اک آواز جو زندگی تھی
مجھے فون نہ کیا کرو ، الجھن ہوتی ہے اور پھر میں شادی شدہ ہوں تمہاری مدھر آواز سن کر پریشان سا ہو جاتا ہوں۔
کہنے لگی تو کیا ہوا گر تم شادی شدہ ہو ، بس تم مجھے اچھے لگتے ہو ، تمہاری باتیں ، تمہارا لہجہ اور سب سے بڑھ کر تم مجھے اچھے لگتے ہو۔جب تک دن میں تمہاری آواز سن نہ لوں مجھے چین نہیں پڑتا۔
جانو یہ سب وقتی باتیں ہیں جب تم اپنے پیا کے گھر چلی گئی نا تو دیکھنا تم سب بھول جاؤ گی ، دن تو کیا تم سالوں بھی فون نہ کرو گی۔
کہنے لگی ایسا کبھی نہیں ہوگا گر تمہارے بنا میری شادی ہو بھی گئی نا تو تب بھی جب تک میں تمہاری آواز نہیں سنوں گی مجھے چین نہیں پڑے گا۔
آج سالوں بیت گئے میری جانو کی شادی کو مگر کہیں سے بھی اُس کی آواز نہیں آتی۔
July 16th, 2006 at 4:24 pm
مبني بر حقيقت افسانچہ ہے۔ اچھا لگا۔
July 16th, 2006 at 11:21 pm
سو سو جوڑ سنگت دے ڈٹهے
تے اخير جداياں پئياں
جناں سجناں توں نئيں سان وى وچهڑے
او شكلاں ياد ناں رہئيں
بابا فريد صاحب كى يه نظم تو اگے بھى چلتى ھے مگر يہاں اتنا ہى كافى ہے ـ
يه جو ہمارے پرانے بابے گذرے ہيں ناں باتيں بڑى كہرى كہـ گئيے ہيں ـ
July 17th, 2006 at 12:09 am
آپکا بہت شکریہ میرا پاکستان جی۔
خاور جی واقع پرانے بابے جو کچھ کہہ گئے ہیں ان کا جواب نہیں ہے اور ان کی باتیں بھی حقیقت پر مبنی ہوتی تھی۔ویسے جب آپ بھی بابے ہو جاؤ گے نا تو لوگ آپ کی باتوں کی بھی مثالیں دیا کریں گے