Sheikho’s blog

Jahan Meri Soch Khatam Hoti hai Wahan Dosron ki Shuro hoti hai

Archive for the ‘پاکستان کی باتیں’ Category

پاکستان کی ترقی کا ایک جائزہ

with 3 comments

پاکستان کی ترقی
کا ایک جائزہ

سپر پٹرول
لیٹر

چھوٹا گوشت
کلو

دال چنا
کلو

گھی
کلو

چینی
کلو 

آٹا فی کلو

 
0.15 ps 1.25 Rs  0.25
ps
2.50 Rs 0.60 ps  0.20
ps
لیاقت
علی خان

1947-51

0.35
ps
1.75
Rs
 0.35
ps
 3.00
Rs
0.75
ps
0.25
ps
خواجہ
ناظم الدین

1951-53

2.75
Rs

12.00 Rs
1.50
Rs
5.00
Rs
1.75
Rs
0.50
ps
جنرل
محمد ایوب خان

1958-69

3.45
Rs

16.00 Rs
2.50
Rs
9.00
Rs
6.00
Rs
1.00
Rs

ذوالفقار علی بھٹو

1970-77

7.75
Rs

40.00 Rs
9.00
Rs

15.00 Rs
9.00
Rs
2.50
Rs
جنرل
ضیاء الحق

1977-88


12.00 Rs

50.00 Rs

10.00 Rs

20.00 Rs

10.00 Rs
3.25
Rs

بینظیر بھٹو

1988-90


14.00 Rs

80.00 Rs

18.00 Rs

32.00 Rs

13.00 Rs
4.25
Rs
محمد
نواز شریف

1990-93


18.55 Rs

110.00 Rs

18.00 Rs

48.00 Rs

21.00 Rs
6.60
Rs
 بینظیر
بھٹو

1993-96


18.55 Rs

110.00 Rs

18.00 Rs

50.00 Rs

22.00 Rs
7.50
Rs
محمد
نواز شریف

1997

١٩٩٧ میں جب نواز شریف نے اقتدار سنبھالا اس وقت کے ریٹ درج ذیل ہیں اس کے بعد پاکستان نے جو ترقی کی وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے اور اگر آج کل دیکھا جائے تو آج کل کسی بھی چیز کا کوئی بھاؤ نہیں ہے۔آج ریٹ کچھ ہوتا ہے اور کل کچھ۔اب دیکھنا یہ ہے غریب اور کتنے دن جیتے ہیں۔

Written by Sheikho

March 19th, 2006 at 10:18 pm

عجیب سے عجیب تر

with 9 comments

صدر ایوب کا دور بھی عجیب تھا۔ چینی مہنگی ہو گئی لوگ سڑکوں پر آ کر ایوب کو گالیاں نکالنے لگے تو صدر ایوب چلا گیا۔

یحییٰ کا دور بھی عجیب تھا۔پاکستان کا ایک حصہ جدا ہو گیا اور خود یحییٰ شراب کے نشے میں دھت چین کی بانسری بجاتا رہا۔

بھٹو کا دور بھی عجیب تھا۔سب کو آزادی کا مطلب سمجھایا اور ہر شے پر حکومت کی اجارہ داری بھی قائم کی ، لوگوں کو لائینوں میں لگا کر آٹا چینی گھی خریدنے کا عادی بھی بنایا اور آخر کار آزادی کے نام پر پھانسی چڑھ کر اپنے انجام کو پہنچا۔

ضیاء کا دور بھی عجیب تھا۔کلاشنکوف کلچر کوفروغ دیا ، ہیروین کو عام کر کے جدید جہاز متعارف کروائے۔فرقہ پرسستی اور قوم پرستی کی بنیاد رکھی، اسلام کے نام کو بیچ کر اپنے اقتدار کو طول دیا اور آخر کار جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کروا کر فیصل مسسجد کے اندر اپنا مزار بنوایا۔

بے نظیر کا دور بھی عجیب تھا۔اپنے باپ کے انتقام کی قسم کھانے والی، پاکستان کا سارا پیسہ کھا گئی ، بڑے بڑے محل بنائے ، پاکستان کے قانون کے ساتھ اپنے بچپن کے کھلونوں کی طرح کھیلی۔خود حاکم ہوتے ہوئے اپنے خاوند کو حاکم بنایا جس نے ہر چیز میں کمیشن کی بنیاد ڈالی اور خود مسٹر ٹین پرسنٹ کہلایا۔ اور آخر کار اپنے اسی خاوند کوجیل میں چھوڑ کر دور دیسوں میں جا بسی۔

نواز شریف کا دور بھی عجیب تھا۔بہت سے ڈکٹریٹروں کو مات دی ، عدلیہ کو ذلیل کیا ،جب جی چاہا بجٹ بنانے کی نئی روایت ڈالی۔بہت سے ایمانوں کو بیچا اور خریدا ، پولیس کو بے لگام کیا اور آخر کار ایک ڈکٹیٹر سے شہ مات کھا کر سعودیہ کی مقدس زمین پر جا بسیرا کیا۔

آج کا دور بھی عجیب تر ہے۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔کسی چیز پر کوئی پابندی نہیں۔جس کے پاس مشرف کی لاٹھی ہے وہ جو جی چاہے کرے۔مولویوں کا گریبان پکڑے یا اسلام کو بیچے ، پولیس ہے تو وہ بے لگام ،جس کا جی چاہے گھر کھنگالے اور دہشت گردی میں اندر کرے ، کھانے پینے کی چیزوں کا کوئی پرسان حال نہیں ، آج بھاؤ کچھ ہے تو کل کچھ ، یوٹیلٹی بل جب جی چاہے بڑھا دیں۔جس کے گھر کھانے کو نہیں اسے پانی پینا بھی منع ہے۔
عدلیہ بیچاری معذور ہے ، وزیراعلیٰ حکم کرے تو پابندی لگے اور پھر حکم کرے تو پابندی ہٹے ، کوئی سیاستدان بولے تو اندر جو نہ بولے وہ بندر ، عجیب انصاف کا بول بالا ہے۔اور عجیب بے ایمانی ہے کہ بے ایمانی میں بھی ایمانداری نہیں۔بولیں تو اندر ، نہ بولیں تو قبر کے اندر
میراتھن ہو تو شہر سیل گر نام اسلام کا ہو تو سب فیل ، اور یہی سب مست ہاتھی کہاں سے آئے ،کوئی پتہ نہیں ؟ عوام کی تصویریں تھانوں میں لگی ہیں گھروں میں اب تک چھاپے ہیں ، لوگوں کے اپنے سیاپے ہیں۔اور آخر کا یہی سیاپے عجیب تر کو بھی اپنے منتقی انجام تک پہنچائیں گے۔

Written by Sheikho

March 14th, 2006 at 1:10 pm

معصوم خون سے جشن

with 2 comments

کل اتوار کو ہمارے ہاں لاہور میں بڑی دھوم دھام سے مِنی بسنت منائی گئی۔لوگوں نے شان کے ساتھ ایک اور معصوم بچے کی گردن کاٹ کر اسے آسمان کی وسعتوں میں بھیجا اور شام دیر تک اسی جشن میں پٹاخے بھی چلائے۔لوگ سارا دن اندحیرے میں بیٹھے انہیں پٹاخوں کی روشنی میں پاکستان کی روشن خیالی کے گیت گاتے رہے۔اور سوچتے رہے کہ آنے والے اتوار کو بڑی بسنت ہے تب تک کیوں نہ ہم چند اور خوبصورت سے بچوں کی گردنیں کاٹ کر اسے ہوا میں اُ ڑائیں ۔

Written by Sheikho

March 6th, 2006 at 1:03 pm

پاکستان ایک امن پسند ملک ہے

without comments

صدر بش کے پاکستان کے دورہ سے ایک بات بڑی واضع ہو گئی ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔یہاں آپ سکون سے کرکٹ کھیل اور سیکھ سکتے ہیں۔جو کہ شائد کسی اور ملک میں ممکن نہیں ہے۔اسی لئے اب پاکستان کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔چاہے ہندوستان ایٹمی ٹکنالوجی میں کتنا ہی آگے نکل جائے ، چاہے امریکہ بذات خود اسے اپنے جیسی ایک ایٹمی طاقت ہی کیوں نہ تسلیم کرے۔
ہتھیاروں کی یا ایٹمی ٹیکنالوجی کی ضرورت ان ملکوں کو پڑتی ہے جن کی سرحدیں دشمنوں سے ملی ہوں یا پھر ان کو ہوتی ہے جن کو کسی دشمن کا خطرہ ہو۔چونکہ اب پاکستان کی نزدیکی سرحدوں میں دوستی کے گیت گائے جاتے ہیں اس لئے وہاں اب امن ہی امن ہے اسی لئے اب ہمیں کسی ایسی ٹکنالوجی کی ضرورت نہیں ہو گی۔
ہمیں ضرورت ہے صرف کھیل کی اور اب تو ہم نے کھیل کے اسراو رموز بھی جناب صدر بش سے سیکھ لئے ہیں اس لئے اب ہمارے ملک میں چین ہی چین ہو گا۔

Written by Sheikho

March 6th, 2006 at 2:33 am

بلاگ اسپاٹ سروس بحال کی جائے

with one comment

پچھلے دنوں انٹر نیٹ کی سب سے بڑی بلاگر سروس بلاگ اسپاٹ کو پاکستان سے بلاک کر دیا گیا ہے اور ایشو یہ اُٹھایا گیا ہے کہ یہ سب توہین آمیز خاکوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔جو کہ سراسر غلط ہے۔حالانکہ پاکستانی بلاگرز کے بلاگ پر جتنی مذمت توہین آمیز خاکوں کی گئی ہے شاید ہی کہیں اور کی گئی ہو۔
یہ ضرور ہے کہ ہم پاکستانی بلاگرز اپنے پاکستان اورغیر ملکی مسائل پر یہاں کھل کر گفتگو کرتے ہیں جو کہ شاید ہماری حکومت کو پسند نہیں ہے۔
اگر ہماری حکومت کو توہین آمیز خاکوں کا اتنا ہی خیال ہوتا تو وہ ڈنمارک کے سفارتخانے پر پابندی لگاتی یا کم از کم وہاں سے اپنا سفیر ہی واپس بلاتی۔ہماری حکومت تو احتجاج کرنے کی بھی اجازت دینے سے انکاری تھی وہ تو عوامی ردعمل کو دیکھتے ہوئے بعد میں پر امن احتجاج کی اجازت دے دی گئی۔اور اس پر بھی میڈیا کے ذریعے روزانہ توڑ پھوڑ کی ویڈیو روزانہ دکھائی جاتیں ہیں ، جو توڑ پھوڑ پتہ نہیں کون سی عوام نے کی تھی اور نہ ان کو میڈیا پر پیش کیا گیا جنہوں نے توڑ پھوڑ کی۔
پاکستانی بلاگرز نے ان تمام ایشوز کو اپنے بلاگ پر بھی پیش کیا اور ان پر بحث و مباحثہ بھی ہوا۔پاکستانی بلاگرز کی یہ خوبی ہے کہ وہ ہر مسائل پر اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں اور شاید یہی آزادانہ اظہار رائے ہماری حکومت کو ناگوار گذرا ہو۔
ہم حکومت پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ جن اخبارات و جرائد یا ویب سائٹ نے ایسی قبیح حرکت کی ہے صرف صرف ان سائٹ کے ایڈریس کو بلاک کیا جائے۔

Written by Sheikho

March 4th, 2006 at 7:43 pm

سوئی گیس کے بل

without comments

پرسوں رات کلفی کھانے کے شوق میں ہم جب بابا جی کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں بابا جی ہر ایک کو یہ بڑی بڑی گالیوں سے نواز رہے تھے۔ہم بڑے حیران ہوئے کہ بابا جی کی عمر اب اللہ اللہ کرنے کی ہے مگر بابا جی ہیں کہ ایسی ایسی گالیاں نکال رہے تھے کہ شائد ہماری پاکستانی پولیس کے علاوعہ کسی اور کو ایسی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔
بابا جی جب سانس لینے کے لئے رکے تو ہم نے پوچھا ، بابا جی ایسی کیا آفت آ گئی جو آج آپ کے منہہ سے پولیس کے پھول جھڑ رہے ہیں۔کہنے لگے ، کیا بتائیں صاحب جی اس بگٹی کو تو مار دینا چاہئیے ، اسی کی وجہ سے ساری آفت آئی ہے ۔ہم بڑے حیران ہوئے اور پوچھا کیوں کیا ،کیا بگٹی نے آپ کے ساتھ۔ ارے اس کیا کرنا ہے ہمارا ، اسی کی وجہ سے تو ساری آفت آ رہی ہے ۔اب بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ صرف ایک چولہہ جلتا ہے ہمارے گھر کا اور بل تو دیکھو ذرا کیا آیا ہے ، ساڑھے نو سو روپے۔یہ تو ظلم ہے نا صاحب جی ، سراسر ناانصافی ہے غریبوں کے ساتھ ۔
مگر بابا جی اس دفعہ تو سب کا بل بہت زیادہ آیا ہے اور میرے خیال میں یہ بگٹی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ جو توڑ پھوڑ عوام نے احتجاج کے طور پر کی تھی یہ سب اسی کا ہرجانہ ہے۔اور یہ سب اسی وجہ سے ہے کہ عوام کو اور پیس کر رکھو ، ابھی یہ اٹھنے کے قابل ہیں۔

Written by Sheikho

March 4th, 2006 at 12:49 am