Sheikho’s blog

Jahan Meri Soch Khatam Hoti hai Wahan Dosron ki Shuro hoti hai

Archive for the ‘اردو بلاگرز’ Category

بابے مکی کا شکریہ

with 2 comments

تقریبا دو سوا دو سال بعد میں اپنے بلاگ پر دوبارہ حاضری دے رہا ہوں ۔سب سے پہلے تو میں نے بلاگ کو نئے کپڑے پہنائے ( یعنی کہ نیا رنگ و روپ دیا) اس کے بعد میں سب سے پہلے بابے مکی کا شکریہ ادا کرنے چلا آیا ہوں ۔شاید کہ میں اب بھی اپنے بلاگ کو اپ ڈیٹ کرنے بارے نہ سوچتا مگر اتفاق سے پچھلے دنوں مکی بابا اور محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب کے درمیان کچھ تلخ و شیریں باتیں پڑھنے کو ملیں ۔ سوچا بابا مکی کے بلاگ پر جا کر دیکھوں تو سہی ماجرا کیا ہے۔جب میں بابے مکی کے بلاگ پر گیا تو اور بھی بہت سی تحریروں پر نگاہ پڑی جس پر میں نے تبصرہ دینا چاہا ۔مگر تبصرے کے لئے بابے مکی کے بلاگ پر رجسٹرڈ ہونا ضروری تھا۔(یعنی میری نگاہ میں یہ خاصی کڑی پابندی تھی) قصہ مختصر کہ دو تین دن پیشتر محترم شاکر عزیز کے بلاگ کا دورہ کیا جہاں بابے مکی پر انہوں نے تحریر لکھی تھی تو تبصرے کے خانے میں ہم نے بھی تبصرہ دے ڈالا کہ ( مکی صاحب نے ہم جیسوں کے خوف سے تبصرے بند کئے ہوئے ہیں) ہم نے اپنے تئیں بالکل سچ بات کی مگر مکی صاحب نے جوابا ہمیں جھوٹا قرار دے دیا۔ہونا تو ہی چاہئے کہ اگر آپ آزادی سے لکھ رہے ہیں اور اگر آپ کو خوف بھی نہیں ہے تو تبصرے بھی کھلے رکھیں ۔اگر آپ رجسٹرڈ کی پابندی لگائیں گے تو دوسرا کیا جانے گا۔
بات لمبی ہو گئی ، چلیں جانے دیں ۔ہم نے سوچا ہے کہ اب بابے مکی کے بارے ہم کچھ نہ کہیں گے ۔وہ جانے اور اللہ سبحانہ و تعالی جانے۔بس ہم ان کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں اور ہم سب کو نیک ہدائت دے ۔آمین
دوسرا ہم اس لئے بھی چپ ہو گئے ہیں کہ مکی صاحب نے ہمیں جھوٹا قرار دے دیا ہے اور اتفاق سے ہی ہم نے محترم خاور کھوکھر کی ایک تحریر بے وطن پڑھ لی ۔۔جس میں انہوں نے تمام پاکستانیوں کو ہی جھوٹا قرار دیا ہے۔۔۔اب ہمارا منہہ چھپانا مشکل ہو گیا تھا کیونکہ ہم بھی پاکستانی ہیں اس لئے ہم نے سوچا ہے کہ اب بلاگ تو ضرور اپ ڈیٹ کیا کریں گے مگر دوسرے مختلف موضوعات پر کیونکہ ۔۔۔اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا

اردو بلاگرز کے لئے ایک تجویز

with 15 comments

ابھی کل ہی میری نگاہ زکریا صاحب کی ایک تحریر پر پڑی جس میں اردو بلاگر کو فعال کرنے کے بارے اور ان کے لئے مفید معلومات بھی موجود تھیں ان کے بلاگ پر جا کر میں اپنا تبصرہ دینے کے بارے سوچ ہی رہا تھا۔مگر میں نے اس سے بہتر یہ خیال کیا کہ اسی سلسلہ میں ایک مکمل تحریر اپنے بلاگ پر ہی کیوں نہ پوسٹ کر دی جائے تاکہ سب اس سے استفادہ کر سکیں۔
اب جب کہ میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو جناب بدتمیز صاحب کی ایک تحریر بعنوان “ جواب آں غزل “ پر بھی نگاہ پڑی جس میں اردو کے حوالے سے گلے شکوے بھی کئے گئے ہیں۔بدتمیز کی بات اپنی جگہ درست مگر زکریا کی گائیڈ لائن کو بھی درگزر نہیں کیا جاسکتا۔
اور اسی سلسلہ میں ایک تجویز میں بھی دینا چاہوں گا۔( اس تجویز کے بارے میں ، میں نے پردیسی بھائی سے اس تجویز بارے تفصیلی بات کی ہے اور انہیں کی اجازت ملتے ہی میں آپ سب کی خدمت میں اس تجویز کے خدوخال رکھنے لگا ہوں۔
ہم یہ چاہتے ہیں کہ اگر آپ سب اردو بلاگرز ، جو بھی تحریریں اپنے بلاگ پر لکھیں اگر وہ آپ اردو نیوز “ نیوز اردو ڈاٹ نیٹ “ کو بھی ساتھ ہی ارسال کر دیا کریں تو آپ سب کی وہ تحریریں “ اردو نیوز “ میں بھی ساتھ ہی شائع ہو جایا کریں گی۔جو کہ آپ کے بلاگ لنک سے شائع ہوں گی اس سے ایک تو جہاں آپ سب کے یوزر کی تعداد اور بلاگ کی ٹریفک میں اضافہ ہو گا وہاں زیادہ سے زیادہ لوگ بھی آپ کی تحریروں سے مستفید ہو سکیں گے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں اور اس میں ہمارا کیا مفاد پوشیدہ ہے؟
پہلی بات تو یہ کہ ہم نیوز کی دنیا میں اپنے تمام اردو بلاگرز کو متعارف کروانا چاہتے، ہم ان کی آواز کو ان لوگوں کی رسائی تک بھی لے آنا چاہتے ہیں جو لگے بندھے لکھاریوں کی تحریروں تک ہی محدود ہیں اور وہ ان کے لکھے ہوئے کو ہی حدیث سمجھ کر من و عن قبول کر رہے ہیں۔

دوسرا ہم اس سے عام انٹرنیٹ کے لوگوں کو بلاگ کی افادیت ، “ یعنی اظہار خیال کی آزادی “ جو کہ ایک بلاگر کی خصوصیت ہوتی ہے اس سے روشناس کروانے کے بھی متمنی ہیں جو کہ فی زمانہ ہمارے پاکستان میں ناپید ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ لوگ لگے بندھے لکھاریوں کی تحریروں کے ہی عادی ہے۔اس لئے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ آزاد تحریروں کو بھی ایسے ہی ذوق و شوق سے پڑھیں اور انہیں ایسے لوگوں گا بھی علم ہو جو اپنے دل میں جدا سا درد بھی رکھتے ہیں اور ہر موضوع پر کھل کر بولتے ہیں۔

اب دوسری بات کہ اس میں ہمارا ذاتی مفاد کیا ہو گا؟
اس سے ہمارا ذاتی مفاد یہ ہو گا کہ اس سے ہماری نیوز سائٹ کے یوزر کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گا اور دوسرا ہمیں اچھی تحریریں مل سکیں گیں۔

آخر میں ، میں اردو نیوز کے یوزر کی تعداد کے بارے میں ضرور بتانا چاہوں گا۔کل آخری تاریخ ، یعنی نومبر کی تیس تاریخ تک یمارے پورے ماہ میں یوزر کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی جو کہ ہماری توقع سے بڑھ کر ہے۔اور ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد ہٹس ہوئے تھے۔جوں جوں سیاست کے داؤ پیچ آگے بڑھیں گے ہمیں امید ہے یوزر کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔

اگر تمام اردو بلاگرز ہماری اس تجویز کو صحیح اور بہتر جانیں تو اردو نیوز “ نیوز اردو ڈاٹ نیٹ “ کا پلیٹ فارم ان کے لئے حاضر ہے۔

Written by Sheikho

December 1st, 2007 at 1:26 pm

عید مبارک

with 2 comments

eid_bakra.jpg

تمام اردو بلاگرز اور قارئین کو عیدالضحی کی مبارک باد۔دعا کرتا ہوں کہ سب کو عید کی بہت زیادہ خوشیاں حاصل ہوں۔مزے سے تکے کباب کھائیں اور اپنی اس خوشیوں میں غریبوں ، محتاجوں اور خصوصاً ایسے لوگوں کا ضرور خیال کریں جو قسمت سے سال میں ایک بار ہی گوشت کھا پاتے ہیں۔

Written by Sheikho

December 31st, 2006 at 7:12 pm

اردو کتب خانے کا قیام

without comments

آج بالاخر ہم انٹرنیٹ کی دنیا میں اپنی ایک عدد اردو لائیبریری کا قیام عمل میں لے ہی آئے جس کے لئے ہم پردیسی بھائی کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمیں اسے بنا سنوار اور اردو میں ڈھال کر دیا ہے۔یہ اردو لائیبریری تمام قارئین اور لکھاری حضرات کے لئے مفت ہے آپ ہر موضوع پر اس میں اپنی تحریریں لکھ سکتے ہیں۔مجھے امید ہے آپ سب دوست اسے رونق بخشیں گے۔
لائبریری کا پتہ

Written by Sheikho

November 26th, 2006 at 7:54 pm

کسی کو تو جواب دینا ہے

without comments

اپنا جگر جان خاور کھوکھر پوچھتا ہے،
دو انتہاؤں پاکستانی سید اور پاکستانی چوہڑے کی جسمانی ساخت کو علحیدہ کرنے کا فارمولا ہے کسی کے پاس ؟
ہے بالکل ہے ، میرے پاس ہے ۔چوہڑا چاہے گند کی ٹوکری اٹھاتا پھرے اگر اس کی سوچ ، ذہن اچھا ہو گا توسید جیسا لگے گااور سید چاہے عطر میں نہایا ہو اگر اس کی سوچ ، اس کا کردار اچھا نہیں ہو گا تو وہ چوڑے سے بھی بدتر دکھائی دے گا۔

خاور جگر ، کسی کو احساس کمتری ہوتا ہے اور کسی کو احساس برتری ، ذات پات ، برادری سسٹم یہ سب گاؤں ( پنڈوں ) کی روایات ہیں ۔اپنا نام یا اپنی ذات بڑی رکھنے سے انسان میں بڑا پن پیدا نہیں ہوتا۔بڑا پن اس کے اچھے ذہن ، سوچ اور کردار سے بنتا ہے۔اور یہ اچھا کردار چاہے چوڑا ادا کرے یا کہ سید ۔

جگر جانی ، جسمانی ساخت کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، ذہنی ساخت کی بات کیجیے ، لولا ، لنگڑا ، اندھا ، کانا ، اپاہیج ، کھسرا یہ سب شہنشاہوں کے گھروں میں بھی پیدا ہوئے اور غریبوں کے گھروں میں بھی۔

ہم مسلمانوں میں تو ویسے بھی ذات پات ، گورے کالے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔یہاں تو اعمال ، کردار کی بات ہے ۔جن جن کے اعمال و کردار اچھے ہوں گے وہی اعلیٰ ہوگا۔باقی ذات میں ، اپنی جسمانی ساخت میں کو ئی کیسا ہی بڑا یا خوبصرت دکھائی دے اس کی کوئی حثیت نہیں۔

آپ نے پوری دنیا گنوا دی مگر پھر بھی آپ اپنے گاؤں کے حصار سے باہر نہیں نکل سکے ۔ یہ احساس کمتری ہے آپ کا ، اپنی اُس ذات پات کے حصار سے باہر نکلو جگر جان ، جس میں آپ باہر رہتے بھی الجھے ہوئے ہو۔دنیا ذات پات سے بہت دور جاچکی ۔

Written by Sheikho

November 15th, 2006 at 8:40 pm

کالو کے نام کھلا خط

with 3 comments

بیوقوف کہتے ہیں کہ پاگلوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں مگر بابے عیدو کا تجربہ ہے کہ سینگوں کے بغیر بھی پاگل دیکھے جا سکتے ہیں۔
بندہ پوچھے کہ بھئی جو لوگ آزاد رہنا چاہتے ہیں تو آپ کون ہوتے ہو ان پر پابندی لگانے والے وہ جو جی چاہے کریں ، کیا لگتے ہیں وہ آپ کے اور کیا آپ نے سارے انٹر نیٹ کا ٹھیکہ لے لیا ہے
کوئی گندی ویب سائٹ بنانے کے لئے تحریک دے یا کوئی اسے بنانے کی ہامی بھرے ۔ کیا رشتہ داری ہے آپ کی جو ان کو روکنے کی باتیں کرتے ہو۔
دیکھو میرے پیارے کالو جانی ، ایسا نہیں چلتا یارا،کیا تم بی بی سی والوں کو روک سکتے ہو جنہوں نے حال ہی میں ایک سیکس کی نئی سیریز شروع کی ہے۔اگر یہ لوگ بھی اسی طرح مغربی دھارے میں بہہ کر اسی جیسا طرز عمل اپنانا چاہتے ہیں تو تمہارا کیا جاتا ہے، اپنانے دو انہیں ، ان کو بھی اسی گنگا میں ہاتھ دھونے دو جسے یہ اجلا جانتے ہیں۔
اور پھر میرے جانی ، نگار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے یا تو پھر آپ کے ہاتھ میں کوئی طوطا ہو تو میں جانو کہ واقع میں آپ کچھ سدھار لا سکتے ہو ( میری یہاں مراد طوطا فال نکالنے والے طوطے سے ہے) ، جب جانی تمہارے پاس ایسا طوطا ہی نہیں تو یارا کیوں اپنی جان کھپاتے ہو۔
بھئی محفل ان کی ، باتیں ان کی اور لکھائی بھی ان کی ،آپ کون بیچ میں خوامخواہ ۔ اور پھر کالو جانی انہوں نے کوئی آپ کو دکھانے کے لئے تھوڑی کھولنی ہیں گندی ویب سائٹ ، ان کا شوق ہے پورا کرنے دو۔کیوں لگاتے ہو یارا ان کے شوق پر پہرے۔
میں مانتا ہوں میرے کالو جانی کہ یہ سب برا ہے مگر یارا یہ بھی تو دیکھو ، یہاں کیا برا نہیں ہے ، کیا آپ لوگوں کے دل و دماغ تبدیل کر لو گے ، کیا ایسے لوگوں کے ذہن میں ایسی باتیں ٹھونس دو گے جنہیں مذہب اسلام کے بارے میں مکمل آگاہی ہی حاصل نہیں کہ اسلام میں کیا برا ہے اور کیا اچھا۔
میری مانو تو چھوڑو ، دفع کرو ، ۔ کوئی اپنا اصلاحی کام شروع کرو ۔ ان کو ان کے حال میں کھلا چھوڑ دو۔یہ جو آپ کو بند ڈبے میں نظر آرہی ہے نا دنیا ، یہ اب بھی بہت وسیع ہے اور اس وسیع نگار خانے میں تمہارے لائق کرنے کے کام اور بھی ہوں گے ۔
میری بات پلے باندھ لو کہ ، تنقید ، اچھی تنقید ( میری مراد یہاں بری تنقید سے نہیں ہے ) ان پر ہی اثر کرتی ہے جو اُس کا اثر قبول کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں ۔اور جو اہلیت نہیں رکھتے ان پر صرف تعریف اثر کرتی ہے۔

ذہن کو ٹھنڈا رکھا کرو کالو جانی ، جب ذہن ٹھنڈا ہو گا تو بات بھی ٹھنڈی نکلے گی اور یاد رکھنا ٹھندی بات اگلے کے سینے میں چبھتی ضرور ہے ۔

Written by Sheikho

November 9th, 2006 at 7:49 pm

اردو بلاگرز

with 4 comments

ویسے تو سارے اردو بلاگرز اپنی مثال آپ ہیں اور سب کی تحریریں لاجواب بھی ہوتی ہیں مگر ان میں سے کچھ بلاگرز کی تحریروں کو میں ذاتی طور پر پسند کرتا ہوں ۔ ان میں سے خاور کھوکھر ، افضل صاحب ( میرا پاکستان والے ) افتخار احمد بھوپال ، اردو دان اور بدتمیز اول ( ایم ایس این سپیس والے ) قابلِ ذکر ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی اردو بلاگرز کی تحریروں کو میں پسند نہیں کرتا مگر قابلِ ذکر بلاگرز کی تحریروں میں ایک علیحدہ چاشنی ہے۔ان کی سب تحریروں میں کوئی نہ کوئی پیغام ہوتا ہے کہ بندہ سوچتا رہ جائے اور خود کو نوچتا بھی۔
بدتمیز اول اور خاور کھوکھر کی حالیہ تحریریں پڑھیں لطف آ گیا۔خاصی تلخ تحریریں تھیں کوشش کی کہ دونوں کے بلاگ پر جا کر تبصرہ بھی کروں مگر دونوں کے بلاگ میری پہنچ سے باہر تھے۔بلاگ سپاٹ اب پی کے بلاگ سے بھی نہیں کھلتا شاید کہ پاکستان میں اس پراکسی کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔اور ایم ایس این سپیس میرے جیسے غریب آدمی کے براؤزر کو ویسے ہی بلاک کر دیتی ہے۔
میرا ان دونوں دوستوں اور دوسرے بلاگ سپاٹ والے دوستوں کو یہ مشورہ ہے کہ برائے مہربانی کچھ پیسے ویسے خرچ کر کے اپنا کوئی انتظام کریں۔تاکہ ہم جیسے لوگوں کا بھلا ہو کیونکہ آپ ہیں کہ آپ سب دوستوں کو اس چیز کا احساس ہی نہیں ہے کہ آپ کی تحریروں کو پڑھنے کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں۔ویسے آپس کی بات ہے کہ اتنے جتن تو ہم نے کبھی کسی حسینہ کو منانے کے لئے نہیں کئے۔

Written by Sheikho

October 2nd, 2006 at 12:49 am

اردو بلاگرز کے نام

with 2 comments

تمام محترم اردو بلاگرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اب آپ ہمارے اردو راکٹ پر اپنی اور تمام اردو بلاگرز کی تحریروں کا ایک ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔آپ اپنی تحریروں کے علاوعہ بی بی سی اردو ، جنگ اردو اور بوریت ڈاٹ کوم کی تحریروں کو بھی ایک جگہ ہی پڑھ سکتے ہیں۔
اگر آپ کی فیڈ ہمارے اردو راکٹ میں شامل نہیں ہے تو ذیل میں دیے گئے برقی پتہ پر آپ اپنا آر ایس ایس ایڈریس ہمیں لکھ بھجیے۔

sheikho@gmail.com

اردو راکٹ