پاکستان کے شہر لاہور کو پاکستان کا دل بھی کہا جاتا ہےاور اس دل کے اندر بھی ایک دل موجود ہے جس کا نام انارکلی ہے۔تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے انارکلی بازار کی ایک الگ اہمیت ہے اور اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً چار سال پیشتر پرانی انارکلی کو نیا رنگ روپ پہنا کر “ فوڈ سٹریٹ “ کا نام دے دیا گیا۔شروع شروع میں تو یہاں گہما گہمی بہت کم دیکھنے میں آتی تھی مگر آجکل یہاں کی رونق دیکھنے قابل ہے۔
شام ہوتے ہی یہاں رنگوں کی محفل جمنے لگتی ہے اور جوں جوں رات گہری ہوتی ہے یہی رنگوں کی محفل اپنے عروج پر ہوتی ہے۔بالا خانے کی تمام خوبصورت تتلیاں سڑک کے دونوں اطراف بظاہر سیر کرنے میں مصروف اپنا اپنا شکار ڈھونڈنے کے لئے کھنکناتے قہقے لگاتی نظر آتی ہیں۔اور یہ کھنکناتے قہقے جب دور میزوں پر بیٹھے شرفاء کے کانوں میں گونجتے ہیں تو ان میں سے ہر کوئی اپنی انارکلی کو لے کر اپنی بھوک مٹانے کے لئے فوڈ سٹریٹ سے خوشی خوشی رخصت ہو جاتا ہے۔
This entry was posted
on Sunday, March 26th, 2006 at 11:22 pm and is filed under میرے شہر کی باتیں.
You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0 feed.
You can leave a response, or trackback from your own site.
March 27th, 2006 at 2:53 pm
آپ كى يه پوسٹ تو بڑى معلوماتى هے ـ
مجهے بهى اناركلى كى كليوں كو ديكهنے كا اشتياق هونے لگا هے ـ
ان كو چهو كر ديكهنے كا اشتياق ـ ان كى نزاكت كو محسوس كرنے كا اشتياق ـ
آپ نے بەت سے كم علم شوكينوں كو ايكـ راسته ديكها ديا هے ـ
خاور
March 27th, 2006 at 3:31 pm
سچ کہا ہے آپ نے ۔ انارکلی لاہور کا دِل ہے لیکن جو انارکلی ہمارے طالب علمی کے زمانہ میں تھی اُس کی تو کیا بات ہے ۔ وہ ربڑی ۔ کُلفی فالودہ ۔ وہ کھیر کی ٹھوٹھیاں اور لسّی پرانی انار کلی کی ۔ کیا بات تھی اُس میں ۔