وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار کیوں ؟
وکی پیڈیا جو کہ انٹر نیٹ کی دنیا کی ایک آزاد ویب سائٹ ہے اور اس کے سوفٹ وئیر میں ایسی خوبی رکھی گئی ہے جس سے وہاں آ کر ہر کوئی اپنے مضامین آسانی سے لکھ سکتا ہے اور دوسروں کے مضامین کو اتنی ہی آسانی سے قطع برید کر کے اس میں اپنی رائے آسانی سے ٹھونس سکتا ہے۔اور اگر وہ رائے یا مضمون وہاں کے ایڈمن یا وہاں دوسرے آنے والوں کے علم کے مطابق صحیح ہو تو وہ اس میں دوبارہ ترمیم نہیں کرتے اور اگر وہ مضمون کسی اور آنے والے عالم یا جاہل کے مطابق صحیح نہ ہو تو پھر اس میں قطع برید کر سکتا ہے۔
غرض کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس چاہے وہ عالم ہو یا جاہل ، وکیپیڈیا پر لکھا گیا مضمون مستند ہی کہلائے گا۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ بہت سے لوگ حتکہ گوگل جیسا بڑا گروہ بھی وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار کرتا ہے اور رہی بات ہمارے پاکستانیوں کی جو وکی پیڈیا پر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تو وہ خود بھی ہر بحث یا موضوع کی مناسبت سے وکی پیڈیا کے مضامین کا حوالہ دینے سے نہیں چوکتے۔حالانکہ انہیں خود بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ معلومات جن کا وہ حوالہ دے رہیں ہیں ،واقع میں مستند ہیں یا کسی جاہل کا لکھا ہوا غلط پروپیگنڈا ہے جو کہ وہ اپنے یا کسی ایسے مفاد کی خاطر دوسروں کے اذہان میں انڈیلنا چاہتا ہے جن کی وہ تعبیر دیکھنے کے متمنی ہوں۔
جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ وکیپیڈیا پر ہر کوئی اپنا مضمون لکھ اور دوسروں کے مضامین میں ترمیم کرسکتا ہے تو سوچنے کی بات یہ آتی ہے کہ آیا وہ مضمون یا معلومات کس طرح مستند ہوسکتی ہیں جس کا یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ کسی ایسے علم والے شخص نے کے ہاتھوں لکھی گئی ہوں گی جن کو اس پر عبور حاصل ہوگا۔
ایک انسان کو سائینس کا علم ہی نہیں اور وہ سائینس پر مضمون لکھ دے اور وہاں پڑھنے والا مضمون کو مستند ہی سمجھے گا تو کیا ایک جاہل کا مضمون مسنتد ہو سکتا ہے؟ چہ جائیکہ اس کا حوالہ بھی دیا جانے لگے۔ایسے ہی وکیپیڈیا پر لکھے ہوئے کسی مضمون یا معلومات کے بارے میں مستند ہونے کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس لئے وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔
ابھی آج ہی بی بی سی اردو پر وکیپیڈیا کے بارے میں ایک خبر چھپی ہے جس نے میرے اس خیال کو اور زیادہ تقویت بخشی ہے کہ وکیپیڈیا پر دی گئی معلومات مستند نہیں ہوسکتیں کیونکہ یہاں جاہل اور عالم کا معیار ایک ہی ہے۔اور کسی عالم ( جو کہ کسی علم کا جاننے والا ) اگر کوئی معلومات فراہم کرتا ہے تو اس پر انحصار کیا جاسکتا ہے جبکہ وکیپیڈیا چونکہ ایک آزاد دائرہ المعارف قسم کی ویب سائٹ ہے جسے کوئی بھی مرتب کرسکتا ہے تو ایسی ویب سائٹ کی معلومات پر انحصار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان معلومات کو بطور حوالہ جات یا ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
April 3rd, 2007 at 4:23 am
یہ تو درست ہے اور اسی لیے وکی پیڈیا کے بانی نے اب ایک نیا پراجیکٹ Citizendum شروع کیا ہے جو اسی مس$لے کی روک تھام کے لیے ہے۔
July 9th, 2007 at 8:43 am
بات دراصل یہ ہے کہ وکیپیڈیا کی ضرورت آخر کیوں محسوس ہوئی؟ وہ اس لیے کہ دیگر انسائیکلو پیڈیا بہت مہنگے ہیں، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کی قیمت کئی ہزار ڈالرز میں ہے، اور کیونکہ ان انسائیکلوپیڈياز کے حقوق محفوظ ہیں اس لیے یہ انٹرنیٹ پر بھی دستیاب نہیں، اس لیے انٹرنیٹ پر عام آدمی تک معلومات کی رسائی دینے کے لیے ایک ایسے انسائیکلو پیڈیا کی ضرورت کو محسوس کیا گیا جو حقوق سے آزاد ہو، اور پھر وکیپیڈیا کا اچھوتا خیال ذہن میں آیا اور آج یہ خیال دنیا بھر کی معلومات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ بلاشبہ اس میں کئی خامیاں بھی ہیں لیکن وکیپیڈيا کو یکسر رد کردینا اور اسے جاہلوں کا مرتب کردہ انسائيکلوپیڈیا کہنا ناانصافی ہوگا۔ کیونکہ آپ ان تمام شعبہ جات سے ہٹ کر سوچیں، جن پر آپ کی سوچ دوسروں سے مختلف ہے، تو اس کے علاوہ بھی حیاتیات، جغرافیہ، نباتیات، تاریخ، فلسفے، شاعری اور تمام تر اہم مضامین پر وکیپیڈيا پر جتنی معلومات ہے اتنی انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں بھی نہیں۔ البتہ اس سلسلے میں وکیپیڈیا فاؤنڈیشن کو سوچنا چاہیے کہ کس طرح اس کی معلومات کو مستند بنایا جائے، میرے خیال میں ایک ایسا بورڈ تشکیل دیا جا سکتا ہے جو اس میں شامل ہونے والی معلومات کی تصدیق کرے، اور تصدیق شدہ معلومات بھی ویب پر جاری کی جائے۔
دوسری بات یہ کہ آپ نے اردو وکیپیڈیا کا لنک دے کر مضامین کو جاہلوں کا لکھا ہوا پروپیگنڈا قرار دیا ہے، جس پر مجھے ایک وکی صارف کی حیثيت سے بہت افسوس ہوا ہے، میرے خیال میں اس سے آپ کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہوگا، اور نہ ہی آپ نے قصدا ایسا کیا لیکن احساسات ضرور مجروح ہوئے ہیں۔ بہرحال میری آپ سے درخواست ہے کہ وکیپیڈیا پر معلومات کو مستند بنانے کے لیے میں آپ کو اردو وکیپیڈیا پر آئيں اور اپنی وسیع تر معلومات سے دنیائے اردو کو فائدہ پہنچائيں۔ امید ہے آپ مثبت جواب دیں گے۔
July 12th, 2007 at 9:15 pm
ابو شامل برادر اس پر میں کسی دن تفصیلاً بات کرتا ہوں