Archive for the ‘pakistan’ tag
ہمیں اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہو گی ، ہمیں قوم پرست بننا ہوگا
خالی خولی مغرب والے ہی قوم پرست نہیں ہیں بلکہ میں نے مشرق ، مغرب ، شمال جنوب سب ہی کو قوم پرست دیکھا اور سنا ہے۔ہم پاکستان والے پتہ نہیں کون سے خطے میں رہتے ہیں جو قوم پرست نہیں ہیں۔۔اگر ہم مشرق میں ہی رہتے ہیں تو ہمیں بھی قوم پرست ہونا چاہئے ۔ہمارے ساتھ ہمسائے یعنی کہ ہندوستان والے چاہے کتنے ہی لعنتی کردار کیوں نہ ہوں ۔۔مگر یہ ماننا پڑے گا کہ ہیں وہ قوم پرست۔۔وہاں کا ہندو طبقہ تو خیر انتہا پسند ہے ہی مگر آپ وہاں کے کسی بھی مسلمان سے ہندوستان کے خلاف بات کر کے دیکھ لیں وہ آپ کے منہ پر ایسا لفظوں کا تھپڑ مارے گا کہ آپ ساری مسلمانی
بھول جائیں گے۔۔
ایک ہم ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سے زیادہ سچا مسلمان پوری دنیا میں نہیں ہے اور جب بات پاکستانیت اور قوم پرستی کی آتی ہے تو ہماری خود ساختہ مسلمانی پتہ نہیں کہاں سو جاتی ہے۔۔جسے دیکھو پاکستان کی برائی ، جسے دیکھو فوج کی برائی ۔۔۔ایک عام آدمی سے لے کر بڑے بڑے لیڈر بھی اپنی ہی فوج کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم کس کا ایجینڈا لے کر چل رہے ہیں۔اگر ہم پاکستان کا ایجینڈا لے کر اس ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے رویوں پر بھی نظر ثانی کرنی ہو گی۔ہمیں مذہب پسند کی طرح قوم پرست بھی بننا پڑے گا۔
ہر قوم ، ہر ملک میں خرابیاں ہوتی ہیں اور کچھ لوگ بھی خراب ہوتے ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ پوار ملک یا پورے لوگ یا ادارے ہی خراب ہیں۔۔۔ان کو صحیح بھی کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔مگر کوں صحیح کرے گا۔۔وہی جو قوم پرست ہونگے ۔اگر ہم اپنے ہی گھر والوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں تو باہر والے کبھی بھی ہمارا ساتھ اس طرح نہیں دے سکتے جس طرح گھر والے دیتے ہیں
پوری دنیا میں دیکھ لیجئے کوئی بھی اپنے اہم اداروں کو برا بھلا نہیں کہتا ، بلکہ ان میں اگر کسی جگہ کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو انہیں برا بھلا کہنے کی بجائے انہیں ٹھیک کیا جاتا ہے تاکہ ان کے وہ ادارے اور زیادہ مظبوط ہو جائیں۔۔۔ایک ہم پاکستانی واحد قوم ہیں جو اپنے ہی اہم اداروں جن کی وجہ سے ہم دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں ، ان کو ہی برا بھلا کہہ رہے ہیں ۔ہمیں اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہو گی ، ہمیں قوم پرست بننا ہوگا۔۔۔۔
پاکستان کا ہر دوسرا بندہ ڈاکٹر اور مولوی ہے
جو جس چیز کا ماہر ہوتا ہے اس کی رائے کو معتبر بھی مانا جاتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ایک انسان جس علم میں ماہر ہے اس کا وہ فائدہ اٹھا کر دوسروں کو گمراہی میں دھکیل دے۔جیسا کہ میں نے شروع میں بات کی کہ ‘‘ جو جس چیز کا ماہر ہوتا ہے اس کی رائے کو معتبر بھی مانا جاتا ہے ‘‘ یعنی اگر کوئی ڈاکٹر کسی خاص مرض کا ماہر ہے تو اس کی تشخیص اور دوا کو بہتر جانا جائے گا اور لوگ دوسرے عام ڈاکٹروں کی نسبت اس پر زیادہ بھروسہ کریں گے اور اس کے کہے پر عمل بھی کریں گے۔
ایسے ہی دینی ڈاکٹر کا بھی سمجھ لیں ، جس کو دین کا صحیح علم ہو گا وہ صحیح بات کرے گا یہ الگ بات ہے کہ وہ اس علم کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دنیاوی منفعت کے لئے لوگوں کو گمراہ کرتا پھرے ۔یہاں مجھے ایک بات یاد آگئی پتہ نہیں کس نے کہی ہوگی ، حالانکہ اسے کبھی کوئی انگریز سے منسوب کرتا ہے اور کوئی کسی سے۔۔۔بحرحال کہتے کچھ یوں ہیں کہ پاکستانیوں میں ہر دوسرا بندہ ڈاکٹر اور مولوی ہے ۔۔۔اور دیکھا جائے تو یہ حقیقت سے قریب ترین بات ہے میں نے بذات خود اسے کئی بار آزمایا ہے۔آپ کسی سے بھی پوچھ لیں کسی بیماری کا یا کسی دینی مسلے کا تو وہ آپ کو جھٹ سے جواب بھی دے گا اور اس کے بارے میں دلائل بھی دے مارے گا۔۔اور انہیں ڈاکٹروں اور مولویوں کی وجہ سے آج بہت سے لوگ قبروں کے اندر ہیں اور جو باہر ہیں وہ قبروں اور قبر والوں کو سجدے کر رہے ہیں