Sheikho’s blog

Jahan Meri Soch Khatam Hoti hai Wahan Dosron ki Shuro hoti hai

Archive for the ‘کچھ اپنی باتیں’ Category

گوگل پاگل ہو گیا

without comments

گوگل کی جانب سے تقریبا سات آٹھ دن پہلے ہمارے ایک ای میل ایڈریس کو بغیر کوئی وارننگ دئے اپنے ٹرمز اینڈ کنڈیشن کی آڑ میں بند کر دیا گیا تھا۔ہم نے بھی گوگل پر ایک ہزار لعنت بھیجی اور اپنا ساز و سامان سمیٹا اور یاہو کی جانب ہجرت کر لی۔حالانکہ جی میل کے آنے سے ہم یاہو کو دھوکہ دے چکے تھے
اب جبکہ گوگل کی غلاظت کو ہفتہ بھر ہونے کو ہے تو کیا دیکھتے ہیں گوگل نے ہمارا اکاؤنٹ پھر سے بحال کر دیا ہے۔اب بھی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔۔۔بحرحال ہم نے اب گوگل پر انحصار کم کر دیا ہے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ چونکہ اب گوگل پاگل ہو گیا ہے اور اس کو پھر بھی کبھی دورہ پڑ سکتا ہے اس لئے ہم یاہو کو دوبارہ دھوکہ دینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔۔۔۔اس لئے ایک نعرہ مستانہ مارتے ہیں ۔۔۔۔۔یا ہووووووووووووووووو

مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے

with 6 comments

جہاں دیکھو میلاد ، جہاں دیکھو مجلس ، جہاں دیکھو کوئی نہ کوئی محفل ۔۔۔
اگر آپ کو اپنے مذہب سے اتنی ہی عقیدت ہے اور آپ اس کو مانتے بھی ہیں تو ایک جگہ مقرر کرلیں ۔ پھر جو جی چاہے کریں ۔۔لوگوں کو تو قربانی کا بکرا نہ بنائیں اور نہ ہی کوئی ایسا سیکورٹی رسک پیدا کریں جس سے عام معصوم انسانوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو۔

کیا آپ لوگوں کے اس طرح سر عام اجتماعات کرنے سے لوگ آپ کے مذہب کی طرف راغب ہو جائیں گے ؟
میرے خیال میں اگر ہم لوگوں نے تفرقہ بازی ، ایک دوسرے سے نفرت ، شدت پسندی اور دہشت گردی جیسے عنفریت کا خاتمہ کرنا ہے تو جلد یا بدیر ہمیں ایسے اقدام کرنا ہوں گے کہ جس سے خصوصا پاکستان میں رہنے والے انسان سکھ اور آزادی کا سانس لے سکیں ۔
اہل تشیع ہوں ، بریلوی ہوں ، دیوبندی ہوں یا کہ اہلحدیث ۔۔سب کو اپنے مذہبی اجتماعات اپنی قائم کردہ یا گورنمنٹ کی مخصوص کردہ جگہوں پر کرنے چاہئے۔سڑکوں ، گلیوں یا بازاروں میں ہر قسم کے اجتماعات پر مکمل پابندی لگا دینی چاہئے ۔
ہم تمام لوگوں کو سر عام مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے تاکہ پاکستان کا عام مسلمان سکھ کا سانس لے سکے۔اگر پاکستان میں مذہبی اجتماعات مخصوص کردہ جگہوں پر ہونے لگے تو آپ دیکھئے گا کہ اور کچھ ہو نہ ہو پاکستان میں تفرقہ بازی ضرور ختم ہو جائے گی

Written by Sheikho

August 7th, 2011 at 12:52 pm

میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں

with 4 comments

بارہ اگست دو ہزار چھ کو کو ایک تحریر بنام واصف علی واصف کے تحریر کی تھی جس کے چند الفاظ چھوڑ کر وہ تمام تحریر حقیقت پر مبنی تھی وہ چند الفاظ میں نیچے کوٹ کر رہا ہوں

سڑک سے تھوڑا اندر کھائی کے بالکل اوپری کنارے پر کچھ لوگ کھڑے ایک مردے کو دفنا رہے تھے
پوچھنے پر پتہ چلا کہ نشئی آدمی تھا اور پتہ نہیں کیا لکھتا رہتا تھا اور آخر کار آج چل بسا ، اسی کو دفنا رہے ہیں

حالانکہ میں نے واصف علی واصف کو نہ ہی دفناتے ہوئے دیکھا اور نہ ہی کسی نے مجھے اس کے بارے میں نشئی کے الفاظ کہے۔اللہ مجھے معاف کرے
انسان کوئی بھی ہو اچھا یا برا ، اس کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہنا چاہئے ۔ کیونکہ میری زندگی کا تجربہ ہے کہ جیسا تم بوؤ گے ویسا ہی کاٹو گے۔میں نے بہت سے ایسے انسان دیکھے ہیں جنہوں نے جو کہا ویسا ان کے آگے بھی آیا اور میں اس کی مثال آپ بھی ہوں ۔۔میرے ساتھ بارہا ایسا ہوا کہ جیسا میں نے کیا ویسا آگے بھی آیا۔
دو ہفتے پیشتر میری ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی ( اللہ سبہانہ و تعالی اسے جنت میں جگہ عطا فرمائے آمین) بڑی عظیم ماں تھی میری ، بالکل ایسے ہی جیسے عظیم مائیں ہوتیں ہیں جن کی مثالیں دی جا سکیں۔رات ساڑھے گیارہ بجے ان کی وفات ہوئی ، ایک بجے کے قریب بڑے بھائی نے مجھے کہا کہ میانی صاحب ( میانی صاحب لاہور میں واقع ایک بڑا قبرستان ہے) جا کر قبر کا انتظام کر کے آؤ ۔میں اور میرا ایک دوست اسی وقت جناز گاہ جا پہنچے ۔ وفات کا اندراج کروانے کے بعد ہم گورکن کے ہمراہ قبرستان کے اندر قبر کی جگہ دیکھنے چلے گئے ۔( رات میں قبرستان میانی صاحب میں ایک عجیب ہی سماع ہوتا ہے جس کی تفصیل انشااللہ پھر پیش کروں گا) بحرحال کافی تلاش کے بعد بھی مجھے کوئی جگہ پسند نہیں آ رہی تھی ۔ میں مصر تھا کہ مجھے زیادہ اندر قبر نہیں بنوانی بلکہ سڑک کے نزدیک ہو تو بہتر ہو گا۔ آخر کار گورکن نے مجھے کہا کہ میں آپ کو مزنگ والی سائڈ پر جگہ دکھاتا ہوں ۔ہم اس کے ساتھ مزنگ کے ساتھ چوبرجی کی طرف جانے والی سڑک پر اندر قبرستان کے اند داخل ہوگئے اس نے وہاں اپنے ایک دوست گوکن کو اٹھایا اور مجھے قبر کی جگہ دکھانے کو کہا۔اس نے مجھے واصف علی واصف کی طرف سے جانے والی گلی کے اندر شروع میں قبر کی جگہ دکھائی جو مجھے پسند آگئی اور آج میری عظیم والدہ واصف علی واصف کے ساتھ گلی تھوڑا آگے جاکر مدفن ہے اور میں واصف علی واصف کی قبر کے سامنے سے ہوتا ہوا اپنی والدہ محترمہ کی قبر پر حاضری دینے جاتا ہوں ۔۔۔سوچتا ہوں اللہ جانے اس میں بھی کیا حکمت ہے مگر میں اب واصف علی واصف کے آگے سے گزرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہوں ۔۔۔اللہ مجھے معاف کرے ۔۔۔پتہ نہیں کیسا انسان تھا ، میں نہیں جانتا ۔اللہ اس کے ، میری والدہ کے اور تمام مسلمانوں کے گناہ معاف کرے آمین

Written by Sheikho

May 28th, 2011 at 3:10 pm

بابے مکی کا شکریہ

with 2 comments

تقریبا دو سوا دو سال بعد میں اپنے بلاگ پر دوبارہ حاضری دے رہا ہوں ۔سب سے پہلے تو میں نے بلاگ کو نئے کپڑے پہنائے ( یعنی کہ نیا رنگ و روپ دیا) اس کے بعد میں سب سے پہلے بابے مکی کا شکریہ ادا کرنے چلا آیا ہوں ۔شاید کہ میں اب بھی اپنے بلاگ کو اپ ڈیٹ کرنے بارے نہ سوچتا مگر اتفاق سے پچھلے دنوں مکی بابا اور محترم افتخار اجمل بھوپال صاحب کے درمیان کچھ تلخ و شیریں باتیں پڑھنے کو ملیں ۔ سوچا بابا مکی کے بلاگ پر جا کر دیکھوں تو سہی ماجرا کیا ہے۔جب میں بابے مکی کے بلاگ پر گیا تو اور بھی بہت سی تحریروں پر نگاہ پڑی جس پر میں نے تبصرہ دینا چاہا ۔مگر تبصرے کے لئے بابے مکی کے بلاگ پر رجسٹرڈ ہونا ضروری تھا۔(یعنی میری نگاہ میں یہ خاصی کڑی پابندی تھی) قصہ مختصر کہ دو تین دن پیشتر محترم شاکر عزیز کے بلاگ کا دورہ کیا جہاں بابے مکی پر انہوں نے تحریر لکھی تھی تو تبصرے کے خانے میں ہم نے بھی تبصرہ دے ڈالا کہ ( مکی صاحب نے ہم جیسوں کے خوف سے تبصرے بند کئے ہوئے ہیں) ہم نے اپنے تئیں بالکل سچ بات کی مگر مکی صاحب نے جوابا ہمیں جھوٹا قرار دے دیا۔ہونا تو ہی چاہئے کہ اگر آپ آزادی سے لکھ رہے ہیں اور اگر آپ کو خوف بھی نہیں ہے تو تبصرے بھی کھلے رکھیں ۔اگر آپ رجسٹرڈ کی پابندی لگائیں گے تو دوسرا کیا جانے گا۔
بات لمبی ہو گئی ، چلیں جانے دیں ۔ہم نے سوچا ہے کہ اب بابے مکی کے بارے ہم کچھ نہ کہیں گے ۔وہ جانے اور اللہ سبحانہ و تعالی جانے۔بس ہم ان کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں اور ہم سب کو نیک ہدائت دے ۔آمین
دوسرا ہم اس لئے بھی چپ ہو گئے ہیں کہ مکی صاحب نے ہمیں جھوٹا قرار دے دیا ہے اور اتفاق سے ہی ہم نے محترم خاور کھوکھر کی ایک تحریر بے وطن پڑھ لی ۔۔جس میں انہوں نے تمام پاکستانیوں کو ہی جھوٹا قرار دیا ہے۔۔۔اب ہمارا منہہ چھپانا مشکل ہو گیا تھا کیونکہ ہم بھی پاکستانی ہیں اس لئے ہم نے سوچا ہے کہ اب بلاگ تو ضرور اپ ڈیٹ کیا کریں گے مگر دوسرے مختلف موضوعات پر کیونکہ ۔۔۔اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا

روشن خیالی زندہ باد

with 6 comments

ہا وووووو ہا ۔ہا وووووو ہا ۔ وووووو ہا۔ کیا ہو گیا ٹونی بھائی کیوں بڑکیں لگا رہے ہو یار۔کیا کوئی سلطان راہی کی پنجابی فلم تو نہیں دیکھ لی۔
ارے چھوڑو یار سارا منہہ کا ذائقہ ہی خراب کر دیا۔پنجابی اور اردو فلمیں بھی کوئی دیکھنے لائق ہیں کوئی انگریزی فلم کی بات کرو۔
اچھا چلو چھوڑو تم یہ بتاؤ کہ بڑکیں کس خوشی میں لگا رہے تھے؟
ارے شیخو یار تمہیں نہیں پتہ آج اپنے صدر صاحب نے بھی بسنت کے حق میں بیان دے دیا ہے۔
یار ٹونی مجھے تو بڑا دکھ ہوا ہے وہ دیکھو نا اگر کسی کی ڈور سے اگر کسی بچے کا گلہ کٹ گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔اور جو یہ بجلی کا اتنا نقصان ہوتا ہے ۔یہ تو سراسر ظلم ہے ٹونی بھائی۔
تو لوگ باہر کیوں نکلتے ہیں انہیں نہیں پتہ کہ بسنت کا تہوار ہے۔اور بجلی کا کیا ہے اگر ایک دن نہیں آئے گی تو کیا قیامت آ جائے گی۔ اور پھر ہم روشن خیال لوگ ہیں آخر خوشی بھی تو منانی ہے نا اگر خوشیوں پر پابندی لگے یہ ظلم نہیں ہے کیا؟
بھائی ٹونی روشن خیالی کا یہ مطلب نہیں کہ تم لوگ کسی کا گلا کاٹ کے خوشیاں مناؤ۔
ہونہہ ، تم دقیانوسی لوگ ہو تمہیں کیا پتہ روشن خیالی کسے کہتے ہیں۔
اچھا ٹونی بھائی اگر ہم دقیانوسی ہیں تو تم تو روشن خیال ہو نا تو ذرا مجھے بھی تو بتاؤ کہ روشن خیالی کہتے کس کو ہیں۔
بس روشن خیالی ، روشن خیالی ہے۔ہر ایک کو آزادی سے رہنے کا حق ہے جس کا جو جی چاہے کرے۔دنیا میں امن سے رہے ،جس کا جو جی چاہے قانون کے دائیرہ میں رہ کر کرتا رہے۔چاہے شراب پئے یا ڈانس دیکھے۔
مگر ٹونی یار ہمارا دین اسلام تو ایسے نہیں کہتا،اس میں آزادی ہے مگر ایسی آزادی نہیں۔
مذہب کی بات نہیں کرو یار ایک تو تم دقیانوسی لوگ ہر بات میں مذہب کو گھسیٹ لیتے ہو۔ مذہب ہر ایک کا ذاتی فعل ہے کوئی عمل کرتا ہے تو کرے اور اگر نہیں کرتا تو نہ کرے۔کیونکہ مذہب اپنی جگہ ہے اور معاشرت اپنی جگہ۔
ٹونی بھائی یہ تو پھر جدید طرز کے مغربی خیالات ہوئے نا۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ عورتوں کو بھی اس لحاظ سے کھلی آزادی ہوئی۔
ہاں کیوں نہیں ، ان کا حق نہیں ہے کیا آخر وہ بھی تو انسان ہیں۔
مگر ٹونی بھائی اس سے تو خرابی پیدا ہوگی۔وہ دیکھو نا کہ اگر ایک عورت ایسا لباس پہنے جس سے آدمیوں کے جذبات بھڑکیں تو کیا یہ اچھی بات ہوگی۔
یار شیخو یار شیخو تم واقع میں دقیانوسی آدمی ہو۔اگر تمہیں نہیں پسند تو نہ دیکھو یار۔تمہیں کون کہتا ہے کہ تم عورتوں کی طرف دیکھ کر اپنے جزبات بھڑکاؤ۔
مگر یار جب ایسی روشن خیالی ہوگی تو نظر پڑ ہی جاتی ہے۔اچھا یہ بتاؤ کیا تمہیں اچھا لگے گا کہ تمہارے گھر میں سے عورتیں ایسا لباس زیب تن کر کے یوں سڑکوں پر کھلے عام پھریں۔
کیسی بات کرتے ہو شیخو یار اگر ان کا دل کرے گا تو یہ ان کی مرضی ہے آخر وہ بھی انسان ہیں۔ان کا بھی حق بنتا ہے کہ ایک زندہ اور روشن خیال معاشرے میں آزادی سے اپنی زندگی بسر کریں۔
اچھا ٹونی یہ بتاؤ کہ کل کلاں کو اگر ہمارے ہاں ایک لڑکی مغربی معاشرے کی طرح بغیر شادی کے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنے لگے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا یہ بری بات نہیں ہوگی؟
کیوں بھئی بری بات کیسے ہو گی اس کا حق نہیں ہے آزادی سے اپنی زندگی جینے کا۔
مگر ہمارا مذہب تو اس کی اجازت نہیں دیتا ٹونی بھائی
یار شیخو تمہیً کتنی بار کہا ہے مذہب کو درمیان میں مت لاؤ۔میں نے تمہیں پہلے بھی کہا ہے کہ مذہب ہر ایک کا ذاتی فعل ہے۔مذہب اپنی جگہ ہے اور معاشرت اپنی جگہ۔
مگر ٹونی یار ہمارے دین اسلام نے معاشرت ہی تو سکھائی ہے کہ کیسے رہنا ہے اور دیکھو نا یہ بھی تو مذہب ہی ہے۔
یار شیخو تم تو انتہائی دقیانوسی انسان ہو۔تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔
نہیں یار ٹونی میں تو ڈر گیا ہوں اگر ایسی ہی روشن خیالی رہی تو کل کو شراب کی دکانیں بھی کھلیں گی۔
تو اچھا ہے نا شیخو یار جس کا جی چاہے پئے جس کا جی چاہے نہ پئے۔
ٹونی یار اچھا ایک بات بتاؤ ؟ اس بارے میں تمہاری روشن خیالی کیا کہتی ہے کہ کل کلاں کو اپنے ہاں اگر ایک مرد ایک دوسرے مرد سے یا ایک عورت دوسری عورت سے شادی رچانے لگے ، میرا مطلب ہم جنس پرستی سے ہے تو کیا تمہارا یہ روشن خیال معاشرہ اس کی اجازت دے گا؟
دیکھو شیخو یار، اگر ایک روشن خیال معاشرے کے لوگ ایسا چاہیں گے اور اگر ایسا کوئی قانون پاس ہو بھی جاتا ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔ہر ایک کو اپنی زندگی جینے کا حق ہے۔
اچھا ٹونی بھائی کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے ہاں کی عورتیں تھائی لینڈ جیسے ملک کی طرح آزاد ہوں اور تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ ان کی معشیت ہی عورتوں کے سر پر ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ وہاں کتنی بے غیرتی ہے۔
وہ آزاد اور روشن خیال لوگ ہیں ان کی عورتیں آزاد ہیں اپنا کام کرتی ہیں اور پھر کام کرنے میں کیا برائی ہے؟ اپنی زندگی جیتی ہیں وہ ، اپنا کماتی ہیں اپنا کھاتی ہیں۔
مگر ٹونی بھائی وہ جیسا کام کرتی ہیں وہ تو بے غیرتی ہوئی نا۔بھلا یہ کیسی روشن خیالی ہوئی؟
کون سی بے غیرتی ہے وہاں شیخو بھائی ، اپنی زندگی جیتی ہیں ان کو اس کا حق ہے اور ان کا معاشرہ ان کو اس کا حق بھی دیتا ہے۔
ٹونی بھائی ہمارے معاشرے نے بھی روشن خیالی کے نام پر عورتوں کو ایسے ہی حقوق سے نوازا ہے تو کیا ہمارے ہاں کی عورتیں بھی اگر اسی ڈگر پر چل نکلی تو کیا ہمارا معاشرہ اس بات کی اجازت دے گا۔
کیوں نہیں دے گا بلکہ دینی چاہئے اگر ایک عورت اپنی مرضی سے اپنی زندگی گذارنا چاہتی ہے تو اس پر روک ٹوک کیسی؟
یہ تو بدتہذیبی اور بے غیرتی کی انتہا ہے ٹونی بھائی،
یہ بدتہذیبی نہیں ہے بلکہ یہ روشن خیالی ہے اور تم دقیانوسی لوگ کیا جانو۔تم تو کسی کو جیتا دیکھ ہی نہیں سکتے۔کیوں پابندی لگاتے ہو تم لوگ کسی کی زندگی پر؟
پابندی نہیں لگاتے ٹونی بھائی مگر یہ سب کچھ اچھا نہیں ہے اس سے تو ہمارا معاشرہ تباہ ہو جائے گا اور پھر ہمارے دین نے سب راستے بتا جو دئے ہیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔
یار شیخو تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ مذہب کو درمیان میں مت لاؤ۔
اچھا آخری بات ٹونی بھائی کہ اگر تمہاری ماں بہن بھی ادھ کھلے لباس میں گریبان کھولے ننگی سڑکوں پر پھریں اور لوگ انہیں پر شوق نظروں سے دیکھیں یا پھر ان میں سے کوئی کسی غیر مرد کے ساتھ تمہارے سامنے چلی جائے تو کیا تمہیں یہ سب اچھا لگے گا؟
تم غلیظ لوگ گندے آدمی تم سب دقیانوسی ہو جب تمہیں کوئی بات نہیں آتی تو تم لوگ ماں بہن کو بیچ میں لے آتے ہو، تم کیا جانو روشن خیالی کیا ہے۔

ہا وووووو ہا ۔ ہا وووووو ہا ۔ ہا وووووو ہا۔ روشن خیالی زندہ باد

Written by Sheikho

January 15th, 2007 at 9:29 pm

عقل بڑی کہ بھینس

with 3 comments

مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ اس محاورے کا کیا مقصد ہے یا یہ محاورہ کہنے والا کہنا کیا چاہتا تھا یا کہ یہ وہ اس مثال کو دے کر کیا واضح کرنا چاہتا تھا۔
عقل تو عقل ہے اس کا بھینس سے کیا موازنہ ، ہاں اگر یوں کہا جاتا کہ عقل بڑی کہ نقل ، تو پھر سوچا جا سکتا تھا کہ ان دونوں چیزوں میں سے کون سی چیز بڑی ہے یا کس کی افادیت زیادہ ہے۔
چلیں ہم عقل بڑی کہ بھینس کی مثال کو اِسی کے لئے چھوڑ دیتے ہیں جس نے اُسے تخلیق کیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عقل بڑی یا نقل میں کس کی افادیت زیادہ ہے۔
اسی سلسلہ میں ، میں چند مشہور اور چیدہ چیدہ لوگوں سے ملاقاتیں بھی کیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

لوٹے شاہ سے سوال کیا جو ایک مزار کا مجاور اور تقریباً دو تین سو مریدوں کا سچا پیر بھی ہے ، وہ کہتا ہے ، عقل بڑی ہے۔
ایک مسجد کے پیش امام سے سوال کیا ، کہنے لگا عقل ہی بڑی ہے نقل کا کیا کام۔
ایک بڑے کاروباری شخص سے سوال کیا جو کہ کروڑوں کا مالک ہے ، کہنے لگا عقل بڑی ہے۔
ایک اخبار کے ایڈیٹر سے ملاقات ہوئی تو پوچھا ، کہنے لگا ، عقل ہی بڑی ہے۔
ایک مشہور شاعر سے پوچھا تو اس نے بھی یہی کہا کہ ، بھائی ہم تو عقل ہی کو بڑا کہیں گے۔
ایک سیاستدان سے ملنا ہوا تو پوچھ لیا کہ دونوں میں سے کون بڑا ہے۔اس نے بھی عقل کا ہی نام لیا۔
اپنے استاد بابے عیدو سے دریافت کیا تو کہنے لگا ، ابے سٹھیا گیا کیا ، عقل ہی بڑی ہووے۔
ایک نام نہاد فلسفی سے مل بیٹھے تو پوچھ لیا،اس نے ہوں کو لمبا کیا اور کافی دیر بعد جواب دیا کہ دیکھو میاں عقل کے بڑا ہونے کے بہت سے پہلو ہیں۔میں نے ان کے پہلو بتانے سے پہلے ہی ان سے ہی پہلوتی کر لی۔
ایک راہ چلتے فقیر کو روک کر سوال کر دیا، اس نے کوئی جواب نہ دیا بس دیکھا کیا اور مسکراتا ہوا چل دیا۔
آخر کار میں پاگل خانے جا پہنچا اور دور اپنی سوچوں میں گم ایک پاگل سے سوال کیا ،
سنو کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ عقل بڑی ہے کہ نقل ، میرا مطلب ہے ان دونوں میں سے ہم کس کو بڑا کہیں گے یا ان میں سے کس کی اہمیت کو زیادہ گروانیں گے۔
وہ قہقہ مار کر زور زور سے ہنسنے لگا اور پوچھتا ہے کون سے وارڈ میں ٹھکانہ ہے پہلے کبھی دیکھا نہیں تم کو۔
کہنے لگا ، دونوں ہی اپنی اپنی جگہ بڑی ہیں۔اگر عقل کو دیکھو تو ٹھکانہ پاگل خانہ میں اوراگر نقل کو دیکھو تو ٹھکانہ صدارت کی کرسی پر ، تو کیا یہ دونوں بڑی نہ ہوئیں۔

Written by Sheikho

January 14th, 2007 at 7:56 pm

اردو کتب خانے کا قیام

without comments

آج بالاخر ہم انٹرنیٹ کی دنیا میں اپنی ایک عدد اردو لائیبریری کا قیام عمل میں لے ہی آئے جس کے لئے ہم پردیسی بھائی کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمیں اسے بنا سنوار اور اردو میں ڈھال کر دیا ہے۔یہ اردو لائیبریری تمام قارئین اور لکھاری حضرات کے لئے مفت ہے آپ ہر موضوع پر اس میں اپنی تحریریں لکھ سکتے ہیں۔مجھے امید ہے آپ سب دوست اسے رونق بخشیں گے۔
لائبریری کا پتہ

Written by Sheikho

November 26th, 2006 at 7:54 pm

وہ اک شخص جو چلا گیا

with one comment

ایک نہایت ہی شریف ، ملنسار ، غریبوں کا ہمدرد ، کئی خیراتی اداروں کو چلانے والا حافظ قرآن جس کی کسی سے بھی دشمنی نہ تھی اسے پرسوں اس کے اپنے ہی نئے سیکورٹی گارڈ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
سیٹھ عابد کے لختِ جگر حافظ ایاز محمود کی شخصیت یوں تو بہت سی خوبیوں سے بھری ہوئی تھی مگر ایک خوبی ان سب میں بڑی تھی کہ اتنا امیر آدمی ہونے کے باوجود بھی اس میں غرور نام کی کوئی چیز نہ تھی۔جس سے ملتا ہمیشہ عاجزی کے ساتھ ۔دشمن اس کا کوئی نہ تھا۔غریب ہو یا امیر سب سے دوستانہ انداز میں گفتگو کرتا۔لڑائی جھگڑے سے کوسوں دور رہتا۔میں نے نہیں دیکھا کبھی اس نے اونچی اواز سے بات بھی کی ہو، بولتا تو دھیمے لہجے سے لگتا جیسے منہہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔
ہر سال رمضان میں تراویح پڑھاتا،ملک سے باہر ہوتا تو تب بھی وہ رمضان میں میں پاکستان ضرور آجاتا۔اس سال بھی اس نے تراویح پڑھائی تھی۔مگر آنے والا سال اس کی قسمت میں نہیں تھا۔
لٹ گیا وہ اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں
شہید ہو گیا کیونکہ اس کا گناہ کوئی نہ تھا
چلا گیا وہ اللہ کے پاس جس کی وہ بندگی کرتا تھا
انا للہ و انا علیہ راجعون
دعا ہے کہ اللہ تعالی اسے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین

Written by Sheikho

November 4th, 2006 at 11:24 am

اک آواز جو زندگی تھی

with 3 comments

مجھے فون نہ کیا کرو ، الجھن ہوتی ہے اور پھر میں شادی شدہ ہوں تمہاری مدھر آواز سن کر پریشان سا ہو جاتا ہوں۔
کہنے لگی تو کیا ہوا گر تم شادی شدہ ہو ، بس تم مجھے اچھے لگتے ہو ، تمہاری باتیں ، تمہارا لہجہ اور سب سے بڑھ کر تم مجھے اچھے لگتے ہو۔جب تک دن میں تمہاری آواز سن نہ لوں مجھے چین نہیں پڑتا۔
جانو یہ سب وقتی باتیں ہیں جب تم اپنے پیا کے گھر چلی گئی نا تو دیکھنا تم سب بھول جاؤ گی ، دن تو کیا تم سالوں بھی فون نہ کرو گی۔
کہنے لگی ایسا کبھی نہیں ہوگا گر تمہارے بنا میری شادی ہو بھی گئی نا تو تب بھی جب تک میں تمہاری آواز نہیں سنوں گی مجھے چین نہیں پڑے گا۔
آج سالوں بیت گئے میری جانو کی شادی کو مگر کہیں سے بھی اُس کی آواز نہیں آتی۔

Written by Sheikho

July 16th, 2006 at 2:47 am

زندگی کے ٤٥ برس

with 2 comments

زندگی کے ٤٥ برس کے شروع ہوتے ہی بیماریوں نے حملہ آور ہونا شروع کر دیا ہے۔ابھی چند دن پہلے طبعیت خراب ہوجانے کے سبب ڈاکٹر صاحب نے ہائی بلڈ پریشر تشخیص کیا ہے اور تمام ٹیسٹ رپورٹیں پڑحنے کے بعد میرے ان تمام کھابوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے جو میں کبھی کبھار کسی پارٹی یا تقریب میں خوش قسمتی سے کھا لیا کرتا تھا۔
ایک تو مہنگی دوائیاں اور دوسرا پرہیزی غذا کھانے کی وجہ سے کچھ بھی کرنے کو دل نہیں چاہتا۔اور تو اور ڈاکٹر صاحب نے سگریٹ پینے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔بلڈ پریشر ہےکہ کم ہونے کو نہیں آرہا۔اخبار ، ٹی وی ، رسالے سب بند ہیں تاکہ کہیں میری نظر کسی ایسی خبر پر نہ پڑ جائے جس کی وجہ سے لینے کے دینے پڑ جائیں۔بس ایک انٹر نیٹ کا سہارا ہے مگر وہ بھی بنا سگریٹ کے بد صورت سا لگ رہا ہے۔

Written by Sheikho

May 2nd, 2006 at 2:14 pm