Sheikho’s blog

Jahan Meri Soch Khatam Hoti hai Wahan Dosron ki Shuro hoti hai

Archive for the ‘میرے شہر کی باتیں’ Category

کالے نیلے پیلے اور زرد عاشق

with 4 comments

ہمارا زمانہ تھا کہ لڑکیوں کے اسکول اور کالجوں کے باہر جن عاشقوں (عرف عام میں جنہیں آپ بھونڈ بھی کہہ سکتے ہیں) کا جھمگٹا ہوتا تھا وہ خوب بن سنور کر آتے تھے اور اس کے برعکس لڑکیاں بڑی سادہ سی،سلجھی ہوئیں بالکل گاؤ ماتا جیسی ہوتی تھیں۔

اگر کسی لڑکی سے ان میں سے کسی کا آنکھ مٹکا ہوتا تھا تو وہ بڑے سلیقے اور رازداری سے اس کی طرف اپنا محبت بھرا خط تھمادیتا تھا۔جس پر عموما کچھ اس قسم کے الفاظ درج ہوتے تھے کہ شام کو چھت پر یا کھڑکی پر ضرور آنا یا کہ میں تمہیں فون کروں گا۔اتنی سی بات کے لئے اس عاشق یا بھونڈ کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا اور فون کرنے کے لئے تو ہزاروں پاپڑ بیلنے پڑتے تھے کیونکہ فوں کبھی لڑکی کا ابا اٹھا لیتا تھا اور کبھی امی ۔۔۔ اور لڑکیاں بھی ایسی شرم حیا والی ہوتی تھیں فون کی گھنٹی سنتے ہی ان کی جان چلی جاتی تھی کہ کہیں ابا یا امی کو پتہ نہ چل جائے۔۔۔

کئی چالاک عاشق یا بھونڈوں کو اپنی بہن یا بھابی کی منتیں کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا کہ باجی یا بھابھی جی صرف ایک بار اسے فون کر کے فون پر بلا دیں میں آپ کا احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گا۔
غرض یہ کہ اس وقت کہ عاشق تہذیب یافتہ بھی تھے اور منہہ متھے بھی لگتے تھے اور لڑکیاں بھولی بھالی ،حقیقی خوبصورت اور گاؤ ماتا جسی ہوتی تھیں

آج بہت سالوں بعد مجھے لاہور میں وحدت کالونی کے خواتین کالج جانے کا اتفاق ہوا ۔میری بچی کا آج بی کام کا آخری پیپر تھا اور وہ پیپر صرف ڈیڑھ گھنٹے پر محیط تھا ۔۔سوچا واپس گھر کیا جانا ہے دیڑھ گھنٹہ ہی تو ہے یہاں ہی انتظار کر لیتے ہیں۔۔۔ہو سکتا ہے ذہن میں پرانے جراثیم بھی ہوں جس کی وجہ سے مجھے وہاں ٹھرنے کی تحریک ملی ہو۔

دیکھتا ہوں آج بھی لڑکیوں کے کالج کے باہر ویسے ہی عاشقوں (بھونڈوں) کا جھمگٹا لگا ہوا ہے ۔کئی نیلے کالے سے لڑکے ، اپنے پیلے اور زرد چہرے لئے ہوئے کان سے موبائیل فون لگائے گیٹ سے کبھی ادھر جا رہے ہیں اور کبھی اُدھر ۔۔۔۔اور لڑکیاں جنہوں نے ابھی زمانہ دیکھنا ہے میک اپ کی تہہ میں اپنے چہرے کو سجائے ہوئے بڑے آرام سے گیٹ کے باہر آ کر اپنے اپنے عاشقوں کے ساتھ کھڑی ہو کر بڑے مزے سے خوش گپیوں میں مصروف ہو جاتی ہیں ۔۔انہیں نہ اپنے باپ کی فکر اور عزت کا احساس ہے اور نہ ہی اپنے بھائی کی ۔۔جونہی ان میں سے کسی لڑکی کا باپ یا بھائی انہیں لینے آتا وہ بڑے مزے سے باتیں کرتے کرتے ان کے ساتھ روانہ ہو جاتیں۔

میں اب تک حیران ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیا واقع میں ہمارا پاکستان ترقی کر گیا ہے ؟ کیا ترقی ایسی ہوتی ہے اور کیا اب ہمیں ہیرا منڈیوں پر پابندی نہیں لگادینی چاہئے کیونکہ ویسے بھی اب ان کا کوئی فائدہ نہیں رہ گیا

ذہنی کرپشن کو کوئی کیا کہے

with 6 comments

میو ہسپتال لاہور شہر میں واقع ایک بڑا ہسپتال ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ اس ہسپتال کا شمار ایشیا کے بڑے اور مشہور ہسپتالوں میں بھی کیا جاسکتا ہے۔اور ہمارے پاکستان کا یہ بھی اصول ہے کہ جو چیز ، جگہ جتنی بڑی ہوگی اس میں کرپشن کے مواقع بھی اتنے ہی ہوں گے ۔خالی خولی کرپشن ہو تو چلو گزارہ بھی کیا جاسکتا ہے مگر ذہنی کرپشن کو کوئی کیا کہے۔
ڈاکٹری پیشہ ایک مقدس پیشہ ہے اس مقدس پیشے کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے ڈاکٹروں کو آپ کیا کہیں گے ؟
یہ غالبا 1988 کا دور تھا ، مہینے کا کچھ یاد نہیں ، میں حسب معمول اپنی رات کی ڈیوٹی پر میو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں موجود تھا۔ہمارے ساتھ ہمارا ایم او ( میڈیکل آفیسر) ڈاکٹر حفیظ الرحمن جو شکل سے انتہائی شریف آدمی دکھائی دیتا تھا موجود تھا۔ہماری ڈیوٹی رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک 12 گھنٹے پر محیط ہوتی تھی ۔اور رات 1 بجے کے بعد ایمرجنسی میں عموما رش کم ہو جایا کرتا تھا۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی روزانہ یہ روٹین ہوتی تھی کہ جب ایمرجنسی میں رش کم ہو جایا کرتا تھا تو کسی نہ کسی نوجوان خوبصورت لڑکی کو جو بیچاری اپنی بیماری کے باعث وہاں اپنے ماں باپ یا بھائی کے ساتھ آتی تھی ، اپنے قریب والے بیڈ پر لٹا کر اس کا علاج خود کیا کرتا تھا۔یہاں میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ ہماری سب کی ڈیوٹی ایمرجنسی وارڈ کے باہر ( سی او ڈی ) میں ہوتی تھی جہاں پولیس کیس ، یعنی حادثات ، قتل وغیرہ کے کیس آیا کرتے تھے جبکہ ہمارے ہاں جو میڈیکل آفیسر یعنی ( ایم او) ہوتا تھا وہ تمام مریضوں کو ایک نظر دیکھ کر اسے سرجیکل یا میڈیل میں ریفر کر دیا کرتا تھا۔
تو بات ہو رہی تھی کہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی عموما روزانہ کی یہ عادت تھی کہ جب ایمرجنسی میں رش کم ہو جایا کرتا تھا تو کسی نہ کسی نوجوان خوبصورت لڑکی کو جو بیچاری اپنی بیماری کے باعث وہاں اپنے ماں باپ یا بھائی کے ساتھ آتی تھی ، اپنے قریب والے بیڈ پر لٹا کر اس کا علاج خود کیا کرتا تھا۔۔اور اسی علاج کے بہانے وہ لڑکی کے سینے پر اسٹتھیو اسکوپ ( عام آدمی اسے ٹوٹیاں سمجھ لیں جس سے سینے اور دل کا چیک اپ کیا جاتا ہے) لگا کر دیر تک اسے ہاتھوں سے ٹٹول کر مزے لیا کرتا تھا۔اس کی اس قبیح حرکت سے بہت سی لڑکیاں رونے لگتی تھیں ۔بیچارے ماں باپ یہی سمجھتے تھے کہ ان کی لڑکی تکلیف کی وجہ سے رو رہی ہے ۔ان کو کیا پتہ ہوتا تھا کہ یہ ڈاکٹر جو ان کی بچی کا علاج کر رہا ہے یہ ڈاکٹر کے روپ میں درندہ ہے۔ہم نے بارہا ڈاکٹر حفیظ الرحمن کو اس کی حرکتوں سے منع بھی کیا تھا اور بارہا شرم بھی دلائی تھی مگر اس کے کان پر جوں نہ رینگتی تھی ۔
آج ہم سب نے ٹھان لیا تھا کہ آج اگر اس نے ایسی کوئی حرکت کی تو اس کا کوئی نہ کوئی سدباب کیا جائے گا۔اتفاق دیکھئے کہ ایک خوبصورت لڑکی پیٹ درد کی وجہ سے رات تقریبا ڈیڑھ بجے اپنی والدہ اور نوجوان بھائی کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوئی میں اس وقت پرچی والے کے پاس ہی بیٹھا چائے پی رہا تھا میں نے پرچی والے کو اشارہ کیا کہ اس کی پرچی بنائو اور اسے ڈاکٹر حفیظ الرحمن کے پاس بھیج دو ۔ دوسری جانب میں نے اوپر لیباٹری ٹیکنیشن کو فون کر دیا کہ نیچے آ جائو اور باہری گیٹ کے پاس کھڑے ہو جائو۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے حسب معمول اس لڑکی کو اپنے ساتھ والے بیڈ پر لٹا کر قبیح حرکتیں شروع کر دیں ۔وہ لڑکی بھی کئی انتہائی شریف تھی اس نے اونچا اونچا رونا شروع کر دیا ۔ میں نے فورا لیبارٹری ٹیکنیشن کو اشارہ کیا ، اس نے اس کے نوجوان بھائی کو اشارے سے بلا کر اسے ڈاکٹر کے بارے میں بتایا اور غائب ہو گیا۔لڑکی کے بھائی کا یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر اس کی بہن کے ساتھ ایسی حرکتیں کر رہا ہے اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ، مریضوں کا اسٹول اٹھا کر ڈاکٹر کو دے مارا اور لگا گالیاں نکالنے ۔۔۔لڑکے نے فوری طور پر اپنی بہن اور ماں کو وہاں سے لیا اور وہاں سے غائب ہو گیا۔۔ہم نے سوچا کہ یارا یہ تو کچھ نہ ہوا مگر تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتے ہیں کہ ساتھ ہی گوالمنڈی سے وہ بہت سے لڑکے لے کر دوبارہ آ دھمکا اور لگا ڈاکٹر کو مارنے۔۔جب وہ ڈاکٹر حفیظ کو کافی مار چکا تو اب ہمیں ڈاکٹر کو بچانے کی فکر ہوئی ۔۔بحرحال قصہ مختصر ڈاکٹر کو کسی نہ کسی طرح بچا کر وہاں سے بھگا دیا گیا اور صبح لڑکے کی درخواست پر سیکرٹری ہیلتھ نے اسے معطل کر دیا۔۔۔بعد میں سنا تھا کہ وہ بحال ہو گیا تھا۔۔مگر اس دن کے بعد سے آج تک میری اس سے ملاقات نہیں ہوئی

میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں

with 4 comments

بارہ اگست دو ہزار چھ کو کو ایک تحریر بنام واصف علی واصف کے تحریر کی تھی جس کے چند الفاظ چھوڑ کر وہ تمام تحریر حقیقت پر مبنی تھی وہ چند الفاظ میں نیچے کوٹ کر رہا ہوں

سڑک سے تھوڑا اندر کھائی کے بالکل اوپری کنارے پر کچھ لوگ کھڑے ایک مردے کو دفنا رہے تھے
پوچھنے پر پتہ چلا کہ نشئی آدمی تھا اور پتہ نہیں کیا لکھتا رہتا تھا اور آخر کار آج چل بسا ، اسی کو دفنا رہے ہیں

حالانکہ میں نے واصف علی واصف کو نہ ہی دفناتے ہوئے دیکھا اور نہ ہی کسی نے مجھے اس کے بارے میں نشئی کے الفاظ کہے۔اللہ مجھے معاف کرے
انسان کوئی بھی ہو اچھا یا برا ، اس کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہنا چاہئے ۔ کیونکہ میری زندگی کا تجربہ ہے کہ جیسا تم بوؤ گے ویسا ہی کاٹو گے۔میں نے بہت سے ایسے انسان دیکھے ہیں جنہوں نے جو کہا ویسا ان کے آگے بھی آیا اور میں اس کی مثال آپ بھی ہوں ۔۔میرے ساتھ بارہا ایسا ہوا کہ جیسا میں نے کیا ویسا آگے بھی آیا۔
دو ہفتے پیشتر میری ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی ( اللہ سبہانہ و تعالی اسے جنت میں جگہ عطا فرمائے آمین) بڑی عظیم ماں تھی میری ، بالکل ایسے ہی جیسے عظیم مائیں ہوتیں ہیں جن کی مثالیں دی جا سکیں۔رات ساڑھے گیارہ بجے ان کی وفات ہوئی ، ایک بجے کے قریب بڑے بھائی نے مجھے کہا کہ میانی صاحب ( میانی صاحب لاہور میں واقع ایک بڑا قبرستان ہے) جا کر قبر کا انتظام کر کے آؤ ۔میں اور میرا ایک دوست اسی وقت جناز گاہ جا پہنچے ۔ وفات کا اندراج کروانے کے بعد ہم گورکن کے ہمراہ قبرستان کے اندر قبر کی جگہ دیکھنے چلے گئے ۔( رات میں قبرستان میانی صاحب میں ایک عجیب ہی سماع ہوتا ہے جس کی تفصیل انشااللہ پھر پیش کروں گا) بحرحال کافی تلاش کے بعد بھی مجھے کوئی جگہ پسند نہیں آ رہی تھی ۔ میں مصر تھا کہ مجھے زیادہ اندر قبر نہیں بنوانی بلکہ سڑک کے نزدیک ہو تو بہتر ہو گا۔ آخر کار گورکن نے مجھے کہا کہ میں آپ کو مزنگ والی سائڈ پر جگہ دکھاتا ہوں ۔ہم اس کے ساتھ مزنگ کے ساتھ چوبرجی کی طرف جانے والی سڑک پر اندر قبرستان کے اند داخل ہوگئے اس نے وہاں اپنے ایک دوست گوکن کو اٹھایا اور مجھے قبر کی جگہ دکھانے کو کہا۔اس نے مجھے واصف علی واصف کی طرف سے جانے والی گلی کے اندر شروع میں قبر کی جگہ دکھائی جو مجھے پسند آگئی اور آج میری عظیم والدہ واصف علی واصف کے ساتھ گلی تھوڑا آگے جاکر مدفن ہے اور میں واصف علی واصف کی قبر کے سامنے سے ہوتا ہوا اپنی والدہ محترمہ کی قبر پر حاضری دینے جاتا ہوں ۔۔۔سوچتا ہوں اللہ جانے اس میں بھی کیا حکمت ہے مگر میں اب واصف علی واصف کے آگے سے گزرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہوں ۔۔۔اللہ مجھے معاف کرے ۔۔۔پتہ نہیں کیسا انسان تھا ، میں نہیں جانتا ۔اللہ اس کے ، میری والدہ کے اور تمام مسلمانوں کے گناہ معاف کرے آمین

Written by Sheikho

May 28th, 2011 at 3:10 pm

بسنت بہار

without comments

بسنت کا تہوار بس آیا ہی چاہتا ہے اور اس دفعہ تو بسنت کے تہوار کو محفوظ بنانے کے لئے ہماری حکومت نے لاکھوں روپے کے تار مفت بانٹ کر لوگوں کو اپنی موٹر سائکلوں پر لگا کر باہر نکلنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں تاکہ ان کی گردنیں محفوظ رہ سکیں۔اور تو اور تعلیمی اداروں میں بسنت کے بارے بچوں کو آگاہی کے سلسلہ میں ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام بھی کیا گیا ہے ۔
شیدا ملنگ کہتا ہے کہ اس پر بحث کرنا ہی فضول ہے کہ کہ ایک بسنت کے تہوار کے لئے تاروں کے لاکھوں روپے عوام کے برباد کرنا اور مثبت تعلیمی سرگرمیوں کے لیکچر کی بجائے بسنت جیسے تہوار کے بارے لیکچر دینا کیا رنگ لائے گا۔
وہ صرف ایک بات کہتا ہے کہ ، ان سب حفاظتی تدابیر کے باوجود اگر کوئی گردن کٹ گئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے گی؟

Written by Sheikho

February 20th, 2007 at 9:40 pm

روشن خیال مجرے

with one comment

آج سوچا تھا کہ کچھ لکھوں گا ، کیا دیکھتا ہوں کہ میرا پاکستان والے جناب افضل صاحب نے لاہور کے ایک ناظم میاں محمود کی ایک طوائف کے ساتھ تصویر کو موضوع سخن بنایا ہے۔
لکھتا بھی ، تو کیا لکھتا ، ساری سوچیں غائب ہوگئیں ، کبھی جناب افضل صاحب کی تلخ اور تیکھی تحریر کو پڑھتا اور کبھی ناظم میاں محمود کی تہذیب یافتہ انداز میں کھنچوائی تصویر کو دیکھا کیا۔
جناب افضل صاحب بھی بھولے بادشاہ ہیں ، باہر رہ کر وہ اسی پرانے پاکستان کی تصویر کو اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں جس کو کبھی وہ چھوڑ کے گئے تھے۔انہیں نہیں پتہ کہ پاکستان اب ترقی پذیر ملکوں کی فہرست سے نکل کر ترقی یافتہ اور روشن خیال ہو چکا ہے۔
سوچتا ہوں کہ اب جب وہ پاکستان آئے تو انہیں اپنے پاس بٹھا کر کیبل دکھاؤں گا جو ہر گھر میں چل رہی ہے۔جس پر روزانہ ننگے مجرے دھڑلے سے دکھائے جاتے ہیں۔دوپہر ہو یا رات کا کوئی پہر ، یہ ننگے مجرے سٹیج شو کے نام سے کیبل پر آپ کسی بھی وقت دیکھ سکتے ہیں ۔روشن خیالی کی روایات کو مدِ مظر رکھتے ہوئے رات کے آخری پہر ان مجروں میں کپڑوں کی پابندی ختم کر دی جاتی ہے۔

محترم افضل صاحب نے اس خبر کو بڑی گروانا ہے ، کہتے ہیں اس خبر کے چھپنے کے باوجود اگر ملک میں بھونچال نہ آسکا تو وہ سمجھیں گے کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ عوام بھی ایسی ذلالتوں کے عادی ہوچکے ہیں۔

کیا کریں عوام ؟ کس سے فریاد کریں ؟ کس عدالت میں فریاد کریں ؟
بھونچال کون لائے گا ، جن کے پاس کھانے کو نہیں ؟
بھونچال کون لائے گا ، وہ جو صرف فتویٰ دینا جانتے ہیں
بھونچال کون لائے گا ، جو خود اسٹیج پر بیٹھ کر مجرا دیکھتے ہیں ؟
وہ زمانے لَد گئے جب چیخ و پکار سے بھونچال آیا کرتے تھے۔
ایسے نہیں آنے کا بھونچال ،
جب تک بھوکے ننگے لوگ ( جو تن اور من سے بھی بھوکے ہو چکے ہیں ) سچے دل سے اپنے رب سے معافی اور روشن خیالی کو ٹھوکر نہ ماردیں تب تک بھونچال آنے سے رہا ۔

Written by Sheikho

November 18th, 2006 at 11:28 pm

واصف علی واصف

with 7 comments

لاہور شہر میں چوبرجی کی طرف سے اگر آپ میانی صاحب کی طرف جائیں تو قبرستان ختم ہونے سے تھوڑا پہلے دائیں ہاتھ پر ایک بڑے سے بورڈ پر بڑے جعلی حروف میں حضرت واصف علی واصف لکھا نظر آتا ہے ١٩٩٠ اور ١٩٩١سے پہلے اسی جگہ میانی صاحب کے قبرستان کی آخری کھائیاں بنی ہوئی تھیں جہاں لوگ عموماً گندگی اور کوڑا کرکٹ وغیرہ پھینکا کرتے تھے۔اور انہیں دنوں میں اور میرا دوست رضا شاہ ( جس کے ابھی تک دو امام باڑے ٹھیکے پر چل رہے ہیں) حسبِ معمول اپنی ڈیوٹی پر جارہے تھے کہ کیا دیکھتے ہیں ،سڑک سے تھوڑا اندر کھائی کے بالکل اوپری کنارے پر کچھ لوگ کھڑے ایک مردے کو دفنا رہے تھے۔میں بڑا حیران ہوا اور شاہ سے کہنے لگا ، یار شاہ جی اس بیچارے کا آگے پیچھے کوئی نہیں لگتا جو یہ لوگ پورے قبرستان کی جگہ کو چھوڑ کر ایسی جگہ اس کو دفنائے جا رہے ہیں۔
کہنے لگا آؤ دیکھے لیتے ہیں کہ کیا مسلئہ ہے، پوچھنے پر پتہ چلا کہ نشئی آدمی تھا اور پتہ نہیں کیا لکھتا رہتا تھا اور آخر کار آج چل بسا ، اسی کو دفنا رہے ہیں۔
ہم اپنی راہ ہو لئے ، گذر تو ہمارا روزانہ اُدھر سے ہی ہوتا تھا ، کیا دیکھتے ہیں کہ مہینہ بھر بعد ہی وہاں پر ایک چھوٹا سا بورڈ لگا دیا گیا جس پر صرف واصف علی لکھا ہوا تھا۔بورڈ کو دیکھتے ہی میں نے شاہ سے کہا ، یار شاہ جی دیکھنا،یہاں ایک مزار ضرور بنے گا اور اگلے سال سے یہاں عرس بھی ہو گا، شاہ ہنسنے لگا اور کہا ، نہیں یار اب ایسا بھی کیا۔مگر میں اپنی بات پر مصر رہا۔
وقت گذرتا چلا گیا ۔روزانہ ہی ہماری نگاہ اس قبر پر ضرور پڑتی تھی ، آہستہ آہستہ پہلے اُس قبر کو پختہ کیا گیا پھر سڑک سے قبر تک جانے والے راستے کو تھوڑی سی مٹی ڈال راستہ بنا دیا گیا۔
ایک سال گذرنے کے بعد وہاں عرس تو نہ ہوا مگر یہ ضرور ہوا کہ دو چار ڈھول والے وہاں ڈھول پیٹتے ضرور دیکھے گئے۔میں نے پھر شاہ کو یاد کروایا اور کہا ، شاہ جی یہاں عرس ضرور ہو گا۔
١٩٩٤تک ہم نے دیکھا کہ قبر کو مکمل پختہ کر دیا گیا اور اُس کے اوپر ٹین کی چھت ڈال دی گئی تھی اور قبر کے باہر بائیں ہاتھ پر ساتھ ہی ایک لیٹرین بنا دی گئی اور واصف علی کی جگہ ، حضرت واصف علی واصف لکھا جا چکا تھا،قبر تک جانے والی جگہ کو پکی کر دیا گیا اور قبر کے پیچھے کھائیوں پر آہستہ آہستہ بھرتی ڈلوائی جا رہی تھی۔١٩٩٤ میں ہی پہلی د فعہ ہم نے میانی صاحب کی دیواروں پر حضرت واصف علی واصف نام کے عرس کے اشتہار بھی لگے ہوئے دیکھے ۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے شاہ کو کہا تھا کہ یار شاہ جی اس مزار کا ٹھیکہ لے لو ساری عمر عیش کرو گے۔شاہ میری بات سن کر ہنس پڑا تھا۔
آج جب کہ اتنا عرصہ بیت چکا،واصف علی کو لوگ حضرت واصف علی واصف کے نام سے جانتے ہیں اور اُس کا عرس بڑی شان سے منایا جاتا ہے۔سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ اُس کی ایک ویب سائٹ بھی انٹر نیٹ پر موجود ہےاور بہت سی صوفیانہ کتابیں جو کمائی کی خاطر پتہ نہیں کس کی لکھیں ہوئی ہیں ، مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔

Written by Sheikho

August 12th, 2006 at 2:42 am

صفِ نازک اور ڈکیتی

with 4 comments

آج راہ چلتے ہوئے میری ملاقات اسلم خان سے ہوئی جو شالامار باغ کے ساتھ والی آبادی محمود بوٹی میں بند کے قریب رہتا ہے۔بڑا اداس تھا، اُداسی کی وجہ پوچھنے پر کہنے لگا کہ کل میں اپنے رکشہ
LOT – 7446
کو لئے رات نو بجے کے قریب سواری کے انتظار میں ریلوے اسٹیشن پر کھڑا تھا کہ ایک خوبصورت عورت اور مرد میرے پاس آئے اور کہنے لگے شاہدرہ ، امامیہ کالونی جانا ہے ۔جب میں انہیں ان کی منزل مقصود کے پاس لے آیا تو پوچھا کہ کس جگہ اترنا ہے تو انہوں نے ایک اندھیری گلی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ بس وہاں اتار دو۔جونہی میں اس گلی میں پہنچا تو عورت نے فوراً ہی میری کنپٹی پر پستول رکھ دیا اور کہا کہ جو کچھ ہے نکال دو ،اس کے ساتھ والے مرد نے بھی ایک چھری میری گردن پر رکھ دی اور کہنے لگا کہ اگر آواز نکالی تو ہم کسی اور کو تو کچھ نہیں کہیں گے مگر تمہیں ضرور جان سے مار دیں گے۔میں نے تھوڑی سی ہمت باندھی اور عورت کو مخاطب کر کے کہنے لگا کہ بی بی ، میں غریب آدمی ہوں مجھے معاف کردو ، اتنا سنتے ہی اس عورت نے اتنی تیزی سے پستول کے چیمبر کو کھینچ کر آگے پیچھے کیا کہ اس وقت ایسے لگا کہ جیسے میری جان نکل گئی ہو ، کہنے لگی بکواس نہ کر اؤے پٹھان ، تیرا میں بھیجہ کھول دوں گی مگر فوراً ہی اس کے ساتھ والا آدمی کہنے لگا گولی نہ چلانا ، گولی نہ چلانا۔کہنے لگا اؤے خان جلدی تلاشی دو اور جو کچھ ہے باہر نکالو۔میں نے جلدی جلدی اپنا موبائل اور اس دن کی ساری کمائی جو تین سو روپے کے قریب تھی ان کے ہاتھ میں تھما دی۔وہ عورت اور مرد فوراً ہی گلی کے اندھیرے میں غائب ہو گئے۔
اس کے بعد میں کچھ دیر تو اپنے حواس میں ہی نہیں رہا جب ذرا تھوڑی میری طبعیت سنبھلی تو میرے سے رکشہ سٹارٹ نہیں ہو رہا تھا۔آخر اللہ کا نام لے کر میں نے رکشہ سٹارت کیا اور مین روڈ پر چلا آیا۔باہر مین روڈ پر پولیس کا دونوں طرف ناکہ لگا ہوا تھا انہوں نے مجھے فوراً روک لیا اور کہنے لگے کہاں سے آرہے ہو۔میں نے انہیں اپنی پوری رواداد سنائی ، وہ سن کر کہنے لگے ، کون ہے ، کدھر ہے ، ابھی چلو ہمارے ساتھ۔میں نے کہا نہیں صاحب رہنے دو اب میں نے کہیں نہیں جانا، بس صرف مجھے اتنا بتا دیں کہ جب میں ادھر سے گذرا تھا تو تب بھی آپ لوگوں کا ناکہ لگا ہوا تھا مگر آپ نے مجھے نہیں روکا تھا۔ان میں سے ایک کہنے لگا ، چل اؤے خان ،جا اپنا کام کر۔

Written by Sheikho

April 5th, 2006 at 2:43 am

زندہ دلی

with one comment

لاہور کے شہری بھی کیا زندہ دل واقع ہوئے ہیں۔ہر اتوار کو صبح ہوتے ہی یہ تیز دھار ننگی تلواریں لئے اپنی چھتوں پر چڑھ کر جب تک دو تین معصوم بچوں کی گردنیں کاٹ نہ ڈالیں انہیں سکون نہیں ملتا۔
اس دفعہ لاہوریوں نے تین بڑے انسانوں کی گردنیں کاٹنے کا اعزاز حاصل کیا ہے جس میں میاں بیوی اور ایک دوسرا موٹر سائکل سوار شامل تھا۔زندہ دلانِ لاہور کے نزدیک ان گردن کٹوانے والوں کا قصور یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے گھروں سے ہی کیوں نکلے۔

Written by Sheikho

April 3rd, 2006 at 5:11 pm

انارکلی

with 2 comments

پاکستان کے شہر لاہور کو پاکستان کا دل بھی کہا جاتا ہےاور اس دل کے اندر بھی ایک دل موجود ہے جس کا نام انارکلی ہے۔تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے انارکلی بازار کی ایک الگ اہمیت ہے اور اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً چار سال پیشتر پرانی انارکلی کو نیا رنگ روپ پہنا کر “ فوڈ سٹریٹ “ کا نام دے دیا گیا۔شروع شروع میں تو یہاں گہما گہمی بہت کم دیکھنے میں آتی تھی مگر آجکل یہاں کی رونق دیکھنے قابل ہے۔
شام ہوتے ہی یہاں رنگوں کی محفل جمنے لگتی ہے اور جوں جوں رات گہری ہوتی ہے یہی رنگوں کی محفل اپنے عروج پر ہوتی ہے۔بالا خانے کی تمام خوبصورت تتلیاں سڑک کے دونوں اطراف بظاہر سیر کرنے میں مصروف اپنا اپنا شکار ڈھونڈنے کے لئے کھنکناتے قہقے لگاتی نظر آتی ہیں۔اور یہ کھنکناتے قہقے جب دور میزوں پر بیٹھے شرفاء کے کانوں میں گونجتے ہیں تو ان میں سے ہر کوئی اپنی انارکلی کو لے کر اپنی بھوک مٹانے کے لئے فوڈ سٹریٹ سے خوشی خوشی رخصت ہو جاتا ہے۔

Written by Sheikho

March 26th, 2006 at 11:22 pm

چند اشتہار اور آف دی ریکارڈ باتیں

with 4 comments

لاہور کے دل انارکلی بازار میں بسنت کے لئے چھت موجود ہے۔
20×28
خوبصورت لوکیشن ۔آزادانہ ماحول ۔ علیحدہ سیڑھیاں
رابطہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
————————————————————
اندرون لوہاری گیٹ میں بسنت کے لئے بہترین اور کھلی چھت
بسنت کی رات اور پورے دن کے لئے رابطہ قائم کریں
لائیٹنگ کا مکمل انتظام
رابطہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
——————————————————
بسنت کے لئے چھت موجود ہے
بھاٹی دروازہ کے اندر خوبصورت لوکیشن
کباب اور چانپیں بنانے کا مکمل سامان اور لائٹنگ کی اضافی سہولت موجود
رابطہ۔۔۔۔۔۔۔
———————————————-
ہیلو۔۔۔
کیا حال ہیں جناب
کون صاحب بول رہے ہیں
وہ جی آپ کا اشتہار اخبار میں پڑھا تھا
اوہ اچھا،آپ کو بسنت کے لئے چھت چاہئے
جی جی ۔یہ انارکلی میں کس جگہ واقع ہے
درمیان میں ہے جی
اچھا ، تو کیا کرایہ ہو گا جی اس کا
کرایہ تو صرف تھوڑا ہی ہے صرف دس ہزار ، جگہ دیکھیں گے تو آپ کا دل خوش ہو جائے گا۔
کرایہ تو بہت زیادہ ہے رات اور دن کا
اوہ جی ، یہ صرف دن کے لئے ہے رات کو تو ہماری چھت بک ہے
ہو۔۔اچھا ، اچھا یہ بتائیں جناب کسی قسم کی کوئی پابندی تو نہیں ہے
ہاہاہاہا۔۔ہا۔بھولے بادشاہو یہ صرف چھت کا کرایہ ہے۔
کیا مطلب؟
جناب اگر ماحول بھی آزادانہ چاہتے ہیں تو اس کے لئے علیحدہ پیسے ہوں گے
اچھا ، مگر وہ کتنے
پندرہ ہزار اور ،وہ جی سب کو دینے پڑیں گے نا
اوہ یہ تو بہت زیادہ ہیں۔دس ہزار میں یہ سب کچھ ممکن نہیں ہے کیا؟
اوہ نہیں جی ، آپ کہیں اور دیکھ لیں ، سلاما لیکم
سنیں جناب
جناب پہلے آپ پتہ کر لیں شہر میں ، سلاما لیکم
———————————————————
ہیلو۔۔ہیلو ، کیا حال ہیں جناب
ٹھیک ہوں ، کون ؟
وہ جی آپ کا لوہاری دروازہ کے اندر بسنت کے لئے چھت کا اشتہار پڑھا تھا
ہاں جی اپنی ہی چھت ہے
کیا کرایہ ہے جناب اس چھت کا
بیس ہزار روپے لائٹنگ کے ساتھ اور اگر آپ لائٹنگ کا اپنا انتظام کرنا چاہیں تو اٹھارہ ہزار
مگر جناب انارکلی میں تو ہمیں دس ہزار کی مل رہی ہے
تو وہاں سے لے لیں ۔میرے پاس دن اور رات کے لئے ہے اور اتنے کم ریٹ میں آپ کو کوئی نہیں دے گا
کچھ کم نہیں ہو سکتے جناب
نہیں جناب ، سال میں چھت کی ایک دن ہی تو کمائی کرتے ہیں نہیں تو کون پوچھتا ہے چھتوں کو
اچھا تو جناب یہ بتائیں کہ ماحول کیسا ہوگا،میرا مطلب کوئی پابندی وغیرہ تو نہیں ہے
کیا مطلب ؟ پابندی کیسی جناب
میرا مطلب ، پیاس شیاس تو بندے کو لگتی ہے کوئی پانی شانی کا انتظام
پانی بہت۔۔۔اوہ۔۔اچھا، بادشاہو ، سفارش ہے تو اپنے رسک پر کر لو اپنا کوئی ذمہ نہیں
اچھا جناب بتاتے ہیں پھر آپ کو
اچھا جی
خدا حافظ
—————————————————————–
ہیلو ۔۔ہیلو جناب ، کیا حال ہیں
کون بول رہا ہے
وہ جناب آپ کی بھاٹی دروازہ والی چھت کے بارے میں پوچھنا تھا
جی جی پوچھیں
کیا کرایہ ہو گا چھت کا ،دن اور رات کے لئے چاہئے
نہیں جی دن کی تو بکنگ ہو چکی ہے صرف رات کے لئے فارغ ہے
اچھا تو رات کا ہی بتا دیں
سہولتوں کے ساتھ چاہئے یا صرف خالی چھت درکار ہے
دونوں طرح بتا دیں
خالی چھت کے دس ہزار اور اگر تمام سہولتیں لینی ہو تو پچاس ہزار
جناب۔۔۔جناب میں نے چھت کرایہ پر لینی ہے خریدنی نہیں
آپ کو کرایہ ہی بتا یا ہے
اچھا تو یہ تو بتائیں سہولتیں کیا کیا ہوں گی
ہر قسم کی ، مگر سامان آپ کا اپنا
ہر قسم سے آپ کی کیا مراد ہے جناب
مکمل آزادی ، آپکو کوئی پوچھے گا نہیں جو جی چاہے کریں ، فائرنگ اور آتشبازی کے علاوعہ
اور اگر سہولتیں کم لینا چاہیں یعنی صرف پانی شانی کا انتظام کریں
وہ آپ کی مرضی مگر پیسے اتنے ہی ہوں گے
اچھا جناب دیکھتے ہیں پھر
ہاں چل پھر لیں مگر ہاں کرنی ہو تو شام تک بتا دیں ،ورنہ پھر مشکل ہے
اچھا جناب
اچھا جی
————————————————

Written by Sheikho

March 8th, 2006 at 2:50 am