Archive for the ‘دنیا جہاں کی باتیں’ Category
گوگل پاگل ہو گیا
گوگل کی جانب سے تقریبا سات آٹھ دن پہلے ہمارے ایک ای میل ایڈریس کو بغیر کوئی وارننگ دئے اپنے ٹرمز اینڈ کنڈیشن کی آڑ میں بند کر دیا گیا تھا۔ہم نے بھی گوگل پر ایک ہزار لعنت بھیجی اور اپنا ساز و سامان سمیٹا اور یاہو کی جانب ہجرت کر لی۔حالانکہ جی میل کے آنے سے ہم یاہو کو دھوکہ دے چکے تھے
اب جبکہ گوگل کی غلاظت کو ہفتہ بھر ہونے کو ہے تو کیا دیکھتے ہیں گوگل نے ہمارا اکاؤنٹ پھر سے بحال کر دیا ہے۔اب بھی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔۔۔بحرحال ہم نے اب گوگل پر انحصار کم کر دیا ہے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ چونکہ اب گوگل پاگل ہو گیا ہے اور اس کو پھر بھی کبھی دورہ پڑ سکتا ہے اس لئے ہم یاہو کو دوبارہ دھوکہ دینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔۔۔۔اس لئے ایک نعرہ مستانہ مارتے ہیں ۔۔۔۔۔یا ہووووووووووووووووو
گوگل کی گگلیاں جاری ؛ بےغیرتی کے نئے ریکارڈ قائم
پچھلے دنوں گوگل نے اپنا گوگل کا جی پلس کا نیا سوشل نیٹ ورک قائم کرتے ہی سینکڑوں پاکستانیوں کے ایڈ سینس کے اکاؤنٹ بند کر دئے تھے۔اب جب کہ گوگل کا جی پلس اپنی ناکامی کے پہلے مراحل میں ہے اس نے پاکستانیوں کے جی میل کے ایڈریس بغیر کسی وجہ کے اپنی خود ساختہ پالیسی کے نام پر بند کرنا شروع کر دئے ہیں۔
بابا عیدو کہتا ہے کہ گوگل اب پاکستانیوں کی مفت بری ختم کرنا چاہتا ہے ۔اب بھلا بندہ بابے عیدو کو کیا سمجھائے کہ ہم پاکستانی اور مفت بری یہ دونوں ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہیں۔اور گوگل کا باپ بھی اس مفت بری کو ختم نہیں کر سکتا۔
جاتے جاتے یار لوگوں کے لئے ایک مفت مشورہ ۔۔۔۔
اپنے جی میل کے اکاؤنٹ سے اپنی پاکستانی لوکیشن ختم کر کے امریکہ یا انگلینڈ کی ڈال لیں اور اگر ہو سکے تو اپنے کسی جاننے والے سے نیا ایڈریس وہیں سے بنوا کر بعد ازاں پاکستان سے بے دھڑک استمال کریں ۔۔۔۔یاد رہے مشورہ مفت ہے ۔۔۔۔
غلیظ عادتیں
لوگوں میں جہاں اچھی بری عادتیں دیکھنے کو ملتیں ہیں وہاں کچھ لوگوں میں ایسی غلیظ عادتیں بھی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر کراہت محسوس ہوتی ہے ۔یہ لوگ جن میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں بہت سی ایسی غلیظ عادتوں کا شکار ہوتے ہیں جو کہ انتہائی کراہت آمیز ہیں ۔ان میں سے کچھ لوگ یہ حرکات عموما ‘‘ کسی بی قسم کی ٹینشن ‘‘ کے دوران کرتے ہیں ۔مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ زیادہ تر لوگوں میں یہ عادتیں بچپن سے ہی ہوتی ہیں ۔
ان عادتوں میں ہر وقت ناخن چباتے رہنا ، ہر وقت ناک میں انگلی ڈالے رکھنا ، ہر وقت تھوکتے رہنا یا کہ منہہ میں انگوٹھا یا انگلی کا چوستے رہنا شامل ہیں۔
منہہ میں انگوٹھے کے چوسنے کی عادت عموما بچپن میں ٩٩ پرسنٹ بچوں میں ہوتی ہے جو کہ وقت سے ساتھ ساتھ دو یا تین سال کی عمر میں ختم ہو جاتی ہے کسی کسی مرد یا عورت میں یہ عادت جوانی تک بھی قائم رہتی ہے مگر اس کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے
ناخن چبانے کی عادت عورت اور مرد میں کسی بھی عمر میں شروع ہو سکتی ہے
ہر وقت اور ہر جگہ تھوکنے کی عادت زیادہ تر بچپن سے ہی شروع ہوتی ہے مگر دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ جوانی میں بھی یہ عادت مرد و عورت میں بکثرت پائی گئی ہیں
ہر وقت ناک میں انگلی ڈالے رکھنا اور ناک نکالتے رہنا ۔۔۔ یہ عادت انتہائی کراہت آمیز ہے اور یہ عادت بچپن اور جوانی میں بہت سے مرد و عورتوں میں بکثرت پائی جاتی ہے۔
تھوڑے دن ہوئے مجھے ایک لیبارٹری جانے کا اتفاق ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں کا ایک ایکسرے ٹیکنشین دنیا مافہیا سے بے خبر ناک میں انگلی ڈالے بڑے مزے سے ناک نکال نکال کر کبھی کہیں اچھال رہا تھا اور کبھی کہیں ۔اور دیدہ دلیری اس کی دیکھئے کہ کبھی کبھار وہ ناک کو اپنی ہی قمیض پر بھی مل دیتا تھا۔ابھی میں اس کی حرکتیں دیکھ ہی رہا تھا کہ وہاں ایک نوجوان مریضہ ڈینٹل ایکسرے ( دانت کا ایکسرے ) کروانے کے لئے آئی ۔ایکسرے ٹیکنیشن بڑے مزے سے اُٹھا اور بغیر ہاتھ دھوئے اس کا دانت کا ایکسرے کر ڈالا ۔یہاں میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ دانت کا ایکسرے کرنے کے لئے متاثرہ دانت کے ساتھ انگلیوں سے ایکسرے فلم کو ایڈجسٹ کیا جاتا ہے ۔۔سوچتا ہوں کہ اگر اس مریضہ کو اس ایکسرے ٹیکنیشن کی اس غلیظ حرکت کا پتہ ہوتا تو گالیاں تو ایک طرف رہ گئیں کم از کم اس کو الٹیاں ضرور شروع ہو جاتیں
باہر رہنے والوں کے لئے تحفہ خاص



یہ تین عدد خصوصی کتابیں میرے کہنے پر اردو ہوم کی سائٹ پر ڈالی گئی ہیں۔اصل میں ، میں جب بھی اپنے اآج کل کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو دیکھتا ہوں تو ترس سا آ جاتا ہے خصوصا باہر رہنے والے اپنے پاکستانیون پر ،سوچا ترس کھانے سے بہتر ہے کہ ان کا علاج کیا جائے ،علاج بھی ایسا جو کہ یہ خود کر سکین۔
اوپر دئے گئے تینوں لنکس آپ سب کے لئے ہیں اگر آپ میں سے کوئی بچہ ہے یعنی ١٨ سال سے کم عمر کا ہے تو وہ ان کتابوں کو نہ پڑھے۔ویسے تو آجکل کے بچے ،،، توبہ ۔۔ توبہ۔۔۔۔
تبھی تو یہ حالت ہوئی ہے ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی۔
ژانک زیلین ، چین کی ایک خوبصورت حسینہ
خبر ہے کہ چین کی ٢٣ سالہ ژانک زیلین نے حسینہ عالم کا مقابلہ جیت لیا اور مس رنگولا دوسرے اور مس میکسیکو تیسرے نمبر پر رہیں، دنیا بھر کی ١٠٦ حسیناؤں نے مقابلے میں حصہ لیا، اور تقریباً ٢ ارب سے زائد لوگوں نے ٹی وی پر مقابلہ دیکھا۔
ژانک زیلین نے ایک مختصر انٹرویو میں کہا ہے کہ میری جیت میں ١.٣ ارب لوگوں کی محبت کا ہاتھ ہے،اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقابلہ جیتنا ان کا حق تھا اور میں اپنی توانائی اور حسن بے سہارا اور ضرورتمند افراد کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہوں۔
اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ آجکل ہمارے پاکستان کے عوام سے زیادہ بے سہارا اور ضرورتمند لوگ بھلا کہاں ہوں گے اس لئے یار لوگوں سے درخواست ہے کہ “ ژانک زیلین “ سے خصوصی درخواست کریں کہ وہ پاکستان میں آکراپنا حسن اور توانایاں خرچ کریں۔
ورلڈ کپ اور دنیائے سیاست
چونکہ آج کل ورلڈ کپ کا دور دورہ ہے اور اسی کی مناسبت سے آج ہماری ورلڈ کپ کے موضوع پر استاد عیدو سے بحث چل نکلی موضوع بحث تو اپنا شاہد آفریدی تھا جو کہ عرصہ تقریباً بارہ سال سے پاکستان ٹیم کو جونک کی طرح چمٹا ہوا ہے اور اسی کے خلاف میں استاد عیدو کو بڑے زوروشور سے دلائل دینے میں بھی مصروف تھا مگر جانے کیا وجہ تھی کہ استاد عیدو میری ہر بات پر صرف ہوں ہاں ہی کئے جا رہا تھا۔کافی دیر بعد مجھے خیال آیا کہ استاد کے کان پر تو جوں تک نہیں رینگی تو میں چونک پڑا اور پوچھا ، خیر تو ہے استاد جی ، طبعیت تو ٹھیک ہے نا ، کیا کہیں ہماری استانی سے آج کھٹ پٹ تو نہیں ہو گئی۔
نہیں رے ، کہہ کر استاد پھر سوچوں میں گم ہو گیا۔ابھی تھوڑی دیر اور گذری تھی کہ استاد بول پڑا اور کہنے لگا ، دیکھ چھیخو ( شیخو ) ، اس دفعہ پھر لفڑا ہوویں گا۔کیا مطلب استاد جی کیسا لفڑا ہو گا ، میں کچھ سمجھا نہیں؟
ابے تو تو ہے ہی کوڑھ مغز تو کیا جانے ،ابے میں یہ کہوں ، دیکھ جب بھی ایسا کوئی وقت آوے نا جہاں ساری دنیا مصروف ہو جاوے ، خصوصاً جیسے یہاں اپنے ایشیا وغیرہ میں لوگ ورلڈ کپ آنے سے اس میں مصروف ہوجاویں گے، تب ہی لفڑا ہوویں گا۔
استاد ، میں اب بھی نہیں سمجھا،
ابے بھوتنی کے ، اب سے پہلے کے واقعات کا تجزیہ کر ، تجھے پتہ نہیں کیا ہوتا رہا ہے جب بھی دنیا اجتماعی طور پر کہیں مصروف ہووے تو کام ڈال دیا جاوے یا کوئی بڑا کام ڈال کے دنیا کو کھیل تماشوں یا کسی اور طرف مصروف کر دیا جاوے۔
یہ کیا بات ہوئی استاد ، میں نہیں مانتا دنیا تو اب سکون سے جارہی ہے امریکہ میں بھی اب اتنا دم خم نہیں کہ وہ ایران پر حملہ کرسکے باقی اکا دکا واقعات تو ہر وقت ہوتے ہی رہتے ہیں۔نہیں استاد جی آپ کی اس بات سے کم از کم میں متفق نہیں ہوں اور نہ دور دور تک ایسے حالات مجھے نظر آرہے ہیں۔
اچھا نہ مان ، مگر میں یہی کہوں لفڑا ہووے گا ضرور ، کیا ہووے گا یہ میں نہ جانوں مگر میری چھٹی حس کہوے ہے اب کی بار بھی لفڑا ضرور ہوویں گا۔
وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار کیوں ؟
وکی پیڈیا جو کہ انٹر نیٹ کی دنیا کی ایک آزاد ویب سائٹ ہے اور اس کے سوفٹ وئیر میں ایسی خوبی رکھی گئی ہے جس سے وہاں آ کر ہر کوئی اپنے مضامین آسانی سے لکھ سکتا ہے اور دوسروں کے مضامین کو اتنی ہی آسانی سے قطع برید کر کے اس میں اپنی رائے آسانی سے ٹھونس سکتا ہے۔اور اگر وہ رائے یا مضمون وہاں کے ایڈمن یا وہاں دوسرے آنے والوں کے علم کے مطابق صحیح ہو تو وہ اس میں دوبارہ ترمیم نہیں کرتے اور اگر وہ مضمون کسی اور آنے والے عالم یا جاہل کے مطابق صحیح نہ ہو تو پھر اس میں قطع برید کر سکتا ہے۔
غرض کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس چاہے وہ عالم ہو یا جاہل ، وکیپیڈیا پر لکھا گیا مضمون مستند ہی کہلائے گا۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ بہت سے لوگ حتکہ گوگل جیسا بڑا گروہ بھی وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار کرتا ہے اور رہی بات ہمارے پاکستانیوں کی جو وکی پیڈیا پر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تو وہ خود بھی ہر بحث یا موضوع کی مناسبت سے وکی پیڈیا کے مضامین کا حوالہ دینے سے نہیں چوکتے۔حالانکہ انہیں خود بھی پتہ نہیں ہوتا کہ یہ معلومات جن کا وہ حوالہ دے رہیں ہیں ،واقع میں مستند ہیں یا کسی جاہل کا لکھا ہوا غلط پروپیگنڈا ہے جو کہ وہ اپنے یا کسی ایسے مفاد کی خاطر دوسروں کے اذہان میں انڈیلنا چاہتا ہے جن کی وہ تعبیر دیکھنے کے متمنی ہوں۔
جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ وکیپیڈیا پر ہر کوئی اپنا مضمون لکھ اور دوسروں کے مضامین میں ترمیم کرسکتا ہے تو سوچنے کی بات یہ آتی ہے کہ آیا وہ مضمون یا معلومات کس طرح مستند ہوسکتی ہیں جس کا یہ بھی پتہ نہیں کہ وہ کسی ایسے علم والے شخص نے کے ہاتھوں لکھی گئی ہوں گی جن کو اس پر عبور حاصل ہوگا۔
ایک انسان کو سائینس کا علم ہی نہیں اور وہ سائینس پر مضمون لکھ دے اور وہاں پڑھنے والا مضمون کو مستند ہی سمجھے گا تو کیا ایک جاہل کا مضمون مسنتد ہو سکتا ہے؟ چہ جائیکہ اس کا حوالہ بھی دیا جانے لگے۔ایسے ہی وکیپیڈیا پر لکھے ہوئے کسی مضمون یا معلومات کے بارے میں مستند ہونے کی گواہی نہیں دی جاسکتی اس لئے وکیپیڈیا کی معلومات پر انحصار نہیں کرنا چاہئے۔
ابھی آج ہی بی بی سی اردو پر وکیپیڈیا کے بارے میں ایک خبر چھپی ہے جس نے میرے اس خیال کو اور زیادہ تقویت بخشی ہے کہ وکیپیڈیا پر دی گئی معلومات مستند نہیں ہوسکتیں کیونکہ یہاں جاہل اور عالم کا معیار ایک ہی ہے۔اور کسی عالم ( جو کہ کسی علم کا جاننے والا ) اگر کوئی معلومات فراہم کرتا ہے تو اس پر انحصار کیا جاسکتا ہے جبکہ وکیپیڈیا چونکہ ایک آزاد دائرہ المعارف قسم کی ویب سائٹ ہے جسے کوئی بھی مرتب کرسکتا ہے تو ایسی ویب سائٹ کی معلومات پر انحصار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان معلومات کو بطور حوالہ جات یا ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
خلائی محبت کا انجام اور باز کا کافیہ
خبر گرم ہے کہ ایک خاتون خلا باز لیزا نوک نے ایک دوسری خلاباز کو اس بنا پر اغوا کر کے اس کا منہہ مرچوں سے لال کر دیا کہ وہ اس کے خلاباز محبوب پر ڈورے ڈال رہی تھی۔
اصل میں باز کا کافیہ ہوتا ہی خطرناک ہے چاہے وہ کبوتر باز ہو ، پتنگ باز ہو یا کہ کوئی اور“ باز “ ۔ویسے ایک اڑنے والا باز بھی ہوتا ہے اور وہ بھی اپنے شکار پر ویسے ہی جھپٹتا ہے جیسے کہ دوسرے باز۔
اگر تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو ، باز کوئی بھی ہو ان سب میں ایک قدر مشترک ہے ۔اب کون سی قدر مشترک ہے ، یہ آپ پر سوچنے کے لئے چھوڑے دیتا ہوں ۔
صدام حسین کی پھانسی اور ہم مسلمان
اس میں کسی شک و شبہ کی بات نہیں ہے کہ صدام حسین ظالم انسان تھا۔مگر ایک انسان کو پھانسی دینا کہاں کی شرافت ہے۔اب کہاں گئے انسانی حقوق اور کہاں گئی مغربی انسانیت۔
میں تو یہ کہوں گا کہ ہمیشہ کی طرح صدام کی پھانسی بھی ہم مسلمانوں کے خاص خصوصی دن یعنی حج کے موقع اور عید الضحیٰ کے وقت کو مد نظر رکھ کرجان بوجھ کر دی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کو ذہنی طور پر اور ٹارچر کر دیا جائے اور وہ امریکہ اور مغرب سے ہمیشہ ڈرتے رہیں۔
اصل میں ہم مسلمانوں میں اتحاد نہیں ہے دیکھا جائے تو مسلمان ملکوں کے تمام حکمران یا تو اپنے اپنے مفادات میں گم ہیں اور کچھ اپنی عیاشیوں کے ہاتھوں امریکہ اور مغربی ممالک کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔
اگر مجموعی مسلم امہ کی عوام کی بات بھی کریں تو سب ہی اللہ کے احکامات کو ماننے سے انکاری ہیں جس کی وجہ سے اللہ کی مدد بھی نہیں آتی اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جیسے عوام ہوں گے ویسے ہی حکمران بھی ہوں گے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں پر سے یہ زوال کب ختم ہوگا۔اسلامی نقطہ نظر سے اگر اس پہلو کا جائزہ لیا جائے تو احادیث کی رو سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا زوال شروع ہو چکا ہے اور یہ ابھی اور ذلت کی پستیوں میں گریں گے ۔فتنے ہیں تو ہر روز کوئی نیا فتنہ سر ابھارتا ہے ، برائی ہے تو وہ ہم لوگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، دین کو ہم بیچ رہے ہیں، لین دین میں ہم لوگ بے اعتبار ہیں ناچ گانا ہر گھر میں ہے ، حرام کو ہم حلال کا درجہ دیتے ہیں، غرض کون سی چھوٹی یا بڑی برائی ہے جو ہم مسلمانوں میں نہیں ہے۔اور یہی سب کچھ روایات میں بھی آتا ہے۔
مجھے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے اب یہ حضرت امام مہدی اور حضرت عیٰسی علیہ السلام کے آنے کے آثار شروع ہو چکے ہیں۔اور یہ ہم مسلمانوں کے ساتھ تب تک ایسا ہی ہوتا رہے گا جب تک ان کا ظہور نہیں ہو جاتا۔
پوپ کا بیان اور مشرف کو دھمکی
دنیا میں جب بھی کہیں اسلام کے خلاف بات ہوتی ہے تو پاکستان ہی ایک ایسا واحد ملک ہے جس میں اس پر ردِعمل کی توقع فوراً کی جاسکتی ہے چاہے وہ ردِ عمل حقیقی ہو یادکھاوے کا ،
اگر تو ردِ عمل حقیقی ہو تو پھر یہ لہر دور تک جاتی ہے اور اس میں بہت کچھ بہہ بھی جاتا ہے اور اگر یہ ردِعمل دکھاوے کا ہو تو کچھ لے دے کر معاملہ نبٹ جاتا ہے۔
ابھی پچھلے دنوں عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ کی طرف سے ایک بیان دیا گیا جس میں جہاد کی مذمت کے ساتھ ساتھ اسلام کے بارے میں بھی گستاخانہ الفاظ ادا کئے گئے ، جس پر پوری اسلامی دنیا میں اس کی مذمت کی گئی اور ساتھ ساتھ مظاہروں کا سلسلہ بھی زوروشور سے شروع ہوگیا۔
پوپ سے اپنا بیان واپس لینے کو کہا گیا، مظاہروں کی شدت دیکھتے ہوئے پوپ نے پینترا بدلا اور اپنے بیان پر معافی مانگی۔پاکستان میں مذہبی تنظیموں نے اس معافی کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ پوپ کو اپنا بیان واپس لینا چاہئے۔
اب جبکہ پاکستان میں آہستہ آہستہ ان مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا تو ہمارے صدر محترم نے امریکہ سے ایک تازہ بیان داغ دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ نے انھیں دھمکی دی تھی کہ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اس کا ساتھ نہ دیا تو پاکستان کو کھنڈر بنا دیا جائے گا ۔
دیکھا جائے تو یہ کوئی خلافِ بعید بات بھی نہ تھی ، بالکل امریکہ دھمکی دے سکتا تھا۔مگر بابے شیدے کو ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ یہ گڑے مردے اُٹھانے کا یہ کون سا وقت تھا۔
بابا عیدو کچھ اور ہی کہتا ہے ، کہتا ہے کہ ، یہ سب پاکستانی مذہبی جماعتوں کو پوپ کے بیان سے باہر نکالنے کی ایک چال ہے تاکہ ان کا دھیان کسی اور طرف لگا دیا جائے۔بابا عیدو یہ بھی کہتا ہے کہ دیکھنا اب سارے مذہبی لیڈر پوپ کو بھول کر صدر مشرف کی طرف لٹھ لے کر دوڑ پڑیں گے اور کان پڑی آواز بھی سنائی نہ دے گی ، جب تک کہ کوئی اور شوشہ نہیں چھوڑ دیا جاتا۔
چوڑے ، جمعدار
پاکستان میں جو ہماری گندگی اٹھاتے ہیں اسے ہم چوڑا کہتے ہیں۔چوڑا پنجابی زبان کا لفظ ہے اور اگر ہم ان چوڑوں کا نام تہذیب یافتہ انداز میں لیں تو اردو میں ہم اسے جمعدار کہہ سکتے ہیں۔مگر تہذیب یافتہ انداز میں نام لینے سے بھی چوڑا ، چوڑا ہی رہے گا کیونکہ قدرت نے اس کی فطرت میں جو چوڑا پن بھر دیا ہے وہ اس میں جانے کا نہیں۔اور اگر ہم غور سے چوڑے کی فطرت کا جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں آکڑ ( اَ کڑ ) بھی خاصی ہوتی ہے۔
بابا عیدو جس نے چوڑوں کی فطرت جاننے کے لئے پی ایچ ڈی بھی کی ہوئی ہے ، کہتا ہے ، چوڑوں کو کبھی ان کی اوقات سے زیادہ نہ دو جب بھی ان کی جیب میں پیسے ہوں گے یہ کھری کھری سنائیں گے اور جب یہ کنگلے ہوں گے تو چاہے آپ انہیں جتنے مرضی چاہے ٹھڈے مارو ، یہ چوں نہیں بولیں گے۔
آج کل حالات بہت تبدیل ہو چکے ہیں چوڑوں نے ایک سازش کے ذریعہ سے پاکستان میں گندگی کے نظام کو تبدیل کر دیا ہے جس سے پاکستانی چوڑوں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور اب پاکستانی چوڑے پڑھنے لکھنے کی طرف دھیان دے رہے ہیں اور ان کے سیاہ رنگ سفیدی میں بدل رہے ہیں۔مگر بابا عیدو ان کے سفید رنگ کے بارے میں کچھ اور ہی کہتا ہے۔خیر بابا عیدو جو بھی کہے یہ اس کا اپنا تجربہ ہو گا مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ چوڑا سفید ہو یا کالا ، وہ جب بھی بولے گا گند ہی بولے گا کیونکہ چوڑا تو آخر چوڑا ہی ہے گندگی نہ نکالے تو پھر کیا نکالے۔
پاگل کتا
ابھی کچھ عر صہ پیشتر ہی کتوں کی انجمن نے اپنے ہر دلعزیز سردار کے مرنے کے بعد پاگل کتے کو اپنا سردار نامزد کیا ۔یاد رہے کہ آج تک کتوں میں جتنے بھی سردار گذرے ہیں وہ کتوں کی انجمن کے علاوہ انسانوں کی انجمن میں بھی یکساں مقبول رہے تھے۔مگر پاگل کتے کے آنے کے بعد حالات یکسر تبدیل ہو چکے ۔اب کتوں نے بھی انسانوں پر سرعام بھونکنا شروع کر دیا ہے۔پاگل کتے نے ان کو ان کی اوقات بتا دی ہے اور کہا ہے کہ کتوں اور انسانوں کا کوئی میل نہیں ہے۔
سننے میں آیا ہے کہ بچپن سے ہی پاگل کتے کو انسانوں سے چڑ تھی اس لئے سرداری کی پگڑی پہناتے ہوئے بھی کئی نامور کتوں سے اسکے سردار بننے کی شدید مخالفت کی تھی۔مگر پاگل کتے کا اثر رسوخ زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کی ایک نہ سنی گئی۔
اب جبکہ پاگل کتے کی سرداری کا دور ہے اس لئے میرا انسانوں کو یہی مشورہ ہے کہ کتوں سے بچ کر رہیں یہ نہ ہو کہ انہیں پیٹ میں چودہ ٹیکے لگوانا پڑجائیں۔
ویسے بھی استاد شیدا کہتا تھا کہ کتا گلی کا ہو یا محل کا گر کاٹ جائے تو ٹیکے لگوانا ہی پڑتے ہیں ۔
خواجہ سرا

انسانوں میں تیسری مخلوق کو پنجابی میں ہیجڑا ، کھسرا ، اردو میں خواجہ سرا اور مغربی زبان میں لیڈی بوائے بھی کہا جاتا ہے۔یہ صنف دونوں میں سے یعنی مرد اور عورت میں سے کوئی بھی ہو سکتی ہے مگر عموماً دیکھا یہ گیا ہے کہ خواجہ سرا مردوں میں زیادہ ہوتے ہیں۔
خواجہ سرا عموماً معصوم ہوتے ہیں مگر ان میں سے کچھ خواجہ سرا تشدد پسند بھی ہوتے ہیں۔پاکستان میں پیشہ ور خواجہ سراؤں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق ایک سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے جبکہ ہندوستان میں ان کی تعداد ١٠ سے پندرہ لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔

دس پندرہ سال پہلے تک پاکستان میں شہروں میں بھی خواجہ سرا کسی بچے کی پیدائیش یا شادی بیاہ کے موقع پر اپنا ناچ گانا دکھانے چلے آتے تھے مگر اب تو گاؤں دیہات میں بھی خال خال ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔جبکہ ہندوستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے کلکتہ ، ممبئی اور دہلی جیسے بڑے شہروں کی اندروں گلیوں میں اب بھی ان کا ناچ گانا سننے کا عام مل جاتا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کی امن پسندی
آج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُنتسویں روز بھی امریکہ اور اسرائیل کا دنیا کو امن پسندی کا گہوارہ بنانے کے لئے لبنان پر امن کے گولے داغنے کا عمل جاری و ساری ہے۔ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ شاید امریکہ اور اسرائیل کے خیال میں یہی بچے کل کو جوان ہو کر دنیا کا امن تباہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
Source:
http://www.fromisraeltolebanon.info



زیادتی
ہمارے پاکستان میں جب کسی عورت سے زیادتی ہو جائے چاہے وہ زیادتی جان بوجھ کر میڈیا والوں نے ہی کیوں نہ اُچھالی ہو تو این جی اوز ایسا واویلا مچاتی ہیں کہ خدا کی پناہ ، پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کی جاتی ہے اور ایسے ایسے الزامات پاکستان پر لگائے جاتے ہیں کہ ہلاکو خان کے دور کو لوگ اچھا جاننے لگ جاتے ہیں۔اور ساتھ ہی ساتھ ہمسایہ ملک بھارت کی جمہوریت کی ایسی مثالیں بیان کی جاتی ہیں کہ جیسے جنت بھارت ہی کے قدموں تلے ہو۔
ابھی پرسوں کی ہی بات ہے کہ ہمارے ملک کی مایہ ناز این جی اوز کی سربراہ محترمہ عاصمہ جہانگیر جن کا تقریباً پچھلے دو سالوں میں زیادہ تر وقت انڈیا میں گذرتا تھا، کے ساتھ انڈیا میں ہی زیادتی ہو گئی ، کہا یہ جاتا ہے ان کی جامہ تلاشی لی گئی اور جامہ تلاشی بھی بھارت کے مردوں نے زبردستی لی۔جب اس پر احتجاج کیا گیا تو ان مردوں کی طرف سے معذرت کی بجائے وزیر اعظم نے بذاتِ خود معافی مانگ لی۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ چلو کوئی بات نہیں ، اگر یہی بات پاکستان میں وقوع پذیر ہوئی ہوتی تو این جی اوز اسے اتنا اچھالتیں کہ بالاخر صدر بش کو اس میں دخل اندازی کرنا پڑتی اور تلاشی لینے والوں کوالقاعدہ کے دہشت گرد ہونے کے جرم میں اندر کر دیا جاتا۔