Sheikho’s blog

Jahan Meri Soch Khatam Hoti hai Wahan Dosron ki Shuro hoti hai

Archive for the ‘پاکستان کی باتیں’ Category

میرے للو کی باتیں

without comments

لَلو ، ابے او لًلو ، اگر بازار جاوے گا تو ذرا سبزی تو پکڑتے لانا۔
صاحب جی آج کیا پکاویں گے ؟
ارے پکانا کیا ہے جو تجھے سب سے سستی ملے ، وہ لے آ ، بس کھا لیویں گے۔
پر صاحب جی آج کل بینگن بھی ٢٠ روپے کلو بکے ہیں اس سے سستا کیا ہووے گا اور کل وہ سبزی والا بھی کہہ رہا تھا کہ اپنے صاحب سے کہیو کہ کلو دو کلو پیاز خرید کر رکھ لیویں ، آج چالیس کا ریٹ ہے کل پچاس میں ہوویں گا۔
دفعہ کر سالے کو ، وہ تو یوں ہی ڈراوے ہے ، تو بس کوئی بھی لے آ ، بس ہووے سستی سی ۔ اچھا ایک بات تو بتا لًلوے ، تیرے سے اس لئے پوچھوں کہ تو پڑھا لکھا نہیں ہے اگر پڑھا لکھا ہوتا تو ، تو بھی اسمبلیوں میں بیٹھا ہوتا۔اور سیاسی بیان دیتا،
ہاں تو بتا للوے ، یہ روز روز غریبوں کی چیزیں ہی کیوں مہنگی ہوویں ۔روزانہ ہی سننے میں آوے ہے کہ ، چینی مہنگی ہو گئی ، دال مہنگی ہوگئی ،سبزی ہے تو وہ مرغے سے بھی مہنگی بکے ہے یہ سب کیا ہے للوے ؟
صاحب جی یہ سب وزیروں مشیروں کا گورکھ دھندا ہے ۔ فیکٹریاں ان کے پاس ہیں ، آڑھت پر ان کا قبضہ ہے جب ان کا جی چاہتا ہے وہ چیزیں مہنگی کر دیتے ہیں۔
مگر للوے یار وہ اپنا صدر صاحب بھی تو بیٹھا ہے نا وہ ان کی کیوں پکڑ نہیں کرتا؟
صاحب جی نام تو میرا للو ہے مگر آپ بھی کم نہیں لگے ہو۔
صاحب جی اگر وہ پکڑ کرے گا تو اپنی کرسی کیسے چلاوے گا۔
مگر للوے یار ، استاد شیدا تو کہوے ہے کہ کرسی تو امریکہ چلائے ہے ، وہ بھی تو تیری طرح پڑھا لکھا نہیں ہے نا تو پھر اس کی بات تو جھوٹ نہ ہووے
صاحب جی شیدا جو جی چاہے کہتا روے مگر میں تو یہ کہوں کہ اگر اس نے ان کا دانہ پانی بند کیا تو جانو یہ سارے مل کے اس کا بھی بند کر دیویں گے۔
مگر یار للوے اس چکر میں دانہ پانی اپنے پہ تو بھاری ہو گیا نا۔
تو ہوا کرے صاحب جی ، ویسے بھی غریبوں کے مرنے سے کونسا فرق پڑے ہے۔

Written by Sheikho

November 22nd, 2006 at 8:03 pm

خاموش ہو جائیں

with 2 comments

کل الصبح ہمارے پاکستان میں پچھلے سال زلزلے میں مرنے والوں کے غم اور بچ جانے والوں کی خوشی میں سائرن بجائے جائیں گے اور مکمل پورے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔آپ سب سے بھی التماس ہے کہ خاموشی اختیار کریں۔
دیارِ غیر میں رہنے والوں نے نے اپنے خون پسینے کی جو کمائی ان بچنے والوں کے نام بھیجی تھی وہ بھی خاطر جمع رکھیں اور خاموش رہیں کیونکہ ان کی کمائی پاکستان کی تعمیر و ترقی میں خرچ ہوگی۔

پاکستان میں رہنے والوں سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ وہ زلزلہ زدگان کے پھٹے ہوئے خیموں کے درمیان جا کر خاموشی اختیار کریں تاکہ بچ رہنے والے ان کی خاموشی سے سبق سیکھ سکیں۔

Written by Sheikho

October 8th, 2006 at 1:54 am

باندر کِلا

with 8 comments

دنیا میں بہت سے کھیل ایسے ہیں جو زمانہِ قدیم سے چلے آرہے ہیں ۔ ان میں کچھ کھیل ایسے بھی ہیں جو صرف علاقائی سطح پر کھیلے جاتے ہیں اگر دیکھا جائے تو ان قدیم کھیلوں میں ہمیں صرف چند کھیل ہی ایسے ملیں گے جن کی اپنی اصل ابھی تک باقی ہے کیونکہ باقی کھیلوں کو چاہے وہ علاقائی ہوں یا بین الاقوامی جدیدیت کے آ جانے کی وجہ سے لوگ بھلا چکے ہیں۔
علاقائی کھیلوں میں یوں تو بہت سے کھیل ایسے تھے جو اپنی مثال آپ تھے اور اُن کھیلوں میں سے ایک کھیل بَاندر کِلا بھی تھا۔ باندر کِلا پنجابی زبان کا لفظ ہے ،اردو میں ہم اس کو ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ “ بندر کھونٹا“ اردو میں “ باندر “ کو بندر اور “ کلا “ کو کھونٹا کہا جاتا ہے۔کھونٹا یا کِلا وہ ہوتا ہے جس کا ایک حصہ پتلا ہوتا ہے اور یہ لکڑی کا ہوتا ہے ہے اور اسے زمیں میں گاڑ کر اُس سے کوئی چیز مثلاً گائے ، بھینس وغیرہ یعنی جانور باندھ دئے جاتے ہیں۔
اس کھیل میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ بہت سے لڑکے آپس میں جمع ہو کر آپس میں قرعہ نکالتے ہیں پھر جس لڑکے کا نام نکل آتا ہے اس کے ہاتھ میں رسی باندھ کر اسے کھونٹے سے باندھ دیا جاتا ہے اور باقی سارے لڑکے اپنی اپنی جوتیاں اتار کر اس کھونٹے کے پاس رکھ دیتے ہیں۔اب اس باندر ( بندر ) یعنی لڑکے نے چاروں طرف گھوم کر کسی لڑکے کو جوتیاں نہیں اُٹھانے دینی اور سب لڑکوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی طرح ایک ایک کر کے یا پاؤں مار کر جوتیوں کو کھونٹے سے دور کر کے اُٹھا لی جائیں۔
اگر تو وہ باندر ( بندر ) یعنی لڑکا کسی لڑکے کو پکڑ لیتا ہے تو باندر بننے کی باری اس کی آ جاتی اور اگر لڑکے ساری جوتیاں اُٹھا لیتے ہیں تو پھر اُن جوتیوں سے باندر کی وہ درگت بنے گی کہ خدا کی پناہ۔
جو سیانا ( عقل مند ) باندر ہوتا ہے وہ تو باندر بنتے ہی اپنے ہاتھ کی رسی کو کھول کر اپنے ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے اور ایسا موقع آتے ہی کہ جب اُس کی درگت بنے کِلے ( کھونٹے ) سے ایسا بھاگتا ہے کہ ڈھونڈے سے بھی نہ ملے۔
مگر بابا عیدو اپنی ہی ہانکتا ہے ، بات کوئی بھی ہو وہ مثال دینے سے باز نہیں رہتا، کہتا ہے ،
“ بندر کے ہاتھ میں اگر ماچس آ جائے تو وہ جنگل کو ہی آگ لگائے گا“
ویسے سوچا جائے تو بابا عیدو بھی ٹھیک ہی کہتا ہے ، ماچس تو باندر کے ہاتھ میں ہی ہے۔

Written by Sheikho

September 7th, 2006 at 2:24 pm

اکبر بگٹی کی شخصیت پر ایک نظر

with 3 comments

اکبر بگٹی نے ایک انٹرویو میں اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان ختم ہو گیا تو بلوچستان کی تجاویز یہ ہیں،
١۔ عظیم تر چھوٹا بلوچستان
٢۔ بلوچستان ، سندھ اور ڈیرہ غازی خاں کے ادغام سے ایک آزاد مملکت
٣۔ بلوچستان ، پختونستان اور افغانستان کے تین ممالک کی کنفیڈریشن
٤۔ سوویت ری پبلک آف بلوچ
افغانستان سے روسی فوج کے انخلاء اور روس کی ٹوٹ پھوٹ سے پہلے اکبر بگٹی کا خیال کچھ اور تھا تاہم بعد میں ان کا یہ خیال بنا کہ مذکورہ تمام تجاویز میں سے سوویت ری پبلک آف بلوچ والی تجویز کی بجائے باقی تمام تجاویز پر عمل پیرائی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔
ایک باخبر ذریعہ کے مطابق وفاقی حکومت سے سوئی گیس کی رائلٹی کے نام پر نقد اور سہولتوں کے حوالے سے تقریباً ٢٥ کروڑ روپے سالانہ وصول کرنے والے نواب اکبر بگٹی سوئی میں ہونے والے فوجی اپریشن کے خلاف متحرک تھے۔
بلوچستان میں بم دھماکوں ، گیس پلانٹ اور ایف سی کے قافلوں پر حملوں کا ذمہ دار ملک دشمن عناصر کے ساتھ ساتھ بگٹیوں کا بھی ہاتھ تھا۔

نواب اکبر بگٹی ١٠ جولائی ١٩٢٧ کو پیدا ہوئے۔ان کا اصلی نام شہباز خان تھا جو ان کے دادا کے نام پر رکھا گیا لیکن وہ اکبر بگٹی کے نام سے مشہور تھے۔ابھی وہ چھوٹے تھے کہ ان کے والد نواب صحراب خان کا انتقال ہو گیا۔١٩٣٩ میں جب اکبر بگٹی کی عمر ١٢ سال کی تھی تو انہیں قبیلے کا سردار بنا دیا گیا۔لیکن بلوچستان کی روایت کے مطابق سردار کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے ٢٠ سال کی عمر ضروری تھی۔لہذا اس عمر تک پہنچنے کے لئے میر جمال خان بگٹی کو سردار مقرر کر دیا گیا۔
١٩٤٧ میں نواب اکبر بگٹی نے قبیلے کے سردار کی حثییت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ابتدائی تعلیم انہوں نے کوئٹہ ، کراچی اور ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی۔١٩٤٣ میں بقول اکبر بگٹی کے کانگرس کی تحریک سے متاثر ہو کر انہوں نے ہیٹ اور ٹوپیاں جلا دیں اور گاندھی ٹوپی پہن لی۔١٩٤٧ میں ریفرنڈم ہوا اور اکبر بگٹی نے تحریک پاکستان میں حصہ نہیں لیا۔ کیونکہ بقول ان کی عمر کم تھی ۔
ایوب خان کے دور میں ان پر اپنے چچا ہیبت خان کے قتل کا کیس بنا اور ایک فوجی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی تاہم بعد میں سزا ختم کر کے انہیں رہا کر دیا گیا۔
سیاست میں قدم رکھنے کے بعد اکبر بگٹی اعلیٰ عہدوں پر بھی براجمان رہے۔رکن اسمبلی اور صوبے کے وزیراعلیٰ بھی رہے۔
اکبر بگٹی ١٩٥٨ میں سیاست میں داخل ہوئے اس وقت سکندر مرزا نے انہیں وفاقی کابینہ میں شامل کیا لیکن ان کی اصل ہنگامہ خیز سیاست کا دور ١٩٧٠ سے شروع ہوا۔١٩٧٠ کے انتخابات مین اکبر بگٹی نے حصہ نہیں لیا۔١٢ فروری ١٩٧١ کے اخبارات میں ان کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی کہ اکبر بگٹی شیخ مجیب الرحمن سے ملنے ڈھاکہ پہنچے ہیں۔یہاں دونوں لیڈروں نے آئین سازی کے اہم معاملات پر گفت و شنید کی۔بعد میں شیخ مجیب نے کہا لہ چھ نکاتی پروگرام صرف بنگلہ دیش کے لئے نہیں بلکہ بلوچستان اور دیگر صوبوں کے لئے بھی ہے اور اکبر بگٹی نے مجھ سے سو فیصد اتفاق کیا ہے۔
٣ سمبر ١٩٧١ میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مغربی پاکستان میں اصغر خان واحد سیاستدان تھے جنہوں نے فوراً بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح ہم روٹھے بھائیوں کو منا سکتے ہیں۔اکبر بگٹی اس موقع پر اچانک تحریک استقلال کے پلیٹ فارم پر نظر آئے اور ١٨ جنوری ١٩٧٢ کو نشتر پارک کے جلسہ میں لوگوں نے انہیں دیکھا جس کی صدارت بگٹی نے ہی کی تھی۔
١٥ مارچ ١٩٧٢ کو وزیراعظم بنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو روس کے دورے پر روانہ ہوئے تو سیاسی حلقوں بڑی حیرانگی ہوئی کہ وہی اکبر بگٹی جو ایک ماہ پہلے تک بھٹو کے شدید مخالف تھے وہ بھٹو کے سرکاری وفد میں کیسے شامل ہیں۔بگٹی اس وفد کے ساتھ واپس نہیں آئے اور انہوں نے روس میں ہی رہنے کو ترجیح دی اور وہاں سے وہ پھر برطانیہ چلے گئے اس دوران انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان کے خلاف بات کرتے ہوئے آزاد بلوچستان اور بھارت کے ساتھ کنفیڈریشن کی بات کی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Written by Sheikho

August 30th, 2006 at 1:36 am

جَلا دو ۔ گِرا دو ، مار ڈالو

without comments

اصول و ظوابط نہ جانے کہاں کھو گئے ، قانون کی پاسداری کا بھی خیال نہیں ، لاٹھی ہے تو ہانکے چلے جاؤ ۔ گولی ہے تو مار ڈالو ، خنجر ہے تو گھونپ دو ، تو پھر توپ داغنے میں بھی ڈر کیسا۔
انسانی قدریں جانے کہاں کھو گئیں مگرسنو تو حقوقِ انسانی کی بازگشت چارسُو گونج رہی ہے اور اس گونج میں انسان کی بے بسی صاف دیکھی جاسکتی ہے۔
خوف پھیلتا جا رہا ہے ، اندھیرا ہے کہ بڑھتا چلا جا رہا ہے ، کچھ قربان ہورہے ہیں تو کچھ قربان کر رہے ہیں اور کچھ اس تماشے کودیکھ رہے ہیں۔تماشا دیکھنے اور کرنے والوں کا اصطبل ایک ہی ہے دونوں ہی اپنے نشے میں مست ہیں۔اور یہ مستی ابھی اور رنگ دکھائے گی جس کا رنگ بھی گہرا ہوگا۔

Written by Sheikho

August 27th, 2006 at 3:44 am

گردن کٹی اور پاکستان آزاد ہو گیا

without comments

لاہور میں جشن آزادی کے موقع پر تین سالہ بچی کے گلے پر ڈور پھیر کر آزادی کے متوالوں نے چودہ اگست کی آزادی کا بھر پور جشن منایا۔
اسلامیہ پارک کی رہائیشی دادا ، دادی کے ہمراہ ایک تین سالہ بچی خدیجہ موٹر سائیکل پر سیر کے لئے جب علامہ اقبال روڑ پر پہنچے تو ایک کٹی پتنگ کی ڈور نے خدیجہ کی شہہ رگ کاٹ دی۔خدیجہ کو فوری طور پر شالامار ہستپال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکی۔
ایک اطلاع کےمطابق پولیس نے ایک پتنگ باز کو گرفتار کر لیا ہے۔مگر لاہور میں دوسرے پتنگ بازوں کے نعرے اب بھی چھتوں پر گونج رہے ہیں۔

Written by Sheikho

August 15th, 2006 at 2:33 pm

اک دعا

without comments

pkflag.gif

یا میرے اللہ پاک ، ہمارے ملک میں اسلام نافذ فرما
یا میرے اللہ پاک ، ہمارے ملک پاکستان کو چوروں ڈاکوؤں سے بچا
یا میرے اللہ پاک ، ہمارے ملک کو علماء سو سے بچا
یا میرے اللہ پاک ، ہمارے ملک کو گندے سیاستدانوں سے بچا
یا میرے اللہ پاک ، ہم سب کو اتفاق اور اتحاد سے رہنے کی توفیق عطا فرما
یا میرے اللہ پاک ، ہمارے ملک پاکستان میں امن و سکون عطا فرما
آمین

پاکستان زندہ باد

Written by Sheikho

August 14th, 2006 at 3:07 pm

بَلوں کی خود کشی

without comments

آج انگلینڈ کے خلاف میچ میں پاکستان کے بلوں نے خود کشی کر لی جس کی وجہ سے ہماری پاکستانی ٹیم کو خالی ہاتھوں سے کھیلنا پڑا۔اور خالی ہاتھوں کھیلنے کی وجہ سے مجبوراً انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
دیکھا جائے تو یہ معمول کی بات تھی مگر بابا عیدو کہتا ہے کہ کچھ کھلاڑی بِک چکے تھے۔اور ایسے کھلاڑی ہمیشہ سے ہی پاکستان کی عزت ہمیشہ داؤ پر لگاتے رہے ہیں۔
اصل میں بابا عیدو عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے عموماً ایسی ہی بےوقوفی کی باتیں کرتا رہتا ہے ، دیکھا جائے تو ایسا پاکستانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ہمارے کسی کھلاڑی نے ایسا کر کے پاکستان کی عزت داؤ پر لگائی ہو، ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے کوئی غریب کھلاڑی کسی امیر آدمی سے کبھی کبھار دال روٹی کے پیسے لے لیتا ہو مگر اس سے یہ کہنا کہ ایسا کرکے اُس نے پاکستان کی عزت کو داؤ پر لگا دیا ،سراسر نا انصافی کی بات ہوگی۔
کھیل تو کھیل ہے اس میں عزت کا کیا کام ، مگر بابا عیدو مصر ہے اپنی بات پر ، پاگل جو ہوا۔

Written by Sheikho

August 8th, 2006 at 8:47 pm

ہم اور ہمارے لوگ

with 6 comments

یہ خوبصورت تصویر نیٹ سے لی گئی ہے اور یہ ہمارے پاکستان کے خوبصورت لوگوں کی تصویر ہے۔یہی ہمارا کلچر ہے انہیں میں سے لوگ ہمارے ہاں بڑے آدمی بھی بنتے ہیں اور جب ایسے لوگوں میں سے کوئی بڑا آدمی بنے تو اسی کے دل میں ہی غریب آدمی کا درد جاگتا ہے۔محلوں اور کوٹھیوں میں رہنے والوں کو کیا پتہ کہ غریب آدمی کا درد کیا ہوتا ہے۔

ہم اور ہمارے لوگ

Written by Sheikho

August 7th, 2006 at 8:19 pm

واہ رے علماء سوء

without comments

واہ رے علماء سوء
تم سے اچھا تو احمد فراز نکلا۔جس نے صدارتی ایوارڈ واپس کر دیا ایک تم ہو کہ اب تک اپنے عہدوں سے چمٹے ہوئے اسلام کو بیچ کر پاکستان کو اندھیرے کوئیں کی طرف دھکیل رہے ہو۔
اے علماء سوء اگر تم لوگ استعفے دیتے تو بات شائد پھر بھی نہ بن پاتی ، مگر اب دیکھنا عوام میں سے کسی نے آواز اُٹھائی ہے اور یہ آواز وہ ہے جس پر ہمیشہ تم جیسے لوگوں نے روک لگائی ،فتوے صادر کئے۔مگر یہ آواز تمہارے ضمیر کی آواز سے زیادہ زندہ ہے ، یہ آواز وہ ہے جس میں عوام کا لہو شامل ہے،اس کی گونج سے تمہارے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے۔اور عنقریب دیکھنا یہ آواز تمہارے ایوانوں میں بھی گونجے گی۔

اردو راکٹ

میں پاکستان میں رہتا ہوں

with 2 comments

میں سری لنکا گیا ، غریب ملک ہے۔عورت اور مرد دونوں ہی کام کرتے ہیں کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہے۔عورتوں کا لباس سادہ مگر مکمل ترین ہے۔فحاشی ہے مگر عورتوں کی آنکھوں اور لباس سے ظاہر نہیں ہوتی۔

میں سنگا پور گیا ، امیر ملک ہے ۔ عرورت اور مرد دونوں ہی کام کرتے ہیں کوئی مرد اگر کسی عورت سے ملنا چاہتا ہے تو تہذیب یافتہ انداز اختیار کرتا ہے۔لباسِ عورت مختصر مگر مکمل ہے۔

میں تھائی لینڈ گیا ، امیر اور غریب سب کا ایک ہی پیشہ ہے۔خوش حال ملک ہے عورتیں اپنے حال اور مرد اپنی چال میں مست ہیں۔کسی کو کسی سے سروکار ہی نہیں۔پیسہ ہے تو خرید لو نہیں تودیکھے جاؤ دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔لباس چھوٹا مگر مکمل ہے۔نظریں دوڑاتے تھک جائیں مایوسی ہی ملے۔ چہرہ اگر دیکھیں تو معصومیت ایسی جیسے انہیں کسی نے چھوا تک نہیں ،شادی شدہ بھی کنواری دکھائی دیتی ہے۔

میں پاکستان میں رہتا ہوں ، مسلمان ملک ہے ، غریبی عام ہے ۔لوگ اپنے آپ سے تنگ ہیں۔خوش حالی اخباروں تک محدود ہے۔عورتیں اور مرد یہاں بھی اپنے حال میں مست ہیں۔عورتوں کا فیشن یہاں سب سے جدا ہے ۔گرمی ہو یا سردی آپ آسانی سے ان کے تمام جسم کے نشیب و فراز دیکھ سکتے ہیں۔چھیڑنا منع ہے اور دیکھنے پر بھی پابندی عائد ہے۔
بیوی ہو یا بیٹی ، بہن ہو یا ماں ، میری ہو یا ۔۔۔۔سب کا حال ایک جیسا ہے۔لباس سب کا ننگا ہے۔گرمیوں میں کپڑے اتنے باریک کہ آپ ان کے جسم کا ایک ایک حصہ باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ گھر میں ہو یا باہر ،گاڑی میں ہو یا موٹر سائیکل پر ، ننگا پن آپ کو ہر جگہ نظر آئے گا۔
اب تو کچھ نیا رواج چل نکلا ہے نوجوان لڑکیوں نے ظاہری نقاب اوڑھ لئے ہیں اور بوڑھیں عورتیں سرعام اپنی خود ساختہ جوانی دکھا رہی ہیں۔بھائی ہو یا باپ ، خاوند ہو یا بیٹا ، بڑے فخریہ انداز میں انہیں ہر جگہ لئے پھرتا ہے اور اگر کوئی ان کو کچھ کہہ بیٹھے تو بیوقوف اور اگر کوئی ان کو چیھڑ بیٹھے تو مقتول کہلائے گا۔

Written by Sheikho

May 10th, 2006 at 1:43 pm

پالتو نہیں

with 2 comments

محترم سعدی صاحب کا ایک مضمون جو کہ سچائی سے بھر پور ہے اور اس سچائی کو جس خوبصورت الفاظ میں سعدی صاحب نے عملی جامہ پہنایا ہے یہ انہیں کا خاصہ ہے۔اور پھر ایسی سچی باتیں وہ ہی کرتے ہیں جن کے سینے میں درد ہو۔

ہفت روزہ القلم کا ایک مضمون جو محترم سعدی صاحب کے قلم سے لکھا گیا

اللہ جلّ شانہ کی شان دیکھئے، انتہا پسندی کو ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے اب خود انتہا پسندوں کی زبان بولنے لگے ہیں سلام ہو ان پاکیزہ روحوں کو جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنے جسموں کا کٹنا گوارہ کیا جنہوں نے وقت کے دجال سے ٹکر لی جنہوں نے کروز میزائل اور بی باون B-52طیاروں کی پرواہ نہیں کی وہ خود گرتے رہے مگر انہوں نے اسلام کا جھنڈا سر نگوں نہیں ہونے دیا اور اللہ پاک کے ان فدائیوں نے صدر بش اور ٹونی بلیئر کا دامن شکست کے کانٹوں سے بھر دیا سلام ہو شہداءقندوز پر سلام ہو شہدائے مزار شریف پر سلام ہو شہدائے تورا بورا پر سلام ہو شہدائے بغداد و موصل پر سلام ہو شہدائے فلوجہ اور تکریت پر سلام ہو اسیران گوانٹا نامو بے پر سلام ہو اسیرانِ ابوغریب جیل پر سلام ہو امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد، شیخ اُسامہ بن لادن اور ابو مصعب الزرقاوی پر سلام ہو شہادت کیلئے تڑپنے والے فدائی دستوں پر ہاں! ان سب پر سلام ہو جنہوں نے اسلام کی لاج رکھی جنہوں نے قرآن پاک کی عظمت کا لوہا منوایا اور جنہوں نے حالات کے بھاری پتھر کو اپنے خون سے ایسا اُلٹ دیا کہ اب انتہا پسندوں کو ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے بھی خود انتہا پسندوں کی زبان بولنے لگے ہیں ہم نے بہت پہلے اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر کہا تھا کہ ایسا ہوگا تب لوگ ہنستے تھے اور مذاق اُڑاتے تھے ایک کالم نویس نے لکھا تھا بھول جاو اب مجاہدین کو اور طالبان کو یہ لوگ ماضی کا غبار بن چکے ہیں چند دن بعد ان کا نام، پتا مٹ جائے گا آج کوئی اس کالم نویس سے جاکر پوچھے کہ او! ظاہری طاقت کے پجاری! دیکھ ماضی کا غبار مستقبل کا مینار بننے کو ہے امریکہ جو کل تک چنگھاڑ رہا تھا اب تھکاوٹ اور ندامت سے چور ہے بش جو دنیا پر گرج رہا تھا اب تیزی سے زوال پذیر ہے اور چند دن بعدماضی کا غبار بننے والا ہے اور وہ جن کو امریکہ کی ےاری پر ناز تھا اب پکاررہے ہیں ہم امریکہ کے پالتو نہیں ہیں ہم امریکہ کے ”پالتو“ نہیں ہیں
ہاں! سلام ہو ان کو جو اندھیرے میں بھی روشنی کے ساتھ رہے سلام ہو ان پر جو بلاخیز طوفانوں میں بھی ڈٹے رہے اور استقامت کے حسین گیسو سنوارتے رہے ہاں وہ کٹ گئے‘ وہ لُٹ گئے وہ قبروں میں جا سوئے‘ وہ سمندروں میں ڈبو دئیے گئے‘ وہ عقوبت خانوں میں آزمائے گئے ‘ وہ گھروں سے بے گھر ہوئے‘ وہ اپنوں سے جدا ہوئے وہ مارے گئے ستائے گئے اور گالیوں اور بدنامیوں کا نشانہ بنے مگر ان میں سے کوئی بھی آج پچھتا نہیں رہا سب خوش ہیں اور خود کو خوش نصیب سمجھ رہے ہیں انہوں نے سب کچھ کھو کر بھی یہ بیان دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے نہیں ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہم جہاد کے نہیں ہم اپنے امیر کے نہیں سبحان اللہ ! وہ اپنے کٹے جسموں اور ظاہری طور پر ویران زندگیوں کے باوجود اپنی بات پر پکے ہیں اور اپنے نظرئیے پر ڈٹے ہوئے ہیں جبکہ ….ا ن کے خلاف قائم ہونے والا ”عالمی اتحاد“اب ”عالمی انتشار “ بننے والا ہے دنیا کے تیس ۰۳ ممالک اپنی لاکھوں فوج اور اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود ایک ”فقیر مولوی“ کو شکست نہ دے سکے وہ ایک ”عرب مسافر“ کو نہ پکڑ سکے وہ بوڑھے صدام کی گردن نہ جھکا سکے
اور وہ اپنے طیاروں اور میزائیلوں کے باوجود سوکھی روٹی کھانے والوں کا مقابلہ نہ کرسکے اللہ ! اللہ ! کتنی اونچی ہے آپ کی شان اور کتنے سچے اور محکم ہیں آپ کے قوانین پانچ سال پہلے کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ طالبان امریکہ کے سامنے چالیس دن ٹھہر سکیں گے؟ عراق کے عوام امریکہ کا ایک مہینہ تک مقابلہ کر سکیں گے؟ اللہ کی قسم! اب بھی کسی اندھے کو جہاد سمجھ نہیں آتا تو اس میں جہاد کا کیا قصور ہے؟ انڈیا خود کو منی سپر پاور سمجھتا ہے اور وہ پاکستانی افواج کو دو سے زائد بار شکست دے چکا ہے مگر چند ہزار نہتے اور کمزور مجاہدین کے سامنے وہ ”بے بس“ہے
صدر بش کے دورہ بھارت کے دوران انڈیا کی حکومت نے ”کشمیری مجاہدین“ کا رونا رویا اور صدر بش سے مدد کی فریادکی صدر بش نے پاکستانی حکمرانوں کی گردن دبائی اور نہایت سختی کے ساتھ ”جہاد کشمیر “ کو روکنے کا حکم دیا ابھی ”صدر بش“ پاکستان میں ہی تھا کہ یہاں کے حکمرانوں نے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ کے پالتو نہیں ہیں جہاد کشمیر کے خلاف عملی اقدامات شروع کر دئیے اور ایک لاکھ شہداءکے خون سے گلرنگ تحریک سے بے وفائی کی کیا یہ سب کچھ پاکستان کے مفاد میں ہے؟ جہاد کشمیر بھی انشاءاللہ بند نہیں ہوگا مگر مسلمانوں کا مسلمانوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا ایک عذاب ہے اور دنیا کا کفر زور زبردستی اور دھمکی کے ذریعے مسلمانوں کو اس عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے یہ بے غیرت لوگ خود تو مسلمانوں کا کسی بھی میدان میں مقابلہ نہیں کر سکتے چنانچہ وہ اپنے ”غیر پالتو“ وفاداروں کو ڈراتے ہیں اور انہیں مسلمانوں کے مقابلے میں لاکھڑا کرتے ہیں
امریکہ طالبان کی حکومت نہیں گرا سکتا تھا اگر پاکستان اس کی اتنی زیادہ مدد نہ کرتا مگر اس کے باوجود ہم امریکہ کے پالتو نہیں ہیں امریکہ نے تھوڑی سی امداد مانگی اورآپ نے ایک ٹیلیفون پر اپنا سب کچھ اس کی خدمت میں پیش کردیا بے شک سچ ہے کہ آپ امریکہ کے پالتو نہیں ہیں ملک کے تریسٹھ فضائی اڈے امریکہ کے حوالے کر دےے گئے اور خوشیاں منائی گئیں کہ ہمیں ان اڈوں کا کرایہ مل رہا ہے یعنی اپنی دھرتی اور اپنی عزت کرائے پر دے دی گئی چھ سو سے زائد مجاہدین کو پکڑ کر شہید کر دیا گیا اور ان کی لاشیں دریاﺅں اور جنگلوں میں پھینک دی گئیں گوانتاناموبے کا عقوبت خانہ آباد کرنے کےلئے چھ سو سے زائد مجاہدین کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا گیا گزشہ پانچ سال میں امریکہ کے حکم پر اپنے ملک میں اپنی عوام کے خلاف سینکڑوں خونی آپریشن کئے گئے امریکہ اور یورپ کے حکم پر جہاد کشمیر کی کئی تنظیموں پر پابندی لگائی گئی امریکہ اور یورپ کے حکم پر دینی مدارس کے طلبہ کرام کو ستایا گیا اور ان مدار س کے نظام میں بارہا بھونڈی مداخلت کی گئی….امریکہ اور یورپ کے حکم پر اپنے ملک کی کئی نامور ہستیوں کو پکڑا گیا‘ مارا گیا اور ستایا گیا امریکہ اور یورپ کے حکم پر ملک کے تعلیمی نظام کو بدلا گیا اور بے حیائی کو عام کیا گیا امریکہ اور یورپ کے حکم پر ملکی وزارتیں تقسیم کی گئیں اور غیروں کے پسندیدہ افراد کو ملکی اقتدار میں حصے دار بنایا گیا امریکہ اور یورپ کے حکم پر ملک کے ایٹمی راز قربان کےے گئے اور ایٹمی سائنسدانوں کو ”مجرم “بنایا گیا پاکستان کا ہر ذرّہ گواہ ہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں وہ حکم دیتے رہے اور ہماری حکومت اسے پورا کرتی رہی وہ شکایتیں کرتے رہے اور ہماری حکومت صفائیاں دیتی رہی وہ دبائے رہے اور ہماری حکومت ذلت کے ہر مقام سے نیچے گر کر دیتی رہی مگر یہ سب کچھ کرنے کے باوجود ہماری حکومت امریکہ کی نظر میں حامد کرزئی اور منموہن سنگھ جتنا مقام حاصل نہ کر سکی اوراب ایٹمی معاملے سے لے کر جمہوریت کی بحالی کے معاملے تک صدر بش نے صدر پرویز مشرف کو ”انگوٹھا “ دکھا دیا ہے ان حالات میں ہماری حکومت کا امریکہ کے خلاف گرجنا اس حسرت اور ندامت کی گھڑی کا آغاز ہے جو مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کرنے والوں پرمسلّط کی جاتی ہے قرآن پاک نے ”سورة المائدہ “میں اس مسئلے کو بہت تفصیل اور وضاحت سے بیان فرمایا ہے بے شک قرآن پاک ایک زندہ اور ”سدا بہار“ کتاب ہے اس کی کوئی آیت پرانی نہیں ہوتی اور نہ اس کا کوئی حکم اپنا اثر کھوتا ہے
آپ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا تازہ بیان پڑھےے جس میں انہوں نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ میں امریکہ اور یورپ کاپالتو نہیں ہوں اور انہوں نے امریکہ کو پہلی بار صاف لفظوں میں پاکستانی حدود میں کارروائی سے روکا ہے اور انہوں نے اپنے چھپے ہوئے ”دانتوں“سے بھی ڈرایا ہے ….اور پھر آپ ”سورة المائدہ “کی آیات پڑھئے سبحان اللہ ! قرآنی صداقت کے سامنے دل جھک جائے گا….اور خوشی سے عش عش کر ے گا کل رات بی بی سی کی خبریں سنتے ہوئے میں خوشی سے جھومتا رہا میرا دل اللہ تعالیٰ کی عظمت اور محبت کے مراقبے سے بھر گیا جہاد کی حقیقت دل کی گہرائیوں میں اور زیادہ پختہ ہوگئے اور میرے خشک ہونٹ بار بار مسکراہٹ کے مزے لیتے رہے واہ میرے اﷲواہ! آپ کی شان کتنی بلند ہیں ملا عمر صاحب کا سب کچھ لٹ گیا مگر وہ بالکل نہےں پچھتائے اس طرح کا بیان خدانخواستہ ان کی طرف سے آتا تو میںجی بھر کر روتا اللہ پاک ان کو مزید استقامت عطاءفرمائے ملا فضل کا زخمی جسم گوانتاناموبے کے تندور میں جل رہا ہے مگر ان کی طرف سے ایساحسرت بھرا بیان نہیں آیا وہ سب تو اللہ تعالیٰ کا شکر اد ا کر رہے ہیں جبکہ وہ جنہیں اپنی پالیسی پر ناز اور اپنی قوت پر غرو رتھا اب پچھتا رہے ہیں اورصفائیاں پیش کررہے ہیں ویسے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہی سے ممکن ہوا چند دن پہلے حکومت کے ایک اہلکار نے امریکہ کو فرعون قرار دیا اور اسے کسی ”موسیٰ“ کے ظاہر ہونے سے ڈرایا میں یہ بیان سن کر خوش بھی ہوا اور حیران بھی اس کے بعد ملک کے وزیر خارجہ قصوری صاحب نے امریکہ کو آڑے ہاتھوں لیا تب بہت حیرانی ہوئی کہ اتنے صابر شاکر لوگ اب آہ و زاری پر کس طرح اُتر آئے ہیں امریکیوں نے پاکستان کو ”کتا“ قرار دیا مگر یہ لوگ خاموش رہے امریکہ نے پاکستان حدود میں کئی بار پاکستانی شہریوں کو خاک و خون میں تڑپایا تب بھی یہ لوگ خاموش رہے امریکہ نے پاکستان کے اندرونی اور دینی معاملات میں بار ہا مداخلت کی مگر یہ لوگ خاموش رہے یورپ کی طرف سے کارٹونوں کا ظالمانہ فتنہ اُٹھا مگر یہ لوگ خاموش رہے امریکہ نے عراق کو برباد کیا مگر یہ لوگ خاموش رہے ….امریکی فوجیوں نے قرآن پاک کی شدید بے حرمتی کی مگر یہ لوگ خاموش رہے اب اچانک ”صبر و وفا شعاری“ کا پیمانہ لبریز ہوا ہے تو ایک ایک کرکے سب بول رہے ہیں اور چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ہم آزاد ہیں، ہم آزاد ہیں جناب عالی! جو لوگ آزاد ہوتے ہیں انہیں اپنی آزادی بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی اور جو لوگ پالتو نہیں ہوتے وہ ساری دنیا کو نظر آتے ہیں کہ پالتو نہیں ہےں انہیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی بات بالکل واضح ہے کہ ماضی میں ہماری حکومت نے بے انتہا غلطیاں کی ہیں اور امریکہ کے ہاتھوں سخت دھوکا کھایا ہے اور ہمارے حکمرانوں نے امریکہ کی خوشنودی کی خاطر وہ کام کےے ہیں جو کسی بھی مسلمان کو زیب نہیں دیتے اور ان کاموں کی بدولت ہمارے حکمران نہ دنیا کے رہے ہیں اور نہ آخرت کے وہ نہ اپنوں کیلئے قابل قبول ہیں اور نہ غیروں کےلئے وہ اب امریکہ کو اپنی وفاداریاں یاد دلاتے ہیں مگر اسے کچھ یاد نہیں آرہا وہ امریکہ کو بنیاد پرستوں سے ڈرا کر اپنی اہمیت سمجھانا چاہتے ہیں مگر وہ سمجھنے کے موڈ میں نہیں ہے گذشتہ پانچ سالوں میں اسلام کے فدائی مجاہدین نے امریکہ کے چہرے پر شکست کی جو کالک ملی ہے وہ یہ ساری کالک پاکستانی حکمرانوں کے منہ پر ملنا چاہتا ہے اور ان کو ہٹا کر ان سے زیادہ ”وفادار“ حکمران لانے کا خواہشمند ہے ان حالات میں پاکستانی حکمرانوں نے انتہا پسندوں کی زبان بولنا شروع کردی ہے تو اس میں حیرت کی کونسی بات ہے؟ تقریباً پانچ سال پہلے میں نے حکومت کے ایک بڑے عہدیدار کے سامنے ایسی ہی باتیں کی تھیں تو انہوں نے گھبرا کر اپنی زبان دانتوں کے نیچے دبالی تھی وہ فرما رہے تھے جناب! آپ کی باتیں جذباتی ہیں ہم نے دنیا میں رہنا ہے تو ہمیں امریکہ کا ساتھ دینا ہوگا ورنہ ہم تباہ ہوجائیں گے اور ہمارا کچھ بھی نہیں بچے گا میں نے ان کو ”قرآنی آیات“ سنائیں اور عرض کیا آپ جو کچھ بھی کرلیں امریکہ آپ سے خوش نہیں ہوگا اور روایات سے ثابت ہے کہ جو کسی ظالم کی مدد کرتا ہے اللہ پاک اسی ظالم کو اس پر مسلط فر مادیتا ہے
یاد رکھنا امریکہ آپ لوگوں پر مسلط ہوگا اور وہ آپ سے بھی مطمئن نہیں ہوگا قرآنی آیات سن کر وہ کچھ لمحے کیلئے ٹھٹکے اور پھر حسرت بھرے لہجے میں کہنے لگے ہمارے پاس ایسے میزائل نہیں ہیں جو امریکہ کا مقابلہ کرسکیں میں نے کہا ہمارے پاس ایسے بے شمار میزائل ہیں جو دنیا کے ہر کفر کا مقابلہ کر سکتے ہیں میری یہ بات سن کر وہ مجھے حیرانی سے اس طرح دیکھتے رہے جس طرح کسی قابل احترام پاگل کو دیکھا جاتا ہے آج صدر جنرل پرویز مشرف کہہ رہے ہیں کہ میں امریکہ کا پالتو نہیں ہوں میرے منہ میں بھی دانت موجود ہیں کیا میں بھی انہیں اسی طرح دیکھوں جس طرح پانچ سال پہلے مجھے دیکھا جا رہا تھا کاش ہمارے حکمران اب بھی توبہ کرلیں اور اللہ تعالیٰ سے رہنمائی اور مدد مانگ کر عزت ، آزادی اور عظمت کے راستے کو اختیار کریں زندگی اور موت کا وقت مقرر ہے امریکہ کی دوستی کسی کی زندگی میں اضافہ نہیں کرسکتی عزت اور ذلت کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے
امریکہ مسلمانوں کا کھلا دشمن اور زمانے کا طاغوت ہے عزم وہمت سے کام لینے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد اترتی ہے جو مصیبت قسمت میں لکھی ہو وہ امریکی حملے کی بجائے زلزلے سے بھی آسکتی ہے ان تمام حقائق کو سامنے رکھ کر ہمارے حکمران قرآن پاک سے رہنمائی لیں امریکہ سے اپنے تمام اڈے واپس لیں امریکی جاسوسوں کو چوبیس گھنٹے کے اندر پاکستان سے نکل جانے کا حکم دیں شہداءکرام کی ارواح سے معافی مانگیں مظلوم قیدیوں کو رہا کریں اسلام اور ملک کے وفادار باکردار مسلمانوں کو تنگ کرنا چھوڑ دیں دینی مدارس کی خود مختاری اور آزادی کو بحال کریں خود پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کریں اور جہاد کو اسلامی فریضہ مانیں اور اپنے ملک کےلئے آزاد اور پروقار خارجہ پالیسی اپنائیں تب صرف آپ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا اس بات کا اعلان کرے گی کہ آپ اللہ کے بندے اور اسلام کے بیٹے ہیں اور آپ امریکہ کے بالکل ”پالتو نہیں ہے“
٭٭٭

Written by Sheikho

May 8th, 2006 at 11:50 am

محاورے

with 7 comments

دنیا میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جاتی ہیں اور ہر زبان میں بے شمار محاورے بھی ہیں۔اسی طرح ہمارے ہاں بھی بہت سی زبانیں رائج ہیں اور ہمارے محاورے دنیا کی اور زبانوں سے زیادہ حقیقت کے قریب ہیں تر ہیں۔شاید اس لئے کہ ہمارے بڑے بوڑھے زیادہ تجربہ کار ہوں یا شائد ہم اہل زبان ہوتے ہوئے ان محاوروں کا مفہوم زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ پاتے ہیں۔

ہوتا یہ ہے کہ کہنے والا کہتا کچھ ہے اور سمجھنے والا جو جی چاہے سمجھے اور چاہے تو اپنی مرضی کا مفہوم بھی پہنا لے۔

ہمارے ہاں بولی جانے والی زبانوں میں اردو اور پنجابی کو جو فوقیت حاصل ہے وہ کسی اور زبان کو نہیں اور محاوروں کا جو استمال اردو اور پنجابی میں ہوا وہ سب سے زیادہ حقیقت کے قریب تر ہے۔پنجابی زبان کے زیادہ تر محاورے اردو سے بھی لئے گئے ہیں مگر پنجابی زبان کے کچھ محاورے ایسے بھی ہیں جن کا تعلق خاص اسی زبان تک محدود ہے اور ایسے محاورے خصوصیت میں شمار ہوتے ہیں۔

پنجابی کا ایک محاورہ جو کہ خاصا مقبول ہے اور عمومی طور پر اس پر ہر جگہ عمل ہوتا ہے ،
“ کہنا دھی نوں ، سنانا نوں نوں
( بات کرنی بیٹی سے مگر طعنہ بہو کو)
اس محاورے کا زیادہ تر استمال اچھائی کے لئے ہی ہوتا ہے کیونکہ اس طریقہ کار میں لڑائی ہونے کا اندیشہ کم ہوتا ہے۔اور کہنے والا اپنا مطلب دوسرے کی نسبت دے کر بیان کر دیتا ہے۔
پنجابی کا ایک اور محاورہ بھی بڑا اہم ہے جس کی مثال ہر وہ انسان دیتا نظر آتا ہے جس کو کسی کی تحقیر کرنی مقصود ہو۔اس محاورے کا جس قدر غلط استمال ناسمجھی کی بنا پر ہوتا ہے وہاں اس محاورے میں بہت سی ایسی باتیں بھی پنہاں ہیں جو بہت کم محاوروں میں پائی جاتی ہیں۔

“ جات دی کوڑ کرلی ، چھتیریاں نال جپھے “
( چھوٹی ذات ، غلیظ ذات کے لوگ اور بات کرتے ہیں یا خیالات ہیں اونچے لوگوں کے یا اونچی چیزوں کے )
“ کوڑ کرلی “ کو اردو میں چھپکلی کہا جاتا ہے جو غلیظ ترین سمجھی جاتی ہے۔

اماں پھاتاں کہتی ہے ، اس محاورے میں جتنی تحقیر انسانیت کی کی گئی ہے شائد ہی کسی اور محاورے میں کی گئی ہو۔

محاورے تو ہوتے ہی مثالیں دینے کے لئے ہیں مگر کچھ لوگ سیدھی باتیں بھی کرتے ہیں اور سیدھی باتیں زیادہ سچی ہوتی ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔اور اگر یہ کڑوا گھونٹ گلے سے نیچے اتار لیا جائے تو کایا پلٹ جاتی ہے۔اور اگر یہ کڑوا گھونٹ منہہ میں ہی رکھ کر کہنے والے کے چہرے پر تھوک دیا جائے تو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ہوا کا رخ بدلتے ہی وہ تھوک خود کے چہرے پر بھی آسکتا ہے۔

Written by Sheikho

March 30th, 2006 at 4:38 am

یاسر اور نوید زندہ باد

with one comment

بلاگ اسپاٹ کی تمام سائٹ کھولنے کے لئے آپ سب دوست مسڑ یاسر اور نوید کی ویب سائٹ سے اپنی تمام بلاگ سپاٹ کی سائٹ اب بڑی آسانی سے کھول سکتے ہیں۔اس کے لئے آپ کو صرف
http://www.pkblogs.com/your blog name
لکھنا ہے۔
ہم سب بلاگر مسٹر یاسر اور مسٹر نوید کو اس عظیم کاوش پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

http://www.pkblogs.com

Written by Sheikho

March 25th, 2006 at 1:13 pm

ایک نئی دنیا ممکن ہے

with one comment

ایک نئی دنیا ممکن ہے کے نعرے کے تحت کراچی میں جمہ کی رات سے ورلڈ سوشل فورم کا افتاح کیا گیا ہے۔توقع ہے کہ اس میں تقریباً دنیا کے اٹھاون کے قریب ممالک کے مِلے جُلے لوگ جہاں آپس میں مل بیٹھیں گے وہاں وہ “ پیس پیس “ کے نعرے بھی لگائیں گے۔اور گمان غالب ہے کہ ان “ پیس پیس “ کے نعروں کی آواز دنیا کے صدر بش اور ہمارے محترم جنرل مشرف صاحب تک ضرور پہنچے گی اور وہ ورلڈ سوشل فورم والوں کی خواہشوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنا پیسنے کا عمل اور تیز کردیں گے۔جس سے ایک نئی دنیا وجود میں آنے کی راہ ہموار ہو گی ۔

Written by Sheikho

March 25th, 2006 at 2:13 am