Sheikho’s blog

Jahan Meri Soch Khatam Hoti hai Wahan Dosron ki Shuro hoti hai

Archive for March, 2007

ورلڈ کپ اور دنیائے سیاست

with 2 comments

چونکہ آج کل ورلڈ کپ کا دور دورہ ہے اور اسی کی مناسبت سے آج ہماری ورلڈ کپ کے موضوع پر استاد عیدو سے بحث چل نکلی موضوع بحث تو اپنا شاہد آفریدی تھا جو کہ عرصہ تقریباً بارہ سال سے پاکستان ٹیم کو جونک کی طرح چمٹا ہوا ہے اور اسی کے خلاف میں استاد عیدو کو بڑے زوروشور سے دلائل دینے میں بھی مصروف تھا مگر جانے کیا وجہ تھی کہ استاد عیدو میری ہر بات پر صرف ہوں ہاں ہی کئے جا رہا تھا۔کافی دیر بعد مجھے خیال آیا کہ استاد کے کان پر تو جوں تک نہیں رینگی تو میں چونک پڑا اور پوچھا ، خیر تو ہے استاد جی ، طبعیت تو ٹھیک ہے نا ، کیا کہیں ہماری استانی سے آج کھٹ پٹ تو نہیں ہو گئی۔
نہیں رے ، کہہ کر استاد پھر سوچوں میں گم ہو گیا۔ابھی تھوڑی دیر اور گذری تھی کہ استاد بول پڑا اور کہنے لگا ، دیکھ چھیخو ( شیخو ) ، اس دفعہ پھر لفڑا ہوویں گا۔کیا مطلب استاد جی کیسا لفڑا ہو گا ، میں کچھ سمجھا نہیں؟
ابے تو تو ہے ہی کوڑھ مغز تو کیا جانے ،ابے میں یہ کہوں ، دیکھ جب بھی ایسا کوئی وقت آوے نا جہاں ساری دنیا مصروف ہو جاوے ، خصوصاً جیسے یہاں اپنے ایشیا وغیرہ میں لوگ ورلڈ کپ آنے سے اس میں مصروف ہوجاویں گے، تب ہی لفڑا ہوویں گا۔
استاد ، میں اب بھی نہیں سمجھا،
ابے بھوتنی کے ، اب سے پہلے کے واقعات کا تجزیہ کر ، تجھے پتہ نہیں کیا ہوتا رہا ہے جب بھی دنیا اجتماعی طور پر کہیں مصروف ہووے تو کام ڈال دیا جاوے یا کوئی بڑا کام ڈال کے دنیا کو کھیل تماشوں یا کسی اور طرف مصروف کر دیا جاوے۔
یہ کیا بات ہوئی استاد ، میں نہیں مانتا دنیا تو اب سکون سے جارہی ہے امریکہ میں بھی اب اتنا دم خم نہیں کہ وہ ایران پر حملہ کرسکے باقی اکا دکا واقعات تو ہر وقت ہوتے ہی رہتے ہیں۔نہیں استاد جی آپ کی اس بات سے کم از کم میں متفق نہیں ہوں اور نہ دور دور تک ایسے حالات مجھے نظر آرہے ہیں۔
اچھا نہ مان ، مگر میں یہی کہوں لفڑا ہووے گا ضرور ، کیا ہووے گا یہ میں نہ جانوں مگر میری چھٹی حس کہوے ہے اب کی بار بھی لفڑا ضرور ہوویں گا۔

Written by Sheikho

March 7th, 2007 at 8:54 pm

وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار کیوں ؟

with 3 comments

wikipedia
وکی پیڈیا جو کہ انٹر نیٹ کی دنیا کی ایک آزاد ویب سائٹ ہے اور اس کے سوفٹ وئیر میں ایسی خوبی رکھی گئی ہے جس سے وہاں آ کر ہر کوئی اپنے مضامین آسانی سے لکھ سکتا ہے اور دوسروں کے مضامین کو اتنی ہی آسانی سے قطع برید کر کے اس میں اپنی رائے آسانی سے ٹھونس سکتا ہے۔اور اگر وہ رائے یا مضمون وہاں کے ایڈمن یا وہاں دوسرے آنے والوں کے علم کے مطابق صحیح ہو تو وہ اس میں دوبارہ ترمیم نہیں کرتے اور اگر وہ مضمون کسی اور آنے والے عالم یا جاہل کے مطابق صحیح نہ ہو تو پھر اس میں قطع برید کر سکتا ہے۔
غرض کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس چاہے وہ عالم ہو یا جاہل ، وکیپیڈیا پر لکھا گیا مضمون مستند ہی کہلائے گا۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ بہت سے لوگ حتکہ گوگل جیسا بڑا گروہ بھی وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار کرتا ہے اور رہی بات ہمارے پاکستانیوں کی جو وکی پیڈیا پر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تو وہ خود بھی ہر بحث یا موضوع کی مناسبت سے وکی پیڈیا کے مضامین کا حوالہ دینے سے نہیں چوکتے۔حالانکہ انہیں خود بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ معلومات جن کا وہ حوالہ دے رہیں ہیں ،واقع میں مستند ہیں یا کسی جاہل کا لکھا ہوا غلط پروپیگنڈا ہے جو کہ وہ اپنے یا کسی ایسے مفاد کی خاطر دوسروں کے اذہان میں انڈیلنا چاہتا ہے جن کی وہ تعبیر دیکھنے کے متمنی ہوں۔
جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ وکیپیڈیا پر ہر کوئی اپنا مضمون لکھ اور دوسروں کے مضامین میں ترمیم کرسکتا ہے تو سوچنے کی بات یہ آتی ہے کہ آیا وہ مضمون یا معلومات کس طرح مستند ہوسکتی ہیں جس کا یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ کسی ایسے علم والے شخص نے کے ہاتھوں لکھی گئی ہوں گی جن کو اس پر عبور حاصل ہوگا۔
ایک انسان کو سائینس کا علم ہی نہیں اور وہ سائینس پر مضمون لکھ دے اور وہاں پڑھنے والا مضمون کو مستند ہی سمجھے گا تو کیا ایک جاہل کا مضمون مسنتد ہو سکتا ہے؟ چہ جائیکہ اس کا حوالہ بھی دیا جانے لگے۔ایسے ہی وکیپیڈیا پر لکھے ہوئے کسی مضمون یا معلومات کے بارے میں مستند ہونے کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس لئے وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔
ابھی آج ہی بی بی سی اردو پر وکیپیڈیا کے بارے میں ایک خبر چھپی ہے جس نے میرے اس خیال کو اور زیادہ تقویت بخشی ہے کہ وکیپیڈیا پر دی گئی معلومات مستند نہیں ہوسکتیں کیونکہ یہاں جاہل اور عالم کا معیار ایک ہی ہے۔اور کسی عالم ( جو کہ کسی علم کا جاننے والا ) اگر کوئی معلومات فراہم کرتا ہے تو اس پر انحصار کیا جاسکتا ہے جبکہ وکیپیڈیا چونکہ ایک آزاد دائرہ المعارف قسم کی ویب سائٹ ہے جسے کوئی بھی مرتب کرسکتا ہے تو ایسی ویب سائٹ کی معلومات پر انحصار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان معلومات کو بطور حوالہ جات یا ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔

Written by Sheikho

March 7th, 2007 at 7:56 pm

خلائی محبت کا انجام اور باز کا کافیہ

without comments

خبر گرم ہے کہ ایک خاتون خلا باز لیزا نوک نے ایک دوسری خلاباز کو اس بنا پر اغوا کر کے اس کا منہہ مرچوں سے لال کر دیا کہ وہ اس کے خلاباز محبوب پر ڈورے ڈال رہی تھی۔
اصل میں باز کا کافیہ ہوتا ہی خطرناک ہے چاہے وہ کبوتر باز ہو ، پتنگ باز ہو یا کہ کوئی اور“ باز “ ۔ویسے ایک اڑنے والا باز بھی ہوتا ہے اور وہ بھی اپنے شکار پر ویسے ہی جھپٹتا ہے جیسے کہ دوسرے باز۔
اگر تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو ، باز کوئی بھی ہو ان سب میں ایک قدر مشترک ہے ۔اب کون سی قدر مشترک ہے ، یہ آپ پر سوچنے کے لئے چھوڑے دیتا ہوں ۔

Written by Sheikho

March 4th, 2007 at 12:37 am