<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments for Sheikho’s blog</title>
	<atom:link href="http://pakiblog.urduhome.net/comments/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://pakiblog.urduhome.net</link>
	<description>Jahan Meri Soch Khatam Hoti hai Wahan Dosron ki Shuro hoti hai</description>
	<lastBuildDate>Tue, 09 Aug 2011 04:01:51 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.3.1</generator>
	<item>
		<title>Comment on مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے by NOOR</title>
		<link>http://pakiblog.urduhome.net/2011/08/07/mazhbi-ijtmaat/comment-page-1/#comment-5533</link>
		<dc:creator>NOOR</dc:creator>
		<pubDate>Tue, 09 Aug 2011 04:01:51 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://pakiblog.urduhome.net/?p=162#comment-5533</guid>
		<description>بھئی پہلے سیاسی اجتماعات کے بارے میں کچھ سوچو . . . دینی اجتماعات کا نفع تو ہوتا ہی ہے . . بھلے ہماری اور آپ کی نظر میں نہ آوے . . . . . .</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بھئی پہلے سیاسی اجتماعات کے بارے میں کچھ سوچو . . . دینی اجتماعات کا نفع تو ہوتا ہی ہے . . بھلے ہماری اور آپ کی نظر میں نہ آوے . . . . . .</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے by فکرپاکستان</title>
		<link>http://pakiblog.urduhome.net/2011/08/07/mazhbi-ijtmaat/comment-page-1/#comment-5532</link>
		<dc:creator>فکرپاکستان</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Aug 2011 20:27:21 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://pakiblog.urduhome.net/?p=162#comment-5532</guid>
		<description>منیر صاحب فکر پاکستان نے مذہبی کے ساتھہ سیاسی اجماعات کے لئیے بھی لکھا ہے،  اور رہی بات میرے تبصرے کی تو پھر بہتر تھا کے جو فکر پاکستان نے بات کہی ہے اسکا مدلل جواب دیتے آپ۔ اگر آپ کے پاس نہیں تھا تو کسی مفتی صاحب سے ہی لے کر آجائیں، میں منتظر ہوں آپ کے جواب کا۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>منیر صاحب فکر پاکستان نے مذہبی کے ساتھہ سیاسی اجماعات کے لئیے بھی لکھا ہے،  اور رہی بات میرے تبصرے کی تو پھر بہتر تھا کے جو فکر پاکستان نے بات کہی ہے اسکا مدلل جواب دیتے آپ۔ اگر آپ کے پاس نہیں تھا تو کسی مفتی صاحب سے ہی لے کر آجائیں، میں منتظر ہوں آپ کے جواب کا۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے by Sheikho</title>
		<link>http://pakiblog.urduhome.net/2011/08/07/mazhbi-ijtmaat/comment-page-1/#comment-5531</link>
		<dc:creator>Sheikho</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Aug 2011 15:06:57 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://pakiblog.urduhome.net/?p=162#comment-5531</guid>
		<description>آپ سب دوستوں کے تبصرے کا بے حد شکریہ
سوچا میں نے یہ تھا کہ اپنی اس تحریر کو تھوڑا اور مکمل لکھوں تاکہ محترم قارئین میرے لکھے ہوئے الفاظوں اور میری سوچ تک پہنچ پائیں مگر میری اس تحریر پر گوگل پلس پر خاصی تنقید ہوئی ۔جس پر مجھے کہا گیا ہے کہ اس موضوع پر تفصیلا روشنی ڈالی جائے تاکہ ابہام باقی نہ ریے۔انشااللہ میں جلد ہی اس موضوع پر تفصیلا لکھتا ہوں ۔۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>آپ سب دوستوں کے تبصرے کا بے حد شکریہ<br />
سوچا میں نے یہ تھا کہ اپنی اس تحریر کو تھوڑا اور مکمل لکھوں تاکہ محترم قارئین میرے لکھے ہوئے الفاظوں اور میری سوچ تک پہنچ پائیں مگر میری اس تحریر پر گوگل پلس پر خاصی تنقید ہوئی ۔جس پر مجھے کہا گیا ہے کہ اس موضوع پر تفصیلا روشنی ڈالی جائے تاکہ ابہام باقی نہ ریے۔انشااللہ میں جلد ہی اس موضوع پر تفصیلا لکھتا ہوں ۔۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے by منیر عباسی</title>
		<link>http://pakiblog.urduhome.net/2011/08/07/mazhbi-ijtmaat/comment-page-1/#comment-5530</link>
		<dc:creator>منیر عباسی</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Aug 2011 14:53:26 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://pakiblog.urduhome.net/?p=162#comment-5530</guid>
		<description>میں کچھ کہنے نہیں آیا۔ مجھے یہ عنوان دیکھ کر یوں لگا تھا کہ فکر پاکستان صاحب ضرور یہاں پہ ہوں گے۔ اللہ کا شکر ہے اس نے مایوس نہیں کیا۔ 

چلتے چلتے میں عبداللہ آدم کا سوال دہراتے ہوئے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ ان اجتماعات نے کونسی محبتیں پیدا کی ہیں؟

حضور تنید ضرور کیجئے، مگر اپنی آنکھ کا شہتیر بھی مد نظر رکھئے۔

والسلام۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میں کچھ کہنے نہیں آیا۔ مجھے یہ عنوان دیکھ کر یوں لگا تھا کہ فکر پاکستان صاحب ضرور یہاں پہ ہوں گے۔ اللہ کا شکر ہے اس نے مایوس نہیں کیا۔ </p>
<p>چلتے چلتے میں عبداللہ آدم کا سوال دہراتے ہوئے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ ان اجتماعات نے کونسی محبتیں پیدا کی ہیں؟</p>
<p>حضور تنید ضرور کیجئے، مگر اپنی آنکھ کا شہتیر بھی مد نظر رکھئے۔</p>
<p>والسلام۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>Comment on مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے by فکرپاکستان</title>
		<link>http://pakiblog.urduhome.net/2011/08/07/mazhbi-ijtmaat/comment-page-1/#comment-5529</link>
		<dc:creator>فکرپاکستان</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 07 Aug 2011 20:47:38 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://pakiblog.urduhome.net/?p=162#comment-5529</guid>
		<description>شیخو صاحب، بلکل صحیح فرمایا ہے آپ نے، نہ صرف مذہبی بلکے سیاسی اجتماعات بھی ایک مخصوص مقام پر ہی ہونے چاہئیے، ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے ہائیڈ پارک اسکی واضع مثال ہے، لیکن معاملہ وہ ہی آجاتا ہے دکانیں چمکانے کا، اگر یہ سب نہ کیا جائے گا تو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی دکانیں کیسے چمکیں گیَِ؟  آپ غور کریں کوئی بھی واقعہ کوئی بھی حادثہ ہوجائے اگر پیر کے دن وقوع پزیر ہوتا ہے تو اس پر احتجاج کرنے کے لئیے  یہ مذہبی جماعتیں خاص طور پر جماعت اسلامی جمعہ کا دن ہی کیوں رکھتی ہیں؟ اور مقام ہوتا ہے صدر، صدر وہ جگہ ہے جہاں ہر وقت خریداروں کا رش رہتا ہے، وہ خریدار غیرارادی طور پر انکے احتجاج  میں شریک ہوجاتے ہیں انہیں خود پتہ نہیں ہوتا کے وہ غیر ارادی طور پر اس احتجاجی ہجوم کا حصہ بن گئے ہیں، وہ بیچارے اپنی اپنے اپنے گھروں کی جانب جانے کے لئیے راستہ تلاش رہے ہوتے ہیں اور یہ جانور انکی اس مجبوری کو کیش کروانے کے لئیے تصویریں کھنچوانے کے لئیے استعمال کرلیتے ہیں۔ جمعہ کا دن اسلئیے ہی چنا جاتا ہے کے نماز جمعہ میں لوگ کثرت سے مسجد جاتے ہیں نماز ختم ہوتے ہیں زیادہ تر لوگ انکی نوٹنکی دیکھنے رک جاتے ہیں یہ نوٹنکی دیکھنے والے بھی غیر ارادی طور پر ان جانوروں کے ہجوم کا حصہ بن جاتا ہے اور دوسرے دن اخباروں میں ایسے لوگ خود اپنی تصویر دیکھہ کر حیران ہورہے ہوتے ہیں کے ہم نے کب حصہ لیا تھا اس احتجاج میں؟۔ تو بھائی آپ نے بلکل درست سمت اشارہ کیا ہے، یہاں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، مہنگائی کی وجہ سے مائیں اپنے ہاتھوں سے اپنے بچے قتل کرنے پر مجبور ہیں، سات ہزار گورنمنٹ نے کم سے کم تنخواہ رکھی ہے سب جانتے ہیں سات ہزار میں انسان تو کیا کتے کا بچہ بھی نہیں پالا جاسکتا آج کے دور میں مگر قوم کی اس حالت پر کوئی عالم کوئی مولوئ کوئی مفتی فتوئٰ نہیں دے گا، لیکن آپ کی کہی ہوئی بات پر اگر عمل کردیا جائے تو پھر دیکھیں آپ کیسے کیسے احتجاج اور کیسے کیسے فتوے آتے ہیں ان نوٹنکی بازوں کی طرف سے۔ انکے مفاد پر چھوٹ مار کر دیکھیں پھر لگ پتہ جائے گا کے اسلام کیا کیا حقوق دیتا ہے عام شہری کو۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>شیخو صاحب، بلکل صحیح فرمایا ہے آپ نے، نہ صرف مذہبی بلکے سیاسی اجتماعات بھی ایک مخصوص مقام پر ہی ہونے چاہئیے، ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے ہائیڈ پارک اسکی واضع مثال ہے، لیکن معاملہ وہ ہی آجاتا ہے دکانیں چمکانے کا، اگر یہ سب نہ کیا جائے گا تو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی دکانیں کیسے چمکیں گیَِ؟  آپ غور کریں کوئی بھی واقعہ کوئی بھی حادثہ ہوجائے اگر پیر کے دن وقوع پزیر ہوتا ہے تو اس پر احتجاج کرنے کے لئیے  یہ مذہبی جماعتیں خاص طور پر جماعت اسلامی جمعہ کا دن ہی کیوں رکھتی ہیں؟ اور مقام ہوتا ہے صدر، صدر وہ جگہ ہے جہاں ہر وقت خریداروں کا رش رہتا ہے، وہ خریدار غیرارادی طور پر انکے احتجاج  میں شریک ہوجاتے ہیں انہیں خود پتہ نہیں ہوتا کے وہ غیر ارادی طور پر اس احتجاجی ہجوم کا حصہ بن گئے ہیں، وہ بیچارے اپنی اپنے اپنے گھروں کی جانب جانے کے لئیے راستہ تلاش رہے ہوتے ہیں اور یہ جانور انکی اس مجبوری کو کیش کروانے کے لئیے تصویریں کھنچوانے کے لئیے استعمال کرلیتے ہیں۔ جمعہ کا دن اسلئیے ہی چنا جاتا ہے کے نماز جمعہ میں لوگ کثرت سے مسجد جاتے ہیں نماز ختم ہوتے ہیں زیادہ تر لوگ انکی نوٹنکی دیکھنے رک جاتے ہیں یہ نوٹنکی دیکھنے والے بھی غیر ارادی طور پر ان جانوروں کے ہجوم کا حصہ بن جاتا ہے اور دوسرے دن اخباروں میں ایسے لوگ خود اپنی تصویر دیکھہ کر حیران ہورہے ہوتے ہیں کے ہم نے کب حصہ لیا تھا اس احتجاج میں؟۔ تو بھائی آپ نے بلکل درست سمت اشارہ کیا ہے، یہاں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، مہنگائی کی وجہ سے مائیں اپنے ہاتھوں سے اپنے بچے قتل کرنے پر مجبور ہیں، سات ہزار گورنمنٹ نے کم سے کم تنخواہ رکھی ہے سب جانتے ہیں سات ہزار میں انسان تو کیا کتے کا بچہ بھی نہیں پالا جاسکتا آج کے دور میں مگر قوم کی اس حالت پر کوئی عالم کوئی مولوئ کوئی مفتی فتوئٰ نہیں دے گا، لیکن آپ کی کہی ہوئی بات پر اگر عمل کردیا جائے تو پھر دیکھیں آپ کیسے کیسے احتجاج اور کیسے کیسے فتوے آتے ہیں ان نوٹنکی بازوں کی طرف سے۔ انکے مفاد پر چھوٹ مار کر دیکھیں پھر لگ پتہ جائے گا کے اسلام کیا کیا حقوق دیتا ہے عام شہری کو۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>

