرتی رہتی اپنے چوہدری کے چہرے کی خوشی دیدنی ہوتی اور جونہی وہ جاتی اپنا چوہدری سگریٹ پہ سگریٹ پھونکنا شروع کر دیتا اور کہتا کہ یار دیکھا کتنی سوہنی ہے ۔
دن گزرتے رہے اپنے چوہدری کے یکطرفہ عشق میں بھی شدت آتی گئی ، منصوبے بنتے بگڑتے رہے کہ یار آج اگر آئی تو اکیلی دیکھ کر دبوچ لوں گا اور اسی اثنا میں اس چوڑی نے چوہدری کے گھر آنا بند کردیا۔اب اپنے چوہدری کی حالت دیدنی تھی کہ کبھی اس گھر جا تو کبھی اس گھر، چوہدری کو یہی دھڑکا لگ گیا کہ کہیں اسے میری کوئی بات بری تو نہیں لگ گئی۔ہم نے چوہدری کو بڑا سمجھایا کہ یارا تم نے کیا ہی کچھ نہیں تو بات کیا بری لگتی۔مگر چوہدری تھا کہ بس آہ بھرتا اور نیا سگریٹ سلگا کر سوچ میں ڈوب جاتا۔
کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ اس جمعدارنی نے اپنے ہی برادری کے لڑکے سے عشق کی شادی کر لی اور کچھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنی برادری کے لڑکے کے عشق میں جل مری۔
کچھ عرصہ تک تو اپنے چوہدری کی آہ و آزاری جاری رہی آخر ہم سے نہ رہا گیا،ہم کہہ ہی بیٹھے کہ یار چویدری دفعہ کر ، لعنت بھیج اور تھوڑی ہیں زمانے میں اور ذرا ان کو تو دیکھ ، للی اور ڈیزی کو کتنی خوبصورت ہیں اتنا سنتے ہی چوہدری کو جیسے کرنٹ کا جھٹکا لگا ہو ، کہنے لگا ، بس بس ڈیزی کی بات نہ کرو ، وہ صرف میری ہے۔ہم ہکا بکا رہ گئے ، ہم نے کہا یارا اس کی تو اُڑان ہی بڑی اونچی ہے اور پھر اس کے پیچھے تو بڑی بڑی گاڑیوں والے لوگ آتے ہیں وہ ان کو گھاس تک نہیں ڈالتیں۔چوہدری کہنے لگا وہ میرا بچپن کا پیار ہے اور تم کیا سمجھتے ہو میں کسی سے کم ہوں کیا، میں شادی کروں گا تو بس ڈیزی سے ہی کروں گا،
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

ثواب بھی اکیلے کمانا اب جرم ٹھرا

June 24th, 2007

بہت سی باتیں ہیں اور انہیں میں سے اگر ایک ایک بات پر ہی لکھنے بیٹھوں تو ہوش و ہواس گم ہو جائیں ۔ خود بھی پاگل کہلاؤں اور زمانے کو بھی ہنسنے کا موقع دوں ۔
کراچی جو روشبیوں کا شہر تھا ، جانے کس کی نظر کھا گئی ہے اسے ، ہر طرف ہو کا عالم ہے ، بجلی کا نام و نشان تک نہیں اور پانی ہے کہ لوگ قطروں کو ترس رہے ہیں۔١٢ مئی کو کچھ ایسی نظر لگی ہے کہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی اور کچھ یار لوگ بھی ایسے ہیں کہ شاید اس پر کالا تل بھی لگانے کو تیار نہیں۔
ابھی کل ہی آندھی کے ساتھ بارش بھی ایسے زور کی اتری ہے کہ اللہ کی پناہ ، شاید گناہوں کا اثر ہو گا جو ٢٣٠ سے زائد انسان اللہ کو پیارے ہوگئے۔ہوتا یہ بھی ہے کہ گناہ کسی کے اور بھگتتا کوئی اور ہے اور لگتا بھی یوں ہی ہے کہ اس دفعہ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوگا۔
اور تو اور اپنے ایدھی والوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ثواب کمانے کے لئے اپنے کاندھے آگے رکھے مگر یار لوگوں کو بھی بندہ کیا کہے ان کو ایدھی والوں کی یہ ادا بھی نہ بھائی۔
سننے میں آتا ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے چیف رضاکار رضوان احمد ایدھی کا کہنا تھا کہ ان کو اور دوسرے رضاکاروں کو کچھ مسلح افراد نے گھیرے میں لئے رکھا جس کی وجہ سے پانچ چھ گھنٹے تک میتیں ایمبولینسوں کے اندر ہی پڑی رہیں ان کے ساتھ خواتین بھی تھیں مگر کسی کو اترنے نہیں دیا گیا، رضوان احمد ایدھی نے رنجیدیگی سے بتایا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے ، کہ ہمارا انسانی خدمت کرنا جرم ہو جائے۔

اب ایدھی والوں کو کون سمجھائے کہ یار لوگوں کا نام بھی اپنی گاڑیوں پر سجا رکھیں یا پھر اپنے ثواب کا کچھ حصہ انہیں بھی بخش دیا کریں اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر یار لوگ تو ثواب کمانے کے لئے آگے بڑھیں گے ہی، اور ویسے بھی آج کل کے نفسا نفسی کے دور میں کون کسی کو اکیلا کھانے کمانے دیتا ہے چاہے وہ ثواب ہی کیوں نہ ہو۔

زمانے میں ایسی ریت چلی ہے یارو
ثواب بھی اکیلے کمانا اب جرم ٹھرا
شیخو

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

کیا یہ ہمارا اسلام ہے ؟

June 17th, 2007

بہت دنوں بعد اپنے بلاگ پر حاضری دے رہا ہوں اس دوران بہت سے واقعات وقوع پذیر ہو چکے ۔مصروفیت کچھ ایسی بنی کہ یہاں آیا ہی نہیں گیا حالانکہ فاصلہ ہی کتنا تھا ، سوچو تو صرف ایک ہاتھ کا، مگر یہی ہاتھ ہی نہ چلا ، تو پھر ذہن کیا چلتا۔

ورلڈ کپ ہوا ، کھلاڑیوں پر افتاد پڑی ، چیف جسٹس کو غیر فعال کر دیا گیا ،کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی ، غرض کیا کیا نہ ہوا اپنے پاکستان میں ، مگر میں ہوں کہ بس دیکھتا گیا۔

آج بھی بس سرِ راہ ہی نکل آیا ہوں ، کہوں گا کچھ نہیں ، بس چند تصویریں ہیں جو پاکستان میں اسلام کی عکاسی کر رہی ہیں اب وہ کونسے اسلام کی عکاس ہیں یہ آپ دوستوں پر چھوڑتا ہوں۔

میں ان سب دوستوں سے معذرت خواہ ہوں جن کے تبصرے عیاں نہ ہوسکے خصوصاُ مبین صاحب سے بھی معذرت چاہتا ہوں جن کے بہت سے تبصرے میری غیر حاضری کی وجہ سے شائع نہ ہو سکے۔

woman-dances-shah-shams-tabrezi-multan-june-3-2007.jpg


قلعہ کہنہ قاسم باغ کے آخر میں شاہ شمس تبریز کے مزار پر ایک عورت کے ڈانس کا منظر

woman1-dances-shah-shams-tabrezi-multan-june-3-2007.jpg


قلعہ کہنہ قاسم باغ کے آخر میں شاہ شمس تبریز کے مزار پر عورتوں کے ڈانس کا ایک منظر

ladyboy-dances-shah-shams-tabrezi-multan-june-3-2007.jpg


قلعہ کہنہ قاسم باغ کے آخر میں شاہ شمس تبریز کے مزار پر ہیجڑوں کے ڈانس کا ایک منظر

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page

ورلڈ کپ اور دنیائے سیاست

March 7th, 2007

چونکہ آج کل ورلڈ کپ کا دور دورہ ہے اور اسی کی مناسبت سے آج ہماری ورلڈ کپ کے موضوع پر استاد عیدو سے بحث چل نکلی موضوع بحث تو اپنا شاہد آفریدی تھا جو کہ عرصہ تقریباً بارہ سال سے پاکستان ٹیم کو جونک کی طرح چمٹا ہوا ہے اور اسی کے خلاف میں استاد عیدو کو بڑے زوروشور سے دلائل دینے میں بھی مصروف تھا مگر جانے کیا وجہ تھی کہ استاد عیدو میری ہر بات پر صرف ہوں ہاں ہی کئے جا رہا تھا۔کافی دیر بعد مجھے خیال آیا کہ استاد کے کان پر تو جوں تک نہیں رینگی تو میں چونک پڑا اور پوچھا ، خیر تو ہے استاد جی ، طبعیت تو ٹھیک ہے نا ، کیا کہیں ہماری استانی سے آج کھٹ پٹ تو نہیں ہو گئی۔
نہیں رے ، کہہ کر استاد پھر سوچوں میں گم ہو گیا۔ابھی تھوڑی دیر اور گذری تھی کہ استاد بول پڑا اور کہنے لگا ، دیکھ چھیخو ( شیخو ) ، اس دفعہ پھر لفڑا ہوویں گا۔کیا مطلب استاد جی کیسا لفڑا ہو گا ، میں کچھ سمجھا نہیں؟
ابے تو تو ہے ہی کوڑھ مغز تو کیا جانے ،ابے میں یہ کہوں ، دیکھ جب بھی ایسا کوئی وقت آوے نا جہاں ساری دنیا مصروف ہو جاوے ، خصوصاً جیسے یہاں اپنے ایشیا وغیرہ میں لوگ ورلڈ کپ آنے سے اس میں مصروف ہوجاویں گے، تب ہی لفڑا ہوویں گا۔
استاد ، میں اب بھی نہیں سمجھا،
ابے بھوتنی کے ، اب سے پہلے کے واقعات کا تجزیہ کر ، تجھے پتہ نہیں کیا ہوتا رہا ہے جب بھی دنیا اجتماعی طور پر کہیں مصروف ہووے تو کام ڈال دیا جاوے یا کوئی بڑا کام ڈال کے دنیا کو کھیل تماشوں یا کسی اور طرف مصروف کر دیا جاوے۔
یہ کیا بات ہوئی استاد ، میں نہیں مانتا دنیا تو اب سکون سے جارہی ہے امریکہ میں بھی اب اتنا دم خم نہیں کہ وہ ایران پر حملہ کرسکے باقی اکا دکا واقعات تو ہر وقت ہوتے ہی رہتے ہیں۔نہیں استاد جی آپ کی اس بات سے کم از کم میں متفق نہیں ہوں اور نہ دور دور تک ایسے حالات مجھے نظر آرہے ہیں۔
اچھا نہ مان ، مگر میں یہی کہوں لفڑا ہووے گا ضرور ، کیا ہووے گا یہ میں نہ جانوں مگر میری چھٹی حس کہوے ہے اب کی بار بھی لفڑا ضرور ہوویں گا۔

Print This Post/Page | | E-Mail This Post/Page