کیا یہ ہمارا اسلام ہے ؟
بہت دنوں بعد اپنے بلاگ پر حاضری دے رہا ہوں اس دوران بہت سے واقعات وقوع پذیر ہو چکے ۔مصروفیت کچھ ایسی بنی کہ یہاں آیا ہی نہیں گیا حالانکہ فاصلہ ہی کتنا تھا ، سوچو تو صرف ایک ہاتھ کا، مگر یہی ہاتھ ہی نہ چلا ، تو پھر ذہن کیا چلتا۔
ورلڈ کپ ہوا ، کھلاڑیوں پر افتاد پڑی ، چیف جسٹس کو غیر فعال کر دیا گیا ،کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی ، غرض کیا کیا نہ ہوا اپنے پاکستان میں ، مگر میں ہوں کہ بس دیکھتا گیا۔
آج بھی بس سرِ راہ ہی نکل آیا ہوں ، کہوں گا کچھ نہیں ، بس چند تصویریں ہیں جو پاکستان میں اسلام کی عکاسی کر رہی ہیں اب وہ کونسے اسلام کی عکاس ہیں یہ آپ دوستوں پر چھوڑتا ہوں۔
میں ان سب دوستوں سے معذرت خواہ ہوں جن کے تبصرے عیاں نہ ہوسکے خصوصاُ مبین صاحب سے بھی معذرت چاہتا ہوں جن کے بہت سے تبصرے میری غیر حاضری کی وجہ سے شائع نہ ہو سکے۔

قلعہ کہنہ قاسم باغ کے آخر میں شاہ شمس تبریز کے مزار پر ایک عورت کے ڈانس کا منظر

قلعہ کہنہ قاسم باغ کے آخر میں شاہ شمس تبریز کے مزار پر عورتوں کے ڈانس کا ایک منظر

قلعہ کہنہ قاسم باغ کے آخر میں شاہ شمس تبریز کے مزار پر ہیجڑوں کے ڈانس کا ایک منظر
June 18th, 2007 at 3:11 am
یه تو کجھ بهی نہیں ہے آپنے پاکستان میں یه کام تو روشن خیالی آنے سے پہلے بهی هوتے تهے ـ
پاکستان میں اصلی اسلام کا وه حلیه بگاڑا گیا ہے که ہندو اور ہم میں تهوڑ اهی فرق ہے ـ
کبهی کبهی میرا بهی جی چاهتا ہے که مقدور هو تو میں آپنے علاقے کا حلاله کرنے والا بن جاؤں ـ
پندره بیس مسجدوں کو چنده دو اور ہر ہفتے حلاله کی نیکی کرو ـ
رند کے رند رہے هاتھ سے جنت نه گئی ـ
June 21st, 2007 at 3:08 am
سلام
محترم کہاں گم تھے آپ؟ ایسی کیا مصروفیت تھیں۔
یہ ابھی کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں ایسا ایسا گند چل رہا ہے اس پردے کے پیچھے کہ اس پر صدر کی روشن خیالی منہ چھپا لیتی ہے۔
June 21st, 2007 at 9:53 pm
خاور بھرا
سچی بات کی آپ نے ، ہے تو واقع میں ایسا ہی
June 21st, 2007 at 10:05 pm
وعلیکم السلام
برادر بدتمیز گم کہاں ہونا ہے ۔بس وہ اپنے پردیسی بھائی نے اخبار کی ایسی ڈیوٹی لگائی ہے کہ سر کھجانے کع وقت نہیں مل رہا اور آج کل ویسے بھی خبروں کا بہت زور ہے۔ابھی ایک خبر کا لفڑا ختم نہیں ہوتا تو دھڑا دھڑ مخالف طرف سے خبریں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔کبھی کبھار تو ایسا ہوتا ہے کہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہوں کہ کون سی خبر لگاؤں اور کسے ردی کی ٹوکری کی نظر کردوں۔
اگر آپ بھی کچھ لکھنا چاہیں تو بے دھڑک ہو کر بھیج دئجیے گا