Archive for May, 2006
میں پاکستان میں رہتا ہوں
میں سنگا پور گیا ، امیر ملک ہے ۔ عرورت اور مرد دونوں ہی کام کرتے ہیں کوئی مرد اگر کسی عورت سے ملنا چاہتا ہے تو تہذیب یافتہ انداز اختیار کرتا ہے۔لباسِ عورت مختصر مگر مکمل ہے۔ میں تھائی لینڈ گیا ، امیر اور غریب سب کا ایک ہی پیشہ ہے۔خوش حال ملک ہے عورتیں اپنے حال اور مرد اپنی چال میں مست ہیں۔کسی کو کسی سے سروکار ہی نہیں۔پیسہ ہے تو خرید لو نہیں تودیکھے جاؤ دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔لباس چھوٹا مگر مکمل ہے۔نظریں دوڑاتے تھک جائیں مایوسی ہی ملے۔ چہرہ اگر دیکھیں تو معصومیت ایسی جیسے انہیں کسی نے چھوا تک نہیں ،شادی شدہ بھی کنواری دکھائی دیتی ہے۔ میں پاکستان میں رہتا ہوں ، مسلمان ملک ہے ، غریبی عام ہے ۔لوگ اپنے آپ سے تنگ ہیں۔خوش حالی اخباروں تک محدود ہے۔عورتیں اور مرد یہاں بھی اپنے حال میں مست ہیں۔عورتوں کا فیشن یہاں سب سے جدا ہے ۔گرمی ہو یا سردی آپ آسانی سے ان کے تمام جسم کے نشیب و فراز دیکھ سکتے ہیں۔چھیڑنا منع ہے اور دیکھنے پر بھی پابندی عائد ہے۔
بیوی ہو یا بیٹی ، بہن ہو یا ماں ، میری ہو یا ۔۔۔۔سب کا حال ایک جیسا ہے۔لباس سب کا ننگا ہے۔گرمیوں میں کپڑے اتنے باریک کہ آپ ان کے جسم کا ایک ایک حصہ باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ گھر میں ہو یا باہر ،گاڑی میں ہو یا موٹر سائیکل پر ، ننگا پن آپ کو ہر جگہ نظر آئے گا۔
اب تو کچھ نیا رواج چل نکلا ہے نوجوان لڑکیوں نے ظاہری نقاب اوڑھ لئے ہیں اور بوڑھیں عورتیں سرعام اپنی خود ساختہ جوانی دکھا رہی ہیں۔بھائی ہو یا باپ ، خاوند ہو یا بیٹا ، بڑے فخریہ انداز میں انہیں ہر جگہ لئے پھرتا ہے اور اگر کوئی ان کو کچھ کہہ بیٹھے تو بیوقوف اور اگر کوئی ان کو چیھڑ بیٹھے تو مقتول کہلائے گا۔
پالتو نہیں
ہفت روزہ القلم کا ایک مضمون جو محترم سعدی صاحب کے قلم سے لکھا گیا اللہ جلّ شانہ کی شان دیکھئے، انتہا پسندی کو ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے اب خود انتہا پسندوں کی زبان بولنے لگے ہیں سلام ہو ان پاکیزہ روحوں کو جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنے جسموں کا کٹنا گوارہ کیا جنہوں نے وقت کے دجال سے ٹکر لی جنہوں نے کروز میزائل اور بی باون B-52طیاروں کی پرواہ نہیں کی وہ خود گرتے رہے مگر انہوں نے اسلام کا جھنڈا سر نگوں نہیں ہونے دیا اور اللہ پاک کے ان فدائیوں نے صدر بش اور ٹونی بلیئر کا دامن شکست کے کانٹوں سے بھر دیا سلام ہو شہداءقندوز پر سلام ہو شہدائے مزار شریف پر سلام ہو شہدائے تورا بورا پر سلام ہو شہدائے بغداد و موصل پر سلام ہو شہدائے فلوجہ اور تکریت پر سلام ہو اسیران گوانٹا نامو بے پر سلام ہو اسیرانِ ابوغریب جیل پر سلام ہو امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد، شیخ اُسامہ بن لادن اور ابو مصعب الزرقاوی پر سلام ہو شہادت کیلئے تڑپنے والے فدائی دستوں پر ہاں! ان سب پر سلام ہو جنہوں نے اسلام کی لاج رکھی جنہوں نے قرآن پاک کی عظمت کا لوہا منوایا اور جنہوں نے حالات کے بھاری پتھر کو اپنے خون سے ایسا اُلٹ دیا کہ اب انتہا پسندوں کو ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے بھی خود انتہا پسندوں کی زبان بولنے لگے ہیں ہم نے بہت پہلے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر کہا تھا کہ ایسا ہوگا تب لوگ ہنستے تھے اور مذاق اُڑاتے تھے ایک کالم نویس نے لکھا تھا بھول جاو اب مجاہدین کو اور طالبان کو یہ لوگ ماضی کا غبار بن چکے ہیں چند دن بعد ان کا نام، پتا مٹ جائے گا آج کوئی اس کالم نویس سے جاکر پوچھے کہ او! ظاہری طاقت کے پجاری! دیکھ ماضی کا غبار مستقبل کا مینار بننے کو ہے امریکہ جو کل تک چنگھاڑ رہا تھا اب تھکاوٹ اور ندامت سے چور ہے بش جو دنیا پر گرج رہا تھا اب تیزی سے زوال پذیر ہے اور چند دن بعدماضی کا غبار بننے والا ہے اور وہ جن کو امریکہ کی ےاری پر ناز تھا اب پکاررہے ہیں ہم امریکہ کے پالتو نہیں ہیں ہم امریکہ کے ”پالتو“ نہیں ہیں
ہاں! سلام ہو ان کو جو اندھیرے میں بھی روشنی کے ساتھ رہے سلام ہو ان پر جو بلاخیز طوفانوں میں بھی ڈٹے رہے اور استقامت کے حسین گیسو سنوارتے رہے ہاں وہ کٹ گئے‘ وہ لُٹ گئے وہ قبروں میں جا سوئے‘ وہ سمندروں میں ڈبو دئیے گئے‘ وہ عقوبت خانوں میں آزمائے گئے ‘ وہ گھروں سے بے گھر ہوئے‘ وہ اپنوں سے جدا ہوئے وہ مارے گئے ستائے گئے اور گالیوں اور بدنامیوں کا نشانہ بنے مگر ان میں سے کوئی بھی آج پچھتا نہیں رہا سب خوش ہیں اور خود کو خوش نصیب سمجھ رہے ہیں انہوں نے سب کچھ کھو کر بھی یہ بیان دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے نہیں ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہم جہاد کے نہیں ہم اپنے امیر کے نہیں سبحان اللہ ! وہ اپنے کٹے جسموں اور ظاہری طور پر ویران زندگیوں کے باوجود اپنی بات پر پکے ہیں اور اپنے نظرئیے پر ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ ….ا ن کے خلاف قائم ہونے والا ”عالمی اتحاد“اب ”عالمی انتشار “ بننے والا ہے دنیا کے تیس ۰۳ ممالک اپنی لاکھوں فوج اور اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود ایک ”فقیر مولوی“ کو شکست نہ دے سکے وہ ایک ”عرب مسافر“ کو نہ پکڑ سکے وہ بوڑھے صدام کی گردن نہ جھکا سکے
اور وہ اپنے طیاروں اور میزائیلوں کے باوجود سوکھی روٹی کھانے والوں کا مقابلہ نہ کرسکے اللہ ! اللہ ! کتنی اونچی ہے آپ کی شان اور کتنے سچے اور محکم ہیں آپ کے قوانین پانچ سال پہلے کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ طالبان امریکہ کے سامنے چالیس دن ٹھہر سکیں گے؟ عراق کے عوام امریکہ کا ایک مہینہ تک مقابلہ کر سکیں گے؟ اللہ کی قسم! اب بھی کسی اندھے کو جہاد سمجھ نہیں آتا تو اس میں جہاد کا کیا قصور ہے؟ انڈیا خود کو منی سپر پاور سمجھتا ہے اور وہ پاکستانی افواج کو دو سے زائد بار شکست دے چکا ہے مگر چند ہزار نہتے اور کمزور مجاہدین کے سامنے وہ ”بے بس“ہے
صدر بش کے دورہ بھارت کے دوران انڈیا کی حکومت نے ”کشمیری مجاہدین“ کا رونا رویا اور صدر بش سے مدد کی فریادکی صدر بش نے پاکستانی حکمرانوں کی گردن دبائی اور نہایت سختی کے ساتھ ”جہاد کشمیر “ کو روکنے کا حکم دیا ابھی ”صدر بش“ پاکستان میں ہی تھا کہ یہاں کے حکمرانوں نے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ کے پالتو نہیں ہیں جہاد کشمیر کے خلاف عملی اقدامات شروع کر دئیے اور ایک لاکھ شہداءکے خون سے گلرنگ تحریک سے بے وفائی کی کیا یہ سب کچھ پاکستان کے مفاد میں ہے؟ جہاد کشمیر بھی انشاءاللہ بند نہیں ہوگا مگر مسلمانوں کا مسلمانوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا ایک عذاب ہے اور دنیا کا کفر زور زبردستی اور دھمکی کے ذریعے مسلمانوں کو اس عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے یہ بے غیرت لوگ خود تو مسلمانوں کا کسی بھی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے چنانچہ وہ اپنے ”غیر پالتو“ وفاداروں کو ڈراتے ہیں اور انہیں مسلمانوں کے مقابلے میں لاکھڑا کرتے ہیں
امریکہ طالبان کی حکومت نہیں گرا سکتا تھا اگر پاکستان اس کی اتنی زیادہ مدد نہ کرتا مگر اس کے باوجود ہم امریکہ کے پالتو نہیں ہیں امریکہ نے تھوڑی سی امداد مانگی اورآپ نے ایک ٹیلیفون پر اپنا سب کچھ اس کی خدمت میں پیش کردیا بے شک سچ ہے کہ آپ امریکہ کے پالتو نہیں ہیں ملک کے تریسٹھ فضائی اڈے امریکہ کے حوالے کر دےے گئے اور خوشیاں منائی گئیں کہ ہمیں ان اڈوں کا کرایہ مل رہا ہے یعنی اپنی دھرتی اور اپنی عزت کرائے پر دے دی گئی چھ سو سے زائد مجاہدین کو پکڑ کر شہید کر دیا گیا اور ان کی لاشیں دریاﺅں اور جنگلوں میں پھینک دی گئیں گوانتاناموبے کا عقوبت خانہ آباد کرنے کےلئے چھ سو سے زائد مجاہدین کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا گیا گزشہ پانچ سال میں امریکہ کے حکم پر اپنے ملک میں اپنی عوام کے خلاف سینکڑوں خونی آپریشن کئے گئے امریکہ اور یورپ کے حکم پر جہاد کشمیر کی کئی تنظیموں پر پابندی لگائی گئی امریکہ اور یورپ کے حکم پر دینی مدارس کے طلبہ کرام کو ستایا گیا اور ان مدار س کے نظام میں بارہا بھونڈی مداخلت کی گئی….امریکہ اور یورپ کے حکم پر اپنے ملک کی کئی نامور ہستیوں کو پکڑا گیا‘ مارا گیا اور ستایا گیا امریکہ اور یورپ کے حکم پر ملک کے تعلیمی نظام کو بدلا گیا اور بے حیائی کو عام کیا گیا امریکہ اور یورپ کے حکم پر ملکی وزارتیں تقسیم کی گئیں اور غیروں کے پسندیدہ افراد کو ملکی اقتدار میں حصے دار بنایا گیا امریکہ اور یورپ کے حکم پر ملک کے ایٹمی راز قربان کےے گئے اور ایٹمی سائنسدانوں کو ”مجرم “بنایا گیا پاکستان کا ہر ذرّہ گواہ ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں وہ حکم دیتے رہے اور ہماری حکومت اسے پورا کرتی رہی وہ شکایتیں کرتے رہے اور ہماری حکومت صفائیاں دیتی رہی وہ دبائے رہے اور ہماری حکومت ذلت کے ہر مقام سے نیچے گر کر دیتی رہی مگر یہ سب کچھ کرنے کے باوجود ہماری حکومت امریکہ کی نظر میں حامد کرزئی اور منموہن سنگھ جتنا مقام حاصل نہ کر سکی اوراب ایٹمی معاملے سے لے کر جمہوریت کی بحالی کے معاملے تک صدر بش نے صدر پرویز مشرف کو ”انگوٹھا “ دکھا دیا ہے ان حالات میں ہماری حکومت کا امریکہ کے خلاف گرجنا اس حسرت اور ندامت کی گھڑی کا آغاز ہے جو مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کرنے والوں پرمسلّط کی جاتی ہے قرآن پاک نے ”سورة المائدہ “میں اس مسئلے کو بہت تفصیل اور وضاحت سے بیان فرمایا ہے بے شک قرآن پاک ایک زندہ اور ”سدا بہار“ کتاب ہے اس کی کوئی آیت پرانی نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی حکم اپنا اثر کھوتا ہے
آپ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا تازہ بیان پڑھےے جس میں انہوں نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ میں امریکہ اور یورپ کاپالتو نہیں ہوں اور انہوں نے امریکہ کو پہلی بار صاف لفظوں میں پاکستانی حدود میں کارروائی سے روکا ہے اور انہوں نے اپنے چھپے ہوئے ”دانتوں“سے بھی ڈرایا ہے ….اور پھر آپ ”سورة المائدہ “کی آیات پڑھئے سبحان اللہ ! قرآنی صداقت کے سامنے دل جھک جائے گا….اور خوشی سے عش عش کر ے گا کل رات بی بی سی کی خبریں سنتے ہوئے میں خوشی سے جھومتا رہا میرا دل اللہ تعالیٰ کی عظمت اور محبت کے مراقبے سے بھر گیا جہاد کی حقیقت دل کی گہرائیوں میں اور زیادہ پختہ ہوگئے اور میرے خشک ہونٹ بار بار مسکراہٹ کے مزے لیتے رہے واہ میرے اﷲواہ! آپ کی شان کتنی بلند ہیں ملا عمر صاحب کا سب کچھ لٹ گیا مگر وہ بالکل نہےں پچھتائے اس طرح کا بیان خدانخواستہ ان کی طرف سے آتا تو میںجی بھر کر روتا اللہ پاک ان کو مزید استقامت عطاءفرمائے ملا فضل کا زخمی جسم گوانتاناموبے کے تندور میں جل رہا ہے مگر ان کی طرف سے ایساحسرت بھرا بیان نہیں آیا وہ سب تو اللہ تعالیٰ کا شکر اد ا کر رہے ہیں جبکہ وہ جنہیں اپنی پالیسی پر ناز اور اپنی قوت پر غرو رتھا اب پچھتا رہے ہیں اورصفائیاں پیش کررہے ہیں ویسے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہی سے ممکن ہوا چند دن پہلے حکومت کے ایک اہلکار نے امریکہ کو فرعون قرار دیا اور اسے کسی ”موسیٰ“ کے ظاہر ہونے سے ڈرایا میں یہ بیان سن کر خوش بھی ہوا اور حیران بھی اس کے بعد ملک کے وزیر خارجہ قصوری صاحب نے امریکہ کو آڑے ہاتھوں لیا تب بہت حیرانی ہوئی کہ اتنے صابر شاکر لوگ اب آہ و زاری پر کس طرح اُتر آئے ہیں امریکیوں نے پاکستان کو ”کتا“ قرار دیا مگر یہ لوگ خاموش رہے امریکہ نے پاکستان حدود میں کئی بار پاکستانی شہریوں کو خاک و خون میں تڑپایا تب بھی یہ لوگ خاموش رہے امریکہ نے پاکستان کے اندرونی اور دینی معاملات میں بار ہا مداخلت کی مگر یہ لوگ خاموش رہے یورپ کی طرف سے کارٹونوں کا ظالمانہ فتنہ اُٹھا مگر یہ لوگ خاموش رہے امریکہ نے عراق کو برباد کیا مگر یہ لوگ خاموش رہے ….امریکی فوجیوں نے قرآن پاک کی شدید بے حرمتی کی مگر یہ لوگ خاموش رہے اب اچانک ”صبر و وفا شعاری“ کا پیمانہ لبریز ہوا ہے تو ایک ایک کرکے سب بول رہے ہیں اور چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ہم آزاد ہیں، ہم آزاد ہیں جناب عالی! جو لوگ آزاد ہوتے ہیں انہیں اپنی آزادی بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی اور جو لوگ پالتو نہیں ہوتے وہ ساری دنیا کو نظر آتے ہیں کہ پالتو نہیں ہےں انہیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی بات بالکل واضح ہے کہ ماضی میں ہماری حکومت نے بے انتہا غلطیاں کی ہیں اور امریکہ کے ہاتھوں سخت دھوکا کھایا ہے اور ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کی خوشنودی کی خاطر وہ کام کےے ہیں جو کسی بھی مسلمان کو زیب نہیں دیتے اور ان کاموں کی بدولت ہمارے حکمران نہ دنیا کے رہے ہیں اور نہ آخرت کے وہ نہ اپنوں کیلئے قابل قبول ہیں اور نہ غیروں کےلئے وہ اب امریکہ کو اپنی وفاداریاں یاد دلاتے ہیں مگر اسے کچھ یاد نہیں آرہا وہ امریکہ کو بنیاد پرستوں سے ڈرا کر اپنی اہمیت سمجھانا چاہتے ہیں مگر وہ سمجھنے کے موڈ میں نہیں ہے گذشتہ پانچ سالوں میں اسلام کے فدائی مجاہدین نے امریکہ کے چہرے پر شکست کی جو کالک ملی ہے وہ یہ ساری کالک پاکستانی حکمرانوں کے منہ پر ملنا چاہتا ہے اور ان کو ہٹا کر ان سے زیادہ ”وفادار“ حکمران لانے کا خواہشمند ہے ان حالات میں پاکستانی حکمرانوں نے انتہا پسندوں کی زبان بولنا شروع کردی ہے تو اس میں حیرت کی کونسی بات ہے؟ تقریباً پانچ سال پہلے میں نے حکومت کے ایک بڑے عہدیدار کے سامنے ایسی ہی باتیں کی تھیں تو انہوں نے گھبرا کر اپنی زبان دانتوں کے نیچے دبالی تھی وہ فرما رہے تھے جناب! آپ کی باتیں جذباتی ہیں ہم نے دنیا میں رہنا ہے تو ہمیں امریکہ کا ساتھ دینا ہوگا ورنہ ہم تباہ ہوجائیں گے اور ہمارا کچھ بھی نہیں بچے گا میں نے ان کو ”قرآنی آیات“ سنائیں اور عرض کیا آپ جو کچھ بھی کرلیں امریکہ آپ سے خوش نہیں ہوگا اور روایات سے ثابت ہے کہ جو کسی ظالم کی مدد کرتا ہے اللہ پاک اسی ظالم کو اس پر مسلط فر مادیتا ہے
یاد رکھنا امریکہ آپ لوگوں پر مسلط ہوگا اور وہ آپ سے بھی مطمئن نہیں ہوگا قرآنی آیات سن کر وہ کچھ لمحے کیلئے ٹھٹکے اور پھر حسرت بھرے لہجے میں کہنے لگے ہمارے پاس ایسے میزائل نہیں ہیں جو امریکہ کا مقابلہ کرسکیں میں نے کہا ہمارے پاس ایسے بے شمار میزائل ہیں جو دنیا کے ہر کفر کا مقابلہ کر سکتے ہیں میری یہ بات سن کر وہ مجھے حیرانی سے اس طرح دیکھتے رہے جس طرح کسی قابل احترام پاگل کو دیکھا جاتا ہے آج صدر جنرل پرویز مشرف کہہ رہے ہیں کہ میں امریکہ کا پالتو نہیں ہوں میرے منہ میں بھی دانت موجود ہیں کیا میں بھی انہیں اسی طرح دیکھوں جس طرح پانچ سال پہلے مجھے دیکھا جا رہا تھا کاش ہمارے حکمران اب بھی توبہ کرلیں اور اللہ تعالیٰ سے رہنمائی اور مدد مانگ کر عزت ، آزادی اور عظمت کے راستے کو اختیار کریں زندگی اور موت کا وقت مقرر ہے امریکہ کی دوستی کسی کی زندگی میں اضافہ نہیں کرسکتی عزت اور ذلت کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے
امریکہ مسلمانوں کا کھلا دشمن اور زمانے کا طاغوت ہے عزم وہمت سے کام لینے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد اترتی ہے جو مصیبت قسمت میں لکھی ہو وہ امریکی حملے کی بجائے زلزلے سے بھی آسکتی ہے ان تمام حقائق کو سامنے رکھ کر ہمارے حکمران قرآن پاک سے رہنمائی لیں امریکہ سے اپنے تمام اڈے واپس لیں امریکی جاسوسوں کو چوبیس گھنٹے کے اندر پاکستان سے نکل جانے کا حکم دیں شہداءکرام کی ارواح سے معافی مانگیں مظلوم قیدیوں کو رہا کریں اسلام اور ملک کے وفادار باکردار مسلمانوں کو تنگ کرنا چھوڑ دیں دینی مدارس کی خود مختاری اور آزادی کو بحال کریں خود پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کریں اور جہاد کو اسلامی فریضہ مانیں اور اپنے ملک کےلئے آزاد اور پروقار خارجہ پالیسی اپنائیں تب صرف آپ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اس بات کا اعلان کرے گی کہ آپ اللہ کے بندے اور اسلام کے بیٹے ہیں اور آپ امریکہ کے بالکل ”پالتو نہیں ہے“
٭٭٭
زندگی کے ٤٥ برس
ایک تو مہنگی دوائیاں اور دوسرا پرہیزی غذا کھانے کی وجہ سے کچھ بھی کرنے کو دل نہیں چاہتا۔اور تو اور ڈاکٹر صاحب نے سگریٹ پینے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔بلڈ پریشر ہےکہ کم ہونے کو نہیں آرہا۔اخبار ، ٹی وی ، رسالے سب بند ہیں تاکہ کہیں میری نظر کسی ایسی خبر پر نہ پڑ جائے جس کی وجہ سے لینے کے دینے پڑ جائیں۔بس ایک انٹر نیٹ کا سہارا ہے مگر وہ بھی بنا سگریٹ کے بد صورت سا لگ رہا ہے۔