Archive for the ‘پاکستان کی باتیں’ Category
گوگل کی گگلیاں جاری ؛ بےغیرتی کے نئے ریکارڈ قائم
پچھلے دنوں گوگل نے اپنا گوگل کا جی پلس کا نیا سوشل نیٹ ورک قائم کرتے ہی سینکڑوں پاکستانیوں کے ایڈ سینس کے اکاؤنٹ بند کر دئے تھے۔اب جب کہ گوگل کا جی پلس اپنی ناکامی کے پہلے مراحل میں ہے اس نے پاکستانیوں کے جی میل کے ایڈریس بغیر کسی وجہ کے اپنی خود ساختہ پالیسی کے نام پر بند کرنا شروع کر دئے ہیں۔
بابا عیدو کہتا ہے کہ گوگل اب پاکستانیوں کی مفت بری ختم کرنا چاہتا ہے ۔اب بھلا بندہ بابے عیدو کو کیا سمجھائے کہ ہم پاکستانی اور مفت بری یہ دونوں ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہیں۔اور گوگل کا باپ بھی اس مفت بری کو ختم نہیں کر سکتا۔
جاتے جاتے یار لوگوں کے لئے ایک مفت مشورہ ۔۔۔۔
اپنے جی میل کے اکاؤنٹ سے اپنی پاکستانی لوکیشن ختم کر کے امریکہ یا انگلینڈ کی ڈال لیں اور اگر ہو سکے تو اپنے کسی جاننے والے سے نیا ایڈریس وہیں سے بنوا کر بعد ازاں پاکستان سے بے دھڑک استمال کریں ۔۔۔۔یاد رہے مشورہ مفت ہے ۔۔۔۔
مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے
جہاں دیکھو میلاد ، جہاں دیکھو مجلس ، جہاں دیکھو کوئی نہ کوئی محفل ۔۔۔
اگر آپ کو اپنے مذہب سے اتنی ہی عقیدت ہے اور آپ اس کو مانتے بھی ہیں تو ایک جگہ مقرر کرلیں ۔ پھر جو جی چاہے کریں ۔۔لوگوں کو تو قربانی کا بکرا نہ بنائیں اور نہ ہی کوئی ایسا سیکورٹی رسک پیدا کریں جس سے عام معصوم انسانوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو۔
کیا آپ لوگوں کے اس طرح سر عام اجتماعات کرنے سے لوگ آپ کے مذہب کی طرف راغب ہو جائیں گے ؟
میرے خیال میں اگر ہم لوگوں نے تفرقہ بازی ، ایک دوسرے سے نفرت ، شدت پسندی اور دہشت گردی جیسے عنفریت کا خاتمہ کرنا ہے تو جلد یا بدیر ہمیں ایسے اقدام کرنا ہوں گے کہ جس سے خصوصا پاکستان میں رہنے والے انسان سکھ اور آزادی کا سانس لے سکیں ۔
اہل تشیع ہوں ، بریلوی ہوں ، دیوبندی ہوں یا کہ اہلحدیث ۔۔سب کو اپنے مذہبی اجتماعات اپنی قائم کردہ یا گورنمنٹ کی مخصوص کردہ جگہوں پر کرنے چاہئے۔سڑکوں ، گلیوں یا بازاروں میں ہر قسم کے اجتماعات پر مکمل پابندی لگا دینی چاہئے ۔
ہم تمام لوگوں کو سر عام مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے تاکہ پاکستان کا عام مسلمان سکھ کا سانس لے سکے۔اگر پاکستان میں مذہبی اجتماعات مخصوص کردہ جگہوں پر ہونے لگے تو آپ دیکھئے گا کہ اور کچھ ہو نہ ہو پاکستان میں تفرقہ بازی ضرور ختم ہو جائے گی
کالے نیلے پیلے اور زرد عاشق
ہمارا زمانہ تھا کہ لڑکیوں کے اسکول اور کالجوں کے باہر جن عاشقوں (عرف عام میں جنہیں آپ بھونڈ بھی کہہ سکتے ہیں) کا جھمگٹا ہوتا تھا وہ خوب بن سنور کر آتے تھے اور اس کے برعکس لڑکیاں بڑی سادہ سی،سلجھی ہوئیں بالکل گاؤ ماتا جیسی ہوتی تھیں۔
اگر کسی لڑکی سے ان میں سے کسی کا آنکھ مٹکا ہوتا تھا تو وہ بڑے سلیقے اور رازداری سے اس کی طرف اپنا محبت بھرا خط تھمادیتا تھا۔جس پر عموما کچھ اس قسم کے الفاظ درج ہوتے تھے کہ شام کو چھت پر یا کھڑکی پر ضرور آنا یا کہ میں تمہیں فون کروں گا۔اتنی سی بات کے لئے اس عاشق یا بھونڈ کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا تھا اور فون کرنے کے لئے تو ہزاروں پاپڑ بیلنے پڑتے تھے کیونکہ فوں کبھی لڑکی کا ابا اٹھا لیتا تھا اور کبھی امی ۔۔۔ اور لڑکیاں بھی ایسی شرم حیا والی ہوتی تھیں فون کی گھنٹی سنتے ہی ان کی جان چلی جاتی تھی کہ کہیں ابا یا امی کو پتہ نہ چل جائے۔۔۔
کئی چالاک عاشق یا بھونڈوں کو اپنی بہن یا بھابی کی منتیں کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا کہ باجی یا بھابھی جی صرف ایک بار اسے فون کر کے فون پر بلا دیں میں آپ کا احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گا۔
غرض یہ کہ اس وقت کہ عاشق تہذیب یافتہ بھی تھے اور منہہ متھے بھی لگتے تھے اور لڑکیاں بھولی بھالی ،حقیقی خوبصورت اور گاؤ ماتا جسی ہوتی تھیں
آج بہت سالوں بعد مجھے لاہور میں وحدت کالونی کے خواتین کالج جانے کا اتفاق ہوا ۔میری بچی کا آج بی کام کا آخری پیپر تھا اور وہ پیپر صرف ڈیڑھ گھنٹے پر محیط تھا ۔۔سوچا واپس گھر کیا جانا ہے دیڑھ گھنٹہ ہی تو ہے یہاں ہی انتظار کر لیتے ہیں۔۔۔ہو سکتا ہے ذہن میں پرانے جراثیم بھی ہوں جس کی وجہ سے مجھے وہاں ٹھرنے کی تحریک ملی ہو۔
دیکھتا ہوں آج بھی لڑکیوں کے کالج کے باہر ویسے ہی عاشقوں (بھونڈوں) کا جھمگٹا لگا ہوا ہے ۔کئی نیلے کالے سے لڑکے ، اپنے پیلے اور زرد چہرے لئے ہوئے کان سے موبائیل فون لگائے گیٹ سے کبھی ادھر جا رہے ہیں اور کبھی اُدھر ۔۔۔۔اور لڑکیاں جنہوں نے ابھی زمانہ دیکھنا ہے میک اپ کی تہہ میں اپنے چہرے کو سجائے ہوئے بڑے آرام سے گیٹ کے باہر آ کر اپنے اپنے عاشقوں کے ساتھ کھڑی ہو کر بڑے مزے سے خوش گپیوں میں مصروف ہو جاتی ہیں ۔۔انہیں نہ اپنے باپ کی فکر اور عزت کا احساس ہے اور نہ ہی اپنے بھائی کی ۔۔جونہی ان میں سے کسی لڑکی کا باپ یا بھائی انہیں لینے آتا وہ بڑے مزے سے باتیں کرتے کرتے ان کے ساتھ روانہ ہو جاتیں۔
میں اب تک حیران ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیا واقع میں ہمارا پاکستان ترقی کر گیا ہے ؟ کیا ترقی ایسی ہوتی ہے اور کیا اب ہمیں ہیرا منڈیوں پر پابندی نہیں لگادینی چاہئے کیونکہ ویسے بھی اب ان کا کوئی فائدہ نہیں رہ گیا
ہمیں اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہو گی ، ہمیں قوم پرست بننا ہوگا
خالی خولی مغرب والے ہی قوم پرست نہیں ہیں بلکہ میں نے مشرق ، مغرب ، شمال جنوب سب ہی کو قوم پرست دیکھا اور سنا ہے۔ہم پاکستان والے پتہ نہیں کون سے خطے میں رہتے ہیں جو قوم پرست نہیں ہیں۔۔اگر ہم مشرق میں ہی رہتے ہیں تو ہمیں بھی قوم پرست ہونا چاہئے ۔ہمارے ساتھ ہمسائے یعنی کہ ہندوستان والے چاہے کتنے ہی لعنتی کردار کیوں نہ ہوں ۔۔مگر یہ ماننا پڑے گا کہ ہیں وہ قوم پرست۔۔وہاں کا ہندو طبقہ تو خیر انتہا پسند ہے ہی مگر آپ وہاں کے کسی بھی مسلمان سے ہندوستان کے خلاف بات کر کے دیکھ لیں وہ آپ کے منہ پر ایسا لفظوں کا تھپڑ مارے گا کہ آپ ساری مسلمانی
بھول جائیں گے۔۔
ایک ہم ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سے زیادہ سچا مسلمان پوری دنیا میں نہیں ہے اور جب بات پاکستانیت اور قوم پرستی کی آتی ہے تو ہماری خود ساختہ مسلمانی پتہ نہیں کہاں سو جاتی ہے۔۔جسے دیکھو پاکستان کی برائی ، جسے دیکھو فوج کی برائی ۔۔۔ایک عام آدمی سے لے کر بڑے بڑے لیڈر بھی اپنی ہی فوج کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم کس کا ایجینڈا لے کر چل رہے ہیں۔اگر ہم پاکستان کا ایجینڈا لے کر اس ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں پر بھی نظر ثانی کرنی ہو گی۔ہمیں مذہب پسند کی طرح قوم پرست بھی بننا پڑے گا۔
ہر قوم ، ہر ملک میں خرابیاں ہوتی ہیں اور کچھ لوگ بھی خراب ہوتے ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ پوار ملک یا پورے لوگ یا ادارے ہی خراب ہیں۔۔۔ان کو صحیح بھی کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔مگر کوں صحیح کرے گا۔۔وہی جو قوم پرست ہونگے ۔اگر ہم اپنے ہی گھر والوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں تو باہر والے کبھی بھی ہمارا ساتھ اس طرح نہیں دے سکتے جس طرح گھر والے دیتے ہیں
پوری دنیا میں دیکھ لیجئے کوئی بھی اپنے اہم اداروں کو برا بھلا نہیں کہتا ، بلکہ ان میں اگر کسی جگہ کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو انہیں برا بھلا کہنے کی بجائے انہیں ٹھیک کیا جاتا ہے تاکہ ان کے وہ ادارے اور زیادہ مظبوط ہو جائیں۔۔۔ایک ہم پاکستانی واحد قوم ہیں جو اپنے ہی اہم اداروں جن کی وجہ سے ہم دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں ، ان کو ہی برا بھلا کہہ رہے ہیں ۔ہمیں اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہو گی ، ہمیں قوم پرست بننا ہوگا۔۔۔۔
ذہنی کرپشن کو کوئی کیا کہے
میو ہسپتال لاہور شہر میں واقع ایک بڑا ہسپتال ہے بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ اس ہسپتال کا شمار ایشیا کے بڑے اور مشہور ہسپتالوں میں بھی کیا جاسکتا ہے۔اور ہمارے پاکستان کا یہ بھی اصول ہے کہ جو چیز ، جگہ جتنی بڑی ہوگی اس میں کرپشن کے مواقع بھی اتنے ہی ہوں گے ۔خالی خولی کرپشن ہو تو چلو گزارہ بھی کیا جاسکتا ہے مگر ذہنی کرپشن کو کوئی کیا کہے۔
ڈاکٹری پیشہ ایک مقدس پیشہ ہے اس مقدس پیشے کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے ڈاکٹروں کو آپ کیا کہیں گے ؟
یہ غالبا 1988 کا دور تھا ، مہینے کا کچھ یاد نہیں ، میں حسب معمول اپنی رات کی ڈیوٹی پر میو ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں موجود تھا۔ہمارے ساتھ ہمارا ایم او ( میڈیکل آفیسر) ڈاکٹر حفیظ الرحمن جو شکل سے انتہائی شریف آدمی دکھائی دیتا تھا موجود تھا۔ہماری ڈیوٹی رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک 12 گھنٹے پر محیط ہوتی تھی ۔اور رات 1 بجے کے بعد ایمرجنسی میں عموما رش کم ہو جایا کرتا تھا۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی روزانہ یہ روٹین ہوتی تھی کہ جب ایمرجنسی میں رش کم ہو جایا کرتا تھا تو کسی نہ کسی نوجوان خوبصورت لڑکی کو جو بیچاری اپنی بیماری کے باعث وہاں اپنے ماں باپ یا بھائی کے ساتھ آتی تھی ، اپنے قریب والے بیڈ پر لٹا کر اس کا علاج خود کیا کرتا تھا۔یہاں میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ ہماری سب کی ڈیوٹی ایمرجنسی وارڈ کے باہر ( سی او ڈی ) میں ہوتی تھی جہاں پولیس کیس ، یعنی حادثات ، قتل وغیرہ کے کیس آیا کرتے تھے جبکہ ہمارے ہاں جو میڈیکل آفیسر یعنی ( ایم او) ہوتا تھا وہ تمام مریضوں کو ایک نظر دیکھ کر اسے سرجیکل یا میڈیل میں ریفر کر دیا کرتا تھا۔
تو بات ہو رہی تھی کہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن کی عموما روزانہ کی یہ عادت تھی کہ جب ایمرجنسی میں رش کم ہو جایا کرتا تھا تو کسی نہ کسی نوجوان خوبصورت لڑکی کو جو بیچاری اپنی بیماری کے باعث وہاں اپنے ماں باپ یا بھائی کے ساتھ آتی تھی ، اپنے قریب والے بیڈ پر لٹا کر اس کا علاج خود کیا کرتا تھا۔۔اور اسی علاج کے بہانے وہ لڑکی کے سینے پر اسٹتھیو اسکوپ ( عام آدمی اسے ٹوٹیاں سمجھ لیں جس سے سینے اور دل کا چیک اپ کیا جاتا ہے) لگا کر دیر تک اسے ہاتھوں سے ٹٹول کر مزے لیا کرتا تھا۔اس کی اس قبیح حرکت سے بہت سی لڑکیاں رونے لگتی تھیں ۔بیچارے ماں باپ یہی سمجھتے تھے کہ ان کی لڑکی تکلیف کی وجہ سے رو رہی ہے ۔ان کو کیا پتہ ہوتا تھا کہ یہ ڈاکٹر جو ان کی بچی کا علاج کر رہا ہے یہ ڈاکٹر کے روپ میں درندہ ہے۔ہم نے بارہا ڈاکٹر حفیظ الرحمن کو اس کی حرکتوں سے منع بھی کیا تھا اور بارہا شرم بھی دلائی تھی مگر اس کے کان پر جوں نہ رینگتی تھی ۔
آج ہم سب نے ٹھان لیا تھا کہ آج اگر اس نے ایسی کوئی حرکت کی تو اس کا کوئی نہ کوئی سدباب کیا جائے گا۔اتفاق دیکھئے کہ ایک خوبصورت لڑکی پیٹ درد کی وجہ سے رات تقریبا ڈیڑھ بجے اپنی والدہ اور نوجوان بھائی کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوئی میں اس وقت پرچی والے کے پاس ہی بیٹھا چائے پی رہا تھا میں نے پرچی والے کو اشارہ کیا کہ اس کی پرچی بنائو اور اسے ڈاکٹر حفیظ الرحمن کے پاس بھیج دو ۔ دوسری جانب میں نے اوپر لیباٹری ٹیکنیشن کو فون کر دیا کہ نیچے آ جائو اور باہری گیٹ کے پاس کھڑے ہو جائو۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے حسب معمول اس لڑکی کو اپنے ساتھ والے بیڈ پر لٹا کر قبیح حرکتیں شروع کر دیں ۔وہ لڑکی بھی کئی انتہائی شریف تھی اس نے اونچا اونچا رونا شروع کر دیا ۔ میں نے فورا لیبارٹری ٹیکنیشن کو اشارہ کیا ، اس نے اس کے نوجوان بھائی کو اشارے سے بلا کر اسے ڈاکٹر کے بارے میں بتایا اور غائب ہو گیا۔لڑکی کے بھائی کا یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر اس کی بہن کے ساتھ ایسی حرکتیں کر رہا ہے اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ، مریضوں کا اسٹول اٹھا کر ڈاکٹر کو دے مارا اور لگا گالیاں نکالنے ۔۔۔لڑکے نے فوری طور پر اپنی بہن اور ماں کو وہاں سے لیا اور وہاں سے غائب ہو گیا۔۔ہم نے سوچا کہ یارا یہ تو کچھ نہ ہوا مگر تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتے ہیں کہ ساتھ ہی گوالمنڈی سے وہ بہت سے لڑکے لے کر دوبارہ آ دھمکا اور لگا ڈاکٹر کو مارنے۔۔جب وہ ڈاکٹر حفیظ کو کافی مار چکا تو اب ہمیں ڈاکٹر کو بچانے کی فکر ہوئی ۔۔بحرحال قصہ مختصر ڈاکٹر کو کسی نہ کسی طرح بچا کر وہاں سے بھگا دیا گیا اور صبح لڑکے کی درخواست پر سیکرٹری ہیلتھ نے اسے معطل کر دیا۔۔۔بعد میں سنا تھا کہ وہ بحال ہو گیا تھا۔۔مگر اس دن کے بعد سے آج تک میری اس سے ملاقات نہیں ہوئی
پاکستان کا ہر دوسرا بندہ ڈاکٹر اور مولوی ہے
جو جس چیز کا ماہر ہوتا ہے اس کی رائے کو معتبر بھی مانا جاتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ایک انسان جس علم میں ماہر ہے اس کا وہ فائدہ اٹھا کر دوسروں کو گمراہی میں دھکیل دے۔جیسا کہ میں نے شروع میں بات کی کہ ‘‘ جو جس چیز کا ماہر ہوتا ہے اس کی رائے کو معتبر بھی مانا جاتا ہے ‘‘ یعنی اگر کوئی ڈاکٹر کسی خاص مرض کا ماہر ہے تو اس کی تشخیص اور دوا کو بہتر جانا جائے گا اور لوگ دوسرے عام ڈاکٹروں کی نسبت اس پر زیادہ بھروسہ کریں گے اور اس کے کہے پر عمل بھی کریں گے۔
ایسے ہی دینی ڈاکٹر کا بھی سمجھ لیں ، جس کو دین کا صحیح علم ہو گا وہ صحیح بات کرے گا یہ الگ بات ہے کہ وہ اس علم کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دنیاوی منفعت کے لئے لوگوں کو گمراہ کرتا پھرے ۔یہاں مجھے ایک بات یاد آگئی پتہ نہیں کس نے کہی ہوگی ، حالانکہ اسے کبھی کوئی انگریز سے منسوب کرتا ہے اور کوئی کسی سے۔۔۔بحرحال کہتے کچھ یوں ہیں کہ پاکستانیوں میں ہر دوسرا بندہ ڈاکٹر اور مولوی ہے ۔۔۔اور دیکھا جائے تو یہ حقیقت سے قریب ترین بات ہے میں نے بذات خود اسے کئی بار آزمایا ہے۔آپ کسی سے بھی پوچھ لیں کسی بیماری کا یا کسی دینی مسلے کا تو وہ آپ کو جھٹ سے جواب بھی دے گا اور اس کے بارے میں دلائل بھی دے مارے گا۔۔اور انہیں ڈاکٹروں اور مولویوں کی وجہ سے آج بہت سے لوگ قبروں کے اندر ہیں اور جو باہر ہیں وہ قبروں اور قبر والوں کو سجدے کر رہے ہیں
میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں
بارہ اگست دو ہزار چھ کو کو ایک تحریر بنام واصف علی واصف کے تحریر کی تھی جس کے چند الفاظ چھوڑ کر وہ تمام تحریر حقیقت پر مبنی تھی وہ چند الفاظ میں نیچے کوٹ کر رہا ہوں
سڑک سے تھوڑا اندر کھائی کے بالکل اوپری کنارے پر کچھ لوگ کھڑے ایک مردے کو دفنا رہے تھے
پوچھنے پر پتہ چلا کہ نشئی آدمی تھا اور پتہ نہیں کیا لکھتا رہتا تھا اور آخر کار آج چل بسا ، اسی کو دفنا رہے ہیں
حالانکہ میں نے واصف علی واصف کو نہ ہی دفناتے ہوئے دیکھا اور نہ ہی کسی نے مجھے اس کے بارے میں نشئی کے الفاظ کہے۔اللہ مجھے معاف کرے
انسان کوئی بھی ہو اچھا یا برا ، اس کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہنا چاہئے ۔ کیونکہ میری زندگی کا تجربہ ہے کہ جیسا تم بوؤ گے ویسا ہی کاٹو گے۔میں نے بہت سے ایسے انسان دیکھے ہیں جنہوں نے جو کہا ویسا ان کے آگے بھی آیا اور میں اس کی مثال آپ بھی ہوں ۔۔میرے ساتھ بارہا ایسا ہوا کہ جیسا میں نے کیا ویسا آگے بھی آیا۔
دو ہفتے پیشتر میری ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی ( اللہ سبہانہ و تعالی اسے جنت میں جگہ عطا فرمائے آمین) بڑی عظیم ماں تھی میری ، بالکل ایسے ہی جیسے عظیم مائیں ہوتیں ہیں جن کی مثالیں دی جا سکیں۔رات ساڑھے گیارہ بجے ان کی وفات ہوئی ، ایک بجے کے قریب بڑے بھائی نے مجھے کہا کہ میانی صاحب ( میانی صاحب لاہور میں واقع ایک بڑا قبرستان ہے) جا کر قبر کا انتظام کر کے آؤ ۔میں اور میرا ایک دوست اسی وقت جناز گاہ جا پہنچے ۔ وفات کا اندراج کروانے کے بعد ہم گورکن کے ہمراہ قبرستان کے اندر قبر کی جگہ دیکھنے چلے گئے ۔( رات میں قبرستان میانی صاحب میں ایک عجیب ہی سماع ہوتا ہے جس کی تفصیل انشااللہ پھر پیش کروں گا) بحرحال کافی تلاش کے بعد بھی مجھے کوئی جگہ پسند نہیں آ رہی تھی ۔ میں مصر تھا کہ مجھے زیادہ اندر قبر نہیں بنوانی بلکہ سڑک کے نزدیک ہو تو بہتر ہو گا۔ آخر کار گورکن نے مجھے کہا کہ میں آپ کو مزنگ والی سائڈ پر جگہ دکھاتا ہوں ۔ہم اس کے ساتھ مزنگ کے ساتھ چوبرجی کی طرف جانے والی سڑک پر اندر قبرستان کے اند داخل ہوگئے اس نے وہاں اپنے ایک دوست گوکن کو اٹھایا اور مجھے قبر کی جگہ دکھانے کو کہا۔اس نے مجھے واصف علی واصف کی طرف سے جانے والی گلی کے اندر شروع میں قبر کی جگہ دکھائی جو مجھے پسند آگئی اور آج میری عظیم والدہ واصف علی واصف کے ساتھ گلی تھوڑا آگے جاکر مدفن ہے اور میں واصف علی واصف کی قبر کے سامنے سے ہوتا ہوا اپنی والدہ محترمہ کی قبر پر حاضری دینے جاتا ہوں ۔۔۔سوچتا ہوں اللہ جانے اس میں بھی کیا حکمت ہے مگر میں اب واصف علی واصف کے آگے سے گزرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہوں ۔۔۔اللہ مجھے معاف کرے ۔۔۔پتہ نہیں کیسا انسان تھا ، میں نہیں جانتا ۔اللہ اس کے ، میری والدہ کے اور تمام مسلمانوں کے گناہ معاف کرے آمین
الیکشن ٢٠٠٨ کا ایک تجزیہ
میرا یہ مضمون آپ اردو نیوز پر بھی پڑھ سکتے ہیں
جب الیکشن ٢٠٠٨ کی بازگشت شروع ہوئی تھی تو ساتھ ہی میاں نواز شریف کی آمد کا بگل بھی بجنا شروع ہو گیا تھا۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ ماننا تھا کہ بے نظیر تو پاکستان میں امریکہ کہ آشیرباد سے آسکتی ہیں مگر نواز شریف کا آنا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔قصہ مختصر کہ دنیا نے دیکھا کہ بے نظیر بھی پاکستان آئیں اور حکومت پاکستان کو نواز شریف کی آمد کا غم بھی سہنا پڑا۔میاں نواز شریف کی وطن واپسی سے قاف لیگ کو جتنا بڑا دھچکا لگا شاید وہ بے نظیر کی آمد کا عشرِ عشیر بھی نہیں تھا۔
اب جبکہ پاکستان کے اقتدار کی جنگ میں محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی جان کی بازی ہار چکی ہیں تو میدان میاں نواز شریف کے لئے بالکل خالی ہوچکا ہے۔قاف لیگ کو عوام میں پہلے بھی اتنی پزیرائی حاصل نہیں تھی جو کہ ان دونوں بڑی پارٹیوں ( پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ نون ) کے مقابلے میں کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھا پاتی مگر اب بے نظیر کی المناک موت کے بعد تو قاف لیگ صرف نام کی جماعتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔
اگر ہم صرف پنجاب کے حوالے سے ہی الیکشن ٢٠٠٨ کی صورتحال کا جائزہ لیں تو ١٨ فروری کو ہونے والے انتخابات میں پنجاب میں کل اہل ووٹروں کی تعداد ٤ کروڑ ٤٦ ہزار ہے ، ضلع لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں سیاسی صورتحال بظاہر نون لیگ کے حق میں دکھائی دیتی ہے، گجرات، رحیم یار خان اور بعض دیگر اضلاع قاف لیگ کے مضبوط قلعے ہیں۔
پنجاب میں عام انتخابات ٢٠٠٨ء میں اس مرتبہ صورتحال نہایت دلچسپ رہیگی، ضلع لاہور میں سیاسی صورتحال واضح طور پر (ن) لیگ کے حق میں نظر آرہی ہے، اسی طرح راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی بظاہر (ن) لیگ مضبوط دکھائی دیتی ہے، تاہم گجرات، رحیم یار خان اور بعض دیگر اضلاع میں (ق) لیگ کی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پہلے نمبر پر صوبہ پنجاب میں جہاں مجموعی طور پر 4 کروڑ 46 ہزار 914 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سب سے کم 4 لاکھ 37 ہزار 4 سو 34 مرد اور خواتین ووٹر اپنا ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ضلع اٹک میں 461032 مرد اور 3 لاکھ 94 ہزار 9 سو 9 خواتین اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔ ضلع بہاولپنگر میں 747178 مرد حضرات 617973 خواتین، ضلع خوشاب میں 299426 مرد، 257371 خواتین، ضلع گجرات جو کہ (ق) لیگ کے سرکردہ رہنماؤں کا گڑھ کہلاتا ہے چھ لاکھ 85 ہزار 9 سو 65 مرد، 603228 خواتین ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گی۔ ضلع بھکر میں 31278 مرد حضرات، 253267 خواتین ووٹرز ہین۔ یہاں شاہانی گروپ کے امیدوار عروج پر ہیں۔ ضلع ڈیرہ غازی خان میں (ن) لیگ کے امیدواروں کا گراف دن بدن بڑھ رہا ہے۔ یہاں پر مرد ووٹروں کی تعداد 626101 اور 480849 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع فیصل آباد میں پی پی پی اور (ن) لیگ کے امیدواروں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہو گی۔یہاں مرد ووٹروں کی تعداد 1636649 اور 1311049 خواتین ووٹرز میں یہ پنجاب میں دوسرے نمبر پر ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں بھی دوسرے نمبر پر اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ہیں جبکہ ملک بھر میں ضلع لاہور پہلے نمبر پر ہے جس میں مرد ووٹروں کی تعداد 20 لاکھ 42 ہزار 4 سو 82، خواتین 1631638 رائے دہی کیلئے اپنا حق استعمال کریں گی۔ ضلع لاہور سیاست کے اعتبار سے مسلم لیگ (ن) کا قلعہ ہے اور یہاں بھی (ق) لیگ کی دال گلتی نظر نہیں آرہی۔ اسی طرح دیگر اضلاع جن میں خانیوال مرد 572197 اور خواتین 457522 ضع قصور میں 722771 مرد اور 551886 خواتین، ضلع گوجرانوالہ جہاں ہمیشہ برادری ازم کو فوقیت حاصل رہی ہے میں مرد ووٹرز کی تعداد 133072 اور خواتین 1101947 ہیں۔ ضلع حافظ آباد میں 228873 مرد اور 173909 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع جھنگ جو کہ ایک کالعدم مذہبی تنظیم کا گڑھ سمجھا جاتا ہے میں مرد ووٹرز کی تعداد 103345 اور خواتین کی 858753 ہے۔ اسی طرح دیگر اضلاع کی تعداد درج ذیل ہے۔ ضلع جہلم مرد حضرات 191771، خواتین 357277، ضلع لیہ مرد 320559 خواتین 238002، ضلع لودھراں ، مرد 307536، خواتین اور خواتین 225177، ضلع منڈی بہاؤ الدین میں 370528 مرد اور 278521 خواتین، ضلع میانوالی 348786 مرد اور خواتین 289180، ضلع ملتان 1206049 مرد اور خواتین 1002299، ضلع مظفر گڑھ میں مرد اہل ووٹروں کی تعداد 778637، خواتین 559666، ضلع ننکانہ میں مرد 364884 اور 286070 خواتین، ضلع نارووال میں 3565641 مرد اور 286072 خواتین، ضلع اوکاڑہ میں 804629 مرد اور 693515 خواتین، ضلع پاکپتن میں 3581442 مرد اور 297288 خواتین اہل ووٹر ہیں۔ ضلع رحیم یار خان میں مرد ووٹرز 1188090 اور خواتین 967464، ضلع راجن پور میں مرد 347217 اور خواتین 230476 اہل ووٹرز ہیں۔ ضلع راولپنڈی جہاں پر اس دفعہ فرزند راولپنڈی شیخ رشید کو دونوں حلقوں میں جاوید ہاشمی اور محمد حنیف عباسی جیسے مضبوط امیدواروں کا سامنا ہے۔ یہاں پر اہل مرد ووٹرز کی تعداد 1271509 اور 1137849 خواتین ووٹرز ہیں۔ ضلع ساہیوال بودلہ اور کاٹھیاں خاندانوں کا روائتی اکھاڑہ رہا ہے یہاں پر اہل رائے دہند گان مردوں کی تعداد 526909 اور خواتین 426251 ہیں۔ ضلع سرگودھا میں 1055628 اور خواتین 884451، ضلع شیخو پورہ میں 522932 مرد، 385144 خواتین ووٹرز ہیں۔ سیالکوٹ 814130 مرد اور 669993 لیڈیز ووٹرز ہیں۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرد ووٹر حضرات 48714 اور خواتین 404518 اہل ہیں جبکہ ضلع وہاڑی میں مرد اہل رائے دھند گان کی تعداد 714447 اور خواتین کی 610418 موجود ہیں۔ پورے صوبہ پنجاب میں حلقہ این اے 53 راولپنڈی جہاں دونوں سابق وزراء پنجہ آزما ہیں ان میں (ن) لیگ کے چوہدری نثار علی خان اور (ق) لیگ کے غلام سرور خان آمنے سامنے ہیں جبکہ این اے 55,56 سے شیخ رشید احمد اور (ن) لیگ کے جاوید ہاشمی اور حنیف عباسی، این اے 72 میانوالی سے ڈاکٹر شیر افگن، این اے 69 سے خوشاب 14 سے سمیرا ملک سابق وزیر امور خواتین و امور نوجوانان، این اے 1269 نارووال سے محمد نصیر خان، سابق وزیر صحت اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ 2002ء میں ہونے والے الیکشن میں ٹرن اوور 35-6 فیصد تھا اور موجودہ ملکی صورتحال میں ٹرن اوور 25 یا 30 فیصد سے زائد نہیں ہو گا۔قیاس یہی ہے کہ صوبہ پنجاب میں (ن) لیگ اپنے قائد نواز شریف کی واپسی کی بدولت کلین سویپ کر جائیگی۔ اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ آئیندہ پاکستان کے اقتدار کی مسند پر کون بیٹھے گا؟
ثواب بھی اکیلے کمانا اب جرم ٹھرا
بہت سی باتیں ہیں اور انہیں میں سے اگر ایک ایک بات پر ہی لکھنے بیٹھوں تو ہوش و ہواس گم ہو جائیں ۔ خود بھی پاگل کہلاؤں اور زمانے کو بھی ہنسنے کا موقع دوں ۔
کراچی جو روشبیوں کا شہر تھا ، جانے کس کی نظر کھا گئی ہے اسے ، ہر طرف ہو کا عالم ہے ، بجلی کا نام و نشان تک نہیں اور پانی ہے کہ لوگ قطروں کو ترس رہے ہیں۔١٢ مئی کو کچھ ایسی نظر لگی ہے کہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی اور کچھ یار لوگ بھی ایسے ہیں کہ شاید اس پر کالا تل بھی لگانے کو تیار نہیں۔
ابھی کل ہی آندھی کے ساتھ بارش بھی ایسے زور کی اتری ہے کہ اللہ کی پناہ ، شاید گناہوں کا اثر ہو گا جو ٢٣٠ سے زائد انسان اللہ کو پیارے ہوگئے۔ہوتا یہ بھی ہے کہ گناہ کسی کے اور بھگتتا کوئی اور ہے اور لگتا بھی یوں ہی ہے کہ اس دفعہ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوگا۔
اور تو اور اپنے ایدھی والوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ثواب کمانے کے لئے اپنے کاندھے آگے رکھے مگر یار لوگوں کو بھی بندہ کیا کہے ان کو ایدھی والوں کی یہ ادا بھی نہ بھائی۔
سننے میں آتا ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے چیف رضاکار رضوان احمد ایدھی کا کہنا تھا کہ ان کو اور دوسرے رضاکاروں کو کچھ مسلح افراد نے گھیرے میں لئے رکھا جس کی وجہ سے پانچ چھ گھنٹے تک میتیں ایمبولینسوں کے اندر ہی پڑی رہیں ان کے ساتھ خواتین بھی تھیں مگر کسی کو اترنے نہیں دیا گیا، رضوان احمد ایدھی نے رنجیدیگی سے بتایا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے ، کہ ہمارا انسانی خدمت کرنا جرم ہو جائے۔
اب ایدھی والوں کو کون سمجھائے کہ یار لوگوں کا نام بھی اپنی گاڑیوں پر سجا رکھیں یا پھر اپنے ثواب کا کچھ حصہ انہیں بھی بخش دیا کریں اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر یار لوگ تو ثواب کمانے کے لئے آگے بڑھیں گے ہی، اور ویسے بھی آج کل کے نفسا نفسی کے دور میں کون کسی کو اکیلا کھانے کمانے دیتا ہے چاہے وہ ثواب ہی کیوں نہ ہو۔
ثواب بھی اکیلے کمانا اب جرم ٹھرا
شیخو
کیا یہ ہمارا اسلام ہے ؟
بہت دنوں بعد اپنے بلاگ پر حاضری دے رہا ہوں اس دوران بہت سے واقعات وقوع پذیر ہو چکے ۔مصروفیت کچھ ایسی بنی کہ یہاں آیا ہی نہیں گیا حالانکہ فاصلہ ہی کتنا تھا ، سوچو تو صرف ایک ہاتھ کا، مگر یہی ہاتھ ہی نہ چلا ، تو پھر ذہن کیا چلتا۔
ورلڈ کپ ہوا ، کھلاڑیوں پر افتاد پڑی ، چیف جسٹس کو غیر فعال کر دیا گیا ،کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی ، غرض کیا کیا نہ ہوا اپنے پاکستان میں ، مگر میں ہوں کہ بس دیکھتا گیا۔
آج بھی بس سرِ راہ ہی نکل آیا ہوں ، کہوں گا کچھ نہیں ، بس چند تصویریں ہیں جو پاکستان میں اسلام کی عکاسی کر رہی ہیں اب وہ کونسے اسلام کی عکاس ہیں یہ آپ دوستوں پر چھوڑتا ہوں۔
میں ان سب دوستوں سے معذرت خواہ ہوں جن کے تبصرے عیاں نہ ہوسکے خصوصاُ مبین صاحب سے بھی معذرت چاہتا ہوں جن کے بہت سے تبصرے میری غیر حاضری کی وجہ سے شائع نہ ہو سکے۔

قلعہ کہنہ قاسم باغ کے آخر میں شاہ شمس تبریز کے مزار پر ایک عورت کے ڈانس کا منظر

قلعہ کہنہ قاسم باغ کے آخر میں شاہ شمس تبریز کے مزار پر عورتوں کے ڈانس کا ایک منظر

قلعہ کہنہ قاسم باغ کے آخر میں شاہ شمس تبریز کے مزار پر ہیجڑوں کے ڈانس کا ایک منظر
بسنت بہار
بسنت کا تہوار بس آیا ہی چاہتا ہے اور اس دفعہ تو بسنت کے تہوار کو محفوظ بنانے کے لئے ہماری حکومت نے لاکھوں روپے کے تار مفت بانٹ کر لوگوں کو اپنی موٹر سائکلوں پر لگا کر باہر نکلنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں تاکہ ان کی گردنیں محفوظ رہ سکیں۔اور تو اور تعلیمی اداروں میں بسنت کے بارے بچوں کو آگاہی کے سلسلہ میں ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام بھی کیا گیا ہے ۔
شیدا ملنگ کہتا ہے کہ اس پر بحث کرنا ہی فضول ہے کہ کہ ایک بسنت کے تہوار کے لئے تاروں کے لاکھوں روپے عوام کے برباد کرنا اور مثبت تعلیمی سرگرمیوں کے لیکچر کی بجائے بسنت جیسے تہوار کے بارے لیکچر دینا کیا رنگ لائے گا۔
وہ صرف ایک بات کہتا ہے کہ ، ان سب حفاظتی تدابیر کے باوجود اگر کوئی گردن کٹ گئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے گی؟
روشن خیالی زندہ باد
ہا وووووو ہا ۔ہا وووووو ہا ۔ وووووو ہا۔ کیا ہو گیا ٹونی بھائی کیوں بڑکیں لگا رہے ہو یار۔کیا کوئی سلطان راہی کی پنجابی فلم تو نہیں دیکھ لی۔
ارے چھوڑو یار سارا منہہ کا ذائقہ ہی خراب کر دیا۔پنجابی اور اردو فلمیں بھی کوئی دیکھنے لائق ہیں کوئی انگریزی فلم کی بات کرو۔
اچھا چلو چھوڑو تم یہ بتاؤ کہ بڑکیں کس خوشی میں لگا رہے تھے؟
ارے شیخو یار تمہیں نہیں پتہ آج اپنے صدر صاحب نے بھی بسنت کے حق میں بیان دے دیا ہے۔
یار ٹونی مجھے تو بڑا دکھ ہوا ہے وہ دیکھو نا اگر کسی کی ڈور سے اگر کسی بچے کا گلہ کٹ گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔اور جو یہ بجلی کا اتنا نقصان ہوتا ہے ۔یہ تو سراسر ظلم ہے ٹونی بھائی۔
تو لوگ باہر کیوں نکلتے ہیں انہیں نہیں پتہ کہ بسنت کا تہوار ہے۔اور بجلی کا کیا ہے اگر ایک دن نہیں آئے گی تو کیا قیامت آ جائے گی۔ اور پھر ہم روشن خیال لوگ ہیں آخر خوشی بھی تو منانی ہے نا اگر خوشیوں پر پابندی لگے یہ ظلم نہیں ہے کیا؟
بھائی ٹونی روشن خیالی کا یہ مطلب نہیں کہ تم لوگ کسی کا گلا کاٹ کے خوشیاں مناؤ۔
ہونہہ ، تم دقیانوسی لوگ ہو تمہیں کیا پتہ روشن خیالی کسے کہتے ہیں۔
اچھا ٹونی بھائی اگر ہم دقیانوسی ہیں تو تم تو روشن خیال ہو نا تو ذرا مجھے بھی تو بتاؤ کہ روشن خیالی کہتے کس کو ہیں۔
بس روشن خیالی ، روشن خیالی ہے۔ہر ایک کو آزادی سے رہنے کا حق ہے جس کا جو جی چاہے کرے۔دنیا میں امن سے رہے ،جس کا جو جی چاہے قانون کے دائیرہ میں رہ کر کرتا رہے۔چاہے شراب پئے یا ڈانس دیکھے۔
مگر ٹونی یار ہمارا دین اسلام تو ایسے نہیں کہتا،اس میں آزادی ہے مگر ایسی آزادی نہیں۔
مذہب کی بات نہیں کرو یار ایک تو تم دقیانوسی لوگ ہر بات میں مذہب کو گھسیٹ لیتے ہو۔ مذہب ہر ایک کا ذاتی فعل ہے کوئی عمل کرتا ہے تو کرے اور اگر نہیں کرتا تو نہ کرے۔کیونکہ مذہب اپنی جگہ ہے اور معاشرت اپنی جگہ۔
ٹونی بھائی یہ تو پھر جدید طرز کے مغربی خیالات ہوئے نا۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ عورتوں کو بھی اس لحاظ سے کھلی آزادی ہوئی۔
ہاں کیوں نہیں ، ان کا حق نہیں ہے کیا آخر وہ بھی تو انسان ہیں۔
مگر ٹونی بھائی اس سے تو خرابی پیدا ہوگی۔وہ دیکھو نا کہ اگر ایک عورت ایسا لباس پہنے جس سے آدمیوں کے جذبات بھڑکیں تو کیا یہ اچھی بات ہوگی۔
یار شیخو یار شیخو تم واقع میں دقیانوسی آدمی ہو۔اگر تمہیں نہیں پسند تو نہ دیکھو یار۔تمہیں کون کہتا ہے کہ تم عورتوں کی طرف دیکھ کر اپنے جزبات بھڑکاؤ۔
مگر یار جب ایسی روشن خیالی ہوگی تو نظر پڑ ہی جاتی ہے۔اچھا یہ بتاؤ کیا تمہیں اچھا لگے گا کہ تمہارے گھر میں سے عورتیں ایسا لباس زیب تن کر کے یوں سڑکوں پر کھلے عام پھریں۔
کیسی بات کرتے ہو شیخو یار اگر ان کا دل کرے گا تو یہ ان کی مرضی ہے آخر وہ بھی انسان ہیں۔ان کا بھی حق بنتا ہے کہ ایک زندہ اور روشن خیال معاشرے میں آزادی سے اپنی زندگی بسر کریں۔
اچھا ٹونی یہ بتاؤ کہ کل کلاں کو اگر ہمارے ہاں ایک لڑکی مغربی معاشرے کی طرح بغیر شادی کے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنے لگے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا یہ بری بات نہیں ہوگی؟
کیوں بھئی بری بات کیسے ہو گی اس کا حق نہیں ہے آزادی سے اپنی زندگی جینے کا۔
مگر ہمارا مذہب تو اس کی اجازت نہیں دیتا ٹونی بھائی
یار شیخو تمہیً کتنی بار کہا ہے مذہب کو درمیان میں مت لاؤ۔میں نے تمہیں پہلے بھی کہا ہے کہ مذہب ہر ایک کا ذاتی فعل ہے۔مذہب اپنی جگہ ہے اور معاشرت اپنی جگہ۔
مگر ٹونی یار ہمارے دین اسلام نے معاشرت ہی تو سکھائی ہے کہ کیسے رہنا ہے اور دیکھو نا یہ بھی تو مذہب ہی ہے۔
یار شیخو تم تو انتہائی دقیانوسی انسان ہو۔تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔
نہیں یار ٹونی میں تو ڈر گیا ہوں اگر ایسی ہی روشن خیالی رہی تو کل کو شراب کی دکانیں بھی کھلیں گی۔
تو اچھا ہے نا شیخو یار جس کا جی چاہے پئے جس کا جی چاہے نہ پئے۔
ٹونی یار اچھا ایک بات بتاؤ ؟ اس بارے میں تمہاری روشن خیالی کیا کہتی ہے کہ کل کلاں کو اپنے ہاں اگر ایک مرد ایک دوسرے مرد سے یا ایک عورت دوسری عورت سے شادی رچانے لگے ، میرا مطلب ہم جنس پرستی سے ہے تو کیا تمہارا یہ روشن خیال معاشرہ اس کی اجازت دے گا؟
دیکھو شیخو یار، اگر ایک روشن خیال معاشرے کے لوگ ایسا چاہیں گے اور اگر ایسا کوئی قانون پاس ہو بھی جاتا ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔ہر ایک کو اپنی زندگی جینے کا حق ہے۔
اچھا ٹونی بھائی کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے ہاں کی عورتیں تھائی لینڈ جیسے ملک کی طرح آزاد ہوں اور تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ ان کی معشیت ہی عورتوں کے سر پر ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ وہاں کتنی بے غیرتی ہے۔
وہ آزاد اور روشن خیال لوگ ہیں ان کی عورتیں آزاد ہیں اپنا کام کرتی ہیں اور پھر کام کرنے میں کیا برائی ہے؟ اپنی زندگی جیتی ہیں وہ ، اپنا کماتی ہیں اپنا کھاتی ہیں۔
مگر ٹونی بھائی وہ جیسا کام کرتی ہیں وہ تو بے غیرتی ہوئی نا۔بھلا یہ کیسی روشن خیالی ہوئی؟
کون سی بے غیرتی ہے وہاں شیخو بھائی ، اپنی زندگی جیتی ہیں ان کو اس کا حق ہے اور ان کا معاشرہ ان کو اس کا حق بھی دیتا ہے۔
ٹونی بھائی ہمارے معاشرے نے بھی روشن خیالی کے نام پر عورتوں کو ایسے ہی حقوق سے نوازا ہے تو کیا ہمارے ہاں کی عورتیں بھی اگر اسی ڈگر پر چل نکلی تو کیا ہمارا معاشرہ اس بات کی اجازت دے گا۔
کیوں نہیں دے گا بلکہ دینی چاہئے اگر ایک عورت اپنی مرضی سے اپنی زندگی گذارنا چاہتی ہے تو اس پر روک ٹوک کیسی؟
یہ تو بدتہذیبی اور بے غیرتی کی انتہا ہے ٹونی بھائی،
یہ بدتہذیبی نہیں ہے بلکہ یہ روشن خیالی ہے اور تم دقیانوسی لوگ کیا جانو۔تم تو کسی کو جیتا دیکھ ہی نہیں سکتے۔کیوں پابندی لگاتے ہو تم لوگ کسی کی زندگی پر؟
پابندی نہیں لگاتے ٹونی بھائی مگر یہ سب کچھ اچھا نہیں ہے اس سے تو ہمارا معاشرہ تباہ ہو جائے گا اور پھر ہمارے دین نے سب راستے بتا جو دئے ہیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔
یار شیخو تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ مذہب کو درمیان میں مت لاؤ۔
اچھا آخری بات ٹونی بھائی کہ اگر تمہاری ماں بہن بھی ادھ کھلے لباس میں گریبان کھولے ننگی سڑکوں پر پھریں اور لوگ انہیں پر شوق نظروں سے دیکھیں یا پھر ان میں سے کوئی کسی غیر مرد کے ساتھ تمہارے سامنے چلی جائے تو کیا تمہیں یہ سب اچھا لگے گا؟
تم غلیظ لوگ گندے آدمی تم سب دقیانوسی ہو جب تمہیں کوئی بات نہیں آتی تو تم لوگ ماں بہن کو بیچ میں لے آتے ہو، تم کیا جانو روشن خیالی کیا ہے۔
ہا وووووو ہا ۔ ہا وووووو ہا ۔ ہا وووووو ہا۔ روشن خیالی زندہ باد
عقل بڑی کہ بھینس
مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ اس محاورے کا کیا مقصد ہے یا یہ محاورہ کہنے والا کہنا کیا چاہتا تھا یا کہ یہ وہ اس مثال کو دے کر کیا واضح کرنا چاہتا تھا۔
عقل تو عقل ہے اس کا بھینس سے کیا موازنہ ، ہاں اگر یوں کہا جاتا کہ عقل بڑی کہ نقل ، تو پھر سوچا جا سکتا تھا کہ ان دونوں چیزوں میں سے کون سی چیز بڑی ہے یا کس کی افادیت زیادہ ہے۔
چلیں ہم عقل بڑی کہ بھینس کی مثال کو اِسی کے لئے چھوڑ دیتے ہیں جس نے اُسے تخلیق کیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عقل بڑی یا نقل میں کس کی افادیت زیادہ ہے۔
اسی سلسلہ میں ، میں چند مشہور اور چیدہ چیدہ لوگوں سے ملاقاتیں بھی کیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
لوٹے شاہ سے سوال کیا جو ایک مزار کا مجاور اور تقریباً دو تین سو مریدوں کا سچا پیر بھی ہے ، وہ کہتا ہے ، عقل بڑی ہے۔
ایک مسجد کے پیش امام سے سوال کیا ، کہنے لگا عقل ہی بڑی ہے نقل کا کیا کام۔
ایک بڑے کاروباری شخص سے سوال کیا جو کہ کروڑوں کا مالک ہے ، کہنے لگا عقل بڑی ہے۔
ایک اخبار کے ایڈیٹر سے ملاقات ہوئی تو پوچھا ، کہنے لگا ، عقل ہی بڑی ہے۔
ایک مشہور شاعر سے پوچھا تو اس نے بھی یہی کہا کہ ، بھائی ہم تو عقل ہی کو بڑا کہیں گے۔
ایک سیاستدان سے ملنا ہوا تو پوچھ لیا کہ دونوں میں سے کون بڑا ہے۔اس نے بھی عقل کا ہی نام لیا۔
اپنے استاد بابے عیدو سے دریافت کیا تو کہنے لگا ، ابے سٹھیا گیا کیا ، عقل ہی بڑی ہووے۔
ایک نام نہاد فلسفی سے مل بیٹھے تو پوچھ لیا،اس نے ہوں کو لمبا کیا اور کافی دیر بعد جواب دیا کہ دیکھو میاں عقل کے بڑا ہونے کے بہت سے پہلو ہیں۔میں نے ان کے پہلو بتانے سے پہلے ہی ان سے ہی پہلوتی کر لی۔
ایک راہ چلتے فقیر کو روک کر سوال کر دیا، اس نے کوئی جواب نہ دیا بس دیکھا کیا اور مسکراتا ہوا چل دیا۔
آخر کار میں پاگل خانے جا پہنچا اور دور اپنی سوچوں میں گم ایک پاگل سے سوال کیا ،
سنو کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ عقل بڑی ہے کہ نقل ، میرا مطلب ہے ان دونوں میں سے ہم کس کو بڑا کہیں گے یا ان میں سے کس کی اہمیت کو زیادہ گروانیں گے۔
وہ قہقہ مار کر زور زور سے ہنسنے لگا اور پوچھتا ہے کون سے وارڈ میں ٹھکانہ ہے پہلے کبھی دیکھا نہیں تم کو۔
کہنے لگا ، دونوں ہی اپنی اپنی جگہ بڑی ہیں۔اگر عقل کو دیکھو تو ٹھکانہ پاگل خانہ میں اوراگر نقل کو دیکھو تو ٹھکانہ صدارت کی کرسی پر ، تو کیا یہ دونوں بڑی نہ ہوئیں۔
شراب چیز ہی ایسی ہے کہ نہ چھوڑی جائے
خبر ہے کہ اپنے پیارے پاکستان کے کپتانوں نے انگور کے پانی سے غسل فرما کر آسمان کی سیر کرنے کی ٹھانی تھی مگر بدقسمتی سے جہاز کے مسافروں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔اور اب ان کپتانوں کو پی آئی اے حکام نے عام پانی سے غسل کرنے کے لئے گھر بھیج دیا ہے۔
ہمارے پاکستان میں پہلے کبھی پرانے دور میں ایسا ہوتا تھا کہ اگر کوئی غلطی سے شراب پی بیٹھا اور پھر بدقسمتی کے ہاتھوں ہماری پاکی پولیس کے ہتھے چڑھ گیا تو جانو وہ تو گیا اندر دو چار سال کے لئے اور اس کے جو پیسے خرچ ہوتے تھے اس کا تو حساب ہی مت پوچھیں۔
اگر ہم اپنے پیارے پاکستان جو کہ کسی زمانے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے بھی جانا پہچانا جاتا تھا، شراب پینے کے طور پر حد لاگو ہونے کی بات کریں تو مجھے یاد نہیں کہ کبھی ایسی سزا کسی دور میں بھی کسی کو ہوئی ہو۔
اب جبکہ ہمارے ہاں روشن خیالی کا دور دورہ ہے اب تو رات کو پولیس والے بھی کسی کا منہہ نہیں سونگھ سکتے پکڑنا تو دور کی بات ٹھرتی ہے۔بس غل غپاڑہ نہ ہو ، چاہے آپ ساری بوتل ہی کیوں نہ چڑھا آئیں۔اپنے کپتان لوگوں سے بھی بس یہ ہی غلطی ہوئی ہوگی کہ انہوں نے اپنی پاک زبان سے کچھ اول فول بک دیا ہوگا جوکہ کسی ایسے شریف آدمی کے کانوں میں پڑ گیا جو کہ آٹھ دس سال بعد اپنے پیارے وطن پاکستان آ رہا ہوگا۔اگر اس شریف آدمی کے کانوں میں بھنک نہ پڑتی تو یہ جہاز تو کیا روزانہ پتہ نہیں کتنے ہی جہاز آتے ہیں۔بس غل غپاڑہ نہیں ہوتا۔
یہ میرے یار کے جیسی ہے کہ نہ چھوڑی جائے
عید مبارک

تمام اردو بلاگرز اور قارئین کو عیدالضحی کی مبارک باد۔دعا کرتا ہوں کہ سب کو عید کی بہت زیادہ خوشیاں حاصل ہوں۔مزے سے تکے کباب کھائیں اور اپنی اس خوشیوں میں غریبوں ، محتاجوں اور خصوصاً ایسے لوگوں کا ضرور خیال کریں جو قسمت سے سال میں ایک بار ہی گوشت کھا پاتے ہیں۔