Sheikho’s blog

Jahan Meri Soch Khatam Hoti hai Wahan Dosron ki Shuro hoti hai

Archive for July, 2006

بابے عیدو کی باتیں

without comments

بابا عیدو یوں تو شطرنج کی بساط پر بیٹھا اپنی دنیا میں مگن رہتا ہے مگر جب بھی بات کرتا ہے تو ہمیشہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے ، کہنے لگا ، جب تک پاکستان میں لبنان کے حق میں بھرپور مظاہرے نہیں ہوتے دنیا میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں کبھی تیزی نہیں آئے گی۔ کیونکہ پاکستان ہی ایک ایسا واحد ملک ہے جہاں اسلامی تحریکیں گو کہ وہ جیسی بھی ہوں اسلام کے نام پر عوام کو تیزی سے حرکت میں لا کر مظاہرے کروا سکتی ہیں اور جب مظاہرے ہوں گے تو لامحالہ ان میں شدت بھی ہو گی اور اسی شدت میں خون خرابہ بھی ہو سکتا ہے۔اور جب یہی چیزیں میڈیا پر آئیں گی تو پوری دنیا خصوصاً اسلامی دنیا میں اس پر ردِ عمل بھی ہو گا اور یہ مظاہرے پوری دنیا میں پھیل سکتے ہیں۔
بابا عیدو کہنے لگا اگر تم تھوڑا سا غور کرو تو تمہیں سہی اندازہ ہو گا کہ یہی سب چیزوں کو روکنے کئے لبنان پر حملہ کرنے سے پہلے اس پر بھر پور پلاننگ کی گئی تھی۔یہ پلاننگ اہل سننت کی میلاد کانفرنس سے شروع کی گئی۔وہاں بم دھماکہ کروا کر فرقہ واریت کو ھَوا دی گئی اور ابھی اس کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ عین لبنان کے حملے کے ابتدائی ایام میں ایک شعیہ عالم کو مروا دیا گیا تاکہ شعیہ اور سنی کو آپس میں لڑوا کر ان کو علحیدہ رکھا جا سکے۔
کہنے لگا ، ان مظاہروں کو روکنے کے لئے سب سے بڑی جو بساط بچھائی گئی وہ جان بوجھ کر حکومت کے خلاف باتوں کو ہوا دینے کا عمل شروع کر دیا گیا تاکہ سیاست دانوں اور تمام اسلامی تحریکوں کا دھیان اس طرف لگایا جاسکے۔اوراس کھیل میں بھرپور رنگ بھرنے کے لئے طافو بھائی ( الطاف بھائی ) کا کردار سب سے اہم تھا۔
بابا عیدو کی آخری بات مجھے اب بھی پریشان کر رہی ہے ، کہنے لگا ، ایران کی باری بھی بس آیا ہی چاہتی ہے ، بساط بچھا دی گئی ہے بس مہرے آگے کرنا باقی ہیں۔

ہمارے اردو راکٹ کے اس لوگو کو اپنی ویب سائٹ یا بلاگ کے کسی کونے کھدرے میں جگہ دے کر مشکور فرمائیں

اگر آپ ہمارے اردو راکٹ کا یہ لوگو اپنی ویب سائٹ یا بلاگ پر لگاتے ہیں تو ہم آپ کے انتہائی مشکور ہوں گے 

Written by Sheikho

July 30th, 2006 at 2:19 am

مان کے ہی نہیں رہتے

without comments

شیدا ٹلی سے میری ملاقات سعید چائے والے کے ہوٹل میں ہوئی تھی۔بڑا خوش تھا۔پوچھنے پر کہنے لگا۔لگی بھئی لگی، میں بڑا حیران ہوا اور پوچھا، کیا مطلب شیدے ، کچھ پلے نہیں پڑا،کس کو لگی اور کیا لگی ، کہاں کی ہانکے جا رہا شیدے یار۔
وہ جو انٹر نیٹ پر تیری الفاظوں کی مارا ماری ہے نا ،اُس کی بات سوچ رہا تھا کہ سچی بات کی چھبن ضرور ہووے ہے۔
وہ تو ہے یار شیدے ، پر تجھے کیسے پتہ چلا۔
ارے جانی پتہ کیسے نہیں چلے گا تو کیا جانے ہے ارے ساری نظر ہے۔
کس پر؟
ارے جانے دے اور سن ، یہ جو ہووئیں ہیں نا ، یہ تکیہ کرتے ہیں ، تو جتا جی چاہے کہتا رہ ، مان کے ہی نہیں رہتے۔

Written by Sheikho

July 29th, 2006 at 1:56 am

یہودیوں کے ہمنوا

with 5 comments

ہمارے باہر کے رہنے والے بہت سے مسلمانوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ جو باہر رہ کر اور زیادہ مسلمان ہو جاتے ہیں اور کچھ میں سے زیادہ ایسے ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر ، جان و مال اور وہاں رہنے کی خاطر مسلمانی تو کیا سب کچھ بھول کر ان کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔اس کی مثال ہماری اردو کیمونٹی میں دیکھنے کو عام ملتی ہے۔اس کیمونٹی میں سے کرتا دھرتا دو کردار ایسے ہیں جو سرعام یہودیوں کو اچھا بھی کہتے ہیں اور انہیں سپورٹ بھی کرتے ہیں اور روشن خیالی ( جس کو میں جدید دہریت کہتا ہوں ) میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔

ان میں سے ایک کردار آج کل لبنان کی صورتحال کو دیکھ کر بڑھ چڑھ کر اسرائیل کے حق میں چنگھاڑ رہا ہے۔لبنان میں جب بچوں پر گولہ بارود گرتا ہے تو اس کی چنگھاڑ میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔مردوں کو مردہ بنایا جا رہا ہے تو اس کی تحریروں اسرائیل کے حق میں اور مٹھاس شامل ہوتی جارہی ہے۔

آج کی چنگھاڑ میں تو اس کے منہہ سے خون نکلتے بھی دیکھا گیا ہے۔القاعدہ کی ایک خبر پر تو لگا جیسے اس کو دورہ سا پڑ گیا ہو فوراً ہی اس نے ایک تحریر زہر میں بجھی ہوئی اپنے آقا اسرائیل کے حق میں لکھ ماری ہے۔اُس کی اس چنگھاڑ کو دیکھ کر مجھے خاص حیرت کا جھٹکا لگا کیونکہ حزب اللہ ایک شعیہ تنظیم ہے اور اگر ایک شعیہ ہی اُس پر چنگھاڑے تو حیرت کے جھٹکے لگنا ایک فطری عمل ہے۔مگر شاید اس روشن خیال کو بھی ابھی باہر کے ملک رہنا ہے اور باہر والوں کا تو آپ کو پتہ ہی ہے کہ انہیں اپنے مذہب سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں۔

Written by Sheikho

July 28th, 2006 at 1:09 am

کس ماں کا دودھ پیا ہے

without comments

رنگ و نور(سعدی کے قلم سے)

کس ماں کا دودھ پیا ہے

Soruce:Alqalam online

اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو غلبہ عطاءفرمائے…. ظالم یہودیوں کی نظر (نعوذباللہ)…. مدینہ منورہ پر ہے…. یہودیوں کے طیارے بمباری کر رہے ہیں…. ان کے ٹینک آگ اُگل رہے ہیں…. اور فلسطین ولبنان کے مظلوم مسلمان…. بمباری سے گرنے والی عمارتوں کے نیچے بے بسی کی آخری سانس لے رہے ہیں…. یہودی، انبیاءعلیہم السلام کے قاتل…. یہودی سونے کے بچھڑے کے پجاری…. یہودی بندروں اور خنزیروں کی اولاد …. دنیا کی سب سے بزدل…. سب سے ذلیل …. سب سے ناکام…. اور سب سے گندی قوم …. ناپاک، نجس، مرُدار…. بدبودار…. چوہوں سے زیادہ غلیظ اور کمزور…. انسانیت کے نام پر ایک دھبہ…. زمین پر بوجھ….
اب یہی یہودی…. مدینہ منورہ پر قبضے کی بات کر رہے ہیں…. ان کے منہ میں خاک اور آگ کے انگارے…. مدینہ منورہ کا پاک نام ان کی ناپاک زبانوں سے سن کر…. ہر مسلمان کا خون اس کی رگوں میں ”جذبہ ¿ جہاد“ بن کر دوڑنے لگتا ہے…. اے یہودیو! تمہارا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا…. مدینہ منورہ نے سوا چودہ سو سال پہلے تمہیں نکال پھینکا تھا…. تم مدینہ منورہ کی پاک زمین کے قابل نہیں تھے…. تم نے وہاں بھی ”سود“ اور ”لسانی عصبیت“ کی لعنتیں عام کردی تھیں…. اور ان دوچیزوں کے ذریعے وہاں کے مقامی لوگوں کو اپنا ذلیل غلام بنالیا تھا…. مگر ”مدینہ منورہ“ کی قسمت میں ازل سے نور اور سعادت لکھی تھی…. وہاں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ننھیالی قبیلہ آباد تھا…. مدینہ منورہ والے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ”پیارے ماموں“ لگتے تھے…. پھر وہ خود چل کر گئے اور اسلام کے نور سے اپنے دل اور دماغ روشن کر آئے…. پھر وہ کہنے لگے کیوں نہ ہم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس لے آئیں…. وہ جانتے تھے کہ وہ بہت بھاری پتھر اٹھا رہے ہیں…. وہ جانتے تھے کہ وہ دنیا بھر کی دشمنی مول لے رہے ہیں ….وہ جانتے تھے کہ اب ان پر تلواریں برسیں گی…. اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ”یتیم“ ہوجائیں گے …. مگر اے یہودیو! تمہیں یاد ہے …. وہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو لے آئے…. اور پھر واپس نہیں جانے دیا…. وفاداری کا مطلب تم جیسے بے وفا اور خود غرض جانوروں کو کہاں سمجھ آسکتا ہے؟…. تمہیں وہ دن یاد ہے…. مدینہ منورہ کی گلیاں خوشی میں ڈوبی ہوئی تھیں…. مدینہ منورہ کی پاکیزہ بچیاں ترانے پڑھ رہی تھیں…. ایک جوش تھا، ایک سرور تھا اور ایک عجیب نورانی کیفیت…. ارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے تھے…. ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی کے خواب میں آجائیں تو اس کی نیند کو خوشبودار بنا دیتے ہیں…. وہاں تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لا رہے تھے…. اے مسلمانو! اس عجیب منظر کو یاد کرو اور ہجرت کے معنیٰ سمجھو…. اے یہودیو! اس عجیب دن کو یاد کرو اور اس بات سے مایوس ہوجا ؤ کہ تم…. اپنی مکاریوں اور سازشوں کے ذریعے مسلمانوں کو ختم کر دو گے…. نہیں اللہ کی قسم نہیں…. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی تمہارے ہاتھوں سے ختم نہیں ہوں گے…. تم لاکھ اپنے خزانوں کے منہ کھولو…. تم لاکھ فری میسن کے گندے کیڑوں کو پالو…. تم لاکھ اپنی شرمگاہوں کے ڈورے مسلمان حکمرانوں پر ڈالو…. رب کعبہ کی قسم…. تم اسلام اور مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے…. ہاں بندروں اور سوروں کی اولاد…. اچھی طرح یاد رکھو…. تم مسلمانوں کے ہاتھوں ختم ہو جا ؤ گے…. تمہاری نسل مٹ جائے گی…. تمہارا نام ونشان ختم ہوجائے گا…. اور زمین کا کوئی درخت اور پتھر تمہیں پناہ نہیں دے گا…. کروڑوں ڈالر خرچ کرکے اپنا رعب قائم کرنے کی کوشش نہ کرو…. تمہارے زر خرید دانشور مسلمانوں کو تم سے ڈراتے ہیں…. ارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت چوہوں سے نہیں ڈرا کرتی…. تمہاری پر اسرار کہانیاں مشہور ہیں کہ…. جو تمہاری خفیہ تنظیم ”فری میسن“ کے خلاف لکھتا ہے وہ…. اچانک مار دیا جاتا ہے…. تمہارے جاسوسی اداروں کے کارنامے بھی بڑھا چڑھا کر بیان کےے جاتے ہیں…. مگر تم کچھ بھی نہیں ہو…. کاش مسلمان تمہاری حقیقت کو سمجھ لیتے…. اور سارے مسلمان مل کر تم پر تھوک دیتے تو تم…. ان کی تھوک میں بہہ جاتے….
اگر تم واقعی طاقتور ہوتے تو دنیا کے ایک چھوٹے سے ٹیلے پر…. ایک چھوٹی سی ”کالونی“ میں نہ رہ رہے ہوتے…. تمہاری سازشیں کس کام کی؟…. دنیا بھر میں تم خوف اور ذلت کی زندگی گزارتے ہو…. اور سانس لینے کے بدلے رشوت دے کر جیتے ہو…. تم ہرجگہ ”نفرت“ اور ”سازش“ کا نشان ہو…. تم ہر جگہ دوسروں کے محتاج ہو…. اور تمہارا اپنا کوئی وجود نہیں…. تمہاری قوت اور طاقت کا ساراراز…. مسلمان حکمرانوں کی ”بے حمیتی“ میں چھپا ہوا ہے…. ان ظالموں نے فلسطین کے نہتے مسلمانوں کو تمہارے جبڑوں میں اکیلا چھوڑ دیا ہے…. تم نے ”احمد یسین“ جیسے چند شیر مار کر خود کو کچھ سمجھنا شروع کردیا…. حالانکہ چوہے اگر بیماری پھیلا کر شیر کو مار دیں تو چوہے…. چوہے ہی رہتے ہیں…. شیر نہیں بن جاتے…. تم نے مسلمانوں کی مقدس سرزمین پر قبضہ کیا…. اب مسلمانوں کا اجتماعی فرض تھا کہ وہ …. مل کر تمہارے خلاف جہاد کرتے…. اور تمہیں مقدس سرزمین سے نکال باہر کرتے…. مگر مسلمانوں نے غفلت کی، وہ دنیا کی حقیر زندگی کو چمکدار بنانے میں مشغول ہوگئے…. ان کی فوجیں کافروں کی نوکر اور غلام بن گئیں…. ان کے حکمران غیرت سے بہت دور نیلامی کے کوٹھے پر جا بیٹھے…. جہاں انہیں صرف اپنی اور اپنے اقتدار کی فکر ہے…. مسلمان نوجوان ناچنے لگا…. وہ ”پب“ اور ”کلب“ میں جاکر مدینہ منورہ کے نور سے محروم ہونے لگا…. اس کو کمپیوٹر نے ”پیلا“ کردیا…. اس کو ڈش اور کیبل نے ”نیلا“ کردیا…. وہ عشق معشوقی کے چکر میں کھو گیا…. تب…. اے سوروں اور بندروں کی اولاد تم نے مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرلیا…. اور اب تمہارے طیارے بمباری کر رہے ہیں…. مگر مسلمان حکمران خاموش دیواروں کی طرح…. اپنے جبوں اور وردیوں میں جکڑے بیٹھے ہیں…. مگریاد رکھو! وقت ایک جیسا نہیں رہتا…. کسی دن مسلمانوں کے ضمیر پر لگے ہوئے یہ تالے ٹوٹ جائیں گے…. ہاں مسلمانوں کے حکمران…. مسلمانوں کے ضمیر پر لگے ہوئے تالے ہیں…. یہی لوگ کافروں کے محافظ ہیں…. یہی لوگ مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنے سے روکتے ہیں…. یہی لوگ مسلمانوں کو ڈانس اور گانے پر لگا کر بزدل بناتے ہیں…. ان لوگوں کے نزدیک امریکہ کی خاطر لڑنا ”قومی مفاد“ اور مسلمانوں کی خاطر لڑنا ٹھیکیداری اور ملک دشمنی ہے…. وہ ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم نے ہر کسی کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا…. ارے اگر تم نے مسلمانوں کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا تو پھر …. تمہیں مسلمانوں پر حکمرانی کا حق حاصل نہیں ہے…. مسلمان ایک ”امت“ ہیں…. مسلمان ایک ”جسم“ ہیں…. مسلمان ایک ”خاندان“ ہیں…. مسلمان ایک ”جماعت“ ہیں…. جو اسے نہیں مانتا وہ قرآن پاک کو نہیں مانتا…. وہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نہیں مانتا…. دنیا کا کوئی بارڈر اور کوئی نقشہ…. مسلمانوں کو تقسیم نہیں کر سکتا…. اور انسانوں کی بنائی ہوئی لکیریں…. اللہ تعالیٰ کے قوانین کو نہیں توڑ سکتی…. قرآن پاک نے تمام مسلمانوں کو بھائی قرار دیا ہے …. انما الم ؤمنون اخوة…. قرآن پاک نے مسلمانوں کو ایک فریق…. اور کافروں کو دوسرا فریق قرار دیا ہے…. مسلمان کے نزدیک رنگ، نسل، قوم، قبیلہ…. اور زبان کی ”تعارف“ سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں…. انگریزوں نے اپنے ظالمانہ دور میں مسلمانوں کو تقسیم کیا…. انگریزوں نے مسلمانوں کی ”خلافت“ کو ختم کیا…. تب…. افغان مسلمانوں نے امت مسلمہ کی لاج رکھی تھی…. اور ۹۱۹۱ءمیں ہزاروں انگریز فوجیوں کو کاٹ کر رکھ دیا تھا…. ملکہ برطانیہ کا پرچم آدھی دنیا پر لہرا رہا تھا مگر…. مسلمانوں کی سرزمین افغانستان اس منحوس، ذلیل…. اور ظالمانہ پرچم سے محفوظ رہی…. افغان مجاہدین نے پورے انگریزی لشکر کو…. جہنم کی راہ دکھائی…. اور ایک انگریز سرجن کو اس لےے زندہ چھوڑ دیا تاکہ وہ …. برطانیہ جاکر اپنی فوج کی حالت بتا سکے…. آج برطانیہ نے اسی شکست کا بدلہ لینے کے لئے پھر افغانستان میں…. فوجیں اتار دی ہیں…. دنیا میں کوئی ان سے یہ پوچھنے والا نہیں کہ تمہارا افغانستان میں کیا کام ہے؟…. کوئی پاکستانی مجاہد کشمیر میں نظر آجائے تو دنیا ”کراس بارڈر ٹیرر ازم“ کا شور مچادیتی ہے…. کوئی عرب فدائی افغانستان میں نظر آجائے تو ”عالمی دہشت گردی“ کا شور بلند ہو جاتا ہے…. حالانکہ ہم مسلمان ہیں…. اور ہم قرآن پاک کو اپنا پہلا اور آخری دستور مانتے ہیں…. اور قرآن پاک نے ہمیں مسلمانوں کی مدد کا حکم دیا ہے…. خواہ وہ کہیں بھی ہوں….
ہاں اے مسلمانو! وہ دن یاد کر نے کے قابل ہے جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم …. مکہ مکرمہ چھوڑ کر ”مدینہ منورہ“ پہنچے تھے…. ہر طرف خوشی تھی اور عجیب جذبات …. اس منظر کا تصور تو کرو…. اللہاکبر کبیرا …. دل مچلنے لگتا ہے اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں…. مرنے کے بعد حوض کوثر پر…. اللہ کرے ہمارے برے اعمال آڑے نہ آجائیں…. ہمیں کتنی شدت سے اس لمحے کا انتظار ہے…. ہماری گناہگار آنکھیں…. اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پاکیزہ جھلک…. یا اللہ نصیب فرما…. یا اللہ نصیب فرما…. مگر اُس دن مدینہ منورہ والوں کے نصیب پوری طرح سے جاگے ہوئے تھے…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لا رہے تھے…. یاد کیجئے…. دارالندوة میں مشرکین کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشورہ…. پھر (نعوذباللہ) شہید کرنے پر اتفاق…. ایک سو خونخوار مشرک…. ایک سو تیز تلواریں…. گھر مبارک کا مکمل محاصرہ…. آسمان سے جبرئیل امین علیہ السلام کی آمد…. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ …. مشرکین کے سر پر خاک…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان سے گزر کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے گھر…. صدیق کی بیٹی کا کھانا باندھنا اور لقب پانا…. غلام کا دو اونٹنیاں لے آنا…. جو پہلے سے ہجرت کے لئے خریدی گئی تھیں…. پھر غارثور…. مشرکین کا دوبارہ محاصرہ…. کبوتری کے انڈے، مکڑی کا جالا…. کالے سانپ کا صدیق کے پا ؤں پر کاٹنا…. آنسو ؤں کا آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر گرنا…. پیارے، میٹھے اور شفاءبخش لعاب کا کمال…. پھر لمبا سفر…. کئی سو کلو میٹر…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پا ؤں مبارک زخمی…. اللہاکبر کبیرا…. صدیق اکبر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کندھے پر اٹھا لینا…. ام معبد اور ان کی بکری کے نصیب جاگنا…. سراقہ کا دھنسنا…. اور قبا والوں کی قسمت پر آسمان کا رشک کرنا…. اور پھر مدینہ منورہ…. صحابہ کرام اونٹنی کے گرد دیوانوں کی طرح دوڑ رہے ہیں…. بچیاں ترانہ پڑھ رہی ہیں…. چاند…. ہاں چودھویں کا چاند ہم پر طلوع ہو رہا ہے…. وداع کی گھاٹیوں سے یہ چاند روشن ہو رہا ہے…. اللہ تعالیٰ کا شکر ہم پر واجب ہو چکا ہے…. خواتین دروازوں کے پیچھے سے…. ایک جھلک کے لئے…. جی ہاں ایک نورانی اور پاکیزہ جھلک کے لئے دعائیں مانگ رہی ہیں…. ہر شخص کے سینے میں دل زور زور سے دھڑک رہا ہے…. بس ایک ہی تمنا ہے اور ایک ہی آرزو کہ…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر کو اپنا گھر بنالیں…. اے مسلمانو! کبھی کبھار اس دن کو یاد کرلیا کرو…. ہمت اور معرفت کے نئے دروازے تم پر کھلتے چلے جائیں گے…. اور یہودیو! تم بھی اس دن کو یاد رکھو…. تمہارے باپ دادے اپنے قلعوں سے یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے…. ان ہوس پرستوں اور دنیا کے غلاموں نے اس عظیم نعمت کی قدر نہ کی…. تب…. مدینہ منورہ نے تمہیں باہر پھینک دیا…. اب اس بات کو بھول جا ؤ کہ تم واپس وہاں آجا ؤ گے…. تم ایک نہیں سارے مسلمان حکمرانوں کو خرید لو…. تم ”فری میسن“ کی ممبر عورتوں کو اونچے ایوانوں تک پہنچا دو…. تم جو کچھ بھی کرلو…. انشاءاللہ تم کامیاب نہیں ہوسکو گے…. تمہاری ساری دولت اپنی جگہ…. تمہارا اثر ورسوخ اپنی جگہ…. تمہارے خفیہ ادارے اپنی جگہ…. تمہارے مسلمان ایجنٹ اپنی جگہ…. تمہارے ایٹم بم اور اسلحے اپنی جگہ…. ہماری تو بس اتنی دعا ہے کہ…. اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے تم تک پہنچنے کے راستے کھول دے…. پھر رب کعبہ کی قسم…. تمہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ تم نے کس ماں کا دودھ پیا ہے….

Written by Sheikho

July 26th, 2006 at 9:31 pm

مدد کیوں نہیں آتی ؟

without comments

کشمیر ، فلسطین ، چیچینا ، بوسینا ، افغانستان پر بمباری ،عراق کی تباہی اور اب لبنان کا ملیا میٹ ہونا ، یہ سب کیا ہے؟ ایسا ظلم مسلمانوں پر ہی کیوں؟
ذرا نظر تو دوڑایے ہم مسلمانوں کے رہن سہن پر ، ذرا نظر تو دوڑایے ہمارے مسلمانوں کے اعمالوں پر، تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں ہر قوم میں کوئی نہ کوئی برائی تھی ،کوئی قوم لوط تھی تو کوئی قومِ عاد ، کوئی قومِ ثمود تھی تو کوئی قوم فرعون ، کہاں گئیں یہ قومیں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ملیا میٹ کر دیا، کیوں کیا؟ ان سب کے اعمال کے سبب۔
ذرا نظر تو دوڑایے آج کل ہم مسلمانوں میں پچھلی تمام قوموں کی برائیوں میں کس چیز کی کمی ہے۔ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ پچھلی قوموں میں صرف ایک ایک برائی تھی جبکہ ہم میں تمام قوموں کی برائیاں جمع ہیں۔
تو پھر بم کیوں نہ گریں ، زلزلے کیوں نہ آئیں ، ذلت و خواری ہم مسلمانوں کے حصہ میں کیوں نہ آئے۔

روشن خیال لوگ ( جدید دہریے ) کہتے ہیں کہ یہی سب کچھ بلکہ اس سے زیادہ مغرب ممالک میں بھی ہوتا ہے۔وہاں تو تباہی نہیں آتی ، وہاں تو بم نہیں گرتے ، بلکہ وہ تو خوش حال ہیں ، سب کچھ تو ہے ان کے پاس ، بلکہ کچھ روشن خیال تو آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے ہی زمین کو جنت بنا رکھا ہے۔

بیوقوف ہیں یہ لوگ ، یہ نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلم بنایا،اور مسلمانوں کے لئے کچھ قوانین مقرر کئے۔اور یہ قوانین ہماری بہتری ، ہماری بھلائی کے لئے بنائے، ہم مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے۔ہمیں ان کافر لوگوں کی طرح کھلا نہیں چھوڑا گیا کیونکہ ان کے مقدر میں جہنم ہے،جبکہ ہم مسلمانوں کو دونوں راستے بتا دئے گئے اور اس کے لئے جزا و سزا بھی مقرر کر دی گئی۔اب ہم اس راستوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کریں۔
دنیا کی سزا ، بم گرنا ، زلزلے آنا ، مسلمانوں کا ذلیل و رسوا ہونا ہمارے اپنے اعمالوں کی سزا ہے۔اور اگر ہم اسی طرح رہے تو یہی سزائیں ہمیں ملتی رہیں گی۔اور اگر ہم ان سزاؤں کو دیکھ کر بھی نہیں سنبھلتے تو پھر ہمارا آخری کنارہ جہنم ہے۔جبکہ کافر لوگوں کو یہاں صرف عارضی یعنی دکھاوے کی خوشیاں نصیب ہیں جبکہ ان کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیش جہنم ہی ہے۔
ہمیں اب بھی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہئے۔اپنے اعمالوں کو درست کرنا چاہئے اپنی ماؤں بہنوں کو اسلام کے مطابق چلنے کی تلقین کرنی چاہئے اور اگر یہ سب اب بھی ہم نے نہ کیا تو تو اس سے بدتر حالات بھی آ سکتے ہیں۔

اگر آپ ہمارے اردو راکٹ کا یہ لوگو اپنی ویب سائٹ یا بلاگ پر لگاتے ہیں تو ہم آپ کے انتہائی مشکور ہوں گے

مسلمان پھر سو گئے

without comments

یہ لبنان ہے ، کہتے ہیں یہ ہمارا مسلمان ملک ہے۔سوچتا ہوں کہ اگر یہ مسلمان ملک ہوتا تو او آئی سی ضرور چیختی ، عرب ممالک واویلا ضرور کرتے اور تو اور ہمارے ملک کے صدرِ محترم اسرائیل اور امریکہ کی اس درندگی پر مذمت کے کچھ الفاظ ضرور کہتے۔

Source:
http://www.fromisraeltolebanon.info

Monday, July 17, 2006:South Lebanon: A Lebanese Child Receiving the message from the Israeli girls!

http://www.fromisraeltolebanon.info

http://www.fromisraeltolebanon.info

http://www.fromisraeltolebanon.info

http://www.fromisraeltolebanon.info

http://www.fromisraeltolebanon.info

واہ رے علماء سوء

without comments

واہ رے علماء سوء
تم سے اچھا تو احمد فراز نکلا۔جس نے صدارتی ایوارڈ واپس کر دیا ایک تم ہو کہ اب تک اپنے عہدوں سے چمٹے ہوئے اسلام کو بیچ کر پاکستان کو اندھیرے کوئیں کی طرف دھکیل رہے ہو۔
اے علماء سوء اگر تم لوگ استعفے دیتے تو بات شائد پھر بھی نہ بن پاتی ، مگر اب دیکھنا عوام میں سے کسی نے آواز اُٹھائی ہے اور یہ آواز وہ ہے جس پر ہمیشہ تم جیسے لوگوں نے روک لگائی ،فتوے صادر کئے۔مگر یہ آواز تمہارے ضمیر کی آواز سے زیادہ زندہ ہے ، یہ آواز وہ ہے جس میں عوام کا لہو شامل ہے،اس کی گونج سے تمہارے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔اور عنقریب دیکھنا یہ آواز تمہارے ایوانوں میں بھی گونجے گی۔

اردو راکٹ

اردو بلاگرز کے نام

with 2 comments

تمام محترم اردو بلاگرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اب آپ ہمارے اردو راکٹ پر اپنی اور تمام اردو بلاگرز کی تحریروں کا ایک ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔آپ اپنی تحریروں کے علاوعہ بی بی سی اردو ، جنگ اردو اور بوریت ڈاٹ کوم کی تحریروں کو بھی ایک جگہ ہی پڑھ سکتے ہیں۔
اگر آپ کی فیڈ ہمارے اردو راکٹ میں شامل نہیں ہے تو ذیل میں دیے گئے برقی پتہ پر آپ اپنا آر ایس ایس ایڈریس ہمیں لکھ بھجیے۔

sheikho@gmail.com

اردو راکٹ

بدتمیز کی میل اور شعیب کی دھمکی

with 10 comments

شہزادے بدتمیز نے مجھے جو میل بھیجی ہے وہ میں اردو سیارہ پر دے رہا ہوں
شعیب نے مجھے بھی ایک دھمکی آمیز میل بھیجی ہے جسے میں ساتھ ہی آپ کے دیکھنے اور سند رکھنے کے لئے اردو سیارہ پر پیش کر رہا ہوں۔مجھے امید ہے اردو سیارہ کے ایڈمن اور محترم اردو بلاگر اس پر مثبت اقدام اُٹھائیں گے۔

badtameez mail

badtameez mail

shuaib mail

Written by Sheikho

July 23rd, 2006 at 12:55 am

یہ کیسا انصاف ہے

with 2 comments

ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ بدتمیز شہزادے کو اردو سیارہ پر بلاک کر دیا گیا ہے۔مجھے چنداں حیرت نہیں ہوئی۔کیونکہ برداشت کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔اور پھر اردو سیارہ کا ایڈمن ذکریا خدا کی شان میں گستاخی پر خاموش رہتا ہے اور جب اپنے اپنے جذبات میں خدا کی شان میں گستاخی کرنے والے بلاگر کے خلاف کوئی بولتا ہے تو اسے غلط کہتا ہے۔اور اسے بلاک بھی کر دیتا ہے
میں تمام محترم بزرگ بلاگر ، جناب ذکریا کے والد صاحب اجمل بھوپال صاحب ، جناب میرا پاکستان صاحب اور دوسرے محترم بلاگرز سے گذارش کرتا ہوں کہ خدا کو حاضر ناظر جان کر اس مسئلہ پر انصاف کروایا جائے اور بد تمیز کی رکنیت بحال کروانے کے ساتھ ساتھ اردو سیارہ کی پالیسی پر بھی نظر ثانی کی جائے۔

Written by Sheikho

July 23rd, 2006 at 12:21 am

میں نے دو کُتے پال لئے

without comments

لوگ کہتے تھے شیخو روشن خیال نہیں ہے ، لو جی آخر کار ہم نے بھی اس دنیا میں قدم رکھنے کا ارادہ کر ہی لیا۔اسی سلسلے میں ہم نے جو پہلا قدم اُٹھایا ہے وہ دو عدد کتوں کا پالنا ہے۔چونکہ مغربی ممالک میں کتوں سے سب سے زیادہ محبت کی جاتی ہے اور یہی محبت پچھلے دنوں آپ سب نے بھی دیکھی ہو گی کہ ورلڈ کپ کے دوران کتوں کو یار لوگوں نے اپنے ملک کی ٹیم کی وردیاں تک پہنا دی اور اسے تمام دنیا میں خوب سراہا بھی گیا۔
سوچتا ہوں ہم پاکستانی بھی کتنے دقیانوسی ہیں کہ کتوں جیسی عظیم شخصیات کو ایویں ہی کتا کتا کرتے رہتے ہیں۔اور تو اور ہم نے کتا کہنے کو بھی گالی بنا لیا ہوا ہے ، شرم آنی چاہئے ہمیں ، مغرب والے کیا سوچیں گے ۔
ویسے تو کُتوں کی بہت سی نایاب نسلیں پوری دنیا میں موجود ہیں مگر جو بات پاکستانی کُتوں اور ہندوستانی کُتوں میں ہے اور کسی میں نہیں۔پاکستانی کتوں میں بگہیاڑ اور ڈبو کتے کی نسل کا توجواب ہی نہیں ہے۔یہ وہ نسل ہے جو انسان کو پھاڑ کھاتی ہے ، شاید اس وجہ سے کہ انسان کا انہیں کُتا کہنا پسند نہ آتا ہو۔
میں نے جن دو کُتوں کا انتخاب کیا ہے وہ ہندوستان اور پاکستان میں یکساں پائے جاتے ہیں ان کی نسل کا نام گلیڑ ( گَل یَڑ ) ہے ، جنہیں ہم گلیوں میں پھرنے والے آوارہ کتوں کا نام دیتے ہیں۔یہ گلیڑ نسل بھی بڑی نایاب سی نسلوں میں سے ہے۔جب سے کُتوں کا وجود منظرِعام پر آیا تھا تب سے یہ نایاب نسل ہمارے پاکستان اور ہندوستان میں موجود ہے۔
ہندوستان سے جو گلیڑ کُتا میں نے منگوایا تھا ، اُس کے لانے والے کہتے ہیں کہ اِس گلیڑ کُتے کے خاندان میں واحد کتیا اُس کی ماں ہی تھی جو سب سے زیادہ خوبصورت تھی اور اسی وجہ سے اُس پر بہت سے کُتے فدا بھی تھے اور انہیں فدا ہونے والوں میں سے کسی ڈبو نسل کے کُتے کی یہ واحد اولاد ہے۔اِس کُتے کو لانے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسی وجہ سے اس گلیڑ کُتے کی بچپن سے ہی عادتیں ذرا وکھری ٹائپ کی تھیں۔گلیڑ نسل کا ہوتے ہوئے بھی اسے اپنی نسل کے کتے پسند نہیں آتے تھے۔باہر سے جو بھی کتا آتا تھا چاہے وہ کسی بھی نسل کا ہو یہ اُس کے آگے پیچھے دم ہلاتا نظر آتا تھا۔بچپن سے ہی اسے مندروں سے بھی خاص لگاؤ تھا جس کی وجہ سے اُس کی ماں بھی اس سے تنگ تھی۔کھوج لگانے پر پتہ یہ چلا تھا کہ ایک دفعہ مندر کے پروہتوں نے اُس کی ماں کے ساتھ زیادتی کی تھی جس کی وجہ سے اُس کو اپنے بیٹے کا مندروں میں جانا پسند نہیں تھا۔شائد وہ نہیں چاہتی ہو گی کہ اُس کے بیٹے کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اُس کے ساتھ ہوا۔مگر یہ بھی عجیب کُتا تھا ، مجال ہے جو اپنی ماں کی مانی ہو۔اب یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس کُتے کے ساتھ پروہتوں نے کیا برتاؤ کیا ہو گا۔

جاری ہے۔۔۔

Written by Sheikho

July 20th, 2006 at 2:14 am

اردو سیارہ کی پالیسی

with 13 comments

اردو سیارہ کے ایڈمن کی طرف سے اردو سیارہ کی پالیسی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔جس میں کہا گیا ہے کہ اردو سیارہ کا کوئی عقیدہ نہیں ہے،
اس کا مطلب ہے جس کا جی چاہے جس مرضی عقیدے کا مذاق اُڑائے حتٰکہ خدا کی شان میں بھی گستاخی کرتا پھرے۔مگر اُس پر کوئی انگلی نہ اُٹھائے اس لئے کہ وہ معتبر ہے،کیونکہ وہ انسان ہے اور مذہب انسانیت سے تعلق رکھتا ہے ۔
جناب ایڈمن کے نزدیک تمیز اور اخلاق کے دائرہ غالباً یہ ہے کہ خدا کی شان میں تو گستاخی ہو سکتی ہے مگر انسان کی شان میں نہیں۔
جناب ایڈمن صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہاں اظہار رائے کی آزادی ہے اور بلاگر کی تحریروں کو اردو ویب والوں کے نظریات نہ سمجھیں۔
جناب ایڈمن صاحب یہ کون سا اظہار رائے ہے،اور آپ کے نظریات کیا اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ایک بلاگر خدا کی شان میں گستاخی کرتا پھرے۔اگر آپ کی یہی نظریات ہیں تو یہ میرے نزدیک خالصتاً کیمونزم ( دہریہ ٹائپ ) نظریات ہیں۔جو ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتے۔یا تو پھر آپ اردو ویب کی پالیسی کا واضع اعلان کریں کہ یہاں کے ایڈمن حضرات کے نظریات کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہ ہے۔
آخر میں جناب ایڈمن صاحب نے نصیحت کی ہے کہ کہ کسی بلاگر کو تنگ نہ کریں اور اس کے خلاف محاز آرائی وغیرہ شروع نہ کریں اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں اور بات تحمل اور خوش اسلوبی سے سنیں وغیرہ وغیرہ۔
حیرت ہے ایڈمن صاحب،واقع میں حیرت ہے،ایک بندہ عرصہ سے خدا کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو رہا ہے اور آپ پھر بھی مشورے ہمیں ہی دے رہے ہیں۔
ٹھیک ہے اظہار رائے کی آزادی کو ہم بھی دیکھتے ہیں کہ کتنی ہے اور کہاں تک ہے۔دیکھتے ہیں ایڈمن صاحب ، ضرور دیکھتے ہیں کہ آپ کا ذہن کہاں تک کھلا ہے،بلاگر بھی اس چیز کے گواہ رہیں گے۔ہم بھی لکھتے ہیں دیکھتے ہیں آپ کی برداشت کہاں تک ساتھ دیتی ہے آزادی اظہار میں۔

Written by Sheikho

July 19th, 2006 at 2:21 am

لعنتی کردار پر پابندی لگائیں

with 3 comments

مسلمان چاہے کسی بھی قوم ، ملک ، جگہ سے تعلق رکھتا ہو کہلاتا مسلمان ہی ہے ،۔مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ ہمارے مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو دہریے ہو چکے ہیں۔ ایک ہندوستانی اردو بلاگر جو سرِعام خدا کی شان میں گستاخی کر رہا ہے۔اور میرے خیال میں اس نے اپنا نام جان بوجھ کر مسلمانوں والا رکھا ہوا ہے۔لگتا مجھے یہ کوئی ہندو ہی ہے۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی ایسا اردو بلاگر نہیں ہے جو اس کو ایسا کرنے سے منع کرتا ہو۔بہت سے اردو بلاگر تو اُس دہریے کی تحریر پر واہ واہ بھی کرتے نظر آتے ہیں۔اور آزادیء اظہار کے پیروکار ہمارے کچھ مسلمان ساتھی کافی عرصہ سے جان بوجھ کر خاموش ہیں۔
میں تو کہتا ہوں لعنت ہے ایسی آزادی اظہار پر۔مجھے یاد ہے بڑے بھائی پردیسی نے اس طرف اردو بلاگر کو توجہ بھی دلائی تھی۔مگر اس کا نتیجہ بھی کوئی برامد نہیں ہوا تھا۔
میں بھی تمام محترم اردو بلاگرز کی توجہ اس جانب مبذول کروا رہا ہوں کہ خدارا ایسی اظہار رائے کی آزادی پر روک لگایے جو بے لگام ہو اور اس بلاگر کو ہالینڈ کے کسی تاریک کو ئنیں میں پھینک دیجیے تاکہ یہ وہاں جا کر مادر پدر آزاد ہو کر جو جی چاہے لکھتا رہے اور لعنتی ہو کر مرے ، انشااللہ
نوٹ ۔ اگر آپ محترم ایڈمن اور ساتھی اردو بلاگرز نے اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا تو پھر اس اردو سیارہ پر لفظوں کی کھلی جنگ ہو گی۔پھر مجھ سے نہ کہا جائے۔اور اگر مجھے آپ اردو سیارہ پر بلاک کرتے ہیں تو میں اس مسئلہ کو ہر قسم کے فورم پر اُٹھاؤن گا۔اور ثبوت کے طور پر جو میں نے اس شخص کی تحریریں اور اس پر بلاگرز کی رائے محفوظ کی ہوئی ہے ، وہ تمام مذہبی فورم اور سیاسی فورم پر اس کو اُ ٹھاؤن گا۔چاہے اس سے ہمارے تمام بلاگرز پر پابندی ہی کیوں نہ لگ جائے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ میں بہت سچا مسلمان ہوں مگر کم از کم میں یہ گوارا نہیں کروں گا کہ ایک ہندو خدا کی شان میں ایسے گستاخی کرتا پھرے۔اور اگر یہ مسلمان ہے تو اس پر خدا کی بے شمار لعنت ہو۔

Written by Sheikho

July 18th, 2006 at 9:43 pm

شکر ہے ہم جوتشی نہیں

without comments

محفل میں جب تک نوک جھونک نہ ہو مزا ہی نہیں آتا اور محفل جب بلاگروں کی ہو تو مزا دوبالا ہو جاتا ہے۔ابھی دو تین دن پیشتر ہی اپنے شہزادے بدتمیز نمبر ١ یا ٢ ( یہ فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے کہ ان شہزادوں میں سے ایک نمبر بدتمیز کون ہے) نے سیارہ پر دھماکے کر دیے اور یہ دھماکے ہمیں اتنے سہی اور بروقت لگے کہ ہم نے بدتمیز ١ یا ٢ کو شہزادے کا خطاب دے دیا۔خطاب کا دینا تھا کہ اپنے جگر جان خاور کھوکھر جو پیرس کی رعنائیوں میں کھوئے رہتے ہیں نے ہم سے ان شاہ صاحب کا پتہ پوچھا ہے جن کے یہ صاحبزادے ہیں۔تاکہ بقول جگر جان خاور کھوکھر کے کہ لوگوں کے علم میں اضافہ ہو۔
اب اگر ہم آپ کو جگر جان کہہ بیٹھے ہیں تو کل کلاں کو اگر لوگوں کے علم میں اضافہ کرنے کے لئے کسی نے ہمارے جگر جان کے بارے میں پوچھ لیا تو ہم بھلا کیا جواب دے سکیں گے۔
شکر کرتے ہیں کہ ہم جوتشی نہیں ہیں۔

Written by Sheikho

July 17th, 2006 at 12:43 am

اک آواز جو زندگی تھی

with 3 comments

مجھے فون نہ کیا کرو ، الجھن ہوتی ہے اور پھر میں شادی شدہ ہوں تمہاری مدھر آواز سن کر پریشان سا ہو جاتا ہوں۔
کہنے لگی تو کیا ہوا گر تم شادی شدہ ہو ، بس تم مجھے اچھے لگتے ہو ، تمہاری باتیں ، تمہارا لہجہ اور سب سے بڑھ کر تم مجھے اچھے لگتے ہو۔جب تک دن میں تمہاری آواز سن نہ لوں مجھے چین نہیں پڑتا۔
جانو یہ سب وقتی باتیں ہیں جب تم اپنے پیا کے گھر چلی گئی نا تو دیکھنا تم سب بھول جاؤ گی ، دن تو کیا تم سالوں بھی فون نہ کرو گی۔
کہنے لگی ایسا کبھی نہیں ہوگا گر تمہارے بنا میری شادی ہو بھی گئی نا تو تب بھی جب تک میں تمہاری آواز نہیں سنوں گی مجھے چین نہیں پڑے گا۔
آج سالوں بیت گئے میری جانو کی شادی کو مگر کہیں سے بھی اُس کی آواز نہیں آتی۔

Written by Sheikho

July 16th, 2006 at 2:47 am