باندر کِلا
دنیا میں بہت سے کھیل ایسے ہیں جو زمانہِ قدیم سے چلے آرہے ہیں ۔ ان میں کچھ کھیل ایسے بھی ہیں جو صرف علاقائی سطح پر کھیلے جاتے ہیں اگر دیکھا جائے تو ان قدیم کھیلوں میں ہمیں صرف چند کھیل ہی ایسے ملیں گے جن کی اپنی اصل ابھی تک باقی ہے کیونکہ باقی کھیلوں کو چاہے وہ علاقائی ہوں یا بین الاقوامی جدیدیت کے آ جانے کی وجہ سے لوگ بھلا چکے ہیں۔
علاقائی کھیلوں میں یوں تو بہت سے کھیل ایسے تھے جو اپنی مثال آپ تھے اور اُن کھیلوں میں سے ایک کھیل بَاندر کِلا بھی تھا۔ باندر کِلا پنجابی زبان کا لفظ ہے ،اردو میں ہم اس کو ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ “ بندر کھونٹا“ اردو میں “ باندر “ کو بندر اور “ کلا “ کو کھونٹا کہا جاتا ہے۔کھونٹا یا کِلا وہ ہوتا ہے جس کا ایک حصہ پتلا ہوتا ہے اور یہ لکڑی کا ہوتا ہے ہے اور اسے زمیں میں گاڑ کر اُس سے کوئی چیز مثلاً گائے ، بھینس وغیرہ یعنی جانور باندھ دئے جاتے ہیں۔
اس کھیل میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ بہت سے لڑکے آپس میں جمع ہو کر آپس میں قرعہ نکالتے ہیں پھر جس لڑکے کا نام نکل آتا ہے اس کے ہاتھ میں رسی باندھ کر اسے کھونٹے سے باندھ دیا جاتا ہے اور باقی سارے لڑکے اپنی اپنی جوتیاں اتار کر اس کھونٹے کے پاس رکھ دیتے ہیں۔اب اس باندر ( بندر ) یعنی لڑکے نے چاروں طرف گھوم کر کسی لڑکے کو جوتیاں نہیں اُٹھانے دینی اور سب لڑکوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی طرح ایک ایک کر کے یا پاؤں مار کر جوتیوں کو کھونٹے سے دور کر کے اُٹھا لی جائیں۔
اگر تو وہ باندر ( بندر ) یعنی لڑکا کسی لڑکے کو پکڑ لیتا ہے تو باندر بننے کی باری اس کی آ جاتی اور اگر لڑکے ساری جوتیاں اُٹھا لیتے ہیں تو پھر اُن جوتیوں سے باندر کی وہ درگت بنے گی کہ خدا کی پناہ۔
جو سیانا ( عقل مند ) باندر ہوتا ہے وہ تو باندر بنتے ہی اپنے ہاتھ کی رسی کو کھول کر اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے اور ایسا موقع آتے ہی کہ جب اُس کی درگت بنے کِلے ( کھونٹے ) سے ایسا بھاگتا ہے کہ ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔
مگر بابا عیدو اپنی ہی ہانکتا ہے ، بات کوئی بھی ہو وہ مثال دینے سے باز نہیں رہتا، کہتا ہے ،
“ بندر کے ہاتھ میں اگر ماچس آ جائے تو وہ جنگل کو ہی آگ لگائے گا“
ویسے سوچا جائے تو بابا عیدو بھی ٹھیک ہی کہتا ہے ، ماچس تو باندر کے ہاتھ میں ہی ہے۔