Sheikho’s blog

Jahan Meri Soch Khatam Hoti hai Wahan Dosron ki Shuro hoti hai

Archive for the ‘انٹرنیٹ کی دنیا’ Category

گوگل پاگل ہو گیا

without comments

گوگل کی جانب سے تقریبا سات آٹھ دن پہلے ہمارے ایک ای میل ایڈریس کو بغیر کوئی وارننگ دئے اپنے ٹرمز اینڈ کنڈیشن کی آڑ میں بند کر دیا گیا تھا۔ہم نے بھی گوگل پر ایک ہزار لعنت بھیجی اور اپنا ساز و سامان سمیٹا اور یاہو کی جانب ہجرت کر لی۔حالانکہ جی میل کے آنے سے ہم یاہو کو دھوکہ دے چکے تھے
اب جبکہ گوگل کی غلاظت کو ہفتہ بھر ہونے کو ہے تو کیا دیکھتے ہیں گوگل نے ہمارا اکاؤنٹ پھر سے بحال کر دیا ہے۔اب بھی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔۔۔بحرحال ہم نے اب گوگل پر انحصار کم کر دیا ہے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ چونکہ اب گوگل پاگل ہو گیا ہے اور اس کو پھر بھی کبھی دورہ پڑ سکتا ہے اس لئے ہم یاہو کو دوبارہ دھوکہ دینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔۔۔۔اس لئے ایک نعرہ مستانہ مارتے ہیں ۔۔۔۔۔یا ہووووووووووووووووو

گوگل کی گگلیاں جاری ؛ بےغیرتی کے نئے ریکارڈ قائم

without comments

پچھلے دنوں گوگل نے اپنا گوگل کا جی پلس کا نیا سوشل نیٹ ورک قائم کرتے ہی سینکڑوں پاکستانیوں کے ایڈ سینس کے اکاؤنٹ بند کر دئے تھے۔اب جب کہ گوگل کا جی پلس اپنی ناکامی کے پہلے مراحل میں ہے اس نے پاکستانیوں کے جی میل کے ایڈریس بغیر کسی وجہ کے اپنی خود ساختہ پالیسی کے نام پر بند کرنا شروع کر دئے ہیں۔
بابا عیدو کہتا ہے کہ گوگل اب پاکستانیوں کی مفت بری ختم کرنا چاہتا ہے ۔اب بھلا بندہ بابے عیدو کو کیا سمجھائے کہ ہم پاکستانی اور مفت بری یہ دونوں ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہیں۔اور گوگل کا باپ بھی اس مفت بری کو ختم نہیں کر سکتا۔
جاتے جاتے یار لوگوں کے لئے ایک مفت مشورہ ۔۔۔۔
اپنے جی میل کے اکاؤنٹ سے اپنی پاکستانی لوکیشن ختم کر کے امریکہ یا انگلینڈ کی ڈال لیں اور اگر ہو سکے تو اپنے کسی جاننے والے سے نیا ایڈریس وہیں سے بنوا کر بعد ازاں پاکستان سے بے دھڑک استمال کریں ۔۔۔۔یاد رہے مشورہ مفت ہے ۔۔۔۔

بابے مکی کا شکریہ

with 2 comments

تقریبا دو سوا دو سال بعد میں اپنے بلاگ پر دوبارہ حاضری دے رہا ہوں ۔سب سے پہلے تو میں نے بلاگ کو نئے کپڑے پہنائے ( یعنی کہ نیا رنگ و روپ دیا) اس کے بعد میں سب سے پہلے بابے مکی کا شکریہ ادا کرنے چلا آیا ہوں ۔شاید کہ میں اب بھی اپنے بلاگ کو اپ ڈیٹ کرنے بارے نہ سوچتا مگر اتفاق سے پچھلے دنوں مکی بابا اور محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب کے درمیان کچھ تلخ و شیریں باتیں پڑھنے کو ملیں ۔ سوچا بابا مکی کے بلاگ پر جا کر دیکھوں تو سہی ماجرا کیا ہے۔جب میں بابے مکی کے بلاگ پر گیا تو اور بھی بہت سی تحریروں پر نگاہ پڑی جس پر میں نے تبصرہ دینا چاہا ۔مگر تبصرے کے لئے بابے مکی کے بلاگ پر رجسٹرڈ ہونا ضروری تھا۔(یعنی میری نگاہ میں یہ خاصی کڑی پابندی تھی) قصہ مختصر کہ دو تین دن پیشتر محترم شاکر عزیز کے بلاگ کا دورہ کیا جہاں بابے مکی پر انہوں نے تحریر لکھی تھی تو تبصرے کے خانے میں ہم نے بھی تبصرہ دے ڈالا کہ ( مکی صاحب نے ہم جیسوں کے خوف سے تبصرے بند کئے ہوئے ہیں) ہم نے اپنے تئیں بالکل سچ بات کی مگر مکی صاحب نے جوابا ہمیں جھوٹا قرار دے دیا۔ہونا تو ہی چاہئے کہ اگر آپ آزادی سے لکھ رہے ہیں اور اگر آپ کو خوف بھی نہیں ہے تو تبصرے بھی کھلے رکھیں ۔اگر آپ رجسٹرڈ کی پابندی لگائیں گے تو دوسرا کیا جانے گا۔
بات لمبی ہو گئی ، چلیں جانے دیں ۔ہم نے سوچا ہے کہ اب بابے مکی کے بارے ہم کچھ نہ کہیں گے ۔وہ جانے اور اللہ سبحانہ و تعالی جانے۔بس ہم ان کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں اور ہم سب کو نیک ہدائت دے ۔آمین
دوسرا ہم اس لئے بھی چپ ہو گئے ہیں کہ مکی صاحب نے ہمیں جھوٹا قرار دے دیا ہے اور اتفاق سے ہی ہم نے محترم خاور کھوکھر کی ایک تحریر بے وطن پڑھ لی ۔۔جس میں انہوں نے تمام پاکستانیوں کو ہی جھوٹا قرار دیا ہے۔۔۔اب ہمارا منہہ چھپانا مشکل ہو گیا تھا کیونکہ ہم بھی پاکستانی ہیں اس لئے ہم نے سوچا ہے کہ اب بلاگ تو ضرور اپ ڈیٹ کیا کریں گے مگر دوسرے مختلف موضوعات پر کیونکہ ۔۔۔اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا

وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار کیوں ؟

with 3 comments

wikipedia
وکی پیڈیا جو کہ انٹر نیٹ کی دنیا کی ایک آزاد ویب سائٹ ہے اور اس کے سوفٹ وئیر میں ایسی خوبی رکھی گئی ہے جس سے وہاں آ کر ہر کوئی اپنے مضامین آسانی سے لکھ سکتا ہے اور دوسروں کے مضامین کو اتنی ہی آسانی سے قطع برید کر کے اس میں اپنی رائے آسانی سے ٹھونس سکتا ہے۔اور اگر وہ رائے یا مضمون وہاں کے ایڈمن یا وہاں دوسرے آنے والوں کے علم کے مطابق صحیح ہو تو وہ اس میں دوبارہ ترمیم نہیں کرتے اور اگر وہ مضمون کسی اور آنے والے عالم یا جاہل کے مطابق صحیح نہ ہو تو پھر اس میں قطع برید کر سکتا ہے۔
غرض کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس چاہے وہ عالم ہو یا جاہل ، وکیپیڈیا پر لکھا گیا مضمون مستند ہی کہلائے گا۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ بہت سے لوگ حتکہ گوگل جیسا بڑا گروہ بھی وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار کرتا ہے اور رہی بات ہمارے پاکستانیوں کی جو وکی پیڈیا پر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تو وہ خود بھی ہر بحث یا موضوع کی مناسبت سے وکی پیڈیا کے مضامین کا حوالہ دینے سے نہیں چوکتے۔حالانکہ انہیں خود بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ معلومات جن کا وہ حوالہ دے رہیں ہیں ،واقع میں مستند ہیں یا کسی جاہل کا لکھا ہوا غلط پروپیگنڈا ہے جو کہ وہ اپنے یا کسی ایسے مفاد کی خاطر دوسروں کے اذہان میں انڈیلنا چاہتا ہے جن کی وہ تعبیر دیکھنے کے متمنی ہوں۔
جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ وکیپیڈیا پر ہر کوئی اپنا مضمون لکھ اور دوسروں کے مضامین میں ترمیم کرسکتا ہے تو سوچنے کی بات یہ آتی ہے کہ آیا وہ مضمون یا معلومات کس طرح مستند ہوسکتی ہیں جس کا یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ کسی ایسے علم والے شخص نے کے ہاتھوں لکھی گئی ہوں گی جن کو اس پر عبور حاصل ہوگا۔
ایک انسان کو سائینس کا علم ہی نہیں اور وہ سائینس پر مضمون لکھ دے اور وہاں پڑھنے والا مضمون کو مستند ہی سمجھے گا تو کیا ایک جاہل کا مضمون مسنتد ہو سکتا ہے؟ چہ جائیکہ اس کا حوالہ بھی دیا جانے لگے۔ایسے ہی وکیپیڈیا پر لکھے ہوئے کسی مضمون یا معلومات کے بارے میں مستند ہونے کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس لئے وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔
ابھی آج ہی بی بی سی اردو پر وکیپیڈیا کے بارے میں ایک خبر چھپی ہے جس نے میرے اس خیال کو اور زیادہ تقویت بخشی ہے کہ وکیپیڈیا پر دی گئی معلومات مستند نہیں ہوسکتیں کیونکہ یہاں جاہل اور عالم کا معیار ایک ہی ہے۔اور کسی عالم ( جو کہ کسی علم کا جاننے والا ) اگر کوئی معلومات فراہم کرتا ہے تو اس پر انحصار کیا جاسکتا ہے جبکہ وکیپیڈیا چونکہ ایک آزاد دائرہ المعارف قسم کی ویب سائٹ ہے جسے کوئی بھی مرتب کرسکتا ہے تو ایسی ویب سائٹ کی معلومات پر انحصار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان معلومات کو بطور حوالہ جات یا ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔

Written by Sheikho

March 7th, 2007 at 7:56 pm