Sheikho’s blog

Jahan Meri Soch Khatam Hoti hai Wahan Dosron ki Shuro hoti hai

صفِ نازک اور ڈکیتی

with 4 comments

آج راہ چلتے ہوئے میری ملاقات اسلم خان سے ہوئی جو شالامار باغ کے ساتھ والی آبادی محمود بوٹی میں بند کے قریب رہتا ہے۔بڑا اداس تھا، اُداسی کی وجہ پوچھنے پر کہنے لگا کہ کل میں اپنے رکشہ
LOT – 7446
کو لئے رات نو بجے کے قریب سواری کے انتظار میں ریلوے اسٹیشن پر کھڑا تھا کہ ایک خوبصورت عورت اور مرد میرے پاس آئے اور کہنے لگے شاہدرہ ، امامیہ کالونی جانا ہے ۔جب میں انہیں ان کی منزل مقصود کے پاس لے آیا تو پوچھا کہ کس جگہ اترنا ہے تو انہوں نے ایک اندھیری گلی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ بس وہاں اتار دو۔جونہی میں اس گلی میں پہنچا تو عورت نے فوراً ہی میری کنپٹی پر پستول رکھ دیا اور کہا کہ جو کچھ ہے نکال دو ،اس کے ساتھ والے مرد نے بھی ایک چھری میری گردن پر رکھ دی اور کہنے لگا کہ اگر آواز نکالی تو ہم کسی اور کو تو کچھ نہیں کہیں گے مگر تمہیں ضرور جان سے مار دیں گے۔میں نے تھوڑی سی ہمت باندھی اور عورت کو مخاطب کر کے کہنے لگا کہ بی بی ، میں غریب آدمی ہوں مجھے معاف کردو ، اتنا سنتے ہی اس عورت نے اتنی تیزی سے پستول کے چیمبر کو کھینچ کر آگے پیچھے کیا کہ اس وقت ایسے لگا کہ جیسے میری جان نکل گئی ہو ، کہنے لگی بکواس نہ کر اؤے پٹھان ، تیرا میں بھیجہ کھول دوں گی مگر فوراً ہی اس کے ساتھ والا آدمی کہنے لگا گولی نہ چلانا ، گولی نہ چلانا۔کہنے لگا اؤے خان جلدی تلاشی دو اور جو کچھ ہے باہر نکالو۔میں نے جلدی جلدی اپنا موبائل اور اس دن کی ساری کمائی جو تین سو روپے کے قریب تھی ان کے ہاتھ میں تھما دی۔وہ عورت اور مرد فوراً ہی گلی کے اندھیرے میں غائب ہو گئے۔
اس کے بعد میں کچھ دیر تو اپنے حواس میں ہی نہیں رہا جب ذرا تھوڑی میری طبعیت سنبھلی تو میرے سے رکشہ سٹارٹ نہیں ہو رہا تھا۔آخر اللہ کا نام لے کر میں نے رکشہ سٹارت کیا اور مین روڈ پر چلا آیا۔باہر مین روڈ پر پولیس کا دونوں طرف ناکہ لگا ہوا تھا انہوں نے مجھے فوراً روک لیا اور کہنے لگے کہاں سے آرہے ہو۔میں نے انہیں اپنی پوری رواداد سنائی ، وہ سن کر کہنے لگے ، کون ہے ، کدھر ہے ، ابھی چلو ہمارے ساتھ۔میں نے کہا نہیں صاحب رہنے دو اب میں نے کہیں نہیں جانا، بس صرف مجھے اتنا بتا دیں کہ جب میں ادھر سے گذرا تھا تو تب بھی آپ لوگوں کا ناکہ لگا ہوا تھا مگر آپ نے مجھے نہیں روکا تھا۔ان میں سے ایک کہنے لگا ، چل اؤے خان ،جا اپنا کام کر۔

Written by Sheikho

April 5th, 2006 at 2:43 am