Sheikho’s blog

Jahan Meri Soch Khatam Hoti hai Wahan Dosron ki Shuro hoti hai

Archive for the ‘دنیا جہاں کی باتیں’ Category

زیادتی

with 3 comments

ہمارے پاکستان میں جب کسی عورت سے زیادتی ہو جائے چاہے وہ زیادتی جان بوجھ کر میڈیا والوں نے ہی کیوں نہ اُچھالی ہو تو این جی اوز ایسا واویلا مچاتی ہیں کہ خدا کی پناہ ، پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کی جاتی ہے اور ایسے ایسے الزامات پاکستان پر لگائے جاتے ہیں کہ ہلاکو خان کے دور کو لوگ اچھا جاننے لگ جاتے ہیں۔اور ساتھ ہی ساتھ ہمسایہ ملک بھارت کی جمہوریت کی ایسی مثالیں بیان کی جاتی ہیں کہ جیسے جنت بھارت ہی کے قدموں تلے ہو۔
ابھی پرسوں کی ہی بات ہے کہ ہمارے ملک کی مایہ ناز این جی اوز کی سربراہ محترمہ عاصمہ جہانگیر جن کا تقریباً پچھلے دو سالوں میں زیادہ تر وقت انڈیا میں گذرتا تھا، کے ساتھ انڈیا میں ہی زیادتی ہو گئی ، کہا یہ جاتا ہے ان کی جامہ تلاشی لی گئی اور جامہ تلاشی بھی بھارت کے مردوں نے زبردستی لی۔جب اس پر احتجاج کیا گیا تو ان مردوں کی طرف سے معذرت کی بجائے وزیر اعظم نے بذاتِ خود معافی مانگ لی۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ چلو کوئی بات نہیں ، اگر یہی بات پاکستان میں وقوع پذیر ہوئی ہوتی تو این جی اوز اسے اتنا اچھالتیں کہ بالاخر صدر بش کو اس میں دخل اندازی کرنا پڑتی اور تلاشی لینے والوں کوالقاعدہ کے دہشت گرد ہونے کے جرم میں اندر کر دیا جاتا۔

ہر لمحہ تازہ ترین اردو راکٹ

Written by Sheikho

August 4th, 2006 at 2:11 pm

گھوم برابر گھوم ، لاٹو

without comments

بٹیر بازی ہو یا ککڑ بازی ( مرغ ) ، کتے اور ریچھ کی لڑائی ہو یا اخروٹ بازی ، پِل گولی ہو یا گِلی ڈنڈا ، کبوتر بازی ہو یا تاش کی بازی ، لُڈو ہو یا شطرنج کی بازی ، ان سب کا اپنا ایک علیحدہ مزا ہے۔
لاٹو بازی ( لًٹو ) بھی ایک فن ہے۔اور پھر لًٹو کو چلانا ہر کسی کے بس کی بات بھی نہیں۔لَٹو کی تین قسمیں عموماً دیکھنے کو ملتی ہیں۔
مٹی کا لًٹو ، یہ خاص مٹی کو گوندھ کر بنایا جاتا ہے ایسی مٹی جس سے عموماً مٹی کے برتن بنتے ہیں۔
سلور اور پلاسٹک کا مکس لًٹو، یہ لًٹو کھلونے جیسا ہوتا ہے۔اور یہ لَٹو بازی میں کام نہیں آتا۔
لکڑی کا لًٹو ، یہ لکڑی کا بنا ہوا خوبصورت نقش و نگار والا لًٹو ہوتا ہے اور یہی لًٹو ایسا ہے جس سے بازیاں کھیلی جاتی ہیں۔
کسی زمانے میں ملتان شہر میں اس کی بڑی بڑی بازیاں لگتی تھیں دور دور سے لوگ ان لاٹو بازیوں کو کھیلنے اور دیکھنے آیا کرتے تھے۔سب سے زیادہ لاٹو بنتے بھی ملتان شہر کے ایک علاقے حرم گیٹ میں ہی تھے۔
حرم گیٹ میں اگر آپ داخل ہوں تو بالکل سیدھا بازارِ حسن ہے ۔سننے میں آیا ہے کہ اپنا انٹر نیٹ والا بیلا پہلوان بھی وہیں کا ہے۔دائیں ہاتھ کو لوہاری گیٹ کی طرف راستہ جاتا ہے اور بائیں ہاتھ پر لاٹوؤں کے استادوں کی دکانیں تھیں۔جن میں تین بڑے استاد ، مستانہ ، دیوانہ اور پوستی نام کے تھے۔اور ان کے لاٹو بھی انہیں کے ناموں سے منسوب بھی تھے۔
مستانہ لاٹو کو جب چھوڑا جاتا تھا کہ جانو گھنٹہ بھر تو گرے گا نہیں اور سبک رفتار اتنا تھا کہ بنانے والے پر رشک آتا تھا۔آخری وقت میں تو اس کی چال ایسے ہوتی تھی کہ اب گرا کہ اب گرا ، مگر گرتے گرتے بھی پانچ منٹ کھا جاتا تھا۔
اس کے برعکس دیوانہ لاٹو شروع سے ہی بہت تیز رفتاری سے گھومتا تھا اپنے نام کی مناسبت سے لگتا سب کو ایسا ہی تھا کہ اس کی دیوانگی کبھی رکنے کی نہیں مگر گرتے وقت اس کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کب گرا۔
پوستی لاٹو ، اپنے نام کی طرح عجیب چال پے گھومتا تھا ، پھینکتے ہی یوں محسوس ہونا شروع ہوجاتا تھا کہ جیسے تھم سا گیا ہو ،دکھائی ہی نہیں دیتا تھا کہ گھوم بھی رہا ہے یا نہیں ، لگتا یوں ہی تھا جیسے زمین پر کوئی چیز چمٹی ہوئی ہو ۔خوب چال تھی اس کی بھی۔
لاٹو کوئی بھی ہو آخر گھومتا ہی ہے اور اگر لاٹو مستانے ، دیوانے اور پوستی جیسا ہو تو گھومنے کے ساتھ جھومتا بھی ہے ۔
دیکھا جائے تو انسان بھی ایک لاٹو ہی ہے ، فرق صرف اتنا سا ہے کہ یہ لاٹو اپنے ہی بنائے ہوئے خود ساختہ مدار میں گھوم رہے ہیں۔اور اگر یہ اسی طرح گھومتے رہے تو دیکھنا آخر یہ ایک دن ضرور گر پڑیں گے۔

ہر لمحہ تازہ ترین اردو راکٹ

Written by Sheikho

August 2nd, 2006 at 2:35 am

بابے عیدو کی باتیں

without comments

بابا عیدو یوں تو شطرنج کی بساط پر بیٹھا اپنی دنیا میں مگن رہتا ہے مگر جب بھی بات کرتا ہے تو ہمیشہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے ، کہنے لگا ، جب تک پاکستان میں لبنان کے حق میں بھرپور مظاہرے نہیں ہوتے دنیا میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مظاہروں میں کبھی تیزی نہیں آئے گی۔ کیونکہ پاکستان ہی ایک ایسا واحد ملک ہے جہاں اسلامی تحریکیں گو کہ وہ جیسی بھی ہوں اسلام کے نام پر عوام کو تیزی سے حرکت میں لا کر مظاہرے کروا سکتی ہیں اور جب مظاہرے ہوں گے تو لامحالہ ان میں شدت بھی ہو گی اور اسی شدت میں خون خرابہ بھی ہو سکتا ہے۔اور جب یہی چیزیں میڈیا پر آئیں گی تو پوری دنیا خصوصاً اسلامی دنیا میں اس پر ردِ عمل بھی ہو گا اور یہ مظاہرے پوری دنیا میں پھیل سکتے ہیں۔
بابا عیدو کہنے لگا اگر تم تھوڑا سا غور کرو تو تمہیں سہی اندازہ ہو گا کہ یہی سب چیزوں کو روکنے کئے لبنان پر حملہ کرنے سے پہلے اس پر بھر پور پلاننگ کی گئی تھی۔یہ پلاننگ اہل سننت کی میلاد کانفرنس سے شروع کی گئی۔وہاں بم دھماکہ کروا کر فرقہ واریت کو ھَوا دی گئی اور ابھی اس کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ عین لبنان کے حملے کے ابتدائی ایام میں ایک شعیہ عالم کو مروا دیا گیا تاکہ شعیہ اور سنی کو آپس میں لڑوا کر ان کو علحیدہ رکھا جا سکے۔
کہنے لگا ، ان مظاہروں کو روکنے کے لئے سب سے بڑی جو بساط بچھائی گئی وہ جان بوجھ کر حکومت کے خلاف باتوں کو ہوا دینے کا عمل شروع کر دیا گیا تاکہ سیاست دانوں اور تمام اسلامی تحریکوں کا دھیان اس طرف لگایا جاسکے۔اوراس کھیل میں بھرپور رنگ بھرنے کے لئے طافو بھائی ( الطاف بھائی ) کا کردار سب سے اہم تھا۔
بابا عیدو کی آخری بات مجھے اب بھی پریشان کر رہی ہے ، کہنے لگا ، ایران کی باری بھی بس آیا ہی چاہتی ہے ، بساط بچھا دی گئی ہے بس مہرے آگے کرنا باقی ہیں۔

ہمارے اردو راکٹ کے اس لوگو کو اپنی ویب سائٹ یا بلاگ کے کسی کونے کھدرے میں جگہ دے کر مشکور فرمائیں

اگر آپ ہمارے اردو راکٹ کا یہ لوگو اپنی ویب سائٹ یا بلاگ پر لگاتے ہیں تو ہم آپ کے انتہائی مشکور ہوں گے 

Written by Sheikho

July 30th, 2006 at 2:19 am

کس ماں کا دودھ پیا ہے

without comments

رنگ و نور(سعدی کے قلم سے)

کس ماں کا دودھ پیا ہے

Soruce:Alqalam online

اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو غلبہ عطاءفرمائے…. ظالم یہودیوں کی نظر (نعوذباللہ)…. مدینہ منورہ پر ہے…. یہودیوں کے طیارے بمباری کر رہے ہیں…. ان کے ٹینک آگ اُگل رہے ہیں…. اور فلسطین ولبنان کے مظلوم مسلمان…. بمباری سے گرنے والی عمارتوں کے نیچے بے بسی کی آخری سانس لے رہے ہیں…. یہودی، انبیاءعلیہم السلام کے قاتل…. یہودی سونے کے بچھڑے کے پجاری…. یہودی بندروں اور خنزیروں کی اولاد …. دنیا کی سب سے بزدل…. سب سے ذلیل …. سب سے ناکام…. اور سب سے گندی قوم …. ناپاک، نجس، مرُدار…. بدبودار…. چوہوں سے زیادہ غلیظ اور کمزور…. انسانیت کے نام پر ایک دھبہ…. زمین پر بوجھ….
اب یہی یہودی…. مدینہ منورہ پر قبضے کی بات کر رہے ہیں…. ان کے منہ میں خاک اور آگ کے انگارے…. مدینہ منورہ کا پاک نام ان کی ناپاک زبانوں سے سن کر…. ہر مسلمان کا خون اس کی رگوں میں ”جذبہ ¿ جہاد“ بن کر دوڑنے لگتا ہے…. اے یہودیو! تمہارا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا…. مدینہ منورہ نے سوا چودہ سو سال پہلے تمہیں نکال پھینکا تھا…. تم مدینہ منورہ کی پاک زمین کے قابل نہیں تھے…. تم نے وہاں بھی ”سود“ اور ”لسانی عصبیت“ کی لعنتیں عام کردی تھیں…. اور ان دوچیزوں کے ذریعے وہاں کے مقامی لوگوں کو اپنا ذلیل غلام بنالیا تھا…. مگر ”مدینہ منورہ“ کی قسمت میں ازل سے نور اور سعادت لکھی تھی…. وہاں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ننھیالی قبیلہ آباد تھا…. مدینہ منورہ والے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ”پیارے ماموں“ لگتے تھے…. پھر وہ خود چل کر گئے اور اسلام کے نور سے اپنے دل اور دماغ روشن کر آئے…. پھر وہ کہنے لگے کیوں نہ ہم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس لے آئیں…. وہ جانتے تھے کہ وہ بہت بھاری پتھر اٹھا رہے ہیں…. وہ جانتے تھے کہ وہ دنیا بھر کی دشمنی مول لے رہے ہیں ….وہ جانتے تھے کہ اب ان پر تلواریں برسیں گی…. اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ”یتیم“ ہوجائیں گے …. مگر اے یہودیو! تمہیں یاد ہے …. وہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو لے آئے…. اور پھر واپس نہیں جانے دیا…. وفاداری کا مطلب تم جیسے بے وفا اور خود غرض جانوروں کو کہاں سمجھ آسکتا ہے؟…. تمہیں وہ دن یاد ہے…. مدینہ منورہ کی گلیاں خوشی میں ڈوبی ہوئی تھیں…. مدینہ منورہ کی پاکیزہ بچیاں ترانے پڑھ رہی تھیں…. ایک جوش تھا، ایک سرور تھا اور ایک عجیب نورانی کیفیت…. ارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے تھے…. ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی کے خواب میں آجائیں تو اس کی نیند کو خوشبودار بنا دیتے ہیں…. وہاں تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لا رہے تھے…. اے مسلمانو! اس عجیب منظر کو یاد کرو اور ہجرت کے معنیٰ سمجھو…. اے یہودیو! اس عجیب دن کو یاد کرو اور اس بات سے مایوس ہوجا ؤ کہ تم…. اپنی مکاریوں اور سازشوں کے ذریعے مسلمانوں کو ختم کر دو گے…. نہیں اللہ کی قسم نہیں…. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی تمہارے ہاتھوں سے ختم نہیں ہوں گے…. تم لاکھ اپنے خزانوں کے منہ کھولو…. تم لاکھ فری میسن کے گندے کیڑوں کو پالو…. تم لاکھ اپنی شرمگاہوں کے ڈورے مسلمان حکمرانوں پر ڈالو…. رب کعبہ کی قسم…. تم اسلام اور مسلمانوں کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے…. ہاں بندروں اور سوروں کی اولاد…. اچھی طرح یاد رکھو…. تم مسلمانوں کے ہاتھوں ختم ہو جا ؤ گے…. تمہاری نسل مٹ جائے گی…. تمہارا نام ونشان ختم ہوجائے گا…. اور زمین کا کوئی درخت اور پتھر تمہیں پناہ نہیں دے گا…. کروڑوں ڈالر خرچ کرکے اپنا رعب قائم کرنے کی کوشش نہ کرو…. تمہارے زر خرید دانشور مسلمانوں کو تم سے ڈراتے ہیں…. ارے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت چوہوں سے نہیں ڈرا کرتی…. تمہاری پر اسرار کہانیاں مشہور ہیں کہ…. جو تمہاری خفیہ تنظیم ”فری میسن“ کے خلاف لکھتا ہے وہ…. اچانک مار دیا جاتا ہے…. تمہارے جاسوسی اداروں کے کارنامے بھی بڑھا چڑھا کر بیان کےے جاتے ہیں…. مگر تم کچھ بھی نہیں ہو…. کاش مسلمان تمہاری حقیقت کو سمجھ لیتے…. اور سارے مسلمان مل کر تم پر تھوک دیتے تو تم…. ان کی تھوک میں بہہ جاتے….
اگر تم واقعی طاقتور ہوتے تو دنیا کے ایک چھوٹے سے ٹیلے پر…. ایک چھوٹی سی ”کالونی“ میں نہ رہ رہے ہوتے…. تمہاری سازشیں کس کام کی؟…. دنیا بھر میں تم خوف اور ذلت کی زندگی گزارتے ہو…. اور سانس لینے کے بدلے رشوت دے کر جیتے ہو…. تم ہرجگہ ”نفرت“ اور ”سازش“ کا نشان ہو…. تم ہر جگہ دوسروں کے محتاج ہو…. اور تمہارا اپنا کوئی وجود نہیں…. تمہاری قوت اور طاقت کا ساراراز…. مسلمان حکمرانوں کی ”بے حمیتی“ میں چھپا ہوا ہے…. ان ظالموں نے فلسطین کے نہتے مسلمانوں کو تمہارے جبڑوں میں اکیلا چھوڑ دیا ہے…. تم نے ”احمد یسین“ جیسے چند شیر مار کر خود کو کچھ سمجھنا شروع کردیا…. حالانکہ چوہے اگر بیماری پھیلا کر شیر کو مار دیں تو چوہے…. چوہے ہی رہتے ہیں…. شیر نہیں بن جاتے…. تم نے مسلمانوں کی مقدس سرزمین پر قبضہ کیا…. اب مسلمانوں کا اجتماعی فرض تھا کہ وہ …. مل کر تمہارے خلاف جہاد کرتے…. اور تمہیں مقدس سرزمین سے نکال باہر کرتے…. مگر مسلمانوں نے غفلت کی، وہ دنیا کی حقیر زندگی کو چمکدار بنانے میں مشغول ہوگئے…. ان کی فوجیں کافروں کی نوکر اور غلام بن گئیں…. ان کے حکمران غیرت سے بہت دور نیلامی کے کوٹھے پر جا بیٹھے…. جہاں انہیں صرف اپنی اور اپنے اقتدار کی فکر ہے…. مسلمان نوجوان ناچنے لگا…. وہ ”پب“ اور ”کلب“ میں جاکر مدینہ منورہ کے نور سے محروم ہونے لگا…. اس کو کمپیوٹر نے ”پیلا“ کردیا…. اس کو ڈش اور کیبل نے ”نیلا“ کردیا…. وہ عشق معشوقی کے چکر میں کھو گیا…. تب…. اے سوروں اور بندروں کی اولاد تم نے مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرلیا…. اور اب تمہارے طیارے بمباری کر رہے ہیں…. مگر مسلمان حکمران خاموش دیواروں کی طرح…. اپنے جبوں اور وردیوں میں جکڑے بیٹھے ہیں…. مگریاد رکھو! وقت ایک جیسا نہیں رہتا…. کسی دن مسلمانوں کے ضمیر پر لگے ہوئے یہ تالے ٹوٹ جائیں گے…. ہاں مسلمانوں کے حکمران…. مسلمانوں کے ضمیر پر لگے ہوئے تالے ہیں…. یہی لوگ کافروں کے محافظ ہیں…. یہی لوگ مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد کرنے سے روکتے ہیں…. یہی لوگ مسلمانوں کو ڈانس اور گانے پر لگا کر بزدل بناتے ہیں…. ان لوگوں کے نزدیک امریکہ کی خاطر لڑنا ”قومی مفاد“ اور مسلمانوں کی خاطر لڑنا ٹھیکیداری اور ملک دشمنی ہے…. وہ ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم نے ہر کسی کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا…. ارے اگر تم نے مسلمانوں کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا تو پھر …. تمہیں مسلمانوں پر حکمرانی کا حق حاصل نہیں ہے…. مسلمان ایک ”امت“ ہیں…. مسلمان ایک ”جسم“ ہیں…. مسلمان ایک ”خاندان“ ہیں…. مسلمان ایک ”جماعت“ ہیں…. جو اسے نہیں مانتا وہ قرآن پاک کو نہیں مانتا…. وہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نہیں مانتا…. دنیا کا کوئی بارڈر اور کوئی نقشہ…. مسلمانوں کو تقسیم نہیں کر سکتا…. اور انسانوں کی بنائی ہوئی لکیریں…. اللہ تعالیٰ کے قوانین کو نہیں توڑ سکتی…. قرآن پاک نے تمام مسلمانوں کو بھائی قرار دیا ہے …. انما الم ؤمنون اخوة…. قرآن پاک نے مسلمانوں کو ایک فریق…. اور کافروں کو دوسرا فریق قرار دیا ہے…. مسلمان کے نزدیک رنگ، نسل، قوم، قبیلہ…. اور زبان کی ”تعارف“ سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں…. انگریزوں نے اپنے ظالمانہ دور میں مسلمانوں کو تقسیم کیا…. انگریزوں نے مسلمانوں کی ”خلافت“ کو ختم کیا…. تب…. افغان مسلمانوں نے امت مسلمہ کی لاج رکھی تھی…. اور ۹۱۹۱ءمیں ہزاروں انگریز فوجیوں کو کاٹ کر رکھ دیا تھا…. ملکہ برطانیہ کا پرچم آدھی دنیا پر لہرا رہا تھا مگر…. مسلمانوں کی سرزمین افغانستان اس منحوس، ذلیل…. اور ظالمانہ پرچم سے محفوظ رہی…. افغان مجاہدین نے پورے انگریزی لشکر کو…. جہنم کی راہ دکھائی…. اور ایک انگریز سرجن کو اس لےے زندہ چھوڑ دیا تاکہ وہ …. برطانیہ جاکر اپنی فوج کی حالت بتا سکے…. آج برطانیہ نے اسی شکست کا بدلہ لینے کے لئے پھر افغانستان میں…. فوجیں اتار دی ہیں…. دنیا میں کوئی ان سے یہ پوچھنے والا نہیں کہ تمہارا افغانستان میں کیا کام ہے؟…. کوئی پاکستانی مجاہد کشمیر میں نظر آجائے تو دنیا ”کراس بارڈر ٹیرر ازم“ کا شور مچادیتی ہے…. کوئی عرب فدائی افغانستان میں نظر آجائے تو ”عالمی دہشت گردی“ کا شور بلند ہو جاتا ہے…. حالانکہ ہم مسلمان ہیں…. اور ہم قرآن پاک کو اپنا پہلا اور آخری دستور مانتے ہیں…. اور قرآن پاک نے ہمیں مسلمانوں کی مدد کا حکم دیا ہے…. خواہ وہ کہیں بھی ہوں….
ہاں اے مسلمانو! وہ دن یاد کر نے کے قابل ہے جب آقا صلی اللہ علیہ وسلم …. مکہ مکرمہ چھوڑ کر ”مدینہ منورہ“ پہنچے تھے…. ہر طرف خوشی تھی اور عجیب جذبات …. اس منظر کا تصور تو کرو…. اللہاکبر کبیرا …. دل مچلنے لگتا ہے اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں…. مرنے کے بعد حوض کوثر پر…. اللہ کرے ہمارے برے اعمال آڑے نہ آجائیں…. ہمیں کتنی شدت سے اس لمحے کا انتظار ہے…. ہماری گناہگار آنکھیں…. اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پاکیزہ جھلک…. یا اللہ نصیب فرما…. یا اللہ نصیب فرما…. مگر اُس دن مدینہ منورہ والوں کے نصیب پوری طرح سے جاگے ہوئے تھے…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لا رہے تھے…. یاد کیجئے…. دارالندوة میں مشرکین کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشورہ…. پھر (نعوذباللہ) شہید کرنے پر اتفاق…. ایک سو خونخوار مشرک…. ایک سو تیز تلواریں…. گھر مبارک کا مکمل محاصرہ…. آسمان سے جبرئیل امین علیہ السلام کی آمد…. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ …. مشرکین کے سر پر خاک…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان سے گزر کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے گھر…. صدیق کی بیٹی کا کھانا باندھنا اور لقب پانا…. غلام کا دو اونٹنیاں لے آنا…. جو پہلے سے ہجرت کے لئے خریدی گئی تھیں…. پھر غارثور…. مشرکین کا دوبارہ محاصرہ…. کبوتری کے انڈے، مکڑی کا جالا…. کالے سانپ کا صدیق کے پا ؤں پر کاٹنا…. آنسو ؤں کا آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر گرنا…. پیارے، میٹھے اور شفاءبخش لعاب کا کمال…. پھر لمبا سفر…. کئی سو کلو میٹر…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے پا ؤں مبارک زخمی…. اللہاکبر کبیرا…. صدیق اکبر کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کندھے پر اٹھا لینا…. ام معبد اور ان کی بکری کے نصیب جاگنا…. سراقہ کا دھنسنا…. اور قبا والوں کی قسمت پر آسمان کا رشک کرنا…. اور پھر مدینہ منورہ…. صحابہ کرام اونٹنی کے گرد دیوانوں کی طرح دوڑ رہے ہیں…. بچیاں ترانہ پڑھ رہی ہیں…. چاند…. ہاں چودھویں کا چاند ہم پر طلوع ہو رہا ہے…. وداع کی گھاٹیوں سے یہ چاند روشن ہو رہا ہے…. اللہ تعالیٰ کا شکر ہم پر واجب ہو چکا ہے…. خواتین دروازوں کے پیچھے سے…. ایک جھلک کے لئے…. جی ہاں ایک نورانی اور پاکیزہ جھلک کے لئے دعائیں مانگ رہی ہیں…. ہر شخص کے سینے میں دل زور زور سے دھڑک رہا ہے…. بس ایک ہی تمنا ہے اور ایک ہی آرزو کہ…. آقا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر کو اپنا گھر بنالیں…. اے مسلمانو! کبھی کبھار اس دن کو یاد کرلیا کرو…. ہمت اور معرفت کے نئے دروازے تم پر کھلتے چلے جائیں گے…. اور یہودیو! تم بھی اس دن کو یاد رکھو…. تمہارے باپ دادے اپنے قلعوں سے یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے…. ان ہوس پرستوں اور دنیا کے غلاموں نے اس عظیم نعمت کی قدر نہ کی…. تب…. مدینہ منورہ نے تمہیں باہر پھینک دیا…. اب اس بات کو بھول جا ؤ کہ تم واپس وہاں آجا ؤ گے…. تم ایک نہیں سارے مسلمان حکمرانوں کو خرید لو…. تم ”فری میسن“ کی ممبر عورتوں کو اونچے ایوانوں تک پہنچا دو…. تم جو کچھ بھی کرلو…. انشاءاللہ تم کامیاب نہیں ہوسکو گے…. تمہاری ساری دولت اپنی جگہ…. تمہارا اثر ورسوخ اپنی جگہ…. تمہارے خفیہ ادارے اپنی جگہ…. تمہارے مسلمان ایجنٹ اپنی جگہ…. تمہارے ایٹم بم اور اسلحے اپنی جگہ…. ہماری تو بس اتنی دعا ہے کہ…. اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے تم تک پہنچنے کے راستے کھول دے…. پھر رب کعبہ کی قسم…. تمہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ تم نے کس ماں کا دودھ پیا ہے….

Written by Sheikho

July 26th, 2006 at 9:31 pm

مدد کیوں نہیں آتی ؟

without comments

کشمیر ، فلسطین ، چیچینا ، بوسینا ، افغانستان پر بمباری ،عراق کی تباہی اور اب لبنان کا ملیا میٹ ہونا ، یہ سب کیا ہے؟ ایسا ظلم مسلمانوں پر ہی کیوں؟
ذرا نظر تو دوڑایے ہم مسلمانوں کے رہن سہن پر ، ذرا نظر تو دوڑایے ہمارے مسلمانوں کے اعمالوں پر، تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں ہر قوم میں کوئی نہ کوئی برائی تھی ،کوئی قوم لوط تھی تو کوئی قومِ عاد ، کوئی قومِ ثمود تھی تو کوئی قوم فرعون ، کہاں گئیں یہ قومیں؟ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ملیا میٹ کر دیا، کیوں کیا؟ ان سب کے اعمال کے سبب۔
ذرا نظر تو دوڑایے آج کل ہم مسلمانوں میں پچھلی تمام قوموں کی برائیوں میں کس چیز کی کمی ہے۔ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ پچھلی قوموں میں صرف ایک ایک برائی تھی جبکہ ہم میں تمام قوموں کی برائیاں جمع ہیں۔
تو پھر بم کیوں نہ گریں ، زلزلے کیوں نہ آئیں ، ذلت و خواری ہم مسلمانوں کے حصہ میں کیوں نہ آئے۔

روشن خیال لوگ ( جدید دہریے ) کہتے ہیں کہ یہی سب کچھ بلکہ اس سے زیادہ مغرب ممالک میں بھی ہوتا ہے۔وہاں تو تباہی نہیں آتی ، وہاں تو بم نہیں گرتے ، بلکہ وہ تو خوش حال ہیں ، سب کچھ تو ہے ان کے پاس ، بلکہ کچھ روشن خیال تو آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے ہی زمین کو جنت بنا رکھا ہے۔

بیوقوف ہیں یہ لوگ ، یہ نہیں سوچتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلم بنایا،اور مسلمانوں کے لئے کچھ قوانین مقرر کئے۔اور یہ قوانین ہماری بہتری ، ہماری بھلائی کے لئے بنائے، ہم مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے۔ہمیں ان کافر لوگوں کی طرح کھلا نہیں چھوڑا گیا کیونکہ ان کے مقدر میں جہنم ہے،جبکہ ہم مسلمانوں کو دونوں راستے بتا دئے گئے اور اس کے لئے جزا و سزا بھی مقرر کر دی گئی۔اب ہم اس راستوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کریں۔
دنیا کی سزا ، بم گرنا ، زلزلے آنا ، مسلمانوں کا ذلیل و رسوا ہونا ہمارے اپنے اعمالوں کی سزا ہے۔اور اگر ہم اسی طرح رہے تو یہی سزائیں ہمیں ملتی رہیں گی۔اور اگر ہم ان سزاؤں کو دیکھ کر بھی نہیں سنبھلتے تو پھر ہمارا آخری کنارہ جہنم ہے۔جبکہ کافر لوگوں کو یہاں صرف عارضی یعنی دکھاوے کی خوشیاں نصیب ہیں جبکہ ان کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیش جہنم ہی ہے۔
ہمیں اب بھی اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہئے۔اپنے اعمالوں کو درست کرنا چاہئے اپنی ماؤں بہنوں کو اسلام کے مطابق چلنے کی تلقین کرنی چاہئے اور اگر یہ سب اب بھی ہم نے نہ کیا تو تو اس سے بدتر حالات بھی آ سکتے ہیں۔

اگر آپ ہمارے اردو راکٹ کا یہ لوگو اپنی ویب سائٹ یا بلاگ پر لگاتے ہیں تو ہم آپ کے انتہائی مشکور ہوں گے

مسلمان پھر سو گئے

without comments

یہ لبنان ہے ، کہتے ہیں یہ ہمارا مسلمان ملک ہے۔سوچتا ہوں کہ اگر یہ مسلمان ملک ہوتا تو او آئی سی ضرور چیختی ، عرب ممالک واویلا ضرور کرتے اور تو اور ہمارے ملک کے صدرِ محترم اسرائیل اور امریکہ کی اس درندگی پر مذمت کے کچھ الفاظ ضرور کہتے۔

Source:
http://www.fromisraeltolebanon.info

Monday, July 17, 2006:South Lebanon: A Lebanese Child Receiving the message from the Israeli girls!

http://www.fromisraeltolebanon.info

http://www.fromisraeltolebanon.info

http://www.fromisraeltolebanon.info

http://www.fromisraeltolebanon.info

http://www.fromisraeltolebanon.info

موبائیل فون سے بچیں

with 3 comments

آج صبح کےاخبار میں ایک خبر پڑھ کر ایسے لگا کہ جیسے جسم سے جان نکل گئی ہو۔خبر کے متن کے مطابق ایک پرتگالی باشندے کا موبائل فون دھماکے سے پھٹ گیااور اس کی ٹانگوں پر شدید زخم آئے۔اب یہ نہیں پتہ چلا کہ اس کی ٹانگوں میں سے کیا کیا چیزیں زخمی ہوئی ہیں۔
وہ تو شکر ہے کہ میں اپنا موبائیل فون اپنی پینٹ کی جیب میں نہیں رکھتا ۔اپنی عادت کے مطابق میں اسے اپنی قمیض کے اوپری حصہ کی بائیں جیب میں ٹھونسے رکھتا ہوں۔اب سوچتا ہوں وقت کا کیا پتہ ،ویسے بھی پاکستان میں دھماکوں کا عام رواج ہے اور اگر میرے موبائیل فون نے بھی دھماکہ کر دیا تو میرا دل تو گیا نا۔

Written by Sheikho

April 14th, 2006 at 12:38 pm

کتے

without comments

آج کل ہمارے ہاں پاکستان میں امریکہ کے صدر بش جو ساری دنیا کے صدر بھی ہیں کا بڑا چرچا ہے۔ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر انکل بش انکل بش کا ورد ہے۔کوئی تو اسے کوستا نظر آتا ہے اور کوئی اتنے پیار سے نام لیتا ہے کہ شائد ہی اپنے کسی پیارے کا لیتا ہو۔
سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ ساری دنیا کے صدر کے ساتھ سترہ عدد امریکی کتے بھی آئے ہیں۔جن پر صدر بش انسانوں سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔جرمن شیپرڈ اور لیبارڈور نسلوں کے یہ امریکی کتے بھارت کے شیراٹن ہوٹل اور لا میریڈین میں ٹھرے ہوئے ہیں جہاں عام آدمی پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔
دکھائی کچھ یوں دیتا ہے کہ دنیا کے صدر کو بھارتی کتوں پر کچھ زیادہ اعتماد نہیں ہے۔اب جب کہ ہمارے پاکستان کا دورہ شروع ہونے کو ہے تو ہمارے گلی کوچوں میں بھی یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا دنیا کے صدر اپنی میزبانی کے ساتھ ساتھ اپنے امریکی کتوں کی میزبانی کے شرف سے نوازتے ہیں یا نہیں۔

Written by Sheikho

March 3rd, 2006 at 4:26 am