Archive for July, 2006
بابے عیدو کی باتیں
بابا عیدو کہنے لگا اگر تم تھوڑا سا غور کرو تو تمہیں سہی اندازہ ہو گا کہ یہی سب چیزوں کو روکنے کئے لبنان پر حملہ کرنے سے پہلے اس پر بھر پور پلاننگ کی گئی تھی۔یہ پلاننگ اہل سننت کی میلاد کانفرنس سے شروع کی گئی۔وہاں بم دھماکہ کروا کر فرقہ واریت کو ھَوا دی گئی اور ابھی اس کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ عین لبنان کے حملے کے ابتدائی ایام میں ایک شعیہ عالم کو مروا دیا گیا تاکہ شعیہ اور سنی کو آپس میں لڑوا کر ان کو علحیدہ رکھا جا سکے۔
کہنے لگا ، ان مظاہروں کو روکنے کے لئے سب سے بڑی جو بساط بچھائی گئی وہ جان بوجھ کر حکومت کے خلاف باتوں کو ہوا دینے کا عمل شروع کر دیا گیا تاکہ سیاست دانوں اور تمام اسلامی تحریکوں کا دھیان اس طرف لگایا جاسکے۔اوراس کھیل میں بھرپور رنگ بھرنے کے لئے طافو بھائی ( الطاف بھائی ) کا کردار سب سے اہم تھا۔
بابا عیدو کی آخری بات مجھے اب بھی پریشان کر رہی ہے ، کہنے لگا ، ایران کی باری بھی بس آیا ہی چاہتی ہے ، بساط بچھا دی گئی ہے بس مہرے آگے کرنا باقی ہیں۔
ہمارے اردو راکٹ کے اس لوگو کو اپنی ویب سائٹ یا بلاگ کے کسی کونے کھدرے میں جگہ دے کر مشکور فرمائیں
مان کے ہی نہیں رہتے
شیدا ٹلی سے میری ملاقات سعید چائے والے کے ہوٹل میں ہوئی تھی۔بڑا خوش تھا۔پوچھنے پر کہنے لگا۔لگی بھئی لگی، میں بڑا حیران ہوا اور پوچھا، کیا مطلب شیدے ، کچھ پلے نہیں پڑا،کس کو لگی اور کیا لگی ، کہاں کی ہانکے جا رہا شیدے یار۔
وہ جو انٹر نیٹ پر تیری الفاظوں کی مارا ماری ہے نا ،اُس کی بات سوچ رہا تھا کہ سچی بات کی چھبن ضرور ہووے ہے۔
وہ تو ہے یار شیدے ، پر تجھے کیسے پتہ چلا۔
ارے جانی پتہ کیسے نہیں چلے گا تو کیا جانے ہے ارے ساری نظر ہے۔
کس پر؟
ارے جانے دے اور سن ، یہ جو ہووئیں ہیں نا ، یہ تکیہ کرتے ہیں ، تو جتا جی چاہے کہتا رہ ، مان کے ہی نہیں رہتے۔
یہودیوں کے ہمنوا
ہمارے باہر کے رہنے والے بہت سے مسلمانوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ جو باہر رہ کر اور زیادہ مسلمان ہو جاتے ہیں اور کچھ میں سے زیادہ ایسے ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر ، جان و مال اور وہاں رہنے کی خاطر مسلمانی تو کیا سب کچھ بھول کر ان کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔اس کی مثال ہماری اردو کیمونٹی میں دیکھنے کو عام ملتی ہے۔اس کیمونٹی میں سے کرتا دھرتا دو کردار ایسے ہیں جو سرعام یہودیوں کو اچھا بھی کہتے ہیں اور انہیں سپورٹ بھی کرتے ہیں اور روشن خیالی ( جس کو میں جدید دہریت کہتا ہوں ) میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
ان میں سے ایک کردار آج کل لبنان کی صورتحال کو دیکھ کر بڑھ چڑھ کر اسرائیل کے حق میں چنگھاڑ رہا ہے۔لبنان میں جب بچوں پر گولہ بارود گرتا ہے تو اس کی چنگھاڑ میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔مردوں کو مردہ بنایا جا رہا ہے تو اس کی تحریروں اسرائیل کے حق میں اور مٹھاس شامل ہوتی جارہی ہے۔
آج کی چنگھاڑ میں تو اس کے منہہ سے خون نکلتے بھی دیکھا گیا ہے۔القاعدہ کی ایک خبر پر تو لگا جیسے اس کو دورہ سا پڑ گیا ہو فوراً ہی اس نے ایک تحریر زہر میں بجھی ہوئی اپنے آقا اسرائیل کے حق میں لکھ ماری ہے۔اُس کی اس چنگھاڑ کو دیکھ کر مجھے خاص حیرت کا جھٹکا لگا کیونکہ حزب اللہ ایک شعیہ تنظیم ہے اور اگر ایک شعیہ ہی اُس پر چنگھاڑے تو حیرت کے جھٹکے لگنا ایک فطری عمل ہے۔مگر شاید اس روشن خیال کو بھی ابھی باہر کے ملک رہنا ہے اور باہر والوں کا تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ انہیں اپنے مذہب سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں۔
کس ماں کا دودھ پیا ہے
رنگ و نور(سعدی کے قلم سے) کس ماں کا دودھ پیا ہے
Soruce:Alqalam online
اب یہی یہودی…. مدینہ منورہ پر قبضے کی بات کر رہے ہیں…. ان کے منہ میں خاک اور آگ کے انگارے…. مدینہ منورہ کا پاک نام ان کی ناپاک زبانوں سے سن کر…. ہر مسلمان کا خون اس کی رگوں میں ”جذبہ ¿ جہاد“ بن کر دوڑنے لگتا ہے…. اے یہودیو! تمہارا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا…. مدینہ منورہ نے سوا چودہ سو سال پہلے تمہیں نکال پھینکا تھا…. تم مدینہ منورہ کی پاک زمین کے قابل نہیں تھے…. تم نے وہاں بھی ”سود“ اور ”لسانی عصبیت“ کی لعنتیں عام کردی تھیں…. اور ان دوچیزوں کے ذریعے وہاں کے مقامی لوگوں کو اپنا ذلیل غلام بنالیا تھا…. مگر ”مدینہ منورہ“ کی قسمت میں ازل سے نور اور سعادت لکھی تھی…. وہاں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ننھیالی قبیلہ آباد تھا…. مدینہ منورہ والے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ”پیارے ماموں“ لگتے تھے…. پھر وہ خود چل کر گئے اور اسلام کے نور سے اپنے دل اور دماغ روشن کر آئے…. پھر وہ کہنے لگے کیوں نہ ہم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس لے آئیں…. وہ جانتے تھے کہ وہ بہت بھاری پتھر اٹھا رہے ہیں…. وہ جانتے تھے کہ وہ دنیا بھر کی دشمنی مول لے رہے ہیں ….وہ جانتے تھے کہ اب ان پر تلواریں برسیں گی…. اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ”یتیم“ ہوجائیں گے …. مگر اے یہودیو! تمہیں یاد ہے …. وہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو لے آئے…. اور پھر واپس نہیں جانے دیا…. وفاداری کا مطلب تم جیسے بے وفا اور خود غرض جانوروں کو کہاں سمجھ آسکتا ہے؟…. تمہیں وہ دن یاد ہے…. مدینہ منورہ کی گلیاں خوشی میں ڈوبی ہوئی تھیں…. مدینہ منورہ کی پاکیزہ بچیاں ترانے پڑھ رہی تھیں…. ایک جوش تھا، ایک سرور تھا اور ایک عجیب نورانی کیفیت…. ارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے تھے…. ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی کے خواب میں آجائیں تو اس کی نیند کو خوشبودار بنا دیتے ہیں…. وہاں تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لا رہے تھے…. اے مسلمانو! اس عجیب منظر کو یاد کرو اور ہجرت کے معنیٰ سمجھو…. اے یہودیو! اس عجیب دن کو یاد کرو اور اس بات سے مایوس ہوجا ؤ کہ تم…. اپنی مکاریوں اور سازشوں کے ذریعے مسلمانوں کو ختم کر دو گے…. نہیں اللہ کی قسم نہیں…. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی تمہارے ہاتھوں سے ختم نہیں ہوں گے…. تم لاکھ اپنے خزانوں کے منہ کھولو…. تم لاکھ فری میسن کے گندے کیڑوں کو پالو…. تم لاکھ اپنی شرمگاہوں کے ڈورے مسلمان حکمرانوں پر ڈالو…. رب کعبہ کی قسم…. تم اسلام اور مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے…. ہاں بندروں اور سوروں کی اولاد…. اچھی طرح یاد رکھو…. تم مسلمانوں کے ہاتھوں ختم ہو جا ؤ گے…. تمہاری نسل مٹ جائے گی…. تمہارا نام ونشان ختم ہوجائے گا…. اور زمین کا کوئی درخت اور پتھر تمہیں پناہ نہیں دے گا…. کروڑوں ڈالر خرچ کرکے اپنا رعب قائم کرنے کی کوشش نہ کرو…. تمہارے زر خرید دانشور مسلمانوں کو تم سے ڈراتے ہیں…. ارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت چوہوں سے نہیں ڈرا کرتی…. تمہاری پر اسرار کہانیاں مشہور ہیں کہ…. جو تمہاری خفیہ تنظیم ”فری میسن“ کے خلاف لکھتا ہے وہ…. اچانک مار دیا جاتا ہے…. تمہارے جاسوسی اداروں کے کارنامے بھی بڑھا چڑھا کر بیان کےے جاتے ہیں…. مگر تم کچھ بھی نہیں ہو…. کاش مسلمان تمہاری حقیقت کو سمجھ لیتے…. اور سارے مسلمان مل کر تم پر تھوک دیتے تو تم…. ان کی تھوک میں بہہ جاتے….
اگر تم واقعی طاقتور ہوتے تو دنیا کے ایک چھوٹے سے ٹیلے پر…. ایک چھوٹی سی ”کالونی“ میں نہ رہ رہے ہوتے…. تمہاری سازشیں کس کام کی؟…. دنیا بھر میں تم خوف اور ذلت کی زندگی گزارتے ہو…. اور سانس لینے کے بدلے رشوت دے کر جیتے ہو…. تم ہرجگہ ”نفرت“ اور ”سازش“ کا نشان ہو…. تم ہر جگہ دوسروں کے محتاج ہو…. اور تمہارا اپنا کوئی وجود نہیں…. تمہاری قوت اور طاقت کا ساراراز…. مسلمان حکمرانوں کی ”بے حمیتی“ میں چھپا ہوا ہے…. ان ظالموں نے فلسطین کے نہتے مسلمانوں کو تمہارے جبڑوں میں اکیلا چھوڑ دیا ہے…. تم نے ”احمد یسین“ جیسے چند شیر مار کر خود کو کچھ سمجھنا شروع کردیا…. حالانکہ چوہے اگر بیماری پھیلا کر شیر کو مار دیں تو چوہے…. چوہے ہی رہتے ہیں…. شیر نہیں بن جاتے…. تم نے مسلمانوں کی مقدس سرزمین پر قبضہ کیا…. اب مسلمانوں کا اجتماعی فرض تھا کہ وہ …. مل کر تمہارے خلاف جہاد کرتے…. اور تمہیں مقدس سرزمین سے نکال باہر کرتے…. مگر مسلمانوں نے غفلت کی، وہ دنیا کی حقیر زندگی کو چمکدار بنانے میں مشغول ہوگئے…. ان کی فوجیں کافروں کی نوکر اور غلام بن گئیں…. ان کے حکمران غیرت سے بہت دور نیلامی کے کوٹھے پر جا بیٹھے…. جہاں انہیں صرف اپنی اور اپنے اقتدار کی فکر ہے…. مسلمان نوجوان ناچنے لگا…. وہ ”پب“ اور ”کلب“ میں جاکر مدینہ منورہ کے نور سے محروم ہونے لگا…. اس کو کمپیوٹر نے ”پیلا“ کردیا…. اس کو ڈش اور کیبل نے ”نیلا“ کردیا…. وہ عشق معشوقی کے چکر میں کھو گیا…. تب…. اے سوروں اور بندروں کی اولاد تم نے مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرلیا…. اور اب تمہارے طیارے بمباری کر رہے ہیں…. مگر مسلمان حکمران خاموش دیواروں کی طرح…. اپنے جبوں اور وردیوں میں جکڑے بیٹھے ہیں…. مگریاد رکھو! وقت ایک جیسا نہیں رہتا…. کسی دن مسلمانوں کے ضمیر پر لگے ہوئے یہ تالے ٹوٹ جائیں گے…. ہاں مسلمانوں کے حکمران…. مسلمانوں کے ضمیر پر لگے ہوئے تالے ہیں…. یہی لوگ کافروں کے محافظ ہیں…. یہی لوگ مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنے سے روکتے ہیں…. یہی لوگ مسلمانوں کو ڈانس اور گانے پر لگا کر بزدل بناتے ہیں…. ان لوگوں کے نزدیک امریکہ کی خاطر لڑنا ”قومی مفاد“ اور مسلمانوں کی خاطر لڑنا ٹھیکیداری اور ملک دشمنی ہے…. وہ ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم نے ہر کسی کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا…. ارے اگر تم نے مسلمانوں کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا تو پھر …. تمہیں مسلمانوں پر حکمرانی کا حق حاصل نہیں ہے…. مسلمان ایک ”امت“ ہیں…. مسلمان ایک ”جسم“ ہیں…. مسلمان ایک ”خاندان“ ہیں…. مسلمان ایک ”جماعت“ ہیں…. جو اسے نہیں مانتا وہ قرآن پاک کو نہیں مانتا…. وہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نہیں مانتا…. دنیا کا کوئی بارڈر اور کوئی نقشہ…. مسلمانوں کو تقسیم نہیں کر سکتا…. اور انسانوں کی بنائی ہوئی لکیریں…. اللہ تعالیٰ کے قوانین کو نہیں توڑ سکتی…. قرآن پاک نے تمام مسلمانوں کو بھائی قرار دیا ہے …. انما الم ؤمنون اخوة…. قرآن پاک نے مسلمانوں کو ایک فریق…. اور کافروں کو دوسرا فریق قرار دیا ہے…. مسلمان کے نزدیک رنگ، نسل، قوم، قبیلہ…. اور زبان کی ”تعارف“ سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں…. انگریزوں نے اپنے ظالمانہ دور میں مسلمانوں کو تقسیم کیا…. انگریزوں نے مسلمانوں کی ”خلافت“ کو ختم کیا…. تب…. افغان مسلمانوں نے امت مسلمہ کی لاج رکھی تھی…. اور ۹۱۹۱ءمیں ہزاروں انگریز فوجیوں کو کاٹ کر رکھ دیا تھا…. ملکہ برطانیہ کا پرچم آدھی دنیا پر لہرا رہا تھا مگر…. مسلمانوں کی سرزمین افغانستان اس منحوس، ذلیل…. اور ظالمانہ پرچم سے محفوظ رہی…. افغان مجاہدین نے پورے انگریزی لشکر کو…. جہنم کی راہ دکھائی…. اور ایک انگریز سرجن کو اس لےے زندہ چھوڑ دیا تاکہ وہ …. برطانیہ جاکر اپنی فوج کی حالت بتا سکے…. آج برطانیہ نے اسی شکست کا بدلہ لینے کے لئے پھر افغانستان میں…. فوجیں اتار دی ہیں…. دنیا میں کوئی ان سے یہ پوچھنے والا نہیں کہ تمہارا افغانستان میں کیا کام ہے؟…. کوئی پاکستانی مجاہد کشمیر میں نظر آجائے تو دنیا ”کراس بارڈر ٹیرر ازم“ کا شور مچادیتی ہے…. کوئی عرب فدائی افغانستان میں نظر آجائے تو ”عالمی دہشت گردی“ کا شور بلند ہو جاتا ہے…. حالانکہ ہم مسلمان ہیں…. اور ہم قرآن پاک کو اپنا پہلا اور آخری دستور مانتے ہیں…. اور قرآن پاک نے ہمیں مسلمانوں کی مدد کا حکم دیا ہے…. خواہ وہ کہیں بھی ہوں….
ہاں اے مسلمانو! وہ دن یاد کر نے کے قابل ہے جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم …. مکہ مکرمہ چھوڑ کر ”مدینہ منورہ“ پہنچے تھے…. ہر طرف خوشی تھی اور عجیب جذبات …. اس منظر کا تصور تو کرو…. اللہاکبر کبیرا …. دل مچلنے لگتا ہے اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں…. مرنے کے بعد حوض کوثر پر…. اللہ کرے ہمارے برے اعمال آڑے نہ آجائیں…. ہمیں کتنی شدت سے اس لمحے کا انتظار ہے…. ہماری گناہگار آنکھیں…. اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پاکیزہ جھلک…. یا اللہ نصیب فرما…. یا اللہ نصیب فرما…. مگر اُس دن مدینہ منورہ والوں کے نصیب پوری طرح سے جاگے ہوئے تھے…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لا رہے تھے…. یاد کیجئے…. دارالندوة میں مشرکین کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشورہ…. پھر (نعوذباللہ) شہید کرنے پر اتفاق…. ایک سو خونخوار مشرک…. ایک سو تیز تلواریں…. گھر مبارک کا مکمل محاصرہ…. آسمان سے جبرئیل امین علیہ السلام کی آمد…. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ …. مشرکین کے سر پر خاک…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان سے گزر کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے گھر…. صدیق کی بیٹی کا کھانا باندھنا اور لقب پانا…. غلام کا دو اونٹنیاں لے آنا…. جو پہلے سے ہجرت کے لئے خریدی گئی تھیں…. پھر غارثور…. مشرکین کا دوبارہ محاصرہ…. کبوتری کے انڈے، مکڑی کا جالا…. کالے سانپ کا صدیق کے پا ؤں پر کاٹنا…. آنسو ؤں کا آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر گرنا…. پیارے، میٹھے اور شفاءبخش لعاب کا کمال…. پھر لمبا سفر…. کئی سو کلو میٹر…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پا ؤں مبارک زخمی…. اللہاکبر کبیرا…. صدیق اکبر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کندھے پر اٹھا لینا…. ام معبد اور ان کی بکری کے نصیب جاگنا…. سراقہ کا دھنسنا…. اور قبا والوں کی قسمت پر آسمان کا رشک کرنا…. اور پھر مدینہ منورہ…. صحابہ کرام اونٹنی کے گرد دیوانوں کی طرح دوڑ رہے ہیں…. بچیاں ترانہ پڑھ رہی ہیں…. چاند…. ہاں چودھویں کا چاند ہم پر طلوع ہو رہا ہے…. وداع کی گھاٹیوں سے یہ چاند روشن ہو رہا ہے…. اللہ تعالیٰ کا شکر ہم پر واجب ہو چکا ہے…. خواتین دروازوں کے پیچھے سے…. ایک جھلک کے لئے…. جی ہاں ایک نورانی اور پاکیزہ جھلک کے لئے دعائیں مانگ رہی ہیں…. ہر شخص کے سینے میں دل زور زور سے دھڑک رہا ہے…. بس ایک ہی تمنا ہے اور ایک ہی آرزو کہ…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر کو اپنا گھر بنالیں…. اے مسلمانو! کبھی کبھار اس دن کو یاد کرلیا کرو…. ہمت اور معرفت کے نئے دروازے تم پر کھلتے چلے جائیں گے…. اور یہودیو! تم بھی اس دن کو یاد رکھو…. تمہارے باپ دادے اپنے قلعوں سے یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے…. ان ہوس پرستوں اور دنیا کے غلاموں نے اس عظیم نعمت کی قدر نہ کی…. تب…. مدینہ منورہ نے تمہیں باہر پھینک دیا…. اب اس بات کو بھول جا ؤ کہ تم واپس وہاں آجا ؤ گے…. تم ایک نہیں سارے مسلمان حکمرانوں کو خرید لو…. تم ”فری میسن“ کی ممبر عورتوں کو اونچے ایوانوں تک پہنچا دو…. تم جو کچھ بھی کرلو…. انشاءاللہ تم کامیاب نہیں ہوسکو گے…. تمہاری ساری دولت اپنی جگہ…. تمہارا اثر ورسوخ اپنی جگہ…. تمہارے خفیہ ادارے اپنی جگہ…. تمہارے مسلمان ایجنٹ اپنی جگہ…. تمہارے ایٹم بم اور اسلحے اپنی جگہ…. ہماری تو بس اتنی دعا ہے کہ…. اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے تم تک پہنچنے کے راستے کھول دے…. پھر رب کعبہ کی قسم…. تمہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ تم نے کس ماں کا دودھ پیا ہے….
مدد کیوں نہیں آتی ؟
روشن خیال لوگ ( جدید دہریے ) کہتے ہیں کہ یہی سب کچھ بلکہ اس سے زیادہ مغرب ممالک میں بھی ہوتا ہے۔وہاں تو تباہی نہیں آتی ، وہاں تو بم نہیں گرتے ، بلکہ وہ تو خوش حال ہیں ، سب کچھ تو ہے ان کے پاس ، بلکہ کچھ روشن خیال تو آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے ہی زمین کو جنت بنا رکھا ہے۔ بیوقوف ہیں یہ لوگ ، یہ نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلم بنایا،اور مسلمانوں کے لئے کچھ قوانین مقرر کئے۔اور یہ قوانین ہماری بہتری ، ہماری بھلائی کے لئے بنائے، ہم مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے۔ہمیں ان کافر لوگوں کی طرح کھلا نہیں چھوڑا گیا کیونکہ ان کے مقدر میں جہنم ہے،جبکہ ہم مسلمانوں کو دونوں راستے بتا دئے گئے اور اس کے لئے جزا و سزا بھی مقرر کر دی گئی۔اب ہم اس راستوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کریں۔
ذرا نظر تو دوڑایے ہم مسلمانوں کے رہن سہن پر ، ذرا نظر تو دوڑایے ہمارے مسلمانوں کے اعمالوں پر، تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں ہر قوم میں کوئی نہ کوئی برائی تھی ،کوئی قوم لوط تھی تو کوئی قومِ عاد ، کوئی قومِ ثمود تھی تو کوئی قوم فرعون ، کہاں گئیں یہ قومیں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ملیا میٹ کر دیا، کیوں کیا؟ ان سب کے اعمال کے سبب۔
ذرا نظر تو دوڑایے آج کل ہم مسلمانوں میں پچھلی تمام قوموں کی برائیوں میں کس چیز کی کمی ہے۔ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ پچھلی قوموں میں صرف ایک ایک برائی تھی جبکہ ہم میں تمام قوموں کی برائیاں جمع ہیں۔
تو پھر بم کیوں نہ گریں ، زلزلے کیوں نہ آئیں ، ذلت و خواری ہم مسلمانوں کے حصہ میں کیوں نہ آئے۔
دنیا کی سزا ، بم گرنا ، زلزلے آنا ، مسلمانوں کا ذلیل و رسوا ہونا ہمارے اپنے اعمالوں کی سزا ہے۔اور اگر ہم اسی طرح رہے تو یہی سزائیں ہمیں ملتی رہیں گی۔اور اگر ہم ان سزاؤں کو دیکھ کر بھی نہیں سنبھلتے تو پھر ہمارا آخری کنارہ جہنم ہے۔جبکہ کافر لوگوں کو یہاں صرف عارضی یعنی دکھاوے کی خوشیاں نصیب ہیں جبکہ ان کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیش جہنم ہی ہے۔
ہمیں اب بھی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہئے۔اپنے اعمالوں کو درست کرنا چاہئے اپنی ماؤں بہنوں کو اسلام کے مطابق چلنے کی تلقین کرنی چاہئے اور اگر یہ سب اب بھی ہم نے نہ کیا تو تو اس سے بدتر حالات بھی آ سکتے ہیں۔
مسلمان پھر سو گئے
Source:
http://www.fromisraeltolebanon.info






واہ رے علماء سوء
تم سے اچھا تو احمد فراز نکلا۔جس نے صدارتی ایوارڈ واپس کر دیا ایک تم ہو کہ اب تک اپنے عہدوں سے چمٹے ہوئے اسلام کو بیچ کر پاکستان کو اندھیرے کوئیں کی طرف دھکیل رہے ہو۔
اے علماء سوء اگر تم لوگ استعفے دیتے تو بات شائد پھر بھی نہ بن پاتی ، مگر اب دیکھنا عوام میں سے کسی نے آواز اُٹھائی ہے اور یہ آواز وہ ہے جس پر ہمیشہ تم جیسے لوگوں نے روک لگائی ،فتوے صادر کئے۔مگر یہ آواز تمہارے ضمیر کی آواز سے زیادہ زندہ ہے ، یہ آواز وہ ہے جس میں عوام کا لہو شامل ہے،اس کی گونج سے تمہارے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔اور عنقریب دیکھنا یہ آواز تمہارے ایوانوں میں بھی گونجے گی۔
اردو بلاگرز کے نام
اگر آپ کی فیڈ ہمارے اردو راکٹ میں شامل نہیں ہے تو ذیل میں دیے گئے برقی پتہ پر آپ اپنا آر ایس ایس ایڈریس ہمیں لکھ بھجیے۔
sheikho@gmail.com
بدتمیز کی میل اور شعیب کی دھمکی
شعیب نے مجھے بھی ایک دھمکی آمیز میل بھیجی ہے جسے میں ساتھ ہی آپ کے دیکھنے اور سند رکھنے کے لئے اردو سیارہ پر پیش کر رہا ہوں۔مجھے امید ہے اردو سیارہ کے ایڈمن اور محترم اردو بلاگر اس پر مثبت اقدام اُٹھائیں گے۔



یہ کیسا انصاف ہے
میں تمام محترم بزرگ بلاگر ، جناب ذکریا کے والد صاحب اجمل بھوپال صاحب ، جناب میرا پاکستان صاحب اور دوسرے محترم بلاگرز سے گذارش کرتا ہوں کہ خدا کو حاضر ناظر جان کر اس مسئلہ پر انصاف کروایا جائے اور بد تمیز کی رکنیت بحال کروانے کے ساتھ ساتھ اردو سیارہ کی پالیسی پر بھی نظر ثانی کی جائے۔
میں نے دو کُتے پال لئے
لوگ کہتے تھے شیخو روشن خیال نہیں ہے ، لو جی آخر کار ہم نے بھی اس دنیا میں قدم رکھنے کا ارادہ کر ہی لیا۔اسی سلسلے میں ہم نے جو پہلا قدم اُٹھایا ہے وہ دو عدد کتوں کا پالنا ہے۔چونکہ مغربی ممالک میں کتوں سے سب سے زیادہ محبت کی جاتی ہے اور یہی محبت پچھلے دنوں آپ سب نے بھی دیکھی ہو گی کہ ورلڈ کپ کے دوران کتوں کو یار لوگوں نے اپنے ملک کی ٹیم کی وردیاں تک پہنا دی اور اسے تمام دنیا میں خوب سراہا بھی گیا۔
سوچتا ہوں ہم پاکستانی بھی کتنے دقیانوسی ہیں کہ کتوں جیسی عظیم شخصیات کو ایویں ہی کتا کتا کرتے رہتے ہیں۔اور تو اور ہم نے کتا کہنے کو بھی گالی بنا لیا ہوا ہے ، شرم آنی چاہئے ہمیں ، مغرب والے کیا سوچیں گے ۔
ویسے تو کُتوں کی بہت سی نایاب نسلیں پوری دنیا میں موجود ہیں مگر جو بات پاکستانی کُتوں اور ہندوستانی کُتوں میں ہے اور کسی میں نہیں۔پاکستانی کتوں میں بگہیاڑ اور ڈبو کتے کی نسل کا توجواب ہی نہیں ہے۔یہ وہ نسل ہے جو انسان کو پھاڑ کھاتی ہے ، شاید اس وجہ سے کہ انسان کا انہیں کُتا کہنا پسند نہ آتا ہو۔
میں نے جن دو کُتوں کا انتخاب کیا ہے وہ ہندوستان اور پاکستان میں یکساں پائے جاتے ہیں ان کی نسل کا نام گلیڑ ( گَل یَڑ ) ہے ، جنہیں ہم گلیوں میں پھرنے والے آوارہ کتوں کا نام دیتے ہیں۔یہ گلیڑ نسل بھی بڑی نایاب سی نسلوں میں سے ہے۔جب سے کُتوں کا وجود منظرِعام پر آیا تھا تب سے یہ نایاب نسل ہمارے پاکستان اور ہندوستان میں موجود ہے۔
ہندوستان سے جو گلیڑ کُتا میں نے منگوایا تھا ، اُس کے لانے والے کہتے ہیں کہ اِس گلیڑ کُتے کے خاندان میں واحد کتیا اُس کی ماں ہی تھی جو سب سے زیادہ خوبصورت تھی اور اسی وجہ سے اُس پر بہت سے کُتے فدا بھی تھے اور انہیں فدا ہونے والوں میں سے کسی ڈبو نسل کے کُتے کی یہ واحد اولاد ہے۔اِس کُتے کو لانے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اس گلیڑ کُتے کی بچپن سے ہی عادتیں ذرا وکھری ٹائپ کی تھیں۔گلیڑ نسل کا ہوتے ہوئے بھی اسے اپنی نسل کے کتے پسند نہیں آتے تھے۔باہر سے جو بھی کتا آتا تھا چاہے وہ کسی بھی نسل کا ہو یہ اُس کے آگے پیچھے دم ہلاتا نظر آتا تھا۔بچپن سے ہی اسے مندروں سے بھی خاص لگاؤ تھا جس کی وجہ سے اُس کی ماں بھی اس سے تنگ تھی۔کھوج لگانے پر پتہ یہ چلا تھا کہ ایک دفعہ مندر کے پروہتوں نے اُس کی ماں کے ساتھ زیادتی کی تھی جس کی وجہ سے اُس کو اپنے بیٹے کا مندروں میں جانا پسند نہیں تھا۔شائد وہ نہیں چاہتی ہو گی کہ اُس کے بیٹے کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اُس کے ساتھ ہوا۔مگر یہ بھی عجیب کُتا تھا ، مجال ہے جو اپنی ماں کی مانی ہو۔اب یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس کُتے کے ساتھ پروہتوں نے کیا برتاؤ کیا ہو گا۔
جاری ہے۔۔۔
اردو سیارہ کی پالیسی
اردو سیارہ کے ایڈمن کی طرف سے اردو سیارہ کی پالیسی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ اردو سیارہ کا کوئی عقیدہ نہیں ہے،
اس کا مطلب ہے جس کا جی چاہے جس مرضی عقیدے کا مذاق اُڑائے حتٰکہ خدا کی شان میں بھی گستاخی کرتا پھرے۔مگر اُس پر کوئی انگلی نہ اُٹھائے اس لئے کہ وہ معتبر ہے،کیونکہ وہ انسان ہے اور مذہب انسانیت سے تعلق رکھتا ہے ۔
جناب ایڈمن کے نزدیک تمیز اور اخلاق کے دائرہ غالباً یہ ہے کہ خدا کی شان میں تو گستاخی ہو سکتی ہے مگر انسان کی شان میں نہیں۔
جناب ایڈمن صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں اظہار رائے کی آزادی ہے اور بلاگر کی تحریروں کو اردو ویب والوں کے نظریات نہ سمجھیں۔
جناب ایڈمن صاحب یہ کون سا اظہار رائے ہے،اور آپ کے نظریات کیا اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ایک بلاگر خدا کی شان میں گستاخی کرتا پھرے۔اگر آپ کی یہی نظریات ہیں تو یہ میرے نزدیک خالصتاً کیمونزم ( دہریہ ٹائپ ) نظریات ہیں۔جو ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتے۔یا تو پھر آپ اردو ویب کی پالیسی کا واضع اعلان کریں کہ یہاں کے ایڈمن حضرات کے نظریات کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہ ہے۔
آخر میں جناب ایڈمن صاحب نے نصیحت کی ہے کہ کہ کسی بلاگر کو تنگ نہ کریں اور اس کے خلاف محاز آرائی وغیرہ شروع نہ کریں اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں اور بات تحمل اور خوش اسلوبی سے سنیں وغیرہ وغیرہ۔
حیرت ہے ایڈمن صاحب،واقع میں حیرت ہے،ایک بندہ عرصہ سے خدا کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو رہا ہے اور آپ پھر بھی مشورے ہمیں ہی دے رہے ہیں۔
ٹھیک ہے اظہار رائے کی آزادی کو ہم بھی دیکھتے ہیں کہ کتنی ہے اور کہاں تک ہے۔دیکھتے ہیں ایڈمن صاحب ، ضرور دیکھتے ہیں کہ آپ کا ذہن کہاں تک کھلا ہے،بلاگر بھی اس چیز کے گواہ رہیں گے۔ہم بھی لکھتے ہیں دیکھتے ہیں آپ کی برداشت کہاں تک ساتھ دیتی ہے آزادی اظہار میں۔
لعنتی کردار پر پابندی لگائیں
میں تو کہتا ہوں لعنت ہے ایسی آزادی اظہار پر۔مجھے یاد ہے بڑے بھائی پردیسی نے اس طرف اردو بلاگر کو توجہ بھی دلائی تھی۔مگر اس کا نتیجہ بھی کوئی برامد نہیں ہوا تھا۔
میں بھی تمام محترم اردو بلاگرز کی توجہ اس جانب مبذول کروا رہا ہوں کہ خدارا ایسی اظہار رائے کی آزادی پر روک لگایے جو بے لگام ہو اور اس بلاگر کو ہالینڈ کے کسی تاریک کو ئنیں میں پھینک دیجیے تاکہ یہ وہاں جا کر مادر پدر آزاد ہو کر جو جی چاہے لکھتا رہے اور لعنتی ہو کر مرے ، انشااللہ
نوٹ ۔ اگر آپ محترم ایڈمن اور ساتھی اردو بلاگرز نے اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا تو پھر اس اردو سیارہ پر لفظوں کی کھلی جنگ ہو گی۔پھر مجھ سے نہ کہا جائے۔اور اگر مجھے آپ اردو سیارہ پر بلاک کرتے ہیں تو میں اس مسئلہ کو ہر قسم کے فورم پر اُٹھاؤن گا۔اور ثبوت کے طور پر جو میں نے اس شخص کی تحریریں اور اس پر بلاگرز کی رائے محفوظ کی ہوئی ہے ، وہ تمام مذہبی فورم اور سیاسی فورم پر اس کو اُ ٹھاؤن گا۔چاہے اس سے ہمارے تمام بلاگرز پر پابندی ہی کیوں نہ لگ جائے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ میں بہت سچا مسلمان ہوں مگر کم از کم میں یہ گوارا نہیں کروں گا کہ ایک ہندو خدا کی شان میں ایسے گستاخی کرتا پھرے۔اور اگر یہ مسلمان ہے تو اس پر خدا کی بے شمار لعنت ہو۔
شکر ہے ہم جوتشی نہیں
اب اگر ہم آپ کو جگر جان کہہ بیٹھے ہیں تو کل کلاں کو اگر لوگوں کے علم میں اضافہ کرنے کے لئے کسی نے ہمارے جگر جان کے بارے میں پوچھ لیا تو ہم بھلا کیا جواب دے سکیں گے۔
شکر کرتے ہیں کہ ہم جوتشی نہیں ہیں۔
اک آواز جو زندگی تھی
کہنے لگی تو کیا ہوا گر تم شادی شدہ ہو ، بس تم مجھے اچھے لگتے ہو ، تمہاری باتیں ، تمہارا لہجہ اور سب سے بڑھ کر تم مجھے اچھے لگتے ہو۔جب تک دن میں تمہاری آواز سن نہ لوں مجھے چین نہیں پڑتا۔
جانو یہ سب وقتی باتیں ہیں جب تم اپنے پیا کے گھر چلی گئی نا تو دیکھنا تم سب بھول جاؤ گی ، دن تو کیا تم سالوں بھی فون نہ کرو گی۔
کہنے لگی ایسا کبھی نہیں ہوگا گر تمہارے بنا میری شادی ہو بھی گئی نا تو تب بھی جب تک میں تمہاری آواز نہیں سنوں گی مجھے چین نہیں پڑے گا۔
آج سالوں بیت گئے میری جانو کی شادی کو مگر کہیں سے بھی اُس کی آواز نہیں آتی۔
