چوڑے ، جمعدار
پاکستان میں جو ہماری گندگی اٹھاتے ہیں اسے ہم چوڑا کہتے ہیں۔چوڑا پنجابی زبان کا لفظ ہے اور اگر ہم ان چوڑوں کا نام تہذیب یافتہ انداز میں لیں تو اردو میں ہم اسے جمعدار کہہ سکتے ہیں۔مگر تہذیب یافتہ انداز میں نام لینے سے بھی چوڑا ، چوڑا ہی رہے گا کیونکہ قدرت نے اس کی فطرت میں جو چوڑا پن بھر دیا ہے وہ اس میں جانے کا نہیں۔اور اگر ہم غور سے چوڑے کی فطرت کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں آکڑ ( اَ کڑ ) بھی خاصی ہوتی ہے۔
بابا عیدو جس نے چوڑوں کی فطرت جاننے کے لئے پی ایچ ڈی بھی کی ہوئی ہے ، کہتا ہے ، چوڑوں کو کبھی ان کی اوقات سے زیادہ نہ دو جب بھی ان کی جیب میں پیسے ہوں گے یہ کھری کھری سنائیں گے اور جب یہ کنگلے ہوں گے تو چاہے آپ انہیں جتنے مرضی چاہے ٹھڈے مارو ، یہ چوں نہیں بولیں گے۔
آج کل حالات بہت تبدیل ہو چکے ہیں چوڑوں نے ایک سازش کے ذریعہ سے پاکستان میں گندگی کے نظام کو تبدیل کر دیا ہے جس سے پاکستانی چوڑوں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور اب پاکستانی چوڑے پڑھنے لکھنے کی طرف دھیان دے رہے ہیں اور ان کے سیاہ رنگ سفیدی میں بدل رہے ہیں۔مگر بابا عیدو ان کے سفید رنگ کے بارے میں کچھ اور ہی کہتا ہے۔خیر بابا عیدو جو بھی کہے یہ اس کا اپنا تجربہ ہو گا مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ چوڑا سفید ہو یا کالا ، وہ جب بھی بولے گا گند ہی بولے گا کیونکہ چوڑا تو آخر چوڑا ہی ہے گندگی نہ نکالے تو پھر کیا نکالے۔